سٹیٹ بینک آف پاکستان نے 28مارچ کو معیشت کی کارکردگی کے بارے میں دوسری سہ ماہی رپورٹ جاری کی۔ یہ رپورٹ تین ماہ کی تاخیر کے بعد جاری کی گئی۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تاخیر معاشی ترقی کی شرح نمو اور دیگر معاشی اعشاریوں کے اعداد و شمار کو بنا سنوار کر (Fudge)پیش کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سٹیٹ بینک نے اس تاثر کی تردید نہیں کی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قلیل مدتی قرض میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس سے اس قرض کی واپسی مشکل سے مشکل تر ہوتی جائے گی۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں افراط زر8.9فیصد رہا۔ جبکہ پچھلے سال اس عرصے میں افراط زر 8.3فیصد تھا۔ سٹیٹ بینک نے جولائی 2014ء سے پہلے کولیشن سپورٹ فنڈ اورتھری جی اور فور جی لائسنسز کی نیلامی سے متوقع وسائل کی آمد کے بارے میں حکومتی طوطا کہانی دہرائی ہے۔ حکومت کو سٹیٹ بینک نے مشورہ دیا ہے کہ فروری اور مارچ میں موصول ہونے والے وسائل پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پر خرچ کیے جانے چاہئیں۔ ان وسائل سے مالیاتی دبائو پر قابو پانے میں مدد ملے گی؛ تاہم حکومت قرض لینے کی مقدار میں کمی کرے کیونکہ حکومت کا قرض پر وفائل خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے اور اس کا زیادہ حصہ قلیل مدتی ٹریژری بلز کے قرض پر مشتمل ہے۔ حکومت مالیاتی پالیسی سخت کرنے جا رہی ہے۔ اس سے شرح سود میں اضافہ ہو گا۔ اس وجہ سے قلیل مدتی قرض واپس کر کے طویل مدتی قرض حاصل کرنے پر زیادہ اخراجات کرنے پڑیں گے۔ سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کمرشل بینکوں سے بھاری قرض لینے پر انحصار کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف نے سٹیٹ بینک سے قرض لینے کی جو حد مقرر کی تھی‘ حکومت نے اس سے بھی زیادہ قرض لیا ہے۔ اگر حکومتی اخراجات اسی طرح جاری رہے تو ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص فنڈز میں مزید کمی کرنا پڑے گی اور قرضوں کی خدمت پر اٹھنے والے اخراجات میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ سٹیٹ بینک نے اس سال کے کلیاتی معاشی مظاہر کے ممکنہ تخمینوں میں ردو بدل کیا ہے اور خیال ظاہر کیا ہے کہ اس سال جی ڈی پی کی شرح نمو3.5سے 4.5فیصد تک رہے گی جبکہ پہلی سہ ماہی رپورٹ میں سٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو 3سے 4فیصد کے درمیان رہے گی اور بجٹ میں معاشی ترقی کی شرح نمو کا ہدف 4.4فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں سابق تخمینے پر نظر ثانی اور 3.1فیصد کی پیش گوئی کی ہے۔ افراطِ زر پچھلے سال کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں بڑھا ہے۔ سی پی آئی نومبر کے مہینے میں دس فیصد سے تجاوز کر گیا تھا‘ لیکن دسمبر میں گر کر 9.2فیصد رہ گیا۔ سٹیٹ بینک کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں اس میں مزید کمی ہو گی اور پورے سال کے لیے افراط زر 8.5سے 9.5فیصد کے درمیان رہے گا‘ بشرطیکہ گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جائے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال مالیاتی خسارہ 6اور 7فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے؛ تاہم صحیح صورتحال کااندازہ اس وقت ہو گا جب انرجی سیکٹر کو دی جانے والی سبسڈیز کاتخمینہ لگایا جائے گا۔
مثبت خبروں کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ کے مہینے میں آئی ایم ایف سے قرض کی تیسری قسط ملنے کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو کم ہو گیا ہے اور ایک دوست ملک سے 1.5ارب ڈالر ملنے سے بھی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔30جون تک کئی دیگر عالمی اداروں سے کثیر وسائل کی آمد متوقع ہے۔ اگر متوقع وسائل حاصل ہو جائیں‘ ترسیلات زر میں اضافے کی رفتار بڑھتی رہے اور عالمی مارکیٹ میں کموڈیٹی کی قیمتیں مستحکم رہیں تو اس پورے سال کے لیے جاری ادائیگیوں کا خسارہ 3.5ارب ڈالر سے کم رہے گا؛ تاہم رپورٹ میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ سٹرکچرل ریفارم کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ناممکن ہو گا‘ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ سٹرکچرل ریفارم کو پس پشت نہ ڈالے۔بینکنگ سسٹم پر موجود مالیاتی دبائو کم کرنے کے لیے مالیاتی خسارے میں تخفیف کی اشد ضرورت ہے۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کو کریڈٹ کی فراہمی میں اضافہ کیا جا سکے۔ بڑے پیمانے کی مینو فیکچرنگ کی ترقی کے لیے مزید کریڈٹ کی فراہمی نہایت ضروری ہے۔ سٹیٹ بینک نے زور دے کر کہا ہے کہ ترقیاتی پروگرام کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیے جائیں۔
سٹیٹ بینک کا خیال ہے کہ خدمات کے شعبے کے اکثر سب سیکٹرز کی کارکردگی ملی جلی رہے گی۔ تھوک اور پرچون تجارت کے علاوہ ٹیلیکام سب سیکٹر کی کارکردگی پچھلے سال سے بہتر رہے گی لیکن فنانشل اور انشورنس سب سیکٹرز کی کارکردگی قدرے پست رہنے کا احتمال ہے۔ سب سے حوصلہ افزا ترقی بڑے پیمانے کی مینو فیکچرنگ میں ہوئی‘ جو پہلے چھ ماہ میں 6.8فیصد رہی۔ اس شعبے میں ترقی بہتر انرجی سپلائی اور چند سب سیکٹرز کی پیداواری گنجائش میں کی جانے والی توسیع کی وجہ سے ہوئی ہے۔تعمیراتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا۔اس سال کرشنگ جلدی شروع ہونے کی وجہ سے دوسری سہ ماہی میں چینی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔زرعی شعبے میں گندم کی فصل پچھلے سال کی نسبت زیادہ ہونے کی توقع ہے۔پوٹھوہار کے علاوہ تمام علاقوں میں گندم کی فاضل پیداوار ہو گی‘ کیونکہ موسمی حالات ساز گاررہے ہیں۔تاہم گندم کی پیداوار میں اضافہ خریف کی کمزور فصلوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ اس لیے اس سال زرعی شعبے کی ترقی کی شرح ہدف سے کم رہے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تھوک اور پرچون ٹریڈ میں ویلیو ایڈیشن بڑھے گی جیسا کہ اس سب سیکٹر کو کریڈٹ کی فراہمی میں اضافہ ہوا ہے۔ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی ترقی میں جو اضافہ ہوا ہے‘ اس سے روڈ ٹرانسپورٹ میں مثبت بہتری کا امکان ہے۔ کمرشل بینکوں کے منافع جات میں کمی کی وجہ سے فنانشل اور انشورنس سب سیکٹرز میں ویلیو ایڈیشن کم رہے گی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ اور گندم کی پیداوار میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے؛ تاہم جی ڈی پی کی شرح نمو کا انحصار بڑی حد تک خدمات کے شعبے کی کارکردگی پر ہو گا۔ سٹیٹ بینک نے ٹیکس ریونیو بڑھانے کے لیے ٹیکس اکٹھا کرنے والی مشنری کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے حکومت پر زور دیا ہے اور یہ کہ ٹیکس چوری پر قابو پانے کے لیے ٹیکس چوروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرنی چاہیے۔مالیاتی سسٹم میں سٹرکچرل مسائل پائے جاتے ہیں۔ان پر قابو پائے بغیر ٹیکس ریونیو میں قابل ذکر اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔حکومت نے سٹرکچرل ریفارم پرفوکس کرنے کی بجائے چند سطحی اقدامات کر کے مصلحت پسندی سے کام لیا ہے۔ سٹیٹ بینک نے یہ بھی کہا ہے کہ مالیاتی تنگدستی کی وجہ سے ترقیاتی پروگرام کے فنڈز میں کمی نہیں کی جانی چاہیے۔مزید یہ کہ ٹیکس ریفارم کے ذریعے وسیع پیمانے پر دی گئی ٹیکس چھوٹیںختم کرنا ہوں گی۔ ایف بی آر کی ساکھ میں بہتری لانی ہو گی۔ٹیکس چوری پر قابو پانے کے لیے سخت تادیبی کارروائی کرنی ہو گی اور ٹیکس ایڈمنسٹریشن کی استعداد میں اضافہ کرنا ہو گا۔ ایف بی آر کی کارکردگی کے بارے میں سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ مثبت رہی‘ لیکن پہلے چھ ماہ میں ہدف سے 90ارب کم ٹیکس اکٹھا کر سکا ہے۔پہلے چھ ماہ میں ٹیکس ریونیو میں اضافہ 16.8فیصد کی شرح سے ہوا ہے اور پورے سال کا ہدف حاصل کرنے کے لیے جنوری سے 30جون تک ٹیکس ریونیو 36.6فیصد کی شرح سے بڑھنا چاہیے جو ناممکن لگتا ہے‘ کیونکہ پچھلے کئی سالوں سے ہر سال کی دوسری ششماہی کا ٹیکس ریونیو اوسطاً صرف 13.4فیصد کی شرح سے بڑھا ہے۔ پہلی ششماہی کے کل ٹیکس ریونیو کا دو تہائی سیلز ٹیکس سے حاصل ہوا ہے‘ جو چھ ماہ کے ہدف سے زیادہ ہے۔ اس میں بڑا حصہ پٹرولیم پروڈکٹس، سیمنٹ اور فرٹیلائزر کا ہے؛ تاہم کسٹم ڈیوٹی میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا۔تقریباً 33فیصد ٹیکس ریونیو ود ہولڈنگ ٹیکسوں سے حاصل ہوا ہے‘ جو دراصل بالواسطہ ٹیکس ہوتے ہیں کیونکہ ان کا بوجھ صارفین کو منتقل ہو جاتا ہے۔