پاکستان کی اشرافیہ ملک کے 80فیصد وسائل پر قابض ہے۔ اعلیٰ ترین اداروں اور سول بیورو کریسی کے اعلیٰ عہدیدار اور سیاستدان بھی اس اشرافیہ کا حصہ ہیں اور وہ براہ راست یا بالواسطہ اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور ان کو ٹیکس چھوٹیں اور دیگر رعایتیں بہم پہنچانے کا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی ہوس زر اور مراعات میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنے بارے میں ہمیشہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کے مشاہرے اور مراعات ان کی ضرورت سے کم ہیں اور ان کی سماجی حیثیت اور اعلی رتبے سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ پارلیمنٹرین نہایت خوش دلی سے ان کی تنخواہوں الائونسز اور دیگر مراعات میں اضافے کے لیے قوانین اور قواعد و ضوابط وضع کرتے رہتے ہیں لیکن نچلے درجے کے کم تنخواہ پانے والے ملازمین جو واقعی محتاجی کی زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی تنخواہوں میں بھی کبھی کبھار حقیر سا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ چونکہ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کرپشن ان کی مجبوری اور ضرورت ہے لیکن کرپشن سے جو مال ملتا ہے اس کا بھی بڑا حصہ اوپر والے اینٹھ لیتے ہیں۔ یہ ہے ہمارا نظام حکومت۔ یہ عجیب ملک ہے جس میں ٹیکس دہندگان سے حاصل ہونیوالے ریونیو کا بڑا حصہ، اشرافیہ اور دیگر طاقتور افراد وصول کرلیتے ہیں۔ کروڑوں روپے کے رہائشی پلاٹ مفت حاصل کرلیتے ہیں۔ اس سال کے بجٹ میں ملک کی سکیورٹی پر مامور اعلیٰ عہدیداروں کے لیے ایک کھرب 25 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ صدر‘ وزیراعظم‘ گورنرز، وزراء اور مشیروں کے دفاتر پر 130 سے 145ارب روپے خرچ ہورہے ہیں۔ وزیراعظم اور صدر کے تفریحی الائونسز پر بالترتیب سترہ اور ساڑھے انیس کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ایک وفاقی وزیر پر چھ کروڑ روپے سالانہ خرچ ہوتا ہے جبکہ ہم تعلیم اور صحت پر سالانہ 144 اور 145 روپے فی کس خرچ کرتے ہیں۔ ابھی تک کسی بھی حکومت نے عام شہریوں پر پڑنے والے بالواسطہ ٹیکسوں اور ضروریات زندگی کی اشیاء کی نگرانی کے ناقابل برداشت بوجھ کا جائزہ لینے کے لیے کوئی کمشن قائم نہیں کیا۔ تاکہ ان کو ریلیف دیا جاسکے۔ بلاشبہ ملازمت کی سکیورٹی اور معقول تنخواہ سرکاری ملازمین کا جائز حق ہے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ ملازمین کو معقول تنخواہ دے۔ اس کے عوض وہ حقیقی سرکاری نوکر کا کردار ادا کریں نہ کہ کالے انگریز کا۔ ہماری حکومت اشرافیہ کی عیاشی کے لیے ہر کسی سے بھیک مانگتی ہے۔ یہ نہایت شرمناک اور افسوس ناک حقیقت ہے۔ عالمی اداروں اور ڈونر ایجنسیوں سے اربوں ڈالر قرض لیکر بھی ملک میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ ملک کی کثیر آبادی کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہے اور لوگ بھوک سے مر رہے ہیں لیکن ہماری مراعات یافتہ افسر شاہی، ججز، جرنیل اور عوامی نمائندے اپنی مراعات اور دیگر سہولتوں سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ اعلیٰ منصفین کے لیے 52 کنال کا سرکاری گھر ہے۔ کمشنر کا گھر 26 کنال پر مشتمل ہے۔ چیف منسٹر ہائوس بھی کئی کنالوں پر پھیلا ہوا ہے۔ ان وسیع و عریض اور عظیم الشان گھروں میں رہنے والے اپنے آپ کو عوام کاخادم اور قانون کے رکھوالے کہتے ہیں۔ وہ لوگوں کو قانون کی حکمرانی کا سبق دیتے ہیں لیکن وہ عوام کی طرح رہنا پسند نہیں کرتے وہ اسلام کے سنہری دور کی انتظامیہ کی مثالیں دیتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اس دور کے حکمران بیت المال سے کم سے کم خرچ کرتے تھے اور عام لوگوں کی طرح زندگی گزارتے تھے۔ جی او آر کی رہائشگاہوں کی محافظت، آرائش اور لینڈ سکیپنگ پر ہر سال کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں تاکہ سول سروس، پولیس اور اعلیٰ عدالتی عہدیدار آسودہ زندگی گزار سکیں۔ پچھلے برسوں میں پنجاب ہائوس اسلام آباد، مری، راولپنڈی اور کراچی کی محافظت اور آرائش پر کثیر رقوم خرچ کی گئیں۔ یہ پنجاب کی اچھی حکمرانی کی کہانی ہے۔ مرکز اور دیگر صوبوں میں بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں۔ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور سیاستدانوں کو مراعات دینے پر کثیر وسائل خرچ کیے جاتے ہیں۔ اہم ترین قومی اداروں کے ذمہ داران کا رہن سہن دنیا کے تمام ممالک سے مختلف اور منفرد ہے۔ وہ آزادی کے بعد نہ صرف سیاسی آقا بن بیٹھے ہیں بلکہ ملکی وسائل سے سب سے زیادہ فائدے بھی وہی اٹھارہے ہیں۔ بیورو کریسی سیاستدانوں کو لوٹ مار اور اسراف کا الزام دیتی ہے اور سیاستدان کہتے ہیں کہ بیورو کریسی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک سیکرٹری پر 5 لاکھ روپے ماہانہ خرچ ہوتا ہے اور اسلام آباد میں مہیا کی گئی رہائش گاہ تین لاکھ سے کم کرایہ پر نہیں ملتی اور اس کے پاس لا محدود اختیارات ہیں۔ حکومتی اخراجات کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بیورو کریسی کا حجم کم کیا جائے۔ اس سے نہ صرف اخراجات میں کمی ہوگی بلکہ محکموں کی استعداد کار میں بھی اضافہ ہوگا۔ اسلام آباد میں بیسیوں بے کاردفاتر عالی شان عمارتوں میں قائم ہیں۔ اسی طرح ملک کے دوسرے حصوں میں بھی ایسے محکمے قائم ہیں جن میں بھاری بھر کم سٹاف ہے۔ وہ وقت اور وسائل کا ضیاع کرنے کے علاوہ عوام کی زندگیوں میں مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ ہمارے حکمران، بیورو کریٹ، ججز اور جرنیل بڑے بڑے بنگلوں میں رہتے ہیں اور انہیں تو نوکروں کی فوج بھی مہیا کی گئی ہے۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ عام آدمی کس طرح کی زندگی گزار رہا ہے یا مر رہا ہے۔ بلکہ وہ تو اپنے ہمسفر نچلے درجے کے ملازمین سے بھی لاتعلق رہتے ہیں۔ وہ ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر غربت مٹانے اور اسی طرح کے دوسرے منصوبے بناتے ہیں۔ سول اور فوجی دونوں حکومتوں کے دور میں حکمرانی کی سطح بہت پست رہی ہے بلکہ کئی ایک نئے آزاد ہونیوالے ملکوں سے بھی بدتر رہی ہے۔ جنہوں نے عوام کی سہولت کے لیے اختیارات نچلی سطحوں کو منتقل کر دیئے۔ ہمارے حکمران اختیارات عوام کو منتقل کرنے میں ناکام رہے حالانکہ 1973ء کے آئین میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہر صوبہ لوکل گورنمنٹ کا نظام قائم کر یگا اور لوکل گورنمنٹ کے نمائندوں کو سیاسی، انتظامی اورمالیاتی اختیارات اور ذمہ داریاں سونپے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ بیورو کریسی کی رائٹ سائزنگ کے لیے فوری اقدامات اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے ضروری اصلاحات کا آغاز کرے اور تمام سرکاری عہدیداروں کے شفاف احتساب کا نظام قائم کیا جائے۔ تمام سرکاری ملازمین سے گھر، ٹیلیفون، کار اور نوکر وغیرہ کی سہولتیں واپس لے لی جائیں۔ ان کے بدلے میں ان کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا جائے۔ بیورو کریسی کے اعلیٰ عہدیدار‘ جی او آر اور دیگر پوش علاقوں کی بجائے جب عام لوگوں کے ساتھ رہیں گے تو انہیں عوام کے مسائل کا بھی ادراک ہوسکے گا۔ سرکاری عہدیداروں کو مفت پلاٹ یا کلبوں وغیرہ کی مفت ممبر شپ اور دیگر مراعات بھی نہیں ملنی چاہئیں۔ اسی طرح واپڈا کے ملازمین کو بجلی کی مفت سپلائی بند کر دینی چاہیے۔ اس سے عام آدمی کوبجلی کے زیادہ بل دینے پڑتے ہیں۔ یہ سراسر ناانصافی ہے اور اس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرے اور انہیں تعلیم، صحت اور نقل و حمل کی سہولتیں مہیا کرے۔ تمام وسائل اشرافیہ کی آسودگی اور عیش و آرام پر خرچ ہوجاتے ہیں۔ ہم اگر قائم دائم رہنا چاہتے ہیں تو وی آئی پی کلچر اور اشرافیہ کا ڈھانچہ ختم کرنا ہی ہوگا۔