ٹیکس مالیاتی پالیسی کا موثر حربہ ہوتے ہیں۔ اس کی مدد سے لوگوں کا صرف کم کیا جا سکتا ہے۔ مختلف نوعیت کے ٹیکسوں کے ذریعے امیروں کی بڑھتی ہوئی دولت حکومت حاصل کر سکتی ہے۔ لیکن پاکستان میں سرمایہ دار، جاگیردار اور کاروباری افراد اتنے طاقتور ہیں کہ کوئی بھی حکومت ان سے ان کی استعداد کے تناسب سے ٹیکس وصول نہیں کر سکی۔ انتظامی مشینری بھی انتہائی بدعنوان ہے، وہ خود ٹیکس چوری کے راستے بتاتی ہے۔ سرمایہ دار اور بڑے کاروباری افراد حیلے بہانے کرکے ا ن سے بچ نکلتے ہیں اور حکومت بھی انہیں ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں سے نوازتی رہتی ہے؛ چنانچہ سارا بوجھ بالواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں غریبوں اور کم آمدنی والے افراد پر ڈال دیا جاتا ہے۔
ملک کو معاشی خود کفالت سے ہمکنار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معیشت کی حقیقی استعداد کے مطابق ٹیکس اکٹھا کیا جائے، فضول خرچی اور اسراف بند کیا جائے، حکومتی مشینری کا حجم کم کیا جائے، حکومتی کنٹرول میں چلنے والے اداروں کو نفع بخش بنایا جائے، صنعتی ترقی کا عمل تیز کیا جائے، زرعی شعبے کی کارکردگی میں بہتری لائی جائے، افراطِ زر پر قابو پایا جائے اور دولت کی مساویانہ اور منصفانہ تقسیم کی پالیسی کے ذریعے عدم مساوات کم کی جائے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے تمام جمہوری ملکوں نے انکم ٹیکس کیپیٹل ٹرانسفر ٹیکس اور دولت ٹیکس کے ذریعے وسائل حاصل کر کے اپنے ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا‘ لیکن پاکستان میں مساویانہ ٹیکس بتدریج کم ہوتے گئے اور غیرمساویانہ ‘غیرمنصفانہ ٹیکسوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ ٹیکسوں کے ذریعے عدم مساوات کم کرنے کے بجائے بالواسطہ اور ودہولڈنگ ٹیکسوں کی بھرمار ہو گئی جن سے معاشی انصاف کے بنیادی اصول کی نفی ہوتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی میں براہِ راست ٹیکسوں میں 19 فیصد کمی اور بالواسطہ ٹیکسوں میں 32 فیصد اضافہ ہوا۔ بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدیدار اور حکمران اشرافیہ فری مراعات اور سہولتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، انہیں پرائم لوکیشنز پر بیش قیمت سرکاری پلاٹ کوڑیوں کے مول دیے جاتے ہیں۔ وہ ٹیکسوں سے حاصل کی گئی آمدنی کو بے دردی سے لوٹتے اور ضائع کرتے ہیں۔ ملک آئی ایم ایف کے بیل آئوٹ پیکیج کے سہارے معاشی بقا کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ سول اور فوجی حکومتوں نے 1977ء سے اب تک مراعات یافتہ طبقوں کو غیرمعمولی ٹیکس چھوٹیں اور رعایتیں دے کر کئی ٹریلین روپے ضائع کر دیے اور ان پر عائد پروگریسو ٹیکس جیسے اسٹیٹ ٹیکس‘ گفٹ ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس وغیرہ بتدریج ختم کر دیے ہیں۔ پارلیمنٹ نے 1977ء کے فنانس ایکٹ کے ذریعے زرعی آمدنی کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کا تاریخی فیصلہ کیا تھا تاکہ غیرحاضر لینڈ لارڈز کو ٹیکس ادا کرنے کا پابند کیا جائے، لیکن ضیاالحق کی فوجی حکومت نے یہ ایکٹ منسوخ کر دیا۔ ضیاالحق کے گیارہ اور مشرف کے نو سالہ دور میں بڑے جاگیرداروں نے انکم ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس کی مد میں ایک پیسہ بھی ادا نہیںکیا۔
1973ء کے آئین کے مطابق زرعی آمدنی پر ٹیکس عائد کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگرچہ تمام صوبائی حکومتوں نے اس سلسلے میں قانون سازی کی لیکن 2012-13ء میں صرف دو ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جا سکا جبکہ زرعی شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ 22 فیصد ہے۔ اس لحاظ سے زرعی شعبے کی ٹیکس ادا کرنے کی گنجائش 300 ارب روپے بنتی ہے۔ ابھی تک اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ 1977ء سے زرعی آمدنی کو ٹیکس کے دائرے سے خارج کرنے سے پاکستان کو ٹیکس ریونیو کا کتنا نقصان ہوا۔ ریاستی اشرافیہ کو گزشتہ چار دہائیوں میں ایس آر اوز کے ذریعے جو ٹیکس چھوٹیں اور ٹیکس فری سہولتیں دی گئیں‘ ان کا تخمینہ تقریباً 75 سے 100 ٹریلین روپے بنتا ہے۔ ان کی وجہ سے ملک کو بڑی محتاجی کا سامنا کرنا پڑا اور ملک کا ہر شہری مقروض ہوا۔ اگر زرعی آمدنی پر ٹیکس نافذ کر دیا جاتا تو ہمیں قرض لینے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔
ایف بی آر ہر سال ٹیکس ریونیو کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ 2012-13ء کا ہدف 2380 ارب روپے تھا‘ لیکن صرف 1930 ارب روپے حاصل کیا جا سکا‘ جو ہدف سے 450 ارب روپے کم تھا۔ ایف بی آر نے مینوفیکچرنگ پر ودھولڈنگ ٹیکس ایک فیصد کم کیا جس سے ریونیو کو اٹھارہ ارب روپے کا نقصان ہوا۔ شوگر انڈسٹری کے بااثر مالکان کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایکسائز ڈیوٹی کم کر کے 0.5 فیصد کر دی گئی جس سے قومی خزانے کو آٹھ ارب روپے کا نقصان ہوا۔ سٹیل فونڈریز کو سیلز ٹیکس میں 50 فیصد رعایت دینے سے قومی خزانے کو چار ارب روپے کا نقصان ہوا۔ 2013-14ء کے بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا ہدف 2475 ارب روپے رکھا گیا ہے جو گزشتہ برس سے 25 فیصد زیادہ ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکس ریونیو ہدف سے 45 ارب روپے کم رہا ہے اور پورے مالی سال کا ہدف حاصل کرنا مشکل لگ رہا ہے۔
ایف بی آر کی اتنی بری کارکردگی کے باوجود اس کے عملے کو ایک سے تین ماہ کی اضافی تنخواہ بونس کے طور پر دی گئی جو حیران کن بات ہے۔ یہ بات بھی سمجھ سے بالا ہے کہ ایف بی آر کے عملے کو سالانہ بونس کے علاوہ ڈبل بنیادی تنخواہ کیوں دی جاتی ہے؟ انہیں بھی باقی تمام سرکاری ملازمین کی طرح معمول کے مطابق تنخواہ اور مراعات ملنی چاہئیں۔ وزیر خزانہ اور قومی اسمبلی کو ان معاملات کا جائزہ لینا چاہیے کہ انہیں بونس اور ڈبل بنیادی تنخواہ دینے کا جواز کیا ہے جبکہ 90 فیصد ریونیو ودھولڈنگ ٹیکسوں اور رضاکارانہ ادائیگیوں سے حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ عالمی بنک اور دوسری ڈونر ایجنسیوں نے ٹیکس نظام کی اصلاح کے لیے وسائل مہیا کیے اور مختلف تجاویز بھی دیں لیکن حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ صورتحال خراب تر ہو گئی۔ ہم معیشت کی ٹیکس استعداد کا بمشکل ایک چوتھائی ریونیو اکٹھا کر رہے ہیں۔ ایف بی آر کا کام ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کرنا اور رضاکارانہ طور پر ٹیکس ادا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے لیکن ٹیکس چوری کی مقدار ٹیکس ریونیو سے کہیں زیادہ ہے۔ ایف بی آر ٹیکس چوری پر قابو پانے میں کامیاب ہوا ہے نہ ٹیکس چوروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں سنجیدہ ہے۔
مئی کے عام انتخابات سے پہلے امیدواروں نے جو کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن میں جمع کرائے تھے، ان میں آمدنی اور دولت کے گوشوارے بھی جمع کرائے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے وہ گوشوارے ایف بی آر کو بھجوا دیے تھے۔ ایف بی آر ان کی بنیاد پر ایسے تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کر سکتا تھا جن کے گوشواروں میں آمدنی اور دولت کے اعدادوشمار سے ٹیکس چوری ظاہر ہوتی تھی اور ان سے ٹیکس وصول کیا جا سکتا تھا۔ حکومت نے کئی بار اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرے گی اور ان تمام سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لائے گی جو ٹیکس ادا نہیں کر رہے یا استعداد سے کم ٹیکس دے رہے ہیں، جیسے پراپرٹی‘ ایگریکلچر اور پرچون فروش وغیرہ لیکن اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس حکومت نے کئی اقدامات جو معیشت کو ڈاکومنٹ اور ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے پارلیمنٹ نے فنانس ایکٹ 2013-14ء میں منظور کیے، ایس آر اوز کے ذریعے واپس لے لیے ہیں۔ ایف بی آر کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے قابل عمل انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے جن کے ذریعے کرپشن سے پاک، اہل اور موثر ٹیکس مشینری وجود میں آ سکے۔ ٹیکس چوری روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ایف بی آر کو سیاسی اثرورسوخ سے پاک کیا جائے اور ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے ایک ہی قومی ٹیکس کولیکشن ایجنسی قائم کی جائے جو تمام ٹیکس اکٹھے کرے اور اس ایجنسی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا انتخاب نیشنل فنانس کمیشن کرے، اس سے ٹیکس ادا کرنے والوں کو سہولت ہو گی کہ وہ ایک ہی ایجنسی سے ڈیل کریں گے۔