جنگ وجدل‘ جھگڑے اور قتل وغارت جو ہم گزشتہ کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں‘ تاریخ کا تسلسل ہیں۔ جب مغربی مفکرین‘ مبصرین اور سیاستدانوں نے سوویت یونین کے ٹکڑے ہوتے دیکھا‘ کمیونزم خود بھی اپنی فریب کاریوں سے زمین بوس ہوا اور جس طرح ایک دن ہجوم نے دیوارِ برلن کو اکھاڑ کر تاریخ کے سر پر دے مارا‘ تو ہم اُس زمانے کی ہوا کے گواہ تھے۔ ہماری نسل نے سرد جنگ کے زمانے میں آنکھ کھولی تھی اور اسی نظام کے تاریخی‘ علمی‘ نظریاتی اور ادبی مباحث میں ہمارا تعلیمی سفر مکمل ہوا تھا۔ ہمارا سب لکھا پڑھا زیادہ تر اس دور کے اردگرد گھوما ہے مگر بعد کا وہ زمانہ جب افغانستان میں 20 سال تک امریکہ کی سربراہی میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑی تعداد میں اتحادی فوجیں افغانوں کو کچلتی دکھائی دیتی رہیں تو ہمارے جیسے سرد جنگ کی آغوش میں پلنے والے دانشوروں نے نئی امریکی جنگوں اور غلبے کی نشاندہی کر دی تھی۔ اگرچہ امریکہ بھی ایک معاہدہ کر کے افغانستان کے پہاڑوں سے رخصت ہوا اور جسے ہمارے نیم پختہ دانشوروں نے طالبان کی فتح قرار دے کر مٹھائیاں بانٹیں اور چائے کی مشہور پیالی کا ذکر اب کیا کریں‘ یہ سب حقائق سے انحراف کے مترادف تھا۔ آج کل کی جنگوں میں پرانی طرز کی فتح اور شکست کے پیمانے غیر متعلق ہو چکے ہیں۔ میرے نزدیک امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جن ریاستی طاقتوں کو کچلنا تھا وہ انہوں نے دھڑلے سے کیا اور ساتھ ہی ان کے مقامی اتحادیوں‘ طالبان اور ان کے حمایتیوں کو بے پناہ جانی نقصان پہنچایا۔ اس سارے کھیل میں نہ جانے کتنے لاکھ معصوم لوگ اس علاقے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جاتے جاتے جو ریاستی ڈھانچہ امریکیوں نے تعمیر کیا تھا اور جو سلامتی کے وسائل اور نظام مہیا کیا تھا‘ وہ انہوں نے برباد کر دیا۔ جو باقیات جدید اسلحے کی صورت رہ گئی ہیں اور جس کا رونا ہم روتے رہتے ہیں‘ وہ سب کچھ تباہ کرنا یا کسی اور جگہ منتقل کرنا ممکن نہ تھا۔ آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
بات کچھ نئے نظام کی ہو رہی ہے جس کی ابتدا سوویت یونین کے خاتمے اور کمیونزم کی شکست وریخت سے ہوئی اور اب حماس اسرائیل ڈھائی سال کی جنگ سے اس کے اصل خدوخال جنگی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ عراق‘ شام‘ لیبیا کے انجام کو بھی ذہن میں رکھیں مگر نظر وینزویلا میں جو گزشتہ مہینے میں ہوا اور ہو رہا ہے‘ اس پہ رکھیں۔ کھل کر بات کریں تو اتحادی اندر سے ہی مل گئے اور ظاہر ہے کہ جس انداز میں ملک کے صدر کو اٹھا کر لے گئے رجیم چینج اندر ہی اندر ہو گئی۔ اس پس منظر میں ایران اور اس کے خلاف جنگ کے منڈلاتے بادلوں کو دیکھیں تو شاید بات یہاں بھی نہ رکے۔ آج کل امریکی بحری بیڑہ تو خلیج فارس کے قریب قدم جمائے ہوئے ہے اور ہدف ایران ہے مگر کل پرسوں امریکی صدر کی طرف سے ایک بار پھر سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ بگرام ایئر بیس لے کر رہیں گے اور صرف وہی استعمال کریں گے۔ میری ناقص رائے میں اگر ایران میں امریکی دبائو یا جنگ سے وہاں کا نظام بدلتا ہے تو افغان طالبان حکومت بکرے کی ماں کی طرف زیادہ دیر تک شاید خیر نہ منا سکے۔ موجودہ بنتے بگڑتے حالات کے تناظر میں دو تین باتیں حتمی طور پر کہی جا سکتی ہیں۔ ایران کو ایک ایسا جوہری معاہدہ کرنے پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ کبھی بھی اس قابل نہیں ہوگا کہ جوہری ہتھیار‘ جو حکومت کا خواب رہا ہے اور بھلے اس کا برملا اظہار انہوں نے کبھی نہیں کیا‘ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا۔ لیکن یہ ہمیشہ بھی موجود نظام کا محتاج ہو گا۔ نہ جانے آئندہ آنے والے زمانوں میں طاقت کے کھیل کی بساط کیا ہو گی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی اس تیزی سے بدلتی دنیا میں مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔ آنے والے کئی برسوں بلکہ چند دہائیوں کا نقشہ ابھر کر سامنے آ چکا ہے۔ ایران کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں پھیلی ہوئی پراکسیوں کو پالنے کی پالیسی ترک کرے۔ ایک لحاظ سے یہ پراکسی تنظیمیں ایران کیلئے سیاسی اور تزویراتی بفر یا حصار رہی ہیں۔ ویسے بھی مغربی طاقتوں نے اسرائیلی فوج کے ذریعے اور براہِ راست ایرانی پراکسیوں کو فی الحال بے جان کر دیا ہے۔ اب علاقائی ریاستوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے کہ آئندہ کیلئے وہ ان کی عسکری قوت ختم کریں۔ جہاں وہ نہ کر سکیں گے‘ کہیں سے کوئی بمبار‘ جہاز‘ میزائل یا ڈرون ان کے ٹھکانوں پر‘ جس طرح آج کل ہو رہا ہے‘ آ کر گریں گے۔ یہ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی مربوط پالیسی کا حصہ ہے۔ ایران سے آخری بات یہ ہو گی کہ سیاسی مخالفین اور خصوصاً احتجاجی گروہوں کے ساتھ سلوک وہ نہ کرے جو حکومت ماضی میں کرتی رہی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ریاستیں کیسی تکرار کرتی ہیں کہ ہم آزاد اور مقتدر ہیں اور اپنے داخلی حالات کے بارے میں کسی کا کوئی حکم ماننے کیلئے تیار نہیں۔ اصولی طور پر یہ بالکل درست ہے مگر عالمی نظام کا جبر بھی ہے اور انسانی حقوق کے وہ معاہدے بھی ہیں‘ جن پر تمام ریاستیں دستخط کر چکی ہیں۔
ایران میں ایک عرصہ سے حکومت کو چلتا کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اندر سے کتنے لوگ ہیں جو تبدیلی چاہتے ہیں اور کتنے وہ ہیں جو گزشتہ 45 سال سے قائم نظام کیساتھ مر مٹنے کیلئے تیار ہیں‘ اس کے بارے میں آپ اندازے ہی لگا سکتے ہیں۔ ایک بات تو واضح ہے کہ سیاسی اور نظریاتی تقسیم تو موجود ہے؛ البتہ ایران وینزویلا نہیں۔ اندر سے ایرانی رجیم کو کھوکھلا کرنے اور اسے گرانے کی سرگرمیاں کئی برسوں سے جاری ہیں۔ کبھی حکومتوں کے‘ کبھی حکومت کے سرکردہ عہدے داروں کے قتل اور کبھی سبوتاژ اور مظاہروں کی صورت میں ہم دیکھتے آ رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل تو برملا کہتے ہیں کہ وہ حکومت مخالف تحریکوں کی حمایت کریں گے۔
اس وقت ایران انتہائی مشکل صورتحال کا مقابلہ کر رہا ہے۔ مغرب کی اقتصادی پابندیوں نے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ بہت کم ممالک ہیں جو ایران کے ساتھ لین دین کر سکتے ہیں‘ یا اس کے تیل کے خریدار ہیں۔ امریکہ ایسی صورتحال پیدا کر کے حکومت کے خلاف عام لوگوں کے جذبات کو ابھارتا ہے کہ اصل میں ان کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے ایرانیوں کو بدترین حالات کا سامنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایران کے خلاف اس وقت جنگ کا خطرہ ٹل جائے مگر دبائو میں شاید کمی نہ آئے۔ علاقے کے دیگر ممالک جن کا نام لینا بھی یہاں کچھ مشکل ہے‘ دنیا کی بڑی طاقت کا اشارہ ملتے ہی سب کچھ کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اب سینکڑوں میں نہیں ہزاروں ارب میں بڑی معیشت میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ جدید ترین اسلحہ خریدا جا رہا ہے اور اب کون سا ملک رہ گیا ہے جہاں ان کا فوجی اڈا نہیں ہے۔
سامراجی نظام کبھی ختم نہیں ہوا تھا‘ اس کے استحصال کی صورتیں وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے جیسے ملکوں کا سرمایہ اور قدرتی وسائل کیسے مغربی دنیا میں منتقل ہوتے ہیں اور وہاں کی خوشحالی کی ضمانت بنتے ہیں۔ پرانے نظام میں براہ ِراست قبضہ کر کے ہمیں غلامی کی زنجیروں میں اس لیے باندھا کہ وہ ہماری دولت اپنے استعمال میں لے آئیں۔ ہم تب دنیا کا امیر ترین خطہ تھے۔ پھر یہ آزادی کی تحریکوں کے ساتھ مہنگا سودا بنا تو سامراجیت اپنے نمائندے دیسی لبادوں میں مختلف ممالک میں مختلف صورتوں میں لے آئی۔ شاہ ایران کی کیا حیثیت تھی اور اپنی مثالیں ہم کیا دیں۔ آج کے دور میں چند ہی ملک رہ گئے ہیں جو اس کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ میرے نزدیک نظریاتی اختلاف کے باوجود ایران اور کیوبا ان میں سے ہیں۔ دیکھیں سامراجیت کی نئی کروٹ کے سامنے ایران کیسے اپنا دفاع کرتا ہے۔ ایران کے بارے میں مشرق وسطیٰ اور مسلم ممالک کو یکجہتی اور پاسداری کے ساتھ اکٹھا رہنے کی ضرورت ہے‘ مگر شاید یہ ہمارا خواب ہی رہے۔