زرعی اصلاحات بغیر سیاسی اور سماجی استحکام کے ممکن نہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک زراعت پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا شعبہ رہا ہے۔ مجموعی قومی پیداوار میں زراعت کا حصہ 21فیصد ہے اور کل ملکی لیبر فورس کا 44فیصد زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ زرعی شعبہ ملک کو خوراک اور صنعتوں کو خام مال مہیا کرنے کے علاوہ ملک کے لیے سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے کا باعث بنتا ہے۔ اس طرح اس شعبے کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ 1960ء میں سبز انقلاب کا آغاز ہوا۔ سبز انقلاب کے زمانے میں مشینی کاشت اور زیادہ پیداوار دینے والے بیجوں کی ایسی قسمیں دریافت ہوئیں جن کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ اسی زمانے میں بڑے بڑے آبی ذخائر تعمیر کیے گئے۔ نتیجتاً گندم، چاول اور دیگر فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار بھی بڑھی۔ اس عرصے میں غذائی اشیاء کی پیداوار میں اضافے کی شرح آبادی میں اضافے کی رفتار سے زیادہ تھی۔ غذائی اشیاء کی پیدوار اوسطاً 4 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھی جبکہ آبادی میں اضافے کی شرح 2.5فیصد سالانہ تھی۔ پیداوار میں تیز رفتار اضافے کی وجہ سے نہ صرف بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری ہوتی رہیں بلکہ فاضل پیداوار کی وجہ سے ہماری برآمدات میں بھی اضافہ ہوا اور ہم بہت ہی کمیاب زرمبادلہ کمانے کے قابل ہوگئے۔ لیکن پچھلے 35 سالوں سے زراعت کے شعبے میں بہت ہی پست شرح سے اضافہ ہوا ہے۔ 1980ء سے لے کر آج تک غذائی اشیاء کی پیداوار میں صرف 1.79 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے جبکہ ہماری آبادی 2.5 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھتی ہے۔ پاکستان زیر کاشت رقبے میں اضافہ کرکے اس رخنے کو پورا کرتا رہا ہے۔ اس طرح ہم فوڈ انسیکیوریٹی کو موخر کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب صورتحال تبدیلی ہوچکی ہے اور ہم مزید رقبہ زیر کاشت نہیں لا سکتے۔ کیونکہ تازہ پانی کے بہائو اور آبی ذخائر کے پانی کی کمی اور واٹر ٹیبل کی گراوٹ کی وجہ سے مزید زمین زیرکاشت لانا مشکل ہے ۔ زراعت کے شعبے کو ایک متحرک اور Vibrant شعبہ بنانے کے سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارا ناقص نظام اراضی ہے۔ 1959ء اور 1972 کی لینڈ ریفارم کے تحت نظام اراضی کے ان نقائص کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ 1959ء میں زمین کی زیادہ سے زیادہ حد آبپاشی زمین کی صورت میں 500ایکڑ اور غیر آبپاشی کی صورت میں 1000ایکڑ مقرر کی گئی۔ 1972ء میں یہ حد مزید گھٹا کر آبپاشی زمین کی صورت میں 150ایکڑ اور غیر آبپاشی کی صورت میں 300ایکڑ کردی گئی۔ ان حدود سے زائد زمین پر بڑے زمینداروں سے واپس لے کر بے زمین کاشتکاروں میں تقسیم کر دی گئی۔ 1976ء کی اصلاحات کے تحت سرکاری زمینیں بے زمین کاشتکاروں یا قابل گزارہ قطعات سے کم زمین کے مالک کاشتکاروں میں تقسیم کی گئی اور 1977ء میں زمین کی زیادہ سے زیادہ حد گرا کر آبپاشی زمین کی صورت میں 100ایکڑ اور غیر آبپاشی کی صورت میں 200ایکڑ کردی گئی۔ 1959ء کی اصلاحات کے تحت 101 ملین ایکڑ زمین بڑے زمینداروں سے واپس لی گئی جس میں صرف 0.5 ملین ایکڑ قابل کاشت تھی۔ 1972ء کی اصلاحات کے تحت 1.3 ملین ایکڑ بڑے زمینداروں سے واپس ملی جس میں صرف 0.7 ملین قابل کاشت تھی۔ اس طرح ان اصلاحات سے پاکستان کے کل قابل کاشت رقبے کا صرف 8فیصد زمینداروں سے واپس لیا جاسکا اور اس میں بھی اس رقبے کا نصف حصہ بے زمین کاشتکاروں کو منتقل کیا جاسکا اور ان اصلاحات سے مستفیذہونے والے کاشتکار کل کاشتکاروں کے گھرانوں کے ایک فیصد سے بھی کم تھے۔ اس طرح ان اصلاحات کا نظام اراضی پر بہت کم اثر پڑا ۔ نظام اراضی کے بہت سے نقائص اب بھی موجود ہیں جو زراعت کے شعبے کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں چونکہ اصلاحات کا مقصد زمین کی ملکیت پر حد لگانا تھا اس لیے 1990ء کی زراعت شماری کے مطابق کل کھیتوں میں سے 19فیصد پر اب بھی مزارعین کاشت کرتے ہیں۔ زرعی زمین کی ملکیت اور مزارعت کے بارے میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ زمین کی تقسیم ابھی بھی انتہائی غیر مساویانہ اور چند بڑے زمینداروں کے قبضے میں ہے۔ 2000ء کی زراعت شماری کے مطابق قابل کاشت رقبے کی 50فیصد سے زیادہ زمین 10فیصد سے بھی کم بڑے زمینداروں کے قبضے میں ہے اور جو صورتحال 1960ء میں تھی اس میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آ سکی۔ 1960ء میں 50فیصد قابل کاشت زمین 7فیصد زمینداروں کی ملکیت تھی۔ زرعی اصلاحات کے بعد کاشتکاری زیادہ موثر طریقے سے کی جاسکے گی۔ زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے اور غربت کم کرنے میں مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں سماجی اور معاشی عدم مساوات کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ 1960ء کی دہائی میں زرعی سیکٹر ترقی پذیر تھا اس لیے زرعی اصلاحات کی ضرورت کا احساس نہ ہوا۔ لینڈ ریفارم کے سلسلے میں 1959ء اور 1972ء میں کوشش کی گئی۔ زرعی ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے فارموں کی کارکردگی بڑے فارموں سے زیادہ ہے۔ اگر سرمایہ، ٹیکنالوجی اور دیگر مراحل ایک جیسے ہوں تو چھوٹے فارموں کی فی ایکڑ پیداوار بڑے فارموں سے دوگنی ہوسکتی ہے۔ زرعی ادارہ شماریات کے مطابق ہر سال 40فیصد قابل کاشت رقبے پر کاشت نہیں کی جاتی اور اس زمین کی دو تہائی ملکیت بڑے زمینداروں کے پاس ہے۔ اس سے بڑے فارموں کی مینجمنٹ کی خامیوں اور غیر معیاری کارکردگی کی نشاندہی ہوتی ہے اس کے برعکس چھوٹے فارموں کی 90فیصد زمین پر کاشت کی جاتی ہے اور ہر ایک ایکڑ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ قابل کاشت زمین کا ایک تہائی حصہ مزارعت کے نظام پر چل رہا ہے، مزارعت کے نہ تو کوئی قواعد ہیں اور نہ ہی سماجی سیفٹی نیٹ ورک۔ مزارعت نسل در نسل چلتی ہے۔ اسی طرح ان کے قرض اور ذمے داریاں بھی۔ مزارعت کے معاہدے غیر رسمی ہوتے ہیں، ان پر قانون کی عملداری نہیں ہوسکتی۔میعاد کی غیرمقاطعت کی وجہ سے مزارعین پیداوار بڑھانے کے لیے کم سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ تقریباً 44 فیصد لیبر فورس زراعت کے شعبے میں کام کرتی ہے چونکہ زمین کی ملکیت بہت چھوٹے گروہ کے ہاتھ میں ہے۔ لیبر فورس کا بڑا حصہ بے زمین لوگوں کا ہے جن کو تھوڑے تھوڑے عرصے کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے، باقی لوگ مزارع کے طور پر کام کرتے ہیں۔ نامکمل اور غیر محفوظ مزارعت کے معاہدوں کی وجہ سے کارکردگی کے نقصانات پر قابو پانے کے لیے لینڈ ریفارم کی اشد ضرورت ہے۔ اس سے زمین کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کو ترغیب ملے گی۔ زمین بہت ہی قیمتی اثاثہ ہے اور سماجی حیثیت کی علامت ہے اور سیاسی طاقت کے حصول کا ذریعہ بھی۔ زمین کی غیر مساویانہ تقسیم سماجی تنائو اور بے زمین چھوٹے کاشتکاروں کے استحصال کا ذریعہ ہے۔ دیہی علاقوں میں بڑے زمیندار تمام سیاسی اداروں، توسیعی خدمات اور پبلک سروس کے لیے بنائے گئے اداروں کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں‘ اسی لیے دیہی علاقوں میں بڑے زمینداروں کی اجارہ داری ختم کرنے اور زرعی شعبے کی منصفانہ ترقی کے لیے نظام اراضی کی اصلاح ضروری ہے۔ لینڈ ریفارم کو موثرکرنا ہمارے قومی مفاد میں نہیں۔ اس لیے زمین پر انفرادی ملکیت کی زیادہ سے زیادہ حد 50ایکڑ کردی جائے۔ جن زمینداروں سے مقررہ حد سے زیادہ زمین واپس لی جائے، انہیں مروجہ قیمتوں کے حساب سے معاوضہ ادا کر دیا جائے اور زمینداروں سے واپس لی گئی زمین بے زمین مزارعین اور چھوٹے کاشتکاروں میں تقسیم کردی جائے۔ نئے مالکوں کو یہ زمینیں رعایتی قیمتوں پر مہیا کی جائیں۔ اس سلسلے میں ان کے لیے مناسب قرضوں کا بھی اہتمام کیا جائے۔ ان اقدامات سے زرعی شعبے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری ہوسکے گی۔