کلاسیکل ماہرین کا خیال تھا کہ کسی بھی معیشت میں ہر وقت مکمل روزگار کے حالات ہوتے ہیں۔ لہٰذا حکومت کی جانب سے کسی قسم کی مداخلت کا کوئی جواز نہیں لیکن 1930ء کی عالمی کساد بازاری نے ان خیالات کی نفی کردی اور معاشی معاملات میں حکومت کی مداخلت کا احساس تیزی سے پیدا ہوا کیونکہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری، بڑھتی ہوئی قیمتیں، معاشی پسماندگی، دولت کی تقسیم میں ناہمواری اور ادائیگیوں کے توازن میں بڑھتا ہوا خسارہ ایسے مسائل ہیں جو حکومت کی مداخلت کے بغیر ختم نہیں ہوسکتے۔ اس لیے معاشی ترقی اور استحکام کے لیے حکومتوں نے مالیاتی اور زری پالیسیوں کو استعمال کرنا شروع کردیا۔ مالیاتی پالیسی کا تعلق حکومت کی آمدنی اور اخراجات سے ہوتا ہے، جن میں کمی بیشی کرکے مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔ زری پالیسی کا تعلق زر کی مقدار میں تبدیلیاں لانے سے ہے اور زر کی مقدار میں تبدیلیوں کی مدد سے افراطِ زر اور تفریط زر پر قابو پا کر معاشی استحکام لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ زری پالیسی کو حکومت کے بجائے اس کا ایجنٹ یعنی مرکزی بینک طے کرتا ہے اور وہی اس کو لاگو کرتا ہے، لہٰذا ملک کے مرکزی بینک یعنی سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اختیار کردہ معاشی پالیسی جو زر اور زراعتبار (Credit)کی مقدار پر اثرانداز ہوتی ہے‘ اسے زری پالیسی کہتے ہیں۔ زری پالیسی کے بنیادی مقاصد میں قیمتوں میں استحکام لانا، بے روزگاری کا خاتمہ اور ادائیگیوں کے توازن میں خسارے کے خاتمے کے علاوہ معاشی ترقی کی رفتار میں تیزی لانا شامل ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے 12اپریل کو اپریل اور مئی کے لیے زری پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ اس دفعہ بھی فروری میں جاری کی جانیوالی زری پالیسی کی طرح پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی بلکہ پالیسی ریٹ کو 9.5 فیصد کی شرح پر برقرار رکھا ہے۔ سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ عالمی اداروں کو قرض کی مد میں بھاری رقوم کی واپسی اور بیرونی وسائل کی آمد میں کمی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ادائیگیوں کا توازن (Balance of payment) شدید دبائو کا شکار ہے۔ اس سال آئی ایم ایف کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کی جا چکی ہے جس کی وجہ سے سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 8.7 ارب ڈالر سے کم ہو کر 5اپریل تک 6.7 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ 30جون تک آئی ایم ایف کو 838 ملین ڈالر کی مزید ادائیگی کرنا ہوگی۔ اس عرصے میں بیرونی وسائل کی آمد اور کیپیٹل کی مد میں کسی بڑے اضافے کی امید نہیں۔ اس لیے بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں خسارہ بڑھے گا اور زرمبادلہ کے ذخائر پر مزیدد بائو پڑے گا۔ سٹیٹ بینک نے موجودہ پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے سلسلے میں اس مقصد کو بھی پیش نظر رکھا ہے کہ روپے کی قدر میں مزید کمی کو روکا جاسکے۔ سٹیٹ بینک نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ادائیگیوں کے توازن میں بحران کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ جاری ادائیگیوں کے خسارے (Current Account deficit) کی ابتر صورتحال اس سال کے بقیہ مہینوں میں بھی جاری رہ سکتی ہے۔ ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ کی بنیادی وجوہ بیرونی وسائل کی آمد میں کمی اور بیرونی قرضوں کی واپسی پر اٹھنے والے بھاری اخراجات ہیں۔جولائی 2012ء سے فروری 2013ء تک بیرونی وسائل کی مد میں صرف 34ملین ڈالر موصول ہوئے جبکہ اسی عرصے میں جاری ادائیگیوں کا خسارہ 700 ملین ڈالر ہوچکا ہے۔ جاری ادائیگیوں کے خسارے کا حکم اتنا بڑا نہیں کہ اس پر قابو نہ پایا جاسکے لیکن فکر مندی کی بات یہ ہے کہ بیرونی وسائل کی آمد میں کمی کا رجحان بدستور جاری ہے۔ ادائیگیوں کے توازن کی موجودہ صورتحال اور مالیات کے شعبے میں ساختمانی عدم توازن احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس سال کے بجٹ میں حکومتی قرض کی حد 484 ارب روپے رکھی گئی تھی۔ جولائی 2012ء سے 29مارچ 2013ء تک حکومت 853 ا رب روپے کا قرض لے چکی ہے اور 30 جون تک حکومتی قرض 1300 ارب روپے کی حد چھو سکتا ہے۔ مالیاتی عدم توازن کی بڑی وجہ بینکاری نظام سے بھاری حکومتی قرض ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں نقدیت دبائو کا شکار رہی اور پرائیویٹ سیکٹر کو قلیل مدتی کریڈٹ کی فراہمی کے سلسلے میں بھی مشکلات کا سامنا رہا۔ ہمارے بیشتر معاشی مسائل کی بنیادی وجہ (Untargeted) غیر مخصوص سبسڈیز اور معقول ٹیکس ریفارمز کا فقدان ہے۔ ایسی ٹیکس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے جن کی مدد سے ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرکے ٹیکس ریونیو میں کم از کم 500 سے 1000ارب روپے تک اضافہ کیا جاسکے اور بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی کرکے کم آمدنی والے طبقات کو بھی کچھ ریلیف مہیا کیا جاسکے۔ فنانشل سبسڈیز کے پیدا کردہ مالیاتی رخنے پورے کرنے کے لیے بینکاری نظام سے بھاری قرضوں کا حصول معیشت کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ ان اعانتوں کو برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ ان کو بتدریج ختم کرنا ضروری ہے اور حکومتی کنٹرول میں چلنے والے اداروں (PSES) کے نقصانات سے بھی چھٹکارہ حاصل کرنا ہوگا۔ پچھلے کئی برسوںسے سٹیٹ بینک نے سخت زری پالیسی اپنائے رکھی تھی۔ سٹیٹ بینک کا خیال تھا کہ زر کی مقدار کو کنٹرول کرکے افراط زر پر قابو پایا جاسکے گا اور یہ کہ سخت زری پالیسی کے آمدنی اثرات( Income effects )اور قیمتوں کے اثرات‘ (Price Effects) کی وجہ سے زرعی آمدنیاں کم ہوجائیں گی اور قیمتیں بھی گھٹ جائیں گی جس کی وجہ سے درآمدات میں کمی آئے گی اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح ادائیگیوں کے توازن میں بہتری پیدا ہوگی لیکن یہ پالیسی مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی کیونکہ ہمارے ملک میں افراط زر مصارف پیدائش میں اضافے کی وجہ سے تھا۔ سخت زری پالیسی سے کاروباری لاگت بڑھ گئی۔ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوئی اور بلند شرح سود کے پیداوار اور روزگار پر بھی منفی اثرات پڑے۔ اس کے علاوہ ہماری برآمدات زرعی اور بنیادی نوعیت کی اشیاء ہیں۔ دنیا میں ان اشیاء کی لچک بہت کم ہے اور ہماری درآمدات صنعتی خام مال، مشنری، خوردنی تیل اور پٹرولیم مصنوعات وغیرہ پر مشتمل ہیں‘ جن کے بغیر ہم گزارہ نہیں کرسکتے۔ اس لیے ادائیگیوں کے توازن میں بھی کوئی بہتری نہیں ہوئی بلکہ اس کے برعکس کاروباری لاگت بڑھنے سے سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ جس سے معاشی ترقی کی رفتار بھی سست روی کا شکار رہی اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا۔ اس سال کے شروع سے سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں کمی کا آغاز کیا اور فروری 2013ء تک پالیسی ریٹ میں 4.5 فیصد کمی کی گئی۔ معیشت پر اس پالیسی کے مثبت اثرات مرتب ہوئے اور بینکاری نظام سے بھاری حکومتی قرضوں اور شدید توانائی بحران کے باوجود پرائیویٹ سیکٹر کو کریڈٹ کی فراہمی میں کچھ بہتری آئی ۔ جولائی 2012ء سے فروری 2013ء تک پرائیویٹ سیکٹر کو 173.1 ارب روپے کا کریڈٹ فراہم کیا گیا ہے جبکہ پچھلے سال اسی عرصے میں صرف 56.8 ارب روپے فراہم کیے گئے تھے۔ اس سے بڑے پیمانے کے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں جولائی 2012 ء سے فروری 2013ء تک 2.99فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی جبکہ پچھلے سال اسی عرصے میں یہ شرح 1.99 فیصد تھی۔ اسی طرح بعض دیگر شعبوں میں بھی بہتری پیدا ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ افراط زر کی شرح میں بھی 1.5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ یہ نرم زری پالیسی کا ثمر ہے۔ سٹیٹ بینکنے زری پالیسی کی تیاری کے سلسلے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کو غیر معمولی اہمیت دی ہے لیکن افراطِ زر میں نمایاں کمی کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پالیسی ریٹ میں کمی سے زرمبادلہ کے ذخائر پر کوئی اثر نہیں پڑنا تھا‘ کیونکہ زرمبادلہ کے ذخائر آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں کو قرض کی واپسی کی وجہ سے کم ہورہے ہیں اور 30جون تک قرضوں کی واپسی کی مد میں مزید ادائیگی کرنی ہوگی۔ اس لیے زرمبادلہ کے ذخائر تو ہر صورت میں دبائو کا شکار رہیں گے لیکن پالیسی ریٹ میں مزید کمی کرکے معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی کوشش کی جاسکتی تھی۔