اجارہ داریاںاورکاروبار دوست پالیسیاں

ترقی پذیر ممالک کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے جن میںغربت، بے روزگاری،وسائل کی ناہموارتقسیم ،تعلیم اور صحت کا فرسودہ نظام، بیرونی ادائیگیاں اور قرضے سنگین شکل اختیار کرچکے ہیں۔ان تمام مسائل اور رکاوٹوں کے باوجود ان ممالک کی خواہش ہے کہ وہ جلدازجلد معاشی ترقی حاصل کر کے ان مسائل پر قابو پا لیں۔حقیقت یہ ہے کہ ان کے وسائل محدود ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے محدود وسائل کو پیداواری شعبے میں اس طرح استعمال کریںکہ پیداوار میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہو۔اس سے نہ صرف تیز رفتار معاشی ترقی کا عمل جاری ہوگابلکہ بیرونی قرضوں کی واپسی بھی ممکن ہو سکے گی۔اکثر ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں پر الزام عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے زیادہ وسائل ایسے شعبوں پرخرچ کرتے ہیں جن سے ان کے عزیزواقارب، حواری اور پارٹی کے ہمدردوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے؛چنانچہ ان مقاصد کے حصول کے لیے بنائی گئی پالیسیوں پروہ دھڑلے سے عملدرآمد کرتے ہیں جس سے عوام میں بداعتمادی اور شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔
2008ء کے عالمی مالیاتی بحران سے نبرد آزما ہونے کے لیے جو اقدامات کیے گئے‘ ان سے بازاردوست(Market friendly) پالیسیوں کے بارے میں پائی جانے والی بدگمانی مزید گہری ہو گئی۔ یہ بحران بڑے بڑے پرائیویٹ بینکوں، مالیاتی اداروںاور آٹو کمپنیوں کے مالکان،ایگزیکٹوزاور شیئر ہولڈرز کے لالچ اور بدانتظامی کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ان تمام اداروں کو بیل آئوٹ پیکیج دینے کے لیے ٹیکس دہندگان سے حاصل کیے گئے ریونیو سے فنڈز فراہم کیے گئے جس سے فوائد اور نقصانات کی غیر مساویانہ تقسیم کے بارے میں یہ بنیادی سوال کھڑا ہوگیا کہ زیادہ خطرات مول لینے سے جو غیر معمولی فائدے ہوتے ہیں وہ تو نجی مالکان اور منیجر ز آپس میں بانٹ لیتے ہیں جبکہ نقصانات معاشرے کے پلّے پڑجاتے ہیں جوعوام کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
اس پس منظر میں پاکستان میں نجکاری کے عمل کی مزاحمت بائیں بازو کے دانشور اور مزدور تنظیمیں ہی نہیں کر رہیں بلکہ ملک کی سول سوسائٹی، میڈیا،پروفیسرزاور عدلیہ کے بڑے حصے کو بھی تشویش ہے۔سپریم کورٹ نے سٹیل ملز کی نجکاری کا سودا کالعدم قرار دینے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ اسی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کے وسیع حلقوں میں نجکاری اور اس کی شفافیت کے بارے میں شکوک پائے جاتے ہیں۔ پاکستان حکومتی کنٹرول میں چلنے والی انرجی سیکٹر کی کمپنیوں کے نقصانات پورے کرنے اورانہیں مراعات دینے پر 1.5ٹریلین روپے خرچ کر چکا ہے۔حکومتی کنٹرول میں چلنے والے دوسرے اداروں پی آئی اے ،ریلویز، محکمہ آبپاشی، پانی کی فراہمی اور نکاسی کے محکموں کے پوشیدہ اور ظاہری نقصانات بھی شامل کیے جائیں تو ان پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ 20ارب ڈالر تک جا سکتا ہے۔ادھر حکومت 6.8ارب ڈالر کے قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد میں مصروف ہے۔اس صورت حال میں پاکستان کے وسیع حلقوں میں بدگمانی پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بازار دوست پالیسیوں کو کاروبار دوست پالیسیوں کے ساتھ گڈمڈ کر دیا ہے۔
بازار دوست اور کاروبار دوست پالیسیوں میں فرق کو سمجھنے کے لیے ہمیں اپنی تاریخ کا جائزہ لینا ہو گا۔ 1950ء کی دہائی میں حکومت نے اپنے پسندیدہ تاجروں اور کاروباری افراد کو امپورٹ لائسنس دیے جن کی بدولت وہ راتوں رات امیر بن گئے۔ اس وقت صنعتی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ بھارت سے اشیاء کی درآمد میں خلل واقع ہو گیا تھا، ملک کو ہر قسم کی اشیاء کی درآمد کی شدید ضرورت تھی،اشیاء کی رسد کی نسبت طلب زیادہ تھی جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے درآمد کنندگان اور ڈسٹری بیوٹرز مصنوعی قلت پیدا کر کے بھاری منافع کماتے رہے۔اس زمانے میں درآمدی لائسنس کا حصول بہت نفع بخش کاروبار بن گیا تھا۔کچھ لوگ خوددرآمد بھی نہیں کیا کرتے تھے بلکہ درآمدی لائسنس بیچ کر اپناکمیشن لے لیا کرتے تھے۔ پاکستان کے بہت سے کاروباری گھرانے اور ادارے انہی امپورٹ لائسنسوں کی پیداوار ہیں۔ دوسرے مرحلے میں پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ٹیکس دہندگان سے حاصل کیے گئے فنڈز سے صنعتی یونٹس قائم کیے گئے۔ جب وہ یونٹس نفع کمانے لگے تو شفافیت کے تمام تقاضے نظر انداز کرتے ہوئے یہ نجی کاروباری افراد کو اونے پونے داموں فروخت کر دیے گئے۔ تیسرے مرحلے میں اسی طبقے کو ٹیکسٹائل، چمڑے،اور زرعی سیکٹر میں صنعتیں قائم کرنے کے لیے سستے قرضے،اونچے ٹیرف اور اوور ویلیو ایکسچینج ریٹ سے فائدہ پہنچایا گیا۔ان صنعتوں میں استعمال ہونے والے خام مال،مشینری اور کل پرزوںکے لائسنس بھی انہی پسندیدہ افراد کو دیے گئے۔ چوتھے مرحلے میں بنک، انشورنس کمپنیاں اور چند بڑی صنعتیں نیشنلائزڈ ہوئیں تو بینک Crony Capitalismکی سرپرستی کا بڑا ذریعہ بن گئے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اختیارات بینکنگ کونسل کے سپرد کر دیے گئے جبکہ بینکوں کے پریذیڈنٹ وزیر خزانہ مقرر کرتا تھا۔ ہر آنے والی حکومت پہلی حکومت کے مقرر کردہ پریذیڈنٹ کو ہٹا کر اپنے پسندیدہ پریذیڈنٹ کا تقرر عمل میں لاتی تھی۔ بینکنگ کونسل اور بینکوں کے پریذیڈنٹس نے حکومت کے حواریوں اور عزیز و اقارب کے مفادات کے تحفظ کے لیے کمال کا کام کیا۔ ان افراد اور ان کی فرموں کو بغیر سکیورٹی اورکولیٹرل قرضے جاری کیے جس سے ان قرضوں کی واپسی مشکل ہو گئی کیونکہ جن اثاثوں پر یہ قرض لیے گئے تھے ان کی مالیت بڑھا چڑھا کر بیان کی گئی تھی اور فرم کے مالک کی ایکیوٹی بھی بنک کے قرض سے پوری کی گئی تھی۔ان فرموں سے اتنے فنڈز بھی پیدا نہ کیے جا سکے جن سے ان قرضوں پر واجب الادا سود کی ادائیگی ہو سکے۔
1990ء کی دہائی میں حکومت نے اپنے حواریوں اور وفاداروں کو امیر بنانے کے لیے حکومتی کنٹرول میں چلنے والے اداروں کی بڑے پیمانے پر نجکاری کی۔ بہت سی کمپنیاں اور ادارے ان لوگوں کے ہاتھ بیچ دیے گئے جنہیں ان شعبوں کا کوئی تجربہ نہ تھا۔انہوں نے اثاثوں کی تقسیم شروع کر دی اور کمپنیوں سے ملحقہ زمین کو رہائشی اورکمرشل مقاصد کے لیے استعمال کر کے خوب پیسہ بنایا،لیکن حکومت کو قسطوں کی ادائیگی میں نادہندہ ہو گئے۔سول سوسائٹی اور رائے عامہ کے نمائندوں نے اس قسم کی پرائیویٹائز یشن پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا؛حالانکہ پر ائیویٹ سیکٹر میں ان اداروں کی کارکردگی میں بہتری آنی چاہیے تھی اور ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہونا چاہیے تھا۔ ان کا دائرہ کار وسیع کر کے ویلیو ایڈیشن بھی ہونی چاہیے تھی لیکن ایسا کچھ نہ ہو سکاالبتہ کچھ افراد کی تجوریاں ضرور بھر گئیں۔
ان حقائق سے پتہ چلا کہ پاکستان میں بازار دوست پالیسیوں کوکاروبار دوست پالیسیوں سے گڈمڈکر کے بازار دوست پالیسیوں کے بارے میں منفی تاثر پیدا کیاگیا۔ بازار دوست پالیسیوں میں مسابقت اور مقابلے کا ماحول ہوتا ہے، بہت سے کھلاڑی میدان میں ہوتے ہیں، اگر کوئی فرم غیر معمولی منافع کما رہی ہوتی ہے تو نئے کھلاڑی میدان میں آ جاتے ہیںاور منافع معقول حد تک کم ہوجاتا ہے جس کا فائدہ صارفین کو پہنچتاہے۔ اس کے برعکس کاروبار دوست معیشت میں سبھی کے لیے یکساں مواقع نہیں ہوتے، نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے،حکمران طبقے کے حواری مارکیٹ میں دھاندلی کرتے ہیں جس سے صارفین کو نقصان ہوتا ہے۔ اس صورت میں مارکیٹ سٹرکچر کے کئی اجزاء ناپید ہوتے ہیں جیسے قانون کی حکمرانی، مسابقت، غیر امتیازی ٹیکس قوانین اوراعانتیں۔حکومتی مداخلت،تکلیف دہ اور سست رو عدالتی نظام، پرمٹ جاری کرنے کے سلسلے میں سرخ فیتے کی کارروائیاں اورمخصوص افراد کوایس آراوز کے ذریعے ٹیکس رعائتیں دینا اور رشوت ستانی'بازار‘ کے تصور کی نفی کرتے ہیں۔ پاکستان میں جاری پالیسیوں کو بازار دوست کہنا سراسر غلط ہے۔ ہمارے ہاں ہمیشہ کاروبار دوست پالیسیوں پر ہی عمل کیا گیا، وہ بھی چند پسندیدہ افراد اورکاروباری اداروں کے مفادات کو بڑھاوا دینے کے لیے۔ ہمارے ملک میں مفت خوری اور سرپرستی کا کلچر ہے جسے ختم کر کے مسابقتی مارکیٹ سٹرکچر کا ماحول پیدا کرنا ہو گا، اس سے عوام اور ملک کو فائدہ ہو گااور اجارہ داریوںکا خاتمہ ہوگا۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں