"RBC" (space) message & send to 7575

کچے کے ڈاکو

ہماری زندگی تو بڑے شہروں میں گزری ہے مگر خواب آج بھی سندھ کے کناروں اور اس کے درمیانی علاقوں‘ جنہیں کچا کہا جاتا ہے‘ پر مبنی آتے ہیں۔ آج بھی جب فرصت ملے تو بھاگ کر اس طرف نکل جانے کو دل کرتا ہے۔ بچپن سے‘ سکول کے پہلے دن سے‘ ہماری یہی محبت دریا اور اس کے کچے کے علاقے سے رہی ہے۔ یہ سطور لکھتے وقت بھی جی کر رہا ہے کہ اُٹھ کر اُس طرف کو نکل جاؤں اور آج کل جو بہار گندم کی فصلوں‘ سرسوں اور گنے کے کھیتوں نے سجا رکھی ہے‘ اس کے درمیان کچھ دن گزاروں۔ میں مصروفیات میں اتنا گھرا ہوں کہ اچانک جانا تو دور کی بات ہے کسی سمت بغیر کچھ وقت کی منصوبہ بندی کے نکلنا بھی دشوار ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب دریا کے کناروں یا کچے میں نہ تو موجودہ دور کے ہرے بھرے کھیت تھے اور نہ ڈاکوؤں کے بارے میں کسی نے سنا تھا‘ دور دور تک قدرتی جنگل تھے‘ اور دریا میں سردیوں کے موسم میں پانی کا بہاؤ کم ہو جاتا تو درمیان میں سینکڑوں میل تک پھیلے جزیروں پر ہر طرف جھاڑیاں اور سرکنڈے زمین پر پھیلے ہوتے تھے۔ سیلاب ختم ہونے کے بعد کی اس مٹی میں تب یہی کچھ اُگتا تھا۔ ان جنگلوں کے درمیان‘ سکول کے زمانے میں دو سال تک گھر پیدل آنے کا اس درویش کو تجربہ ہے۔ یہ تقریباً تیس کلومیٹر کا سفر روزانہ تو نہیں مگر مہینے میں ایک دفعہ ضرور کرنا پڑتا تھا۔ ماضی کی طرف نظر ڈالتا ہوں تو دریائے سندھ کا یہ پار کا سفر فطرت سے محبت کے جذبات میرے دل میں راسخ کر گیا۔ راجہ دہر کے زمانے کی کشتی‘ جو آج بھی روزانہ لوگوں کے لیے دریا عبور کرنے کا ذریعہ ہے‘ یہاں اُس زمانے میں صرف ایک دفعہ صبح کو میسر ہوتی تھی۔ اب یہ ہے کہ ڈیزل انجن لگے ہوئے ہیں اور آدھے گھنٹے میں دریا کے دوسرے کنارے پر اپنے آپ کو پاتے ہیں۔ اس زمانے میں بادبان ہوتے تھے اور سفر کا دارومدار ہوا کی رفتار پر تھا۔
گزشتہ چار دہائیوں میں زرعی انقلاب نے کچے کے جنگلات کو پنجاب کی بہترین زرخیز زمین میں تبدیل کر دیا ہے۔ ڈاکوؤں کی کہانی بھی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ بڑے ٹریکٹروں نے جنگلات صاف کیے اور ایک چھوٹے سے ڈیزل کے انجن‘ جسے مقامی لوگ پیٹر کہتے ہیں‘ نے زمین کے سینے سے پانی فراہم کیا تو دریا کے کنارے اور اس کے جزائر کھیتوں میں بدلنا شروع ہو گئے۔ یہ بھی ایک دفعہ موٹر سائیکل پر کچے میں سے گزرتے دیکھا کہ پہلی بار شوگر مل کے کارندے کچے کے جنگلوں کو ٹھیکے پر لے رہے تھے۔ کوڑیوں کے بھاؤ بنجر زمینیں لیں اور دیکھتے ہی دیکھتے انہیں گنے کے کھیتوں میں تبدیل کر دیا۔ وہ بااثر لوگ تھے۔ اب تو سیاست اور شوگر ملوں کا اتنا ہی گہرا تعلق ہے جتنا دودھ پتی کا شکر سے۔ جب تک ایک پیالے کے اندر تین چارچمچ شکر نہ ملائی جائے ہمارے بھائیوں کو چائے کا لطف نہیں آتا۔ سیاسی شوگر طبقے کہیں کہیں بجلی اور کچھ سڑکیں بھی لے آئے۔ ان کی دیکھا دیکھی دیگر زمینداروں نے بھی گنا‘ کپاس اور گندم کی کاشت وسیع رقبے پر شروع کر دی۔ یہ زرعی یا سبز انقلاب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور یہ وہ علاقہ ہے جو ضلع مظفرگڑھ سے لے کر سکھر تک پھیلا ہوا ہے۔
کچے کے جن علاقوں سے میرا تعلق رہا ہے وہاں سماجی ترقی کے وہ اسباب پیدا نہیں ہوئے جو ہم پکے کے علاقوں میں دیکھتے ہیں۔ سرکاری سکول ادھر ادھر ضرور موجود ہیں مگر بہت سے اساتذہ کی عدم موجودگی میں اکثر صرف کاغذوں میں ہی رہے۔ زرعی انقلاب کا سب سے زیادہ فائدہ بڑے زمینداروں اور شوگر ملوں کو ہوا۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے مگر زمینداروں کے طرزِ زندگی میں تبدیلی سے بہت کچھ دیکھا جا سکتا ہے۔ کچے کے علاقوں کی سب زمینیں نجی ملکیت میں نہیں ہیں۔ دریا کے کنارے بھی انگریزی راج کے زمانے سے ریزرو ہیں جنہیں ہم لوگ 'رکھیں‘ کہتے ہیں۔ یہ سرکاری ملکیت میں ہیں۔ یہاں پر لوگ جدی پشتی قابض ہیں اور انہوں نے ذاتی سرمایہ کاری کر کے جنگلات صاف کیے اور کھیتی باڑی شروع کر دی۔ اس سے قبل وہ ان قدرتی جنگلوں میں بھیڑ بکریاں اور مویشی چرایا کرتے تھے۔ جب یہ زمینیں سونا اگلنے لگیں تو باہر کے کچھ طاقتور لوگ بھی آ گئے اور مقامی انتظامیہ کے تعاون سے یا پھر اپنی طاقت کے بل بوتے پر مقامی کاشتکاروں کی آباد اور غیر آباد زمینوں پر قبضے شروع کر دیے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کتنی زمین خریدی گئی اور کتنی پر بااثر لوگوں کا قبضہ ہے۔
شروع میں جن لوگوں کو ڈاکو کہا گیا تھا وہ کچھ بلوچ قبائل کے گھرانے تھے جنہوں نے اپنی زمینوں پر قبضے برقرار رکھنے کے لیے ہتھیار اٹھا لیے تھے۔ کچے کے ڈاکوؤں کا سماجی پس منظر جب تک کوئی نہیں سمجھے گا اس وقت تک کوئی مستقل حل شاید ہم تلاش نہ کر پائیں۔ پنجاب کے کچے کے علاقے ہوں یا سندھ کے‘ ان میں زیادہ تر بلوچ قبائل آباد ہیں۔ اگرچہ سب کے سب بلوچی زبان اب نہیں بولتے مگر ان کی خاندانی ساخت‘ رسم ورواج اور رہن سہن بلوچی ہے۔ وہ ایک دوسرے کے تحفظ کے لیے اکٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جرائم پیشہ ڈاکوؤں نے مختلف قریبی اضلاع سے کچے کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے یہاں کے لوگوں سے رابطے پیدا کرنے شروع کر دیے۔ اسلحہ بھی آنا شروع ہو گیا اور باقی کسر موبائل فون اور موٹر سائیکلوں نے پوری کر دی۔ سوشل میڈیا بھی ایک نئے ہتھیار کے طور پر ڈاکوؤں نے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ہم تو دور سے تماشا دیکھتے رہے۔ اندر کی کہانیاں تو ہمارے اضلاع کے پولیس افسران اور انتظامیہ کے پاس ہوں گی کہ ڈاکوؤں کے جغرافیائی نیٹ ورک کیسے اور کیونکر اتنے مضبوط ہوئے۔
ایک سوال نہیں کئی سوال ہیں کہ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا اور دہائیوں سے ہو رہا تھا تو ہماری پولیس کا محکمہ کہاں تھا؟ جب بھی وہاں جانا ہوا لوگوں نے ہمیشہ آ کر اپنی کہانیاں سنائیں کہ ان کو اغوا کی دھمکی اور بھتے کا مطالبہ کس فون سے اور کس طرف سے آیا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ بالآخر سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے باہمی تعاون سے ڈاکوؤں کے خلاف کامیاب آپریشن کر کے انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا ہے۔ پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ ڈاکو پولیس مقابلے میں مارے گئے یا انہوں نے سرنڈر کیا مگر جس طرح کچے کی زرخیز زمین میں اگلی فصل لگا کر تیار کی جاتی ہے‘ اسی طرح ڈاکوؤں کی بھی ایک اور نئی نسل سامنے آ جاتی ہے۔ اس کے مستقل حل کے لیے صرف انتظامی احکامات اور کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری زمین مقامی کاشتکاروں کو الاٹ کر دی جائے یا انہیں ٹھیکے پر دی جائے۔ کچے کے علاقوں میں سکولوں اور ہسپتالوں کے لیے ابھی تک کچھ زیادہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی وہاں سڑکوں کا کوئی مربوط نیٹ ورک ہے۔ پہلے سے تو صورتحال کچھ بہتر ہے مگر سڑکوں کے بغیر اور زمین کا مسئلہ حل کیے بغیر کوئی پائیدار حل ممکن ہی نہیں۔ سماجی ترقی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔
اَن پڑھ لوگوں میں خاندانی منصوبہ بندی کا تصور تک نہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل کی تقسیم کی ناہمواری نے ڈاکو ذہنیت کو ہوا دی ہے۔ انتظامی اور قانونی حل صرف عارضی حد تک محدود رہتے ہیں۔ کچے کا اصل مسئلہ سماجی ترقی اور معاشی ڈھانچے کی تشکیل ہے جو لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کر سکے۔ آپ خود سوچیں کہ جب لوگوں کے پاس نہ زمین ہو‘ نہ تعلیم‘ نہ روزگار اور سماجی ماحول وائلڈ ویسٹ کا ہو‘ اور ڈاکو کروڑوں میں کھیل رہے ہوں تو کچے کے اَن پڑھ نوجوانوں کا رول ماڈل پھر کون ہو سکتا ہے؟ آدمی کی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے محدود سماجی حالات کی پیداوار ہوتا ہے۔ وہ اسے بڑی اعلیٰ معیاری درسگاہ کی راہ بھی دکھا سکتے ہیں اور ڈاکوؤں‘ شر پسندوں اور دہشت گردوں کی صفوں میں گھسنے کے لیے بھی قائل کر سکتے ہیں۔ کچے کے قدرتی حسن میں رچے بسے لوگوں کی سماجی اور معاشی حالت بدلنے کے لیے بہت بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں