زراعت پاکستانی معیشت کا سب سے بڑا شعبہ رہا ہے ۔ پاکستان کی کل قابل کاشت اراضی 55ملین ہیکٹر ہے اور صرف 21ملین ہیکٹر زیرِ کاشت ہے۔ جی ڈی پی میں اس شعبے کا حصہ 22فیصد ہے۔ جمعیت محنت کے باروزگار افراد کا 45فیصد اسی شعبے سے وابستہ ہے ۔ خوراک اور صنعتوں کو بہت سا خام مال مہیا کرنے کے علاوہ یہی شعبہ ملک کے لیے سب سے زیادہ زرِمبادلہ کمانے کا باعث بنتا ہے۔ اس طرح اس شعبے کو پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ اس شعبے کی پیداوار 1949ء میں جی ڈی پی کا 53فیصد تھی۔ جو کم ہوکر 22فیصد رہ گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زراعت سے وابستہ افراد کی حقیقی آمدنیاں کم ہوگئی ہیں اور غربت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اکثر حکومتوں نے اس شعبہ کی ترقی سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اب بھی کسی دوسرے شعبے کی نسبت اس شعبے کو قومی معیشت میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان میں صنعتی ترقی پر بہت زور دیا جاتا ہے لیکن صنعتی ترقی کو ٹھوس بنیاد مہیا کرنے کے لیے زرعی شعبے کی ترقی لازمی شرط ہے۔ ٹیکسٹائل پاکستان کی سب سے بڑی صنعت ہے‘ جس کا کپاس کی فصل پر بھاری انحصارہے۔ پاکستان کے صنعتی سیکٹر کا جی ڈی پی میں 25فیصد حصہ ہے جس میں 10فیصد ٹیکسٹائل کا حصہ ہے۔ خدمات ہماری جی ڈی پی کا سب سے بڑا یعنی 53فیصد ہے لیکن اس کے لیے مشینری اور ٹیکنالوجی درآمد کرنے پر کثیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے‘ جس سے بیرونی قرض میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہماری معیشت زراعت پر کس قدر انحصار کرتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری تقریباً 80فیصد برآمدات زراعت سے متعلق پروڈکٹس سے حاصل ہوتی ہیں ۔ اگر کسی سال ہماری کپاس کی فصل کم ہوجاتی ہے تو پورا معاشی منظرنامہ تبدیل ہوجاتا ہے۔ زراعت کا شعبہ ماضی میں ترقی کی دوڑ میں کافی پیچھے رہ گیا ہے جس کی وجہ سے ملک میں خوراک کی کمی، روزگار کی قلت، آمدنی کی تقسیم میں ناہمواری اور ادائیگیوں کے توازن میں خسارے جیسے مسائل نے جنم لیا۔ زراعت کو ترقی دے کر صورتِ حال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ زراعت کی ترقی کے راستے کی رکاوٹیں نہ صرف کثیر ہیں بلکہ وہ ایک دوسرے سے منسلک بھی ہیں۔ زرعی شعبے کا سب سے بڑا مسئلہ آبپاشی کی ناکافی سہولتیں ہیں۔ پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری آبپاشی کا نظام موجود ہے اور موسمی حالات بھی انتہائی سازگار ہیں۔ یہاں سارا سال فصلیں اُگائی جاسکتی ہیں۔ سندھ طاس کی کھاد اور ہموارزمین سونے پہ سہاگہ ہے۔ ان اسباب کے ہوتے ہوئے فی ایکڑ پیداوار میں بڑے اضافے کی گنجائش ہے اور زیرِکاشت رقبے میں بھی توسیع کی جاسکتی ہے لیکن اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ یا سنگِ راہ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے درکار آبی ذخیروں (ڈیم ) کی سہولتوں کا نہ ہونا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں بارشوں کی کمی نہیں ہے لیکن اکثر اوقات بارشوں کا پانی سیلاب کی شکل میں بہہ کر ضائع ہوجاتا ہے اور ہم نے اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔ یہ متعدد حکومتوں کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ اس وقت ملک میں تین بڑے آبی ڈیم ہیں‘ تربیلا، منگلا اور میرانی ڈیم۔ ان کے علاوہ چند درجن چھوٹے ڈیم ہیں لیکن ان سے ملکی آبپاشی کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔ اس لیے آبپاشی کے لیے بارشوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں 90فیصد بارشیں مون سون کے موسم میں ہوتی ہیں۔ ان سے سیلاب آتا ہے۔ آزادی سے لے کر آج تک کسی بھی حکومت نے مون سون کی بارشوں سے آنے والے سیلاب کی شدت پر قابو پانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ قدرتی آفات پر مکمل طورپر قابو نہیں پایا جاسکتالیکن انسان نے ان کی شدت میں کمی کرنے کے طریقے دریافت کرلیے ہیں‘ لیکن پاکستان اس سے مستثنیٰ ہے اور کئی سالوں سے سیلاب کے مضر اثرات بھگت رہا ہے۔ 2010ء کے تباہ کن سیلاب سے پہلے کئی سالوں تک پاکستان میں خشک سالی کا دور رہا۔ 2006ء سے 2010ء تک بہت کم بارشیں ہوئیں اور آبی ڈیموں میں بہت کم پانی رہا‘ لیکن اس کے باوجود ڈیموں کی کشادگی‘ توسیع یا مرمت پر کوئی کام نہیں کیا گیا ‘ نئے آبی ذخائر کی تعمیر تو دور کی بات ہے۔ پاکستان میں پورا سال پانی کی بہم رسانی ضروری ہوتی ہے کیونکہ ربیع اور خریف کی فصلیں گرمی اور سردی کے دونوں موسموں میں اگائی اور پکائی جاتی ہیں۔ فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ پودوں کو بروقت پانی کی مناسب مقدار سے سیراب کیا جاسکے۔ پاکستان میں بڑے ڈیم بنانے کا مسئلہ سیاسی ایشو بن چکا ہے اور سیاسی نعروں کی نذر ہوچکا ہے۔ آبی مسائل کے حل کے سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ صوبوں بالخصوص پنجاب اور دیگر صوبوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ سیاسی پہلو کے علاوہ کالا باغ ڈیم بننے سے ماحول اور معاشی اور سماجی ڈھانچے پر پڑنے والے اثرات پر بھی مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ متنازع ڈیم کے حجم پر بھی اتفاق رائے موجود نہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک کے تجربے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بڑے ڈیم بنانے کی بجائے بڑی تعداد میں چھوٹے ڈیم بنانا زیادہ سود مند ہے کیونکہ ان پر بڑے ڈیم کی نسبت لاگت بھی کم آئے گی اور ان کی مرمت اور تجدید بھی آسان ہوگی۔ سو ہمیں چھوٹے چھوٹے ڈیم بنانے پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی بھی بڑا آبی منصوبہ نہیں بن پائے گا اور ہم بدستور آبی بحران میں مبتلا ہوتے جائیں گے جس کے سنگین اثرات ہوں گے۔ زرعی شعبے کی ترقی کی راہ میں دوسری بڑی رکاوٹ زرعی اصلاحات کا نہ ہونا ہے۔ پچھلی کچھ دہائیوں سے بالائی اور مرکزی پنجاب میں بڑی تبدیلی رونما ہوچکی ہے لیکن باقی ماندہ پاکستان میں ابھی تک جاگیرداری کی عملداری ہے۔ صوبہ سندھ میں 3فیصد جاگیردار صوبے کی پچاس فیصد اراضی کے مالک ہیں جبکہ 60فیصد آبادی کے پاس صرف 10فیصد اراضی ہے۔ جو زرعی اصلاحات 1960ء اور 1979ء میں کی گئی تھیں وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی تھیں۔ 1977ء کی اصلاحات کی روسے آبپاشی اراضی کی حد50ایکڑ اور غیر آبپاشی اراضی کی حد 100ایکڑ فی کس مقرر کی گئی تھی مگر ان پر عمل نہ ہوسکا۔ اس طرح ملک کے بڑے حصے میں جاگیرداروں کی عملداری جاری رہی۔ زرعی اصلاحات نہ ہونے کے سماجی اور سیاسی اثرات کے علاوہ جاگیرداری نے اجارہ داری اور کارٹلز کو بھی تقویت دی اور پیداواری عمل میں نااہلیت در آئی‘ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی حوصلہ افزائی ہوئی اور افراط زر میں اضافہ ہوتا رہا۔ زرعی اصلاحات کسی بڑی سیاسی پارٹی کے منشور کا حصہ بھی نہیں بن سکیں کیونکہ سیاسی پارٹیوں کی غالب اکثریت جاگیرداروں پر مشتمل ہے۔ زرعی شعبے میں کاشتکاری کے جو طریقے استعمال کیے جاتے ہیں وہ بھی کم پیداوار کا باعث ہیں۔ آبپاشی کے نیٹ ورک‘ کھاد‘ جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کا بھی صحیح استعمال نہیں ہورہا ۔ آبپاشی کا فرسودہ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے جس سے 55فیصد تک پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ ہمیں ڈرپ آبپاشی ک طریقہ اپنانا ہوگا جس سے پانی کا ضیاع رک جاتا ہے اور پانی براہ راست پودوں کی جڑوں کو سیراب کرتا ہے۔ حکومت نے کھاد اور زرعی مشینری پر دی جانے والی سبسڈی واپس لے لی ہے‘ اس سے چھوٹے کاشتکاروں کی مشکلات بڑھیں گی اور وہ کم کھاد استعمال کریں گے‘ جس سے پیداوار میں کمی ہوسکتی ہے۔ کاشتکاروں کی تعلیم و تربیت کو بھی اکثرنظرانداز کیا گیا ہے جب تک کاشتکار کا شت کے جدید طریقوں سے واقف نہیں ہوں زرعی شعبے کی استعداد کے مطابق پیداوار حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ سیم تھور، جنگلات کاٹنے اور زمین کے کٹائو کے عوامل زمین کی پیداواری استعداد میں کمی کا باعث ہیں۔ ان پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے ۔ پاکستان کی آبادی تیز رفتاری سے بڑھتی جارہی ہے ۔ اس سے ہماری غذائی ضروریات میں اضافہ ہوتا رہے گا ۔ دنیا بھر کے موسمی حالات تبدیل ہورہے ہیں اور آبی ذخائر میں کمی کارجحان ہے‘ اس سے ہماری مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا اس مسئلے کے حل کے لیے موجودہ انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنا ہوگا اور زرعی پالیسی کی تشکیل نوکرنی ہوگی۔ اس کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکیں گے۔