پاکستان کی ہر سیاسی جماعت الیکشن سے پہلے عام آمی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بلند بانگ دعوے کرتی ہے لیکن جب وہ اقتدار میں آتی ہے تو تمام وعدے پسِِ پشت ڈال کر اپنے مخصوص حلقہ انتخاب کے مفادات کا تحفظ کرنے اور انہیں مزید سہولتیں فراہم کرنے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ ن لیگ نے نوجوان طبقے کی حمایت حاصل کرنے کے لیے یوتھ پیکجزکا اعلان کیا‘ جن پر سرکاری فنڈزکے علاوہ بنکوں سے قرض لے کر خرچ کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کا مخصوص حلقہ انتخاب کاروباری طبقہ ہے اور اس کا خیال ہے کہ کاروباری افراد سرمایہ کاری کرنے سے اس خوف کے باعث ہچکچا رہے ہیں کہ حکومت ان سے آمدنی کے ذرائع کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہے گی‘ جس سے ان کے لیے مسائل پیدا ہوں گے، لہٰذا وہ انڈرگرائونڈ یا غیررسمی معیشت میں سرمایہ کاری کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے نہ تو حکومت کو ٹیکس کی مد میں کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی کاروباری سرگرمیوں کو تحریک دینے میں مدد ملتی ہے۔ حکومت نے انہیں ٹیکس مشینری کی بے جا مداخلت سے نجات دلانے کے لیے ایک ترغیبی پیکج یا ایمنسٹی سکیم کا اعلان کر دیا ہے؛ حالانکہ ٹیکس مشینری پہلے ہی ان کی بی ٹیم کی طرح کام کر رہی ہے۔ ٹیکس کا جی ڈی پی تناسب پست ترین سطح پر ہونا ایسی ایمنسٹی سکیموں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں سرمایہ کاری کی بلند شرح پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ اس عمل میں پرائیویٹ سیکٹر کا کردار نہایت اہم ہے لیکن ایمنسٹی سکیمیں نہ تو ماضی میں معاشی ترقی کو تحریک دینے میں کامیاب ہوئیں اور نہ اب اس سے مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جا سکیں گے۔ حکومت نے 28 نومبر کو جس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا ہے اس کے تحت جو لوگ اپنی پوشیدہ اور ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی دولت سے گرین فیلڈ‘ کنسٹرکشن پروجیکٹس، کارپوریٹ لائیوسٹاک سیکٹر، Captive پاور پلانٹس، تھرکول اور مائننگ کے علاوہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاری کریں گے ان سے آمدنی کے ذرائع کے بارے میں کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی؛ البتہ جو فنڈز منشیات کی سمگلنگ، دہشت گردانہ کارروائیوں اور منی لانڈرنگ سے حاصل کیے گئے ہوں گے، ان کو یہ استثنیٰ حاصل نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ بہت سے دوسرے ٹیکس چور، کالے دھن کے مالک‘ جو صنعتی سرمایہ کاری کے زمرے میں نہیں آتے‘ بھی جرمانے، نادہندگی، سرچارج اور ایف بی آر کے آڈٹ سے مستثنیٰ ہوں گے۔ ماضی میں ایسی سکیموں کا تجربہ زیادہ خوشگوار نہیں رہا۔ مسلم لیگ لیگ ن کی حکومت نے 1991-92ء اور پھر 1997-98ء میں ایسی سکیمیں متعارف کرائی تھیں جو نہ فاضل ریونیو حاصل کرنے میں مددگارثابت ہوئیں اور نہ ہی معیشت کو ڈاکومنٹ کرنے یا معاشی ترقی کو تحریک دینے کا باعث بنیں۔ اسی طرح ان سکیموں سے نہ تو ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور نہ ہی ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب بڑھا۔ ان دونوں سکیموں سے صرف 9 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہو سکا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت اکتوبر 1999ء میں ختم ہوئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق 1999-2000ء میں معاشی ترقی کی شرح نمو 3.1 فیصد، مالیاتی خسارہ 6.1 فیصد اور جاری ادائیگیوں کا خسارہ 3.9 فیصد تھا جبکہ کل قرض تقریباً پوری جی ڈی پی کے برابر یعنی 99.8 فیصد تھا‘ جس میں 52 فیصد غیرملکی قرضے بھی شامل تھے۔ سرمایہ کاری کی شرح 14.9 فیصد پر آ گئی جو 1996-97ء میں 17.9 فیصد تھی، افراطِ زر 5.7 فیصد تھا۔ ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت انحطاط پذیر تھی جو کھلی مالیاتی رعایتوں اور پوشیدہ ٹیکس چوری کا منطقی نتیجہ تھا۔ سب کے لیے ایک جیسے مواقع میسر نہ تھے، کاروباری طبقے کو مراعات کی فراہمی اور حکمرانوں سے تعلقات نے سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی تھی لیکن قرضوں کو واپس نہ کرنا ایک آرٹ یعنی ہنر کا درجہ حاصل کر چکا تھا۔ پوشیدہ دولت ایسی سرگرمیوں میں لگائی گئی تھی جہاں تیز رفتاری سے مال بنایا جا سکے۔ جونہی سرپرستوں کی رخصتی کے آثار پیدا ہونے لگے تمام سرمایہ نکال کر غائب کر دیا گیا۔ ایسی ایمنسٹی سکیموں کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہوتا اور یہ معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔دولت مند لوگ اپنا مال چھپا کر رکھتے ہیں اور ایمنسٹی سکیم جاری کرنے والی حکومت کے جاتے ہی اپنا مال نکال لیتے ہیں اور اگلی ایمنسٹی سکیم کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ معیشت کی ڈاکومینٹیشن ہے۔ کاروباری طبقے ہر حال میں اس کی مزاحمت کرتے ہیں اور کامیاب بھی رہتے ہیں۔
اس سکیم کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس کی نگرانی کا کام کرپٹ اور بے جا مداخلت کرنے والی ٹیکس مشینری پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ بزنس ایڈوائزری کونسل کے ذریعے حکمران خود اس کی دیکھ بھال کریں گے اور اس کی صدارت وزیر اعظم خود کریں گے۔ اس سکیم کا اطلاق ان نئے منصوبوں پر ہو گا جو جنوری 2014ء یا اس کے بعد شروع کیے جائیں گے۔ سرمایہ کاری کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ہر پچاس لاکھ روپے کی سرمایہ کاری سے کم از کم ایک شخص کو روزگار ملے۔ اکثر تجزیہ کاروں کی رائے میں یہ سکیم غیراخلاقی اور سماجی مساوات کے تقاضوں کے برعکس ہے۔ کاروباری ماحول اور ضابطے بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونے چاہئیں کیونکہ سرمایہ کاری کرنے والے صرف ملکی سرمایہ کار نہیں ہوتے، نائن الیون کے بعد کاروباری قواعد وضوابط میں بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔ مثال کے طور پر اب فارن کرنسی بیئرر سرٹیفکیٹ جیسی سکیم کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ شفافیت، احتساب اور آمدنی کے ذرائع کا انکشاف ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس سکیم کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے مراعات یافتہ طبقے کو مزید مراعات سے نوازا جا رہا ہے۔ اس سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو ایئرپورٹ کے وی آئی پی لائونج تک رسائی، امیگریشن میں آسانیاں، بلامعاوضہ پاسپورٹ کا اجرا، بینک اکائونٹس کا آڈٹ سے استثنیٰ وغیرہ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی‘ جو وی آئی پی کلچر کو بڑھاوا دیں گی جبکہ ن لیگ نے اپنے منشور میں اس کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔ نئی ایمنسٹی سکیم سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ اس کے برعکس ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔ دنیا کے اکثر ممالک میں متمول افراد سے زیادہ ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں اور ٹیکس سے حاصل ہونے والا ریونیو غریبوں اور کم آمدنی والے افراد کو سماجی خدمات اور تعلیم اور صحت کی بہتر سہولتیں بہم پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں صورت حال اس کے برعکس ہے، ٹیکسوں کا زیادہ تر بوجھ بالواسطہ طور پر غریبوں پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ ٹیکس ریونیو ملک کی اشرافیہ کو سہولتیں اور مراعات فراہم کرنے پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ قومی دولت کا بڑا حصہ حکمران لے اڑتے ہیں اور بیرون ملک اپنے اکائونٹس کو بھاری کرنے یا سرمایہ کاری پر خرچ کرتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد بھی دنیا میں پست ترین ہے۔ گزشتہ برس صرف سات لاکھ سڑسٹھ ہزار افراد نے ٹیکس ادا کیا‘ جو کل آبادی کا 0.5 فیصد سے بھی کم تھا جبکہ بھارت میں 2.77 فیصد لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ٹیکس چوری اعلیٰ ترین حکومتی عہدیداروں میں بھی بری طرح سرایت کر چکی ہے۔ گزشتہ سال کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے 69 فیصد اور سینٹ کے 63 فیصد ممبران نے ٹیکس ادا نہیں کیا اور جن ارکان نے ٹیکس ادا کیا وہ ان کی مالی استعداد سے کہیں کم تھا۔ سیاستدانوں کی بہت بڑی تعداد ڈیفالٹر ہے۔ ان معاملات میں بہتری لائے بغیر ملکی معیشت کو مستحکم نہیں کیا جا سکتا۔