"RBC" (space) message & send to 7575

اَن پڑھ بچے

آج کے بچے کل کے جوان ہوں گے اور ملکوں کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں آئے گی۔ ہر دور میں اسی طرح ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ ہم جن بچوں کی بات کر رہے ہیں وہ محکوم‘ مزدور‘ کسان اور ادھر اُدھر دکانوں اور گھروں میں ہی کام کر سکیں گے۔ آج کے دور کی بدلتی معیشت میں اَن پڑھوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں۔ جو اس وقت صورتحال ہے اس میں اُن لاکھوں جوانوں کیلئے بھی کچھ زیادہ امید نظر نہیں آ رہی‘ جن کے ہاتھوں میں سندیں ہیں۔ بے معنی‘ غیر تکنیکی‘ بے ہنر تعلیم جس کا صنعتی دور سے تعلق نہ ہو‘ بیروزگار تعلیم یافتہ لوگ ہی پیدا کرے گی۔ خیر یہ دوسری بحث ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے سربراہان اور ان کے اوپر کے لوگ نصاب اور نظام تعلیم کے بارے میں کتنی دور کی سوچتے ہیں اور منصوبہ بندی اور کیا کوئی منظم اور مرتب کوشش دیکھنے میں آ رہی ہے کہ بنیادی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کی درسگاہوں کو نئے دور کے تقاضوں کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کر سکیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سب بچوں کو بنیادی تعلیم کی روشنی تو مہیا کی جائے۔ آئین میں ہمارے کرتا دھرتائوں نے کب سے لکھا ہوا ہے کہ تعلیم ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے مگر دیگر حقوق کی صورتحال کو دیکھیں تو اپنی حالت پر ترس آتا ہے۔ بچوں کے حقوق معصوموں کے حقوق ہیں‘ جنہیں کچھ پتا نہیں ہوتا کہ ان کی زندگیوں کی کیا سمت ہو گی‘ یہ سب کچھ خاندان‘ معاشرہ اور حکومتیں متعین کرتی ہیں۔ میرے خیال میں بنیادی تعلیم کا فیصلہ والدین پر نہیں چھوڑا جا سکتا ہے کہ یہ قومی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے۔ سمندروں کے اُس پار جس ترقی یافتہ دنیا کو دیکھا ہے وہاں والدین اپنے بچوں کو گھر نہیں بٹھا سکتے‘ ہر صورت میں 16سال کی عمر تک انہیں سکول میں پڑھنا ہو گا۔ البتہ اس بات کی رعایت ہوتی ہے کہ وہ کس قسم کے سکول میں انہیں داخل کرائیں گے۔
ایک عرصہ سے ان صفحات میں لازمی تعلیم پر زور دے رہا ہوں۔ اصل میں تو یہ ہم سب کا فرض بنتا ہے‘ خصوصاً حکمران طبقے کا کہ سب بچوں کو سکولوں کی سہولت مہیا کریں۔ پوری دنیا جو ہمیں غور سے اور حیرانی کے ساتھ دیکھتی ہے‘ یقین نہیں کرتی کہ ایک طرف انتہا پسندی اور مذہبی منافرت ہے اور دوسری طرف ہماری صوبائی حکومتیں ان کروڑوں بچوں کیلئے کچھ نہیں کر رہیں جو سکولوں سے باہر ہیں۔ آپ خود سوچیں‘ ایسے اَن پڑھ بچے بڑے ہو کر کیا بیکار نہیں رہیں گے؟ اب تو زراعت میں بھی تیزی سے مشینوں کا استعمال ہونے لگا ہے کہ وہاں بھی ان کیلئے روزگار کے مواقع سکڑ گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں‘ جو صوبے کے دیگر حصوں سے زیادہ پسماندہ ہے‘ جب بھی جانا ہوتا ہے تو یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اَن پڑھ لوگ محنت مزدوری کیلئے دور کے بڑے شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ آبادی کا دباؤ اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب لوگ بھکاری بننے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ صرف چند گھرانے نہیں بلکہ پوری بستیاں‘ قومیں اور ذاتیں پیشہ ور بھکاری بن چکی ہیں۔ اَن پڑھ اور بے ہنر لوگوں کیلئے اپنی زندگیوں کو سہارا دینے کے تین ممکنہ ذرائع ہو سکتے ہیں: مزدوری‘ کاشتکاری اور بھکاری پن۔ بھکاری پن اب زیادہ سہل اور کسی حد تک زیادہ فائدہ مند پیشہ ہے۔ کئی سال پہلے کی بات ہے کہ ایران جانا ہوا۔ تہران میں تھا تو کئی پاکستانی بھکاریوں‘ خصوصاً عورتوں کو شیر خور بچے بغل میں اٹھائے ہاتھ پھیلائے دیکھا۔ ان سے بات چیت کی تو جواب ہمیشہ یہی آتا کہ اور کیا کریں۔ دور جانے کی بات نہیں‘ بڑے شہروں کے چوراہوں پر ایک طرف ٹریفک پولیس کے سپاہی چالان کر رہے ہوتے ہیں‘ یا ویسے بیکار کھڑے تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف بھکاریوں کے جتھے گاڑیوں کی قطاروں کے درمیان شیشوں پر انگلی مار کر توجہ اپنی طرف مبذول کرا رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہمارا حال ایسا ہے تو مستقبل کس طرح مختلف ہو سکتا ہے۔
آپ خود سوچیں کہ حکومت کے کارندے تک کہہ رہے ہیں کہ اڑھائی کروڑ بچے سکول نہیں جا رہے۔ ان کا مقدمہ ہم دنیا کی کس عدالت میں لڑیں‘ کس بین الاقوامی تنظیم میں لے جائیں اور کن جگہوں پر شور مچائیں کہ ان معصوم زندگیوں کے ساتھ یہ ظلم ہوتا ہم نہیں دیکھ سکتے۔ بے حسی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے! ہمارے حکمران اب سب حدوں کو عبور کر چکے ہیں۔ پنجاب میں وسائل کی کمی نہیں‘ اصل فتور ذاتی ترجیحات کا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں جو اتنی بڑی نوکر شاہی قائم کر رکھی ہے‘ وہ نجانے کیا کرتی ہے۔ بچوں کو سکول‘ سہولتیں اور اساتذہ مہیا نہیں کر پاتے مگر دفتر پہ دفتر‘ افسروں اور ہر نوع کے کارندوں کے لشکر موجود ہیں۔ ہر صوبے میں نظام تعلیم زمیں بوس ہو چکا ہے۔ بلوچستان اور سندھ میں ہزاروں ''بھوت اساتذہ‘‘ ہیں۔ پنجاب اور کے پی میں صورتحال قدرے بہتر ہے‘ مگر اتنی بڑی نوکر شاہی کے ہوتے ہوئے کتنے ''بھوت اساتذہ‘‘ کا محاسبہ ہوا ہے‘ ہمارے علم میں تو نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ روایتی ہفتہ صفائی کی طرح کچھ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہو۔ اگر ایسا معمول اور مربوط طریقے سے ہوتا رہتا تو نوبت یہاں تک نہ آتی کہ سرکاری سکولوں کو نجی تحویل میں دے دیا جاتا۔ دکھ کی بات ہے کہ ہر ضلع میں اوپر سے لے کر نیچے تک‘ ایک مربوط انتظامی ڈھانچہ موجود ہے مگر تعلیم‘ صحت اور دیگر سماجی خدمات کے شعبے میں کارکردگی‘ دنیا کو چھوڑیں‘ خطے کے ممالک کے مقابلے میں بھی صورتحال دہائیوں سے غیر تسلی بخش ہے۔ اب ناکامیوں کا ذمہ دار ہم حکمرانوں کو نہ ٹھہرائیں تو کس کے سر پر تھوپیں۔ یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ پنجاب‘ سندھ اور بلوچستان میں کون لوگ ہیں جو دہائیوں سے حکومت کر رہے۔ خیبر پختونخوا میں تبدیلی سرکار بھی شاید وہ کچھ نہیں کر سکی جو اس کا ویژن ہے‘ مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہاں کا انتظامی ڈھانچہ تعلیم اور صحت کے میدان میں نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظہر ہے‘ اگرچہ سب ٹھیک نہیں ہے۔
قومی اور صوبائی منصوبہ بندی میں سماجی ترقی جس میں بچوں کی تعلیم سرفہرست ہے‘ کو نجانے ہم نے مرکزی حیثیت کیوں نہیں دی۔ ایک بات تو واضح ہے کہ حکمران طبقات کو اپنی تعلیم کا کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ تو اپنے بچوں کو ملک کے اندر اور باہر‘ بہترین تعلیمی وسائل فراہم کر رہے ہیں تاکہ ان کی آئندہ آنے والی نسلیں ہمارے اوپر حکومت کرتی رہیں۔ بیچارے متوسط طبقے کے لوگوں کیلئے اب سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کیسے نجی معیاری تعلیمی اداروں کی بڑی فیسیں ادا کریں‘ اس طبقے کی فکرمندی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر سرکاری تعلیمی اداروں میں ان کے بچوں نے تعلیم پائی تو شاید وہ کہیں کے نہ رہیں۔ ان کی بھی بڑی تعداد نے شہروں اور دیہات تک میں سرکاری نظام تعلیم کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ اب غریب ترین لوگ ہی سرکاری سکولوں کا رخ کر سکتے ہیں اور وہاں جو انتظامی بدنظمی اور عدم جوابدہی کی کیفیت ہے‘ اس کے پیشِ نظر غریب ترین لوگ بھی جہاں تک ممکن ہو سکے‘ اپنے بچے دیہات میں نجی ''انگلش سکولوں‘‘ میں داخل کراتے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ کدھر ہیں ہماری صوبائی حکومتیں‘ کیا کر رہی ہیں وہ کہ ان کے پاس نہ فرصت ہے اور نہ وسائل ہیں کہ غریب اور نچلی سطح کے لوگوں کے بچوں کیلئے تعلیم کے بند دروازے کھول دیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ وسائل کی بربادی کی کہانی کہاں سے شروع کریں اور کہاں تک لے جائیں۔ دور جانے کی ضرورت نہیں‘ گزشتہ ہفتے لاہور میں بسنت کے تہوار کے دوران پتنگوں کے رنگوں میں ہمیں تو ثقافت سے کہیں زیادہ ذاتی تشہیر نظر آئی۔ پتا نہیں کتنا خرچ ہو گا؟ انتظامی امور کیلئے تو یہ ضروری ہوتا مگر ہر چیز میں ذاتی تشہیر کریں‘ وہ بھی عوامی خرچے سے‘ تو سماجی ترقی اور موروثی سیاست میں ترجیحات کا ادراک آپ کیلئے مشکل نہیں ہو گا۔ کتنی اچھی بات ہوتی کہ بڑے ملکوں کی طرح حکمرنوں اور افسروں کے بچے یکساں معیاری تعلیم حاصل کرتے۔ قومیں تو ایسے ہی بنتی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں