آج کل ہمارا سارا دھیان ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جارحیت کی طرف ہے۔ کوئی ملک نہیں جو اس کے منفی معاشی اثرات سے بچ سکا ہو۔ عالمی سطح پر خدشات کی سب سے بڑی وجہ تو وہ نظام ہے جو بار بار ان دونوں ملکوں کی کمزور‘ بے بس‘ بے ریاست فلسطینیوں اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے خلاف یکطرفہ فوجی کارروائیوں کی وجہ سے زمین بوس ہو چکا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ اقوام متحدہ‘ اس کے منشور اور اجتماعی سلامتی کے زریں اصولوں کو پامال کیا گیا اور سب خاموشی سے دیکھتے رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ پرانی بحثیں کہ سب ریاستیں چھوٹی اور بڑی باہمی افہام و تفہیم اور پُرامن بقائے باہمی کے مطابق زندہ رہیں اور خوشحالی کی منزلیں طے کریں‘ اب بے معنی ہو چکی ہیں۔ ہم تو اپنی علمی زندگی کے شروع سے ہی ایک دوسرے نظریے کو تاریخی طور پر درست خیال کرتے آئے کہ کسی ریاست کے پاس اگر اپنی حفاظت کیلئے ذرائع نہیں تو وہ دوسروں کی منشا اور مفاد کی زد میں رہے گی۔ قانون اور اخلاقیات عالمی امور میں صرف کمزورکی دلیل ہیں۔ سکہ رائج الوقت قومی طاقت کا حصول ہے جسکی کئی جہتیں ہیں‘ اسے ہموار اور پائیدار رکھنے کیلئے جس میں مرکزیت عسکری قوت‘ معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کی ہے۔ اس مکتب فکر کے لوگوں کو علم تھا کہ سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کے حصے بخرے ہونے کے بعد امریکہ اور اسکے مغربی حلیفوں کی رعونت بڑھے گی۔ اگر طاقتور ریاستوں اور ملکوں کیخلاف قوتِ مزاحمت کا توازن نہ رہے تو اخلاقی قدریں ہوا میں اڑ جاتی ہیں۔ کمزوروں کے خلاف جنگ اور مداخلت کیلئے کوئی بھی نیا بہانہ تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہماری قومی حکمت عملی انتہائی کامیاب رہی ہے۔ اس بارے ہمیں مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے‘ خصوصاً اندرونی ہم آہنگی اور معیشت کو بہتر کرنا۔
ایران جب تک امریکی اثر و رسوخ اور ان کے تحت متعین کردہ رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت میں تھا تو امریکہ اور اسرائیل کیلئے علاقائی استحکام‘ سلامتی اور خوشحالی کا حصار تھا۔ ہر قسم کی کرم فرمائیاں نچھاور ہو رہی تھیں۔ امریکہ میں اکثر راوی چین ہی چین لکھتے تھے۔ جدید تاریخ میں دو بڑی طاقتوں کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ رہی ہے کہ ایران میں ایک جمہوری حکومت کا خاتمہ کرکے اپنی پسند کی حکومت لا کر اسے مضبوط کر سکتے ہیں‘ اسی طرح سماجی اور معاشی ترقی کے بت تراش کر لوگوں کو صرف ان کی پوجا کی عادت ڈالی جا سکتی ہے۔ آزادی‘ خود مختاری اور قومی اقتدارِ اعلیٰ کا اس طرح سستا سودا کرنا سب تابعدار طفیلی حکمرانوں کو مہنگا پڑا ہے۔ منظر ہمیں تو یاد ہے جب شاہ کی تہران سے آخری پرواز اڑی اور امریکہ کی حکومت بھی اسے پناہ دینے کیلئے تیار نہ تھی۔ ایرانیوں نے کئی تحریکیں چلائیں‘ بے پناہ تشدد کا شکار ہوئے‘ بے گھر اور جلا وطن ہوئے مگر ایک دن شاہ کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہو گئے۔ صرف ہم نہیں بلکہ دنیا کے بڑے ملکوں کے حکمران بھی تاریخ سے کوئی سبق کشید کرنے سے عاری رہے ہیں۔ طاقت کا گھمنڈ آنکھوں پر تکبر اور غرور کے پردے ڈال دیتا ہے۔ زمینی حقائق نظر نہیں آتے۔ تاریخ ناپسند حکومتیں تبدیل کرکے اپنی پسند کی حکومتیں لانے اور انہیں سہار ا دے کر قائم رکھنے کی ناکامی کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ امریکہ نے جنوبی ویتنام کو اشتراکی شمال سے بچا کر اپنی خواہش کی حکومت کی حفاظت کیلئے ایک خوفناک جنگ لڑی۔ 50 ہزار کے قریب اسکے فوجی مارے گئے۔ ویتنامی تو لاکھوں کی تعداد میں جاں بحق ہوئے۔ ہمیں وہ تصویریں یاد ہیں جب امریکی سفارتکار ایک ہیلی کاپٹر سے سفارتخانے کی چھت سے اڑ رہے تھے اور اس کیساتھ کئی حامی ویتنامی جان بچانے کیلئے لٹکے ہوئے تھے۔ یہی منظر ہم نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے افغانستان میں رجیم چینج کرنے کیلئے 20 سالہ جنگ کے اختتام پر دیکھا۔ سوویت یونین نے بھی وہاں دس سال تک جنگ کی تاکہ اپنی حلیف اشتراکی حکومت کو‘ جسے انہوں نے ٹینکوں اور بمبار طیاروں کی گھن گرج میں تختِ کابل پر بٹھایا تھا‘ مزاحمت سے بچا سکے۔ آخر میں سیاسی سمجھوتا کیا اور کابل انتظامیہ کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنی راہ لی۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران کیخلاف جنگ میں اگرچہ کوئی واضح مقاصد نظر نہیں آتے مگر بنیادی ہدف وہ رجیم ہے جسکی بنیاد امام خمینی نے رکھی اور اسے آیت اللہ علی خامنہ ای چلاتے رہے۔ ایران کی انقلابی حکومت نے اپنے تحفظ کیلئے ایک پیچیدہ اور وسیع اندرونی اور بیرونی حکمت عملی بنا رکھی تھی جو وقت کیساتھ اسکے مخالفین نے کمزور کر دی۔ یہ موزوں وقت نہیں کہ اس رجیم کے نظریات اور سیاست پر گفتگو کی جائے۔ بات تو جو سامنے ہے وہ بلا جواز اس کے خلاف ایک خوفناک جنگ کا مسلط کرنا ہے۔ اعلیٰ قیادت کی شہادت اور بے پناہ حملوں کے باوجود حکومت اور ایرانی عوام کی مزاحمت قابلِ تحسین ہے۔ اپنی قربانیوں اور استقامت سے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ رجیم چینج آسان کام نہیں۔ امریکی صدر کی غلط فہمی اگرچہ اب بھی برقرار ہے مگر ان کا خیال کہ ایران چند دنوں میں میزائلوں اور ہوائی بمباری کی تاب نہ لا سکے گا‘ ہوا میں اڑ گیا ہے۔ ہزاروں بم گرانے کے باوجود ریاست کا ڈھانچہ اور اسکی فعالیت قائم ہے اور وہ اپنی اسکی حفاظت کی ذمہ داریاں پوری تندہی سے انجام دے رہے ہیں۔ ابھی تک تو امریکہ اور اسرائیل کو سوائے تباہی لانے کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ تین ہفتے پہلے جنگ کے آغاز میں یاد ہوگا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے عظیم اور قابلِ فخر لوگو‘ تمہاری آزادی کا وقت آ گیا ہے‘ باہر نکلو اور حکومت اپنے ہاتھوں میں لے لو۔ کہیں ایسا ہوا اور نہ اس طرح سے ایران میں حکومت کو گرانا عملاً ممکن ہے‘ البتہ وہ وہاں فوجیں اتاریں‘ لمبی جنگ لڑیں تو شاید کوئی متبادل حکومت بنا سکیں۔ یہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں کہ کس نوعیت کی داخلی مزاحمت حکومت کے خلاف جلد یا بدیر اٹھے گی اور اسے خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گی۔
امریکہ میں بھی حتمی طور پر مبصرین کچھ نہیں کہہ سکتے کہ آخر ان کے صدر کو کیونکر یہ خیال آیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کرایران پر حملہ آور ہوا جائے۔ ان کے اپنے قدامت پسند سیاسی حلقوں میں یہ بات دہرائی جانے لگی ہے کہ یہ امریکہ کی نہیں اسرائیل کی جنگ ہے جس میں وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی طاقت کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا ہے۔ اسرائیل کی ایران کو مزید کمزور کرنے‘ غیر مؤثر بنانے اور ریاست کو مفلوج اور ناکام کرنے کی کاوش ہے۔ وہ ریاست کے فوجی‘ جاسوسی‘ سیاسی اور انتظامی اداروں کو تباہ کر کے انارکی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس دوران وہ کچھ لسانی گروہوں کو لشکر کشی کیلئے اسی طرح استعمال کریں گے جس طرح امریکہ نے شمالی افغانستان کے تاجکوں کو آلہ کار بنایا تھا۔ ایسے تمام حربے ایرانی قوم میں یکجہتی پیدا کریں گے۔ سب اپنے سیاسی اختلاف بھلاکر ایران کی حفاظت میں شریک ہوں گے۔ ایرانی کبھی برداشت نہیں کریں گے کہ ان کی جغرافیائی اکائی میں بیرونی مداخلت کوئی تبدیلی لا سکے۔ جنگ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں مستقبل کی نقشہ کشی ممکن نہیں کہ کسی کو بھی معلوم نہیں‘ یہاں تک کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی کہ اس جنگ کا خاتمہ کسی قسم کے سمجھوتے یا کسی اور نتیجے پر ہو گا۔ سب ماضی کی جنگیں ایک نہ ایک دن ختم ہوئیں‘ یہ بھی ہو جائے گی مگر اس کی راکھ سے کیسا ایران نمودار ہو گا اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ جو صاف دکھائی دے رہا ہے وہ ان کی مزاحمت اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے علاوہ جنگ اور اس کے معاشی اثرات کو عالمی مسئلہ بنانے کی کامیاب حکمت عملی ہے۔ ایران تو شاید برداشت کر لے‘ ابھی دیکھیں کہ خلیج فارس کی اس راہداری سے گزرنے والے تیل اور گیس کی عدم فراہمی سے کتنے ملک بلبلا اٹھیں گے۔ امریکہ یہاں تک کہ اسرائیل کے اندر اور پوری دنیا میں اس جارحیت کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ان کی خود فریبی اور غلط فہمی بھی ایک دن دور ہو جائے گی۔