خطرے کی گھنٹی ؟افراط زر

اگر کسی ملک میں قیمتوں کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے تو اس صورت حال کو افراط زر کا نام دیا جاتا ہے۔ یا اگر زرکی بہت زیادہ مقدار اشیا وخدمات کی بہت تھوڑی مقدار کا تعاقب کررہی ہوتو اس صورت حال کو افراط زر کا نام دیا جاتا ہے۔ یعنی \" Too much money chasing too few goods\"افراط زر کی بنیادی وجہ رسد اور طلب میں عدم توازن ہوتی ہے۔ لیکن ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ مرکزی بینک اور کمرشل بینک مل کر ملک میں زر کی مقدار میں اضافہ کردیتے ہیں‘ جس سے مجموعی اخراجات میں اضافہ ہوجاتا ہے اور قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں۔ اس صورت حال میں بہت کم لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے اور اکثریت نقصان میں رہتی ہے۔ بالخصوص مقررہ آمدنی والے افراط کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے اور دولت کی تقسیم مزید غیرمساویانہ ہوجاتی ہے اور زر کی قدر بھی گرنے لگتی ہے جیسا کہ اس وقت پاکستان میں ہورہا ہے۔ نئے مالی سال کے آغاز سے ہی افراط زر کی رفتار تیز ہوگئی ہے۔ اعدادوشمار کے بیورو نے یکم اگست کو جورپورٹ شائع کی‘ اس کے مطابق جولائی کے مہینے میں افراط زر کنزیو پرائس انڈیکس(CPI) بڑھ کر 8.3فیصد ہوگیا ہے جبکہ جون کے مہینے میں CPIصرف 5.9فیصد تھا۔ جولائی میں زیادہ مہنگائی غذائی اشیا مشروبات اور ملبوسات میں ہوئی۔ اسی طرح ہول سیل (WPI)اور حساس (SPI)پرائس انڈیکس میں بالترتیب 1.65فیصد اور 2.27فیصد کا اضافہ ہوا ہے‘ لیکن گرانی کی سطح ان سرکاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے اور اس میں متواتر اضافہ ہورہا ہے۔ موجودہ پرائس انڈیکس صحیح صورت حال کی نشاندہی نہیں کرتے کیونکہ ان میں ایسی اشیا اور خدمات کو شامل کیا گیا ہے‘ جو عام آدمی کی روزمرہ کی ضروریات کی پوری عکاسی نہیں کرتیں‘ اور افراط زر کو کم کرکے دکھانے کے لئے Base yearبھی تبدیل کیا گیا ہے۔ اپریل سے جون کے دوران افراط زر 6فیصد سے کم رہا تھا۔ جولائی کے مہینے میں یک دم بڑھ کر 8.3فیصد ہوجانا فکرمندی کی بات ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے اور عوام کی آمدنیوں میں اضافے کا بھی کوئی امکان نہیں۔ افراط زر میں 45فیصد اضافہ غذائی اشیا کی گرانی کی وجہ سے ہوا ہے۔ غریب اور محروم طبقات اپنی آمدنی کا بڑا حصہ غذائی اشیاپر خرچ کرتے ہیں۔ ان کی معاشی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ سیلز ٹیکس اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر میں شدت آرہی ہے۔ بجلی کے ٹیرف میں بھی 15فیصد سے زیادہ اضافہ کردیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان امڈ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس سال افراط زر بجٹ میں دیے گئے ہدف یعنی 8فیصد سے کہیں زیادہ رہے گا‘ جس کی وجہ سے عوام کی قوت خرید پگھلتی رہے گی اور ان کا معیار زندگی مزید پست ہوتا جائے گا۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے جوانتظامی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ان سے رسد اور طلب میں پایا جانے والا رخنہ کم نہیں ہوتا‘ لہٰذا حکومت کو کوشش کرنی چاہیے کہ کلیاتی معاشی پالیسیوں کے ذریعے اشیا اور خدمات کی رسد میں اضافہ کیا جائے۔ رسد اور طلب میں عدم توازن کے علاوہ افراطی توقعات بھی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ اگر کچھ عرصے تک قیمتوں میں چڑھنے کا رجحان رہا ہو اور صارفین قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع کررہے ہوں‘ تو طلب اور رسد میں کسی تبدیلی کے بغیر بھی قیمتیں بڑھیں گی۔ اشیا وخدمات کی قیمتیں سیلاب یا زلزلہ کی وجہ سے کچھ عرصے کے لیے بڑھ سکتی ہیں یا عالمی مارکیٹ میں چند اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے یا کسی خاص شے کی قیمت تقسیم کے نظام کی خرابیوں کی وجہ سے عارضی طورپر بڑھ سکتی ہیں‘ لیکن اگر لمبے عرصے تک افراط زر کی شرح بلند رہتی ہے تو یقینا یہ پھیلائو پر مبنی غیرذمہ دارانہ مالیاتی اور زری پالیسیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں افراط زر کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں زر کی مقدار دستیاب اشیا و خدمات سے کہیں زیادہ ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے حکومتی اخراجات کل ریونیو سے بہت زیادہ رہے ہیں اور بیرونی وسائل کی آمد میں بھی کمی آتی گئی ہے۔ اس صورت حال میں حکومت نے بینکاری نظام سے بھاری قرض لیے۔ اور اس طرح زر کی مقدار میں حقیقی معاشی ترقی کی رفتار سے کہیں زیادہ اضافہ ہوا۔ معیشت میں نقدیت (زرکی مقدار) بلند شرح سے بڑھتی رہی ہے۔ اس وجہ سے افراط زر میں اضافہ ہوتا رہا ہے اور روپے کی قدر بھی دبائو کا شکار رہی ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں روپے کی قدر میں تقریباً 50فیصد کمی ہوئی ہے، اس کی وجہ سے درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور کاروباری لاگت بڑھ گئی۔ روپے کی قدر میں کمی کی بڑی وجہ معیشت میں نقدیت میں بڑا اور بلاجواز اضافہ تھی۔ ملکی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اجرتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔ پبلک سیکٹر کی اجرتوں میں اضافے کی وجہ سے اخراجات پورا کرنے کے لیے نئے نوٹ چھاپنے پڑے اور بینکاری نظام سے قرض لیا گیا۔ اس کے نتیجے میں اجرتو ں اور قیمتوں کی دوڑ شروع ہوگئی۔ اس کے ساتھ ساتھ افراطی توقعات عوام کے ذہنوں میں گھر کر گئیں۔ اس سے افراط زر بڑھتا گیا‘ لیکن افراط زر کا آغاز مجموعی طلب اور رسد میں پائے جانے والے رخنے کی وجہ سے ہوا‘ جو کافی دیرتک جاری رہا۔ افراط زر میں اضافے کی دوسری بڑی وجہ یہ رہی کہ حکومت نے ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کیا۔ براہ راست ٹیکسوں کے برعکس بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ صارفین کو منتقل کردیا جاتا ہے۔ افراطی ماحول میں کاروباری حضرات بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافے کے ساتھ اپنا مارک اپ بھی صارفین کو منتقل کردیتے ہیں۔ بجلی اور سوئی گیس جیسی یوٹیلٹیز کی پیداوار اور سپلائی کے عمل میں پائی جانے والی نااہلیت اور کرپشن کی وجہ سے پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور آخر کار اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے عام لوگوں کے مصارف زندگی بڑھ جاتے ہیں اس سے ٹرانسپورٹ اور کاروباری لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ افراط زر کی وجہ سے روپے کی قدر کم ہوتی رہے گی ، جس سے افراط زر کو مزید ہوا ملے گی۔ افراط زر کی وجہ سے سٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں اضافہ کرے گا‘ جس سے تاجروں صنعتکاروں اور کاروباری حضرات کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ حکومت بجٹ سپورٹ کے لیے جو قرض لے رہی ہے۔ اس کی لاگت بڑھ جائے گی۔ پھیلائو پر مبنی مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت میں طلب کا دبائو بدستور موجود ہے۔ اس کی وجہ سے حکومت بینکاری نظام سے بھاری قرض لیتی رہی ہے اور لے رہی ہے۔ افراط زر پر قابو پانے کے لیے زری اور مالیاتی پالیسیوں میں سختی لانے کی ضرورت ہے۔ اس کا آغاز معیشت سے فالتو نقدیت کو نکالنا ہوگا۔ نقدیت میں اضافہ معاشی ترقی کی شرح نمو سے ایک یا دو فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حکومت ٹیکس ریونیو میں اضافہ اور غیرضروری اخراجات کم نہیں کرتی۔ اس کے ساتھ ساتھ بینکاری نظام سے قرض میں بھی بڑی کمی کرنی ہوگی۔ ایسا کرنے سے پرائیویٹ سیکٹر کو کریڈٹ کی فراہمی میں اضافہ ہوگا،اور Nominalشرح سودکم ہوجائے گی۔ اس سے معاشی ترقی کی رفتار تیز ہوگی اور اشیا وخدمات کی رسد میں اضافہ ہوگا۔ ٹیکس نظام کو ریسٹرکچر کرنے سے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم ہوجائے گا جس سے گرانی میں کمی ہوگی۔ قیمتوں میں استحکام سے روپے کی قدر میں کمی کی رفتار سست پڑجائے گی۔ اس سے بیرونی سیکٹر سے قیمتوں پر آنے والے دبائو میں کمی ہوگی۔ اگر زری اور مالیاتی پالیسیوں کی ریسٹرکچرنگ کرکے طلب اور رسد میں توازن پیدا نہیں کیا جاتا تو تمام کلیاتی معاشی مظاہر کی صورت حال دگرگوں ہوجائے گی۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں