"RBC" (space) message & send to 7575

کہیں بھول نہ جائیں

اکثر اپنی عمر کے لوگوں کے گزرنے کی خبریں ملیں تو دل اداس سا ہو جاتا ہے کہ ہم اکیلے نہ رہ جائیں۔ یہ نہ سمجھیں کہ ہمیں جانے کا کوئی خوف‘ یا ذہن میں دائمیت کی خواہش ہے۔ ہماری اہمیت تو اس وسیع کائنات میں ایک پل اور ایک حقیر ذرے سے زیادہ کچھ نہیں۔ لیکن یہ دنیا بہت خوبصورت اور ہماری زندگی بہت بڑا انعام ہے۔ اس لیے تو سیانے کہتے ہیں کہ وقتِ موجود میں ہر پل اس طرح سے جیو کہ آپ کسی حسین ترین وادی یا کسی خیالی جنت میں رہ رہے ہیں۔ زندگی گزارنے کا اگر یہ شعور نہ ہو تو بے شک آپ سونے کے محل بنائیں یا اربوں میں کھیلیں‘ کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ اگر آپ کے خیال میں ایک درویش نما شخص تن تنہا کسی دور دراز جنگل کے کنارے کسی درخت کے نیچے بیٹھا آرام وسکون میں ہے اور اس کی جھونپڑی میں کچھ بھی نہیں تو مادہ پرستی کے گرم بازار کے آج کل کے سوداگر لوگ اس پر ترس کھا کر آگے نکل جائیں گے اور دولت کمانے‘ گننے اور اسے سنبھالنے کے لیے‘ اگر لوٹی ہوئی ہے‘ کے لیے لاطینی امریکہ‘ آزاد جزائر یا دو نمبر کمپنیوں کی تلاش میں سرگرداں ہوں گے۔ زندگی جس رنگ میں بھی نصیب ہو‘ حالات جو بھی ہوں‘ اگر سانس اور وجود کی اہمیت کا احساس ہے تو آپ کسی بھی لمحے اسے خواہ مخواہ کے جھگڑوں‘ بے لطف بحثوں اور نرگسیت کی تلاش میں ضائع نہیں کریں گے۔ اس سے پہلے کہ اصل بات کی طرف آؤں‘ سحر انصاری کا یہ خوبصورت شعر یادداشت کے پر دے چاک کر کے آنکھوں کے سامنے آ گیا ہے:
ہم کو جنت کی فضا سے بھی زیادہ ہے عزیز
یہی بے رنگ سی دنیا یہی بے مہر سے لوگ
اپنی عمر کے لوگوں کی بات اس لیے کی ہے کہ ہم ملک کی پرانی روایت کے امین ہیں جو جدید ترقی اور بدلتی ہوئی ہماری روزمرہ کی زندگی میں شاید ہماری چھوڑی ہوئی تحریروں میں رہ جائیں۔ آج کل جب ہمارے شہروں‘ قصبوں اور دور دراز کے دیہات تک قدرتی گیس گھروں میں موجود ہے تو صرف ہمیں ان سردیوں کے موسم میں یاد آتا ہے کہ لوگ جنگلوں کا رخ کرتے سوکھی لکڑیاں تلاش کرتے‘ اکٹھی کرتے رہتے اور کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ رات اور صبح گھروں میں آگ جلاتے‘ ہاتھ پیر سینکتے اور ماحول کو گرم رکھتے تھے۔ بچپن میں ہمارے گھر میں امی ہی 'آگ کا دیوتا‘ تھیں۔ پہلے یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ سردیوں کے آنے سے پہلے گھروں کو اندر سے ایک خاص باریک مٹی کا‘ موجودہ دور کے رنگوں و روغن کی طرح‘ پینٹ کیا جاتا تھا۔ یہ کام پت جھڑ کے آتے ہی شروع ہو جاتا اور کئی دنوں کی محنت کے بعد ہمارے گاؤں کی سب عورتیں گھروں کو تازہ کر دیتیں۔ اس مٹی کی خوشبو بہت دیر تک رہتی۔ سب گھروں میں نہیں مگر بچپن کے اپنے گھر میں دیوار کے ساتھ لکڑیاں جلانے کے لیے انگیٹھی بنائی جاتی تھی۔ لکڑیوں کی آگ کا دھواں کچھ باہر نکل جاتا اور کچھ ہماری آنکھوں میں پانی پیدا کرتا رہتا۔ سورج ڈھلتے ہی شام کا کھانا باہر دالان میں پکتا اور یہی آگ ہم گھر کے درمیان والے بڑے کمرے میں لے جاتے۔ آگ جلتے ہی ہم اس کے گرد بیٹھ جاتے‘ بڑے بھی اور چھوٹے بھی۔ بچوں میں ہر ایک کی خواہش ہوتی کہ وہ آگ کے قریب جگہ پر دوسرے سے پہلے قابض ہو‘ بشرطیکہ حقِ ملکیت قائم رہے۔ امی اس کھیل میں ریفرل کا کردار ادا کرتیں۔ شام کا کھانا ہم اندر آگ کے قریب بیٹھ کر کھاتے۔ انگیٹھی کے اوپر بنے ہوئے تختے پر لالٹین کی روشنی ٹمٹما رہی ہوتی۔ کھانا کھاتے ہی قصے کہانیاں شروع ہو جاتیں۔ تب کے ہمارے دیہات میں قصے کہانیاں سنانے کے بھی کچھ ماہر بابے ہوا کرتے تھے‘ جنہیں گھروں میں بڑی چاہت کے ساتھ بلایا جاتا اور وہ بادشاہوں‘ پریوں‘ شہزادوں‘ جنگوں اور کچھ آسمانی نوعیت کے قصے سناتے۔ یاد نہیں کہ کبھی پورا قصہ سنا ہو۔ ہمیں بیٹھے بیٹھے نیند آ جاتی تھی۔ اب بھی یہی حال ہے۔ کوئی قصہ سنائے تو پرانی عادت دور سے بھاگ کر گلے لگا لیتی ہے۔ آج کل اگر کوئی سیاسی قصہ سنانے کی کوشش کرے تو ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔
ایسی زندگی میں ہر خاندان میں اجتماعیت کی نفسیات اکٹھے بیٹھنے‘ اکٹھے کھانے‘ اکٹھے آگ کے سامنے بیٹھنے‘ اکٹھے قصے کہانیاں سننے سے پیدا ہوتی تھی۔ آگ کی تپش اس فہم کو دوچند کر دیتی تھی۔ آج کل دیکھیں‘ دوستوں میں اور گھروں میں بھی ہر ایک کسی کونے میں بیٹھا آنکھیں سکرین پہ گاڑے نظر آتا ہے۔ ہر ایک کے کھانے کے اوقات مختلف ہیں اور ہر کمرے میں حرارت رسانی کا علیحدہ انتظام موجود ہے۔ انفرادیت کے اس زمانے میں ہم اس خاندانی ہم آہنگی‘ محبت اور اجتماعی رنگ کو کہاں تلاش کریں اور کریں بھی تو گزرے ہوئے ادوار اور اُن گزرے ہوئے لوگوں کو کہاں سے ڈھونڈ لائیں؟ ان سردیوں کی شاموں کو یہ درویش اپنے پرانے آبائی گاؤں میں تو اسی طرح گزارتا ہے۔ اب فرق یہ ہے کہ وہاں گھر بناتے وقت قدیمی انگیٹھی کی جگہ رکھنا بھول گیا۔ سب کچھ تو بدل گیا ہے۔ ہم بھی اس وقت کئی کاموں کے بوجھ میں اس طرح دبے ہیں کہ کچھ یاد نہ رہا۔ جب کبھی وقت وہاں لے جائے اور موسم آج کل کی طرح سرد ہو تو سورج غروب ہوتے ہی برآمدے کے کنارے آگ کو روشن کر لیتے ہیں‘ ماضی کی طرح شام کا کھانا بھی آگ کے سامنے۔ اسلام آباد کے جنگل میں ایک جھونپڑی تعمیر کی تو آگ جلانے کے لیے انگیٹھی کو نہ بھولا لیکن گزشتہ ایک دہائی سے جنگل کے کنارے ایک چھوٹے سے تالاب کی پٹری پر آگ جلا کر جو لطف محسوس کرتے ہیں شاید ہی کسی دوسرے ماحول میں ہو۔ رات بہت سردی اور چاند بے شک دور چمک رہا ہو‘ ہمارا دل روشن اور سکون کی کیفیت کسی جنت سے کم نہیں ہوتی۔ آگ کے شعلوں کا ہر لمحے بدلتا رنگ اور اس کا مختلف پہلوؤں اور اطراف کی طرف وقفے وقفے سے لپکنا عجیب کیفیت پیدا کرتا ہے۔ ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ نظریں جنگل کی طرف سے چھن چھن کر آتی چاند کی روشنی کی طرف ہوں یا آگ کے ست رنگے شعلوں کی طرف۔
یہ نہیں کہ ہم نے اس پرانی روایت کو قائم رکھا ہوا ہے کہ خوش ہیں بلکہ اس کیفیت میں ایسی بے خودی کا احساس ہے کہ الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ ہم بھی اپنے گاؤں کے گزرے لوگوں کی طرح درختوں کو نہیں کاٹتے۔ جب سوکھ جائیں ‘ موسمی حالات کی وجہ سے گر جائیں یا پھر کچھ ٹہنیاں کاٹنا ناگزیر ہوں تو انہیں اکٹھا کر لیتے ہیں جو اس موسم میں ہماری شام کو گرم اور دل کو روشن رکھتی ہیں۔ ایسے میں کچھ اپنے وجود کا احساس‘ کچھ گزرے لوگوں کی یادیں اور کچھ ماضی کے رونقوں بھرے دن‘ سحروں اور شاموں کی خوشبو اس جاڑے میں بھی بہار بن کر ہمارے اندر بس جاتی ہے۔ ہمیں اس زندگی سے اور دنیا سے اور کیا چاہیے۔ یہ بہت کچھ ہے۔ نہ اس سے زیادہ کچھ کی تمنا اور نہ کسی کمی کا ملال۔ درست زاویۂ نگاہ ہو تو اصولِ حیات کو سمجھنے کے لیے کسی فلسفے یا بھاری بھرکم کتابوں اور بابوئوں کی ضرورت نہیں‘ صرف آنکھ کھول کر نظارۂ قدرت کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔ وقت جو ہمارا سرمایہ ہے اس کی حفاظت‘ نگہبانی اور دل کی آواز پر دھیان رہے تو شعوری کیفیت کی آبیاری صرف اصلی فطرت کے جھرنے خودبخود کرتے رہتے ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں نہیں‘ اس سے بڑی ہمارے نزدیک ہو نہیں سکتیں۔ خوابوں اور سرابوں کی دوڑ میں تو ایسی مہلت نصیب نہیں ہوتی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں