دہشت گردی اور توانائی کے بحران نے ہمارے ملک کے پیداواری عمل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اسی وجہ سے کلیاتی معاشی مظاہر کی صورت حال دگرگوں ہے، بالخصوص پبلک قرض اور مالیاتی خسارے میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تجارتی اور جاری ادائیگیوں کے خسارے بڑھتے رہے ہیں اور روپے کی قدر بھی گر رہی ہے۔ ان خساروں پر قابو پانے اور پبلک قرض کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری تھا کہ ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کیا جاتا، تمام کاروباری اداروں اور افراد سے ان کی استعداد کے مطابق ٹیکس اکٹھا کیا جاتا، کاروباری اداروں اور صنعت کاروں کو SROs کے ذریعے جو ٹیکس چھوٹ اور مراعات دی گئی ہیں انہیں واپس لے کر ٹیکس ریونیو میں اضافہ کیا جاتا اور غیر ترقیاتی اخراجات میں ممکنہ حد تک کمی کی جاتی تاکہ مالیاتی خسارہ کم ہو۔ بدقسمتی سے ہماری کسی بھی حکومت نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ ترقیاتی اخراجات میں کمی کرتی رہیں جس کی وجہ سے معاشی ترقی اور غربت کم کرنے کے پروگراموں پر زد پڑتی رہی ہے۔ ہر حکومت معاشی مظاہر میں استحکام لانے اور معاشی ترقی کو تحریک دینے کے لیے درکار مشکل اور غیر مقبول فیصلوں کو موخر کرتی رہی جس کی وجہ سے سبسڈیز کا بوجھ بڑھتا گیا اور پبلک قرض اور مالیاتی خساروں میں اضافہ ہوتا گیا۔
موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی کلیاتی معاشی مظاہر میں استحکام لانے کے بارے میں قومی سطح پر بحث مباحثہ جاری تھا۔ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ آئندہ چھ ماہ میں انرجی بحران پر قابو پا لے گی اور قوم کو قرض کے بوجھ سے نجات دلائے گی۔ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی 500 ارب روپے کا گردشی قرض ادا کر دیا اور کچھ دنوں تک لوڈشیڈنگ میں بھی معمولی سے کمی آئی لیکن اب دوبارہ لوڈشیڈنگ حسب سابق جاری ہے اورگردشی قرض بھی 200 ارب سے تجاوز کر چکا ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے 6.8 ارب ڈالر قرض لینے کا معاہدہ بھی کر لیا جس کی دو قسطیں (1.1 ارب ڈالر) موصول ہو چکی ہیں، اس کے باوجود بیرونی سیکٹر کے بحران میں کوئی کمی نہیں آئی۔ یہ صحیح ہے کہ معیشت میں مثبت پیشرفت کے لیے چھ ماہ کا عرصہ کافی نہیں لیکن اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کا آغاز ہو جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ معیشت کو معاشی بحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے گا۔ اس سلسلے میں 2014ء فیصلہ کن سال ہو گا۔ حکومت نے آئی ایم ایف کا اپنی شرائط پر عملدرآمد کے لیے دبائو ہو گا، اس لیے حکومت کو چند اداروں کی ری سٹرکچرنگ کرنی پڑے گی اور حکومتی کنٹرول میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کرنی ہو گی، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حکومت بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دے کر اور نان ٹیرف بیریئر ختم کر کے علاقائی ملکوں سے تجارتی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرے گی۔ حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم شروع کر کے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی کوشش کی ہے اور ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے سلسلے میں بھی ہاتھ پائوں مار رہی ہے۔ ٹیکس ریونیو کی صورت حال مایوس کن ہے اور پہلے سات ماہ میں 1268 ارب کے ہدف کے مقابلے میں صرف 1199 ارب روپے اکٹھے کر سکی ہے، اخراجات پر قابو پانا اہم ہے لیکن ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معیشت کی بحالی کا انحصار چند سٹرکچرل اقدامات پر ہو گا۔ حکومت نے گردشی قرض چکانے کے بعدگھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے ٹیرف بڑھا کر اور آئی ایم ایف سے قرض لے کر صحیح سمت میں پیش قدمی کا آغاز کیا تھا۔ اگر کلیاتی معاشی مظاہر کے طے کیے گئے اہداف پر مثبت پیشرفت ہوتی ہے آئی ایم ایف قرض کی اگلی قسط جاری کر دے گی، لیکن مشکل یہ ہے کہ افراطِ زر دو عددی شرح کو چھو چکی ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر ہدف سے بہت کم ہیں اور صرف 3.1 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔
آئی ایم ایف نے بیرونی ادائیگیوں کی صورت حال اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت پاکستان سے زرمبادلہ کے نظرثانی شدہ اہداف کے حصول کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ بیرونی خطرات پر قابو پایا جا سکے۔ بیرونی وسائل کی آمد کی حوصلہ افزائی کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ میں دو دفعہ اضافہ کیا ہے اور ایف ایکس مارکیٹ سے ڈالر خریدنے کی پالیسی جاری رکھی ہے۔
اگرچہ پچھلے دنوں میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں معمولی سی کمی ہوئی لیکن بجلی اور انرجی کے ٹیرف میں اضافے سے افراطِ زر میں مزید اضافے کا امکان ہے جس میں رواں مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں 17 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے او ر بینکاری نظام سے بھاری حکومتی قرض کی وجہ سے پرائیویٹ سیکٹر کو کریڈٹ کی فراہمی کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، اس لیے بینکوں کی طرف سے پرائیویٹ سیکٹر کو کریڈٹ کی فراہمی کی مقدار مایوس کن رہی ہے۔ بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر پچھلی کئی دہائیوں سے پست ترین سطح پر ہیں جو ایک مہینے کی درآمدات کے لیے ہی کافی ہیں جو فکرمندی کی بات ہے کیونکہ اس کی وجہ سے تقریباً 7 فیصد کی ڈی ویلیوایشن ہو چکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جس سٹرکچرل ریفارمز کے ایجنڈے پر اتفاق ہوا ہے اس پر عملدرآمد مشکل ہو گا تاہم اس میں جزوی کامیابی سے بھی معاشی صورتحال میں بہتری کے آثار نمودار ہونے شروع ہو جائیں گے۔
پچھلے چھ برسوں میں معاشی ترقی کی اوسط شرح 3 فیصد سے بھی کم رہی ہے جو ہمارے ملک کی پست ترین سطح تھی۔ اب سٹرکچرل ریفارمز پر عملدرآمد اور نجکاری سے ملک کی مجموعی معاشی صورتحال میں بہتری آنے کی امید ہے۔ اس سال کے پہلے سات ماہ میں ریونیو ہدف سے 69 ارب روپے کم رہا ہے، اگلے پانچ مہینوں میں ٹھوس اقدامات کر کے ایف بی آر کو ریونیو کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہو گی۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم، جی ایس پی پلس سٹیٹس کے ملنے اور پرائیویٹائزیشن کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان جاری ہے۔ سٹاک مارکیٹ کی کارکردگی کا دارومدار کارپوریٹ سیکٹر کی متوقع آمدنی اور منافع جات پر ہوتا ہے، حالیہ دنوں میں اس کے منافع جات 7 فیصد اضافہ ہوا ہے، اس لیے سٹاک مارکیٹ کی کارکردگی بہتر رہنے کی امید ہے؛ تاہم معیشت کی بحالی اتنی آسان نہ ہو گی۔
سرمایہ کاروںکے اعتماد کی بحالی اور سازگار معاشی ماحول پیدا کرنے کے لیے مشکل، غیر مقبول اور تکلیف دہ معاشی اصلاحات کے فیصلے لینا ہوں گے۔ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ جون 2014ء تک افراط ِزر میں اضافہ ہوتا رہے گا اور مالیتی اور زری پالیسی میں ہم آہنگی رہی تو جون کے بعد افراطِ زر میں کمی کے آثار پیدا ہو سکیں گے۔ اگر حکومت نجکاری کے عمل کو شفاف طریقے سے آگے بڑھانے میں کامیاب ہو گئی تو اس سے کاروباری برادری کے اعتماد میں اضافہ ہو گا اور سرمایہ کاری بڑھے گی۔ اس سے بیرونی پرائیویٹ سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کو ڈی ریگولیشن اور پرائیویٹائزیشن کے ذریعے معیشت میں آزاد بازاری رجحان کو تقویت دینی چاہیے، اس سے پبلک سیکٹر اداروں کے نقصانات پر قابو پایا جا سکے گا۔ زرمبادلہ کی کمزور صورت حال کی وجہ سے حکومت کو آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرنا پڑے گا، ان شرائط پر عملدرآمد سے مالیاتی خسارے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ مالیاتی خسارے پورے کرنے کے لیے سٹیٹ بینک کو کرنسی نوٹ چھاپنے پڑتے ہیں جس سے نہ صرف افراطِ زر میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ پبلک سیکٹر کو کریڈٹ کی فراہمی بھی کم ہو جاتی ہے۔ اگر حکومت -3جی لائسنس کی نیلامی‘ ملکی جی ڈی آر کے کامیاب اجرا اور کوآپشن سپورٹ فنڈ کی بقیہ رقم کی وصولی میں کامیاب ہو جاتی ہے تو زرمبادلہ کے ذخائر میں کچھ بہتری آ جائے گی۔