عالمی بانڈ مارکیٹ میں پاکستانی بانڈز کا اجرا

پاکستان نے سات سال بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں پانچ سالہ اور دس سالہ بانڈز فروخت کیے ہیں۔ابتدامیں پاکستان عالمی بانڈ مارکیٹ میں صرف 500ملین ڈالر کے بانڈز فروخت کرنا چاہتا تھا،لیکن عالمی سرمایہ کاروں نے ان بانڈز میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور 5ارب ڈالر کی پیشکشیں موصول ہو گئیں؛تاہم پاکستان نے دو ارب ڈالر پر اکتفا کیا۔یہ پاکستان کے سو ورن بانڈز کا اب تک کا سب سے بڑا سودا ہے اور عالمی سرمایہ کاروں بالخصوص امریکی سرمایہ کاروں نے اس میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ایک ارب ڈالر کی مالیت کے پانچ سالہ بانڈز پر 7.25فیصد اور ایک ارب کے دس سالہ بانڈز پر 8.25فیصد سالانہ منافع ادا کیا جائے گا۔پاکستانی بانڈز پر دیا جانے والا منافع امریکی ٹریژری کے بنچ مارک ریٹس سے بالترتیب 558بیس پوائنٹ اور 556بیس پوائنٹ یا 5.58اور 5.56فیصد زیادہ ہے۔
عموماً دو قسم کے ممالک سوورن بانڈز فروخت کرنے کے لیے عالمی بانڈ مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں۔پہلی کیٹگری میں ایسے ممالک شمار ہوتے ہیں جنہیں اپنے قرض کی واپسی کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے سلسلے میں مشکلات درپیش ہوتی ہیں اور وہ عالمی مارکیٹ سے کسی بھی قیمت پر فنڈز حاصل کرنا چاہتے ہیں یا اپنے ایکسچینج ریٹ کو مستحکم کرنے کے لیے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں ۔ایسے ممالک مایوسی کے عالم میں بلند سے بلند تر شرح منافع کی پیشکش کرتے ہیں۔عالمی سرمایہ کار ہر وقت بلند منافع (Yield)کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ا ن کے لیے ایسی پیشکشیں بہت ہی پرکشش ہوتی ہیں۔ دوسری کیٹیگری میں ایسے ممالک آتے ہیں،جنہیں فنڈز کی تو ضرورت نہیں ہوتی لیکن وہ عالمی سرمایہ کاروں کو اپنے ملک کی مضبوط معیشت کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔ایسے ممالک گاہے گاہے بانڈز جاری کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ عالمی سرمایہ کاروں اور عالمی منڈیوں سے رابطے میں رہیں،جیسا کہ چین وقفے وقفے سے بانڈز جاری کرتا رہتا ہے حالانکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر 3.5ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہیں۔اس کا مقصد دنیا کو چین کے کریڈٹ کی مضبوط اور ٹھوس اساس سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔
پاکستان نے عالمی مارکیٹ میں بانڈز کے اجرا کے لیے نہایت موزوں وقت کا انتخاب کیا ہے۔ اس وقت عالمی مارکیٹ میں نقدیت کی ریل پیل ہے کیونکہ امریکہ اور یورپی ممالک زری پالیسی میں لگاتار نرمی لا رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں امریکہ نے اپنی معیشت کی بحالی کے لیے 75ارب ڈالر کا بیل آئوٹ پیکیج دیا ، جس کی وجہ سے ان ممالک میں شرح سود پست ترین سطح پر ہے اور عالمی سرمایہ کار بلند شرح بانڈز کی تلاش میں ہیں۔اس صورتحال میں پاکستان نے فنڈز حاصل کرنے کے لیے نہایت مناسب وقت کا انتخاب کیا۔ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز کے مطابق اس وقت پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ انویسٹمنٹ گریڈ سے 7پوائنٹ نیچے اور سٹینڈرڈ اورپؤر کے مطابق 6پوائنٹ نیچے ہے۔ جن ممالک کی کریڈٹ ریٹنگ اتنی خراب ہو وہ یو ایس مارکیٹ میں روڈ شو کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتے۔لیکن پاکستان نے یو ایس مارکیٹ میں روڈ شو کیا، اپنے بانڈ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی غیر معمولی دلچسپی کے اظہار کا مظاہرہ دیکھا اور یو ایس سرمایہ کاروں کی ایک ارب ڈالر کی پیشکش قبول کر لی۔اس سودے کے تین سٹیک ہولڈرز ہیں حکومت پاکستان،عالمی سرمایہ کار اور لیڈ منیجرز۔اس سودے سے تینوں سٹیک ہولڈرز کو فائدہ ہوا۔شاید واحد سٹیک ہولڈر جو خسارے میں رہاوہ پاکستان کی ریاست ہیْ اس سودے کے حجم کو دیکھ کر عالمی سرمایہ کاروں کو یوں لگا کہ پاکستان شدید مالیاتی مشکلات کا شکار ہے۔ اور وہ کسی بھی قیمت پر بانڈز فروخت کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان شروع میں صرف 500ملین ڈالر کے فنڈز حاصل کرنا چاہتا تھا،لیکن عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی دیکھ کر سودے کا حجم چار گنا کر دیا گیااور دو ارب ڈالر اکٹھے کر لیے۔ پاکستان کو ڈالر کی سخت ضرورت تھی کیونکہ آئی ایم ایف نے جون 2014ء کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر کا جو ہدف مقرر کر رکھا ہے،اسے حاصل کیے بغیر ای ایف ایف پروگرام کی اگلی قسط ملنے میں دشواری پیش آ سکتی تھی۔اس لیے حکومت نے شاید اس دہائی کے مہنگے ترین بانڈز فروخت کیے۔اس سودے میں پاکستان نے پانچ اور دس سالہ بانڈز پر یو ایس ٹریژری کے بنچ مارک ریٹس سے بالترتیب 5.56فیصد اور 5.58فیصد زیادہ پر بانڈز فروخت کیے۔مئی 2007ء میں پاکستان نے 750ملین ڈالر کے دس سالہ بانڈز فروخت کیے تھے۔ ان پر منافع کی شرح یو ایس ٹریژری کے بنچ مارک ریٹ سے صرف 2فیصد زیادہ تھی۔بلا شبہ یہ بہت ہی مہنگا سودا ہے اور اس کے بہت ہی ناموافق اثرات سامنے آئیں گے، بالخصوص پرائیویٹائز کیے جانے والے اداروں کی بنچ مارک قیمت مقرر کرنے کے سلسلے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کا قرض پروفائل پہلے ہی بہت تشویشناک ہے۔مہنگے داموں اتنی بھاری رقم قرض لینے سے آئی ایم ایف کے سابق اور موجودہ قرض کی خدمت پر اٹھنے والے اخراجات میں مزید اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ اسلامک ڈویلپمنٹ بنک اور کمرشل بینکوں کے کنسورشیم سے قلیل مدتی قرض لیا جا رہا ہے اور 2016ء سے پیرس کلب کے ریشڈیولڈ قرض کی واپسی کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔ تو قرض کی خدمت کا مسئلہ بہت سنگین ہو جائے گا۔2ارب ڈالر کے بانڈز فروخت کر کے جو قرض لیا گیا ہے اس کی خدمت پر اگلے پانچ سالوںمیں 155ملین ڈالر سالانہ اور اس سے اگلے پانچ سالوں میں 82.5ملین ڈالر سالانہ ادا کرنا پڑیں گے۔حکومت کو چاہیے تھا کہ 500ملین ڈالر پر ہی اکتفا کرتی اس کے بعد ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری لاتی اور تین ماہ کے بعد سپریڈ کم کر کے دوبارہ بانڈز جاری کرتی۔اس کے تین ماہ بعد سپریڈ مزید کم کر کے بانڈز جاری کرتی۔اس طرح اگلے د و تین سالوں میں پاکستان سپریڈ میں کمی کر کے 200سے 250بیس پوائنٹ تک یا یو ایس ٹریژری کے بنچ مارک ریٹ سے صرف 2سے 2.5فیصد زیادہ تک لے آتا۔
اس سودے میں دوسرا سٹیک ہولڈر عالمی سرمایہ کار ہیں۔عالمی مارکیٹ میں نقدیت کا سیلاب آیا ہوا ہے۔اس لیے عالمی سرمایہ کاروں نے پاکستانی بانڈز میں بے پناہ جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 5سے 7ارب ڈالر کی پیشکش کر دی۔پاکستان نے 2ارب ڈالر حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ایک ارب ڈالر 7.25فیصد اور ایک ارب ڈالر 8.25فیصد سالانہ شرح سود پر ۔اتنے پرکشش ریٹس پر پاکستان کے بانڈز خریدنے میں عالمی سرمایہ کاروں نے بھاری دلچسپی ظاہر کی کیونکہ کسی بھی سرمایہ کاری سے اتنا زیادہ نفع نہیں مل سکتا تھا۔اس سودے سے لیڈ منیجر کو بھی فائدہ ہوا۔انہوں نے روڈ شو کرنے،سودے کا حجم بڑھانے اور ہر علاقے کے سرمایہ کاروں کو مدعو کرنے میں اہم خدمت سرانجام دی انہیں چاہیے تھا کہ وہ حکومت کو 500ملین ڈالر سے زیادہ حاصل نہ کرنے کا مشورہ دیتے۔شاید انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے نتیجے میں جو فیس 500ملین ڈالر کے بانڈز کی فروخت سے ملتی تھی، اس سے چار گنا فیس مل گئی۔لہٰذا بینکوں کے لیے بھی یہ بہت اچھا اور فائدہ مند سودا تھا۔دوست ملک سے 1.5ارب ڈالر کی آمد،بانڈز کی فروخت اور دیگر بینکوں سے قرض حاصل ہونے کے بعد کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اب آئی ایم ایف کے ای ایف ایف پروگرام کو خیر باد کر دینا چاہیے۔ میرے خیال میں ایساہرگز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ معاشی صورت حال میں جو تھوڑی سی بہتری آئی ہے،وہ آئی ایم ایف کے قرض کی مرہون منت ہے۔آئی ایم ایف سے مالیاتی آسودگی کا سرٹیفکیٹ حاصل کئے بغیر یو ایس مارکیٹ میں بانڈز فروخت کرنا بھی شاید ممکن نہ ہوتا۔اگرچہ معاشی صورتحال میں کچھ بہتری کے آثار نمودارہو رہے ہیں،لیکن قرض سے حاصل کئے گئے وسائل کے بل بوتے پر معاشی افزائش یا بالیدگی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ٹھوس سٹرکچرل ریفارم اور موزوں کلیاتی معاشی پالیسیوں کاکوئی نعم البدل نہیں ۔اس وقت پاکستان کو جو تھوڑی سی مہلت ملی ہے۔ اس عرصے میں انرجی اور ٹیکس نظام جیسے کلیدی سیکٹرز میں معنی خیز سٹرکچرل ریفارم پر عملدرآمد کا آغاز کر دینا چاہیے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں