سب سے پہلے پاکستان۔ رپورٹ شدہ فیکٹ شیٹ بتاتی ہے کہ پاکستان پر اس وقت 130 ارب ڈالر کا قرض واجب الادا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی رپورٹ شدہ فیکٹ ہی ہے کہ پاکستان سے 100 ارب ڈالر کرپشن کے ذریعے قرض دینے والے ملکوں میں حوالہ ہنڈی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے لے جا کر پارک کیے گئے۔ آپ کسی بھی قومی‘ علاقائی یا مقامی ادارے کے سربراہ سے یہ سوال پوچھیں کہ آپ کے نیچے ادارے؍ محکمے میں کتنی کرپشن ہوتی ہے؟ پہلے افسرِ جلیس اس سوال پر گھبرا کر یوں بھڑکے گا جیسے آپ نے جیب سے سانپ نکال کر اس کے کپڑوں میں ڈال دیا ہو۔ دوسرے نمبر پر وہ سوشل میڈیا پر لعن طعن کرے گا کہ سب بکواسیات ہیں‘ وطن دشمن ایسا ہی پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ جب سے میں اس کرسی پر آیا ہوں میری پالیسی کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہے۔ پھر آپ کو حب الوطنی پر طویل خطبہ دے کر سمجھائے گا کہ کرپشن کا پروپیگنڈا یہود و ہنود کی سازش ہے۔
لگے ہاتھوں اب آئیے یہودیوں کی سازش سے تیار ہونے والے عالمی کرپشن کیٹلاگ کی طرف۔ مغرب میں سیاسی اور معاشرتی طرزِ فکر رکھنے والا ایک طبقہ اس بات پر مُصر ہے کہ ٹرمپ ‘نیتن یاہو اتحاد کا ایران پر حملہ دراصل دنیا کی توجہ کرپشن کیٹلاگ سے ہٹانے کیلئے سٹیج کیا گیا فالس فلیگ تھا۔ یہ کوئی سازشی تھیوری ہرگز نہیں! اس کیلئے کچھ دستاویزی اور Circumstantial evidence اس طرح سے پائے جاتے ہیں:
کرپشن کیٹلاگ کیوں بنایا گیا: جیفری ایپسٹین فائلیں دوچار نہیں ہیں‘ دس بیس یا سو دو سو بھی نہیں۔ اس کیٹلاگ کے مواد کی مقدار و تعداد ناقابلِ فہم ہے۔ جس سے بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ کوئی اپنے جرائم کا ایسا مکمل و مستقل ریکارڈ کیوں بنائے گا؟ ایپسٹین فائلز کا پیمانہ خود جواب دیتا ہے۔ یہ ایک آدمی کی بد مستی کا ریکارڈ نہیں بلکہ عالمی اشرافیہ کی کرپشن کیٹلاگ ہے جسے سوچ سمجھ کر محفوظ کیا گیا۔ ان فائلوں میں ارب پتیوں‘ غیر امریکی High end معززین‘ ماہرینِ تعلیم‘ اعلیٰ سیاست کاروں‘ شہزادوں بلکہ امریکہ کے سابق اور موجودہ صدور کے نام درج ہیں۔ ساتھ ہی فحش ای میلز‘ جنسی طور پر واضح خطوط‘ مجرمانہ تصاویر اسے مزید سنسنی خیز بناتی ہیں۔ فائلز کی گہرائی میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ موجود ہے جس میں جنسی غلامی‘ تشدد اور بچوں کے خلاف جرائم اور انہیں قتل کرنے کے دستاویزی ثبوت بھی پائے جاتے ہیں۔
یہ سب کیوں ریکارڈ کیا گیا: ایپسٹین کے جزیرے لٹل سینٹ جیمز پر خفیہ کیمرے جنسی تسکین کیلئے نہیں لگے تھے بلکہ یہ مکمل انٹیلی جنس ٹُول تھے۔ اور لیوریج لائبریری بھی۔ جس میں امریکہ اور اسرائیل کے خفیہ ہاتھ بڑے پیمانے پر اب رپورٹ ہوئے ہیں۔ جن کے مطابق ایپسٹین ایک انٹیلی جنس اثاثہ تھا جو موساد سے ریکارڈ میکنگ اور وڈیو ریکارڈنگ کے آرڈر لے رہا تھا۔ مقصد واضح تھا۔ دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کو جرائم کے جال میں پھنسانا۔ ان سب کو سپر پاور اور صہیونی اسرائیل کے سامنے ہمیشہ کیلئے جھکا دینا تھا۔
گندا ماضی سمجھوتے کا ہتھیار: ایپسٹین فائلز ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے گندے جرائم والے دروازے سے داخل شدہ اپنے جرائم کی نمائش کے خوف سے عالمِ انسانیت سمیت اپنے ملک میں بھی ہر طرح کا جرم جاری رکھنے کا لائسنس رکھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی تازہ پالیسیوں کی افراتفری اور اربوں ڈالر کا فوجی ہارڈ ویئر اسرائیل کو مفت بھیجنا مغرب کے آرمی ایکسپرٹ کیلئے ایپسٹین فائلز کی ناقابلِ تردید کڑی ہے۔
ٹیرف کی ہتھیار سازی: غزہ کے جنگی جرائم میں غیرمتزلزل شراکت‘ پھر ایران کے ساتھ ایک نئی جنگ کی طرف اندھا دھند دوڑ۔ تیسری عالمی جنگ کو متحرک کرنے کا حقیقی امکان‘ یہ سب پاگل پن نہیں تو اور کیا ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ ایک ایسی لیڈر شپ ٹولی کی نشاندہی بھی کر رہا ہے جس کے پاس صہیونی ہینڈلرز کے تابع فرمان رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ دو دن پہلے صدر ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں کہا: امریکہ میں صہیونی لابی سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ کوئی اس کی طاقت کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔ یہ اس حقیقت کا کھلا اعتراف ہے کہ صہیونی ہینڈلرز کی نفی کرنے کا مطلب صرف سیاسی کیریئر کا خاتمہ نہیں ہو گا‘ شاید بہت کچھ اور بھی۔ لیکن امریکہ کی اس سب سے بڑی تگڑی لابی کے ساتھ مل کر کھیلنے کے نتیجے میں طاقت‘ تحفظ‘ ایک ارب پتی کی پنشن اور مستقبل میں بھی مدد کا یقینی وعدہ ظاہر ہوتا ہے۔ ان حالات کا ایک ہی ناگزیر نتیجہ ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں لیڈر اپنے ہی چھپے ہوئے ماضی کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ اب ان کے اعمال اور ان کا ماضی ان کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ لہٰذا کرپشن کیٹلاگ کو غربت اور تشدد کے مارے ہوئے لوگوں کی آہیں‘ سسکیاں‘ چیخیں یا نوحے متوجہ نہیں کر سکتے۔ وہ وہی کرتے ہیں جو انہیں کہا جاتا ہے‘ وفا داری سے نہیں بلکہ خوف سے۔ ان کے اپنے جرائم کی نمائش کا خوف یا رازداری کی حفاظت کی اشد ضرورت انہیں ان جرائم کا ارتکاب جاری رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ دنیا بھر میں ٹیرف سازی کے ذریعے سے ڈیفنس بجٹ کے علاوہ ایسی بڑی رقوم پر بھی سوالیہ نشان اُٹھ رہے ہیں جنہیں اسرائیل کے حق میں ہتھیار سازی کیلئے استعمال کیا گیا۔
پاکستان کی کرپٹ ایلیٹ جتھہ بندی‘ بڑے ٹیکس چوروں کے سنڈیکیٹ اور مختلف قومی وسائل پر قابض بے مہارگروپ ان دنوں سخت پریشان ہیں۔ کراچی سے دبئی کا ہوائی سفر دو گھنٹے سے کم کا ہے۔ اسی لیے متحدہ عرب امارات میں گرنے والا ہر میزائل کرپشن کیٹلاگ کیلئے بڑا زلزلہ انگیز ہے۔ وطنِ عزیز دنیا کے ان چار بڑے ممالک میں شامل ہے جن کے شہریوں نے اپنے ملک میں اندھیرے بڑھنے کے بعد دبئی کی چکا چوند میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ بی بی سی کے تازہ تجزیے کے مطابق دبئی میں رئیل اسٹیٹ کا گراف 30سے 35فیصد کے درمیان گر چکا ہے۔ فائیو سٹار اور سیون سٹار ہوٹل خالی پڑے ہیں۔ ایسے میں پاکستان سے ڈالر ڈرین کی کیس سٹڈی کو سامنے رکھ کر تین اقدامات ہمارے ڈوبتے ہوئے معاشی نظام کو سہارا دے سکتے ہیں۔ اختیار اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے جن بڑے بڑے لوگوں نے بیرونِ ملک اثاثے ڈکلیئر یا چھپا کر رکھے ہیں وہ انہیں واپس لا کر ملک بچانے کیلئے سرمایہ کاری کا آغاز کریں۔ اعتماد سازی کا یہ پہلا قدم کچھ پذیرائی ضرور حاصل کرے گا‘ ورنہ چار سال میں ساری کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔ دوسرا قدم پانچ افراد پر مشتمل وار کابینہ بنائی جائے‘ پروٹوکول ختم کیے جائیں‘ مفت پٹرول پر مستقل پابندی ہو تب لوگ سمجھیں گے ریاست کفایت شعاری میں سنجیدہ ہو گئی ہے۔ تیسرا قدم سیاسی انتقام کے سازشی اہتمام اور گلے سڑے انتظام کو ترک کیا جائے۔ بلوچستان اور کے پی تازہ پاک افغان جنگ کے بڑے متاثرہ فریق ہیں۔ وار کابینہ اور صدر وزیراعظم کوئٹہ اور پشاور جا کر بیٹھیں‘ ورنہ حال یہ ہے کہ جنگ بدامنی کے متاثرین کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
ارمانوں کے سُونے گھر میں ہر آہٹ بیگانی نکلی
دل نے جب نزدیک سے دیکھا ہرصورت انجانی نکلی
بوجھل گھڑیاں گنتے گنتے صدمے ہو گئے لاکھ گُنے
تم نے کتنے سپنے دیکھے میں نے کتنے گیت بُنے