آبی وسائل کی قلت اور زرعی سیکٹر کی ترقی

زراعت پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا شعبہ رہا ہے۔1949-50ء میں قومی آمدنی یا خام ملکی پیداوار میں زراعت کا حصہ 53.19فیصد تھا‘ جو دوسرے شعبوں کی ترقی کی وجہ سے سال بہ سال گھٹ کر تقریباً 22فیصد رہ گیا ہے۔ا ب بھی کسی دوسرے شعبے کی نسبت زراعت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔پاکستان کے زرعی شعبے کو بہت سے مسائل اور خامیوں کا سامنا ہے۔کاشتکاروں اور دیہات میں آباد کثیر آبادی کے معیار زندگی میں اضافے کے لیے ان مسائل کا جلد حل کیا جانا ضروری ہے۔ان مسائل میں سرفہرست آبی وسائل کی قلت ہے۔منگلا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی بڑا منصوبہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا۔سلٹنگ (Silting)کی وجہ سے ان ڈیموں میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم ہوتی گئی۔
زرعی شعبے کو مناسب مقدار میں آبپاشی کی سہولتیں پہنچانے کے لیے ضروری تھا کہ آبی وسائل میں ہر سال 10فیصد اضافہ کیا جاتا‘ لیکن اس کے برعکس ہمارے آبی وسائل میں ہر سال 7فیصد کمی ہوتی رہی۔ پاکستان کے 22ملین ہیکٹر زیر کاشت رقبے میں سے صرف 18ملین کو نہروں، ٹیوب ویلوں،کنوئوں اور تالابوں کے ذریعے آبپاشی کی سہولت میسر ہے۔ 4ملین زیر کاشت رقبے کو سرے سے آبپاشی کی سہولتیں میسر نہیں اور اس رقبے کا گزارہ بارش پر ہوتا ہے۔9ملین ہیکٹر سے زیادہ رقبہ آبپاشی کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑا ہوا ہے۔پاکستان میں آبپاشی کی ناکافی سہولتوں اور نکاسی آب کے ناقص انتظامات فی ایکڑ پیداوار میں کمی کا بڑا سبب ہیں۔اگر آبپاشی کی سہولتوں میں اضافہ کر دیا جائے تو نئے رقبے زیر کاشت لائے جا سکتے ہیں اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے علاوہ کم قیمت فصلوں کی بجائے زیادہ قیمت کی فصلیں کاشت کی جا سکتی ہیں جن سے زرعی شعبہ تیز رفتاری سے ترقی کر سکتا ہے۔2012-13ء میں زرعی سیکٹر کی ترقی کے لیے چار فیصد کا ہدف رکھا گیا تھا‘ لیکن سیکٹر کی کارکردگی اس سے کافی کم یعنی صرف 3.3فیصد رہی۔اس کی وجہ پنجاب اور سندھ میں بے وقت بارشیں تھیں‘ جن سے فصلوں‘ زرعی انفراسٹرکچر اور دیگر اثاثوں کو نقصان پہنچا۔اس کے علاوہ کھیتوں کو پانی کی سپلائی میں واقع ہونے والے خلل نے بھی فصلوں کو نقصان پہنچایا۔ رواں مالی سال کے لیے حکومت نے فصلوں کی پیداوار میں 3.8فیصد‘ لائیو سٹاک کی پیداوا ر میں 3.8فیصد‘ جنگلات اور فشریز کی پیداوار میں بالترتیب 3.7فیصد اور 2فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے۔اگر آبپاشی کے لیے مناسب مقدار میں پانی کی فراہمی نہیں ہوتی اور دیگر آفات سے بچائو کا انتظام نہیں کیا جاتا‘ تو یہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔ 
مرکزی حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں آبی منصوبوں کے لیے 60ارب روپے رکھے ہیں۔یہ فنڈز پچھلے سال سے 20فیصد زیادہ ہیں‘ لیکن یہ واضح نہیں کہ جن منصوبوں پر یہ رقم خرچ کی جائے گی‘ ان پر عملدرآمد کے سلسلے میں پائی جانے والی کرپشن اور بدانتظامی پر کیسے قابو پایا جائے گا۔ کرپشن اور بدانتظامی منصوبوں میں سرمایہ لگانے سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔حکومتی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں آبی وسائل کی دستیابی دبائو کا شکار رہے گی۔ 2012-13ء میں 137.5ملین ایکڑ فُٹ (ایم اے ایف) پانی دستیاب تھا۔اس سال کا ہدف 142 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں تقریباً دو لاکھ ٹیوب ویل ہیں۔25فیصد ٹیوب ویل بجلی پر چلتے ہیں اور بقیہ 75فیصد ڈیزل سے۔ پچھلے چند سالوںمیں ڈیزل اور بجلی دونوں کی قیمتوں میں بلند شرح سے اضافہ ہوا‘ جس کی وجہ سے بہت سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکار زیر زمین پانی سے پورا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ وہ ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میںاضافے کی وجہ سے ٹیوب ویل ہمہ وقت چلانے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔نتیجتاً 2ملین ایکڑ فٹ کم پانی حاصل کیا جا سکا۔اس سال بھی ٹیوب ویلوں سے ان کی پوری گنجائش کے مطابق پانی حاصل نہیں کیا جا سکے گا۔
پاکستان کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جن میں آبی وسائل کی دستیابی کو ماحولیاتی اور آب و ہوا کی تبدیلیوں کے مضر اثرات کا سامنا ہے۔پاکستان کی معاشی خوشحالی کا دارو مدار انڈس ریور سسٹم اور دیگر چھوٹے دریائوں سے پانی کی سپلائی پر ہے۔ گلوبل واٹر پارٹنر شپ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان آب و ہوا کی غیر موافق تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہو چکا ہے اور اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے ابھی تک کوئی تیاری نہیں کی گئی۔درجہ حرارت میں اضافے اور آبی بخارات بننے کی رفتار تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے آئندہ چند سالوں میں دریائی نظام سے پانی کی دستیابی میں مزید کمی ہوتی جائے گی۔کوہ ہندوکش‘ قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑی زون پر کاربن سوٹ جمع ہونے کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ ان پہاڑوں پر جمنے والے گلیشیر ز کے پگھلنے سے انڈس ریور سسٹم میں سیلاب آئیں گے۔ بارشوں اور سیلاب کے پانی کو ذخیرہ کر کے آبپاشی کے لیے استعمال کرنے کے سلسلے میں خاطر خواہ کام نہیں ہوا ہے۔ آبی وسائل میں توسیع کرنے کے سلسلے میں بھی پوری گنجائش سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ مختلف علاقوں میں پانی کی تقسیم میں کئی طرح کی بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں۔ نہروں کے آخری حصے کے کاشتکاروں کی شکایات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کہ ان کے کھیتوں کو کافی مقدار میں پانی نہیں ملتا‘ کیونکہ وہاں تک پہنچتے پہنچتے پانی خشک ہو جاتا ہے۔نکاسی آب کے ناقص انفراسٹرکچر اور بدانتظامی کی وجہ سے سیم اور تھور میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حالیہ سالوں میں گندے نالوں کے پانی کے دریائوں میں گرنے سے بھی کئی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ان گندے نالوں سے بھاری روڑے‘ دھاتی اور زہر آلود مواد دریائوں میں گرتا ہے۔اس سے کھیتوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے‘ خصوصاً دریائے راوی میں ایسا مواد بڑی مقدار میں شامل ہوتا ہے‘ جس سے آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور زمین کی پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس آلودگی کی وجہ سے جنوبی پنجاب اور سندھ کی زمین کی پیداواری گنجائش میں 15سے 20فیصد کمی ہو سکتی ہے اور سب سے زیادہ نقصان گندم اور چاول کی فصلوں کو ہو گا۔آبی وسائل کی قلت آب و ہوا کے تغیرات کا نتیجہ ہے ۔موسمی اور غیر موسمی سیلاب زراعت کے علاوہ دیگر سیکٹرز پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔کئی حکومتوں نے سیلاب زدہ علاقوں کی زمین اپنے حواریوں میں تقسیم کر دی ہے۔سیلاب زدہ زمین کو ناجائز قابضین نے بھی نقصان پہنچایا ہے۔اس سے سیلابی پانی کے بہائو کے راستے تبدیل ہو گئے ہیں۔سیلابی علاقوں کے مخصوص حالات کو پیش نظر رکھے بغیر وہاں مقامی اور قومی انفراسٹرکچر کی تعمیر سے نہ صرف اس انفراسٹرکچر بلکہ اس سے ملحقہ علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی سے بھی بڑی تباہی ہوئی ہے۔حالیہ دنوں میں ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ نے جنگلات کاٹ کر علاقے میں فصلیں اگانے کے لیے کہا ہے۔ایسی پالیسیوں سے زرعی شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔زرعی سیکٹر کو کافی مقدار میں فنڈز مہیا کیے جا رہے ہیںلیکن موثر منصوبہ بندی کے بغیر ان سے مطلوبہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکے گا۔اقربا پروری‘ کرپشن اور ایڈہاک پالیسیاں مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔زرعی شعبے کی کارکردگی میں اضافہ کرنے کے لیے ٹھوس اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔مندرجہ بالا حقائق کا تقاضا ہے کہ اصلاح احوال کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔بڑے اور درمیانے درجے کے ڈیم کے منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار تیز کی جانی چاہیے۔ دیامیر بھاشا ڈیم کو مقررہ ٹائم ٹیبل کے مطابق مکمل کرنا چاہیے۔اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ کالا باغ ڈیم کے بارے میں دوبارہ صلاح مشورہ کرنا چاہیے۔اگر صوبوں کو آئینی اور سیاسی گارنٹی دے کر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے تو کالا باغ ڈیم تعمیر کیا جا سکتا ہے۔اگر ہم پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ کر سکے تو پاکستان ہر سال بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پورا کرنے کے علاوہ برآمدات کے لیے فاضل پیداوار بھی حاصل کر سکتا ہے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں