اس صفحے پر ہم اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں جو ناقص سمجھ کر ہمارے اہلِ سیاست وطاقت اپنی آنکھوں کے سامنے نہیں لاتے۔ اگر ہمارے دیگر اہلِ قلم کو اپنے بارے میں کوئی گمان ہے ‘ جو میرے خیال میں نہیں ہو گا‘ توکبھی آزما کر دیکھ لیں۔ اس درویش کو ایسا کوئی زعم کبھی تھا اور نہ اب ہے کہ ہمارے لکھنے اور کچھ کہنے سے دنیا اپنا رنگ بدل دے گی۔ ہم سب اپنے طریقے سے اپنا فرض نبھانے کی کوشش کرتے ہیں‘ اس سے قطع نظر کہ کوئی پڑھتا ہے یا سنتا ہے۔ ایک اور رائے آپ کی نذر ہے۔ یہ کالم لکھتے وقت جب ایک سرخی سکرین پہ آنے لگی کہ ہمارے شاہینوں نے اپنے پہلے مقابلے میں نیدرلینڈز کو شکست دے کر کھاتا کھول لیا ہے تو اپنا دھیان اس طرف کچھ زیادہ نہ گیا۔ اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعے کی وجہ سے دل بہت اداس ہے کہ عبادت گاہوں میں معصوم شہریوں پر اس طرح بہیمانہ حملے کوئی ظالم ہی کر سکتا ہے۔ اس طرح کے ظلم کی سیاہ رات ختم ہونے کو نہیں آ رہی۔ ابھی جو ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے مقابلے ہوں گے تو پتا نہیں ہم دیکھیں گے بھی یا نہیں مگر عام لوگوں کی بات کچھ اور ہے۔
کھیلوں اور معاشرے کا تعلق قدیم زمانوں سے ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر کسی کھیل میں حصہ لیں یا بڑے قومی اور بین الاقوامی مقابلے ہوں‘ لوگوں کو تفریح اور اپنی زندگی کا بوجھ ہلکا کرنے کا موقع ملے۔ کبھی کوئی کھیل اس طرح تو نہیں کھیلے کہ اس کے کھلاڑی تصور ہوں مگر کھیل دیکھنے کا شوق ضرور رہا ہے اور ہمیشہ اس سے لطف اندوز ہوئے ہیں۔ باہر کے ملک میں دورانِ تعلیم کالج بیس بال‘ پروفیشنل بیس بال‘ امریکی فٹ بال‘ جس کا سالانہ سپر بائول کل تھا‘ میں دلچسپی رہی‘ اور باسکٹ بال کو نہ صرف سکرین پر بلکہ ٹکٹ لے کر کھیل کے میدان میں بھی دیکھا۔ یہاں اپنے ملک میں ہماری دلچسپی کرکٹ میں رہی ہے۔ وہ جو ایک ورلڈ کپ ہم نے کبھی جیتا تھا اسے دیکھنے کے لیے نیویارک کے ایک کونے میں نہ جانے کتنے پاپڑ بیلے تھے‘ خیر یہ ایک الگ کہانی ہے۔
کھیلوں اور معاشرے کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے اور خصوصاً ان کھیلوں کا جن میں دو واضح حریف ہوں۔ اپنی مثال دینے سے پہلے یہ بتا دوں کہ ایک تاریخی مقابلہ جو برکلے اور سٹین فورڈ جامعات کے درمیان فٹ بال کا ہوتا ہے‘ اس میں انعام کے طور پر ایک کلہاڑا رکھا جاتا ہے جو دونوں کے درمیان میں رہتا ہے۔ فاتح ٹیم اسے اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ اس زمانے میں جب میں وہاں تھا پورے شہر میں کہیں پارکنگ کے لیے جگہ نہیں ملتی تھی۔ لوگ دوسری ریاستوں اور شہروں سے آتے تھے۔ کرکٹ کی دنیا میں ہمارا مقابلہ جب بھارت سے ہوتا ہے تو کروڑوں لوگ پورے خطے میں شوق سے دیکھتے ہیں۔ جوش‘ جنوں اور جذبہ جو ہم نے اپنی نوجوانی میں دیکھا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہماری حکومتیں اور تعلیمی ادارے بھی ماضی میں بڑے گراؤنڈز میں بڑی سکرینیں نصب کر کے شائقین کے لیے سہولتیں فراہم کرتی رہی ہیں۔ اب ایک ہی قومی کھیل رہ گیا ہے جو ملک کے کونے کونے میں دیکھا جاتا ہے۔ ہر شام اور چھٹی کے دن گلی کوچوں‘ پارکوں‘ کھیل کے میدانوں میں اوردور دراز کے صحراؤں میں چرواہوں کو بھی کرکٹ کھیلتے دیکھا ہے۔
کرکٹ اب جنوبی ایشیائی ملکوں کی ثقافت کا حصہ ہے۔ ہم یہاں اس کھیل کے مضمرات یا کوئی اور کہانی سنانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ صرف یہ گوش گزار کرنا مقصود ہے کہ اسے سیاست اور باہمی تلخیوں کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے تو بہتر ہے۔ گوش گزاری بھی ذرا مبالغہ قسم کی ترکیب معلوم ہوتی ہے‘ بس ان حروف کو صدا بہ صحرا ہی خیال کیا جائے‘ گونج کر واپس ہمارے پاس ہی آ جائے گی۔ کھیلوں کی تاریخ جو یونانیوں کے عہدِ عروج میں شروع ہوئی ہمیں بتاتی ہے کہ شہری ریاستوں کے درمیان ہر نو ع کے کھیلوں کے مقابلے منعقد کرنے کا مقصد باہمی ہم آہنگی پیدا کرنا اورلوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا تھا۔ ان چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی تاریخ بھی جنگوں اور کشمکش کی تاریخ تھی۔ کھیلوں کے آداب اخلاقیات کی ترتیب کے ساتھ جارحیت کے لیے زور آزمائی کا میدان کھیل ہوں تو فاصلے ختم ہوتے ہیں‘ قربتیں بڑھتی ہیں۔ ہماری نسل کے لوگوں کو بھارت کی کرکٹ ٹیم کا لاہور کا دورہ ‘جب ہماری حکومت نے وہاں کے کرکٹ کے شائقین کے لیے ویزے کھول دیے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں بھارتی آئے تھے‘ ابھی تک یاد ہے۔ لاہور لاہور ہے‘ ایسے نہیں کہتے۔ لاہوریوں کے دل بڑے ہیں۔ جہاں جہاں بھارتی گئے‘ کھانا کھایا ‘چائے پی یا کوئی چیز خریدی‘ سنا ہے لاہوریوں نے اپنی فراخ دلی میں کچھ بھی لینا گوارا نہ کیا۔ ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ثقافتی رابطے اور لوگوں کا میل جول ملکوں اور قوموں کے درمیان باہمی مغالطے‘ شکوک وشبہات اور تعصبات ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ہماری حکومتوں نے سب رشتے بند کیے ہوئے ہیں۔ وجوہات اور اسباب میں اب جان کھپانے کی ضرورت نہیں کہ حالات اب اتنے خراب ہیں کہ ذمہ داری کا تعین کرنا آسان ہے نہ اتنا سادہ۔ گزشتہ دو دہائیوں سے جو نظریاتی لوگ بھارت کی سیاست میں غالب ہیں‘ اس سے نہ صرف وہاں کی ریاست کا تاریخی اور ثقافتی نقشہ اور شناخت تبدیل ہو گئی ہے بلکہ ہمارے ساتھ تعلقات میں بھی بہت فرق پڑا ہے۔ ہم نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے کہ ریاستوں کے پاس اس کے علاوہ گنجائش کم ہی ہوتی ہے۔ دونوں جانب سے کم از کم کوئی کھڑکی‘ کوئی روشندان یا کوئی سوراخ ہی کھلا رہتا تو حالات اس نہج تک نہ پہنچتے کہ کرکٹ کے میدان میں ہمارے کھلاڑی ہاتھ تک نہ ملائیں۔ شروعات تو وہاں سے ہوئی تھی۔ لگتا ہے کہ عالمی سطح پر جس طرح سیاست کے میدان میں لیڈرشپ کا بحران ہے اسی طرح مختلف عالمی کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کی قیادت بھی کم درجے کے لوگوں کے ہاتھ آ گئی ہے کہ وہاں مال پانی بنانے کے بے شمار مواقع ہیں۔ ایک عرصہ تک کرکٹ کی اخلاقیات سب سے بہتر رہی ہیں مگر حالیہ ورلڈ کپ کے دوران ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک کی طرف سے مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہیں ہوئی۔ بنگلہ دیش کو بھارت میں کھیلنے کے لیے رضامند کرنے کی ضرورت تھی۔ میرے نزدیک یہ انکارکا جذباتی فیصلہ کرکٹ کے لیے اچھا نہ تھا لیکن دوسروں نے بھی ان کی درخواست پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہ کی اور پھر ہم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ بھی درست نہیں۔ یکجہتی والی باتیں پرانی اور گھسی پٹی ہیں‘ ان میں کوئی جان نہیں۔ ہر ملک اپنا راستہ خود بناتا ہے اور اپنے مفاد کا تحفظ خود کرتا ہے۔ اگرچہ ہمارے اہلِ اقتدار نے ہمیں شش وپنج میں رکھا ہے مگر اس گہرے غور وخوض کے دوران ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ فیصلہ کیا ہو گا۔ اب بھی وقت ہے کہ اگر سیاست کھیل میں داخل ہو گئی ہے تو اسے وہاں سے نکالنے کے لیے بھی سیاست کا سہارا لیا جائے۔ برطانیہ‘ آسٹریلیا‘ سری لنکا اور دیگر ممالک بھارت پر زور دیں کہ بنگلہ دیش کو کھیل میں کسی طرح واپس لایا جائے‘ اور ہمارا جوڑ بھارت کے ساتھ طے شدہ پروگرام کے مطابق پڑے۔ سالوں انتظار کے بعد یہ میدان سجتا ہے‘ اسے خالی دیکھ کر نہ جانے کروڑوں دلوں پر کیا گزرے گی۔ ایسے ہی بات کر دی‘ دلوں کی کس کو پروا‘ زمانہ ہی کچھ اور ہے۔ اب مختاریا جانے اور اُس کا کام! شاید بات بڑھ گئی ہے۔