آئی ایم ایف کا تیسرا سہ ماہی جائزہ

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی معیشت کی کارکردگی کے بارے میں تیسرا سہ ماہی جائزہ 27جون کو مکمل کر لیا۔ حکومت آئی ایم ایف کے مقرر کردہ کارکردگی معیار کے حصول میں ناکام رہی؛ تاہم آئی ایم ایف نے (Waiver)استثنا دے کر 556.9ارب ڈالر کی اگلی قسط جاری کر دی ہے۔ آئی ایم ایف جب کسی ملک کو بیرونی ادائیگی کے خسارے پر قابو پانے کے لیے قرض دیتا ہے تو اس کا اہم کام یہ ہوتا ہے کہ ایسے ملک کو صائب پالیسی مشورے دے اور عارضی مالی امداد مہیا کر کے سٹرکچرل توازن بحال کرنے اور مشکل پالیسی فیصلوں کی تکلیف کم کرنے میں مدد دے۔اس قسم کے پروگرام کے ساتھ سخت شرائط منسلک ہوتی ہیں۔2008ء میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو سٹینڈ بائی پروگرام کے تحت 11ارب ڈالر کا قرض دیا تھا‘جس کا بڑا حصہ پیشگی ادا کر دیا گیا تھا۔جب سابق حکومت سٹرکچرل ریفارمز پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی تو آئی ایم ایف نے سٹینڈ بائی پروگرام ختم کردیا تھا۔اس وقت تک پاکستان قرض کا بڑا حصہ حاصل کر چکا تھا اور نادہندگی سے بچنے کے لیے زرمبادلہ کے کافی ذخائر جمع ہو چکے تھے۔
2013ء کے الیکشن کے بعد ن لیگ کی حکومت اقتدار میں آئی تو آئی ایم ایف نے نئی حکومت کے ساتھ بھی نرم شرائط پر ای ایف ایف کے تحت قرض دینے کا معاہدہ کر لیا تاکہ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر جمع کر کے نادہندگی سے بچ سکے اور آئی ایم ایف کے قرض کی واپسی یقینی ہو سکے ۔یہ حکومت کے مفاد میں بھی تھا کہ وہ مشکل پالیسی فیصلے کیے بغیر نادہندگی سے بچ گئی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ ای ایف ایف پروگرام کے تحت سڑکچرل معاشی ریفارمز کے بغیر قرض کا معاہدہ کیا‘ جو پاکستان کوبیرونی ادائیگیوں کے بحران سے نکالنے کے لیے ضروری تھیں۔ آئی ایم ایف کے سٹاف نے جھوٹے اعداد و شمار کا سہارا لے کر ایگزیکٹو بورڈ کو ہر قسم کے استثنا کی سفارش کی جبکہ حکومت پروگرام کی کم سے کم شرائط پر عملدرآمد کرنے میں بھی ناکام رہی تھی۔ جب آئی ایم ایف سہ ماہی اہداف اور بنچ مارک کی تعمیل میں ناکامی پر بار بار استثنادیتا ہے تو اس بات کا خدشہ ہوتا ہے کہ جب آئی ایم ایف اپنے قرض کی واپسی یقینی بنانے کے بعد معاہدہ ختم کر دے گاتو معیشت کے انہدام کا حقیقی خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ آئی ایم ایف کے پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک کے خالص ملکی اثاثوں کا ہدف حاصل ہو سکا ہے اور نہ ہی زرمبادلہ کا ہدف جبکہ مالیاتی خسارہ بھی ہدف سے بڑھ گیا ہے۔کارکردگی کے ان تینوں معیارات کی تعمیل نہ ہونے کے باوجود آئی ایم ایف نے استثنادے دیا ہے۔ ان کے علاوہ سٹیٹ بینک کا خود مختاری دینے کے لیے قانون سازی کرنے کا سٹرکچرل بنچ مارک دیا گیا تھا۔اس کا مقصد قیمتوں میں استحکام پیدا کرنے کے لیے سٹیٹ بینک کے اندرونی کنٹرول فریم ورک کو مضبوط اور اچھی حکمرانی کو یقینی بنانا تھا۔اس سلسلے میں بھی کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔ آئی ایم ایف کے بورڈ کی میٹنگ کے بعد جو بیان جاری کیا گیا ہے اس میں کئی اعتراضات بھی پیش کئے گئے ہیں۔ 
معیشت میں پائے جانیوالے رجحانا ت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ کلیاتی معاشی مظاہر میں بہتری کے آثار ہیںلیکن معیشت کو ابھی خطرات درپیش ہیں۔معیشت میں جو کمزور سی بحالی نظر آ رہی ہے‘ اس کی حفاظت کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔مالیاتی پوزیشن کسی حد تک تسلی بخش ہے‘ لیکن ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنے اور ٹیکس جی ڈی پی تناسب میں اضافے کے لیے کی جانیوالی کوششوں کو جو دوچند کرنے کی ضرورت ہے ۔زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنے کے لیے کی جانیوالی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔ وہ جاری رہنی چاہئیں۔ ایکسچینج ریٹ کو مزید لچکدار بنانا ہو گا۔زری پالیسی کے ذریعے افراط زر پر قابو پانے کے لیے پالیسی ریٹ میں اضافہ کرنا ہو گا۔ ملک کا بینکنگ سیکٹر بڑی حد تک مستحکم اور نفع بخش ہے‘ لیکن چند بینکوں نے ابھی تک کم سے کم کیپٹل (Capital Adequacy)کی شرط پوری نہیں کی۔انہیں ایسا کرنے کا پابند بنایا جائے۔انرجی پالیسی ریفارمز پسندیدہ اقدام ہے تاہم پاور سیکٹر کے ریگولیٹری فریم ورک میں انتظامی رکاوٹوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے اور انرجی سیکٹر کی کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ حکومتی کنٹرول میں چلنے والے اداروں کو ری سٹر کچر کر کے ان کی کارکردگی میں بہتر لائی جائے ۔ تجارتی پالیسی اور کاروباری ماحول کو سازگار بنانے کے لیے جو کوششیں کی جا رہی ہیں انہیں جاری رکھا جائے۔ معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے ٹھوس اور نتیجہ خیز کارروائی کی ضرورت ہے۔ 
آئی ایم ایف کے پالیسی بیان میں جو زبان استعمال کی گئی ہے۔اس سے ایک عام آدمی بھی یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ یہ ایک قسم کی وارننگ ہے کہ ای ایف ایف پروگرام جاری رکھنے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے‘ ورنہ یہ پروگرام منسوخ کیا جا سکتا ہے۔اس پروگرام کا جاری رہنا حکومت کے مفاد میں ہے کیونکہ پاکستان آئی ایم ایف سے زرمبادلہ کی خطیر رقم مارکیٹ ریٹ سے کم نرخوں پر حاصل کر سکے گا۔اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔روپے کی قدر مستحکم رہے گی۔سرمایہ کاروں اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے لیے پاکستان کی معیشت کے مثبت پہلو اجاگر ہو سکیں گے‘ اگر کارکردگی کے معیار کے حصول میں ناکامی پر Waiversنہ دیا جاتا تو قرض کی قسط جاری نہ ہوتی یا آئی ایم ایف سے پاکستان کو فنڈز کی آمد ممکن نہ ہو تی۔ جو لوگ آئی ایم ایف بورڈ کے کام کرنے کے طریقے سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ معیشت کی کمزوریوں کو نظر انداز کر کے استثناترقی یافتہ ممالک کے ہمدردانہ رویے کی وجہ سے ہی دیے جاتے ہیں۔بہرحال یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حکومت کو ای ایف ایف پروگرام جاری رکھنے اور آئی ایم ایف سے فنڈز کی آمد کو یقینی بنانے کے لیے سخت محنت کرنا اور مشکل فیصلے لینا ہوں گے۔ 
حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ آئندہ استثنا کی رعایت کی ضرورت نہ پڑے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ترقی یافتہ ممالک بالخصوص یو ایس اے کی حمایت حاصل نہ ہوئی تو ایسی رعایت دستیاب نہیں ہو گی۔مطلوبہ اقدامات کی فہرست کافی لمبی ہے اور ان پر عملدرآمد بھی مشکل ہو گا۔مثال کے طور پر پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ پالیسی ریٹ کا تعین اس طرح کیا جائے کہ اس سے افراط زر کم کرنے میں مدد ملے اور ایکسچینج ریٹ کو مزید لچکدار بنا کر زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا جائے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ پالیسی ریٹ میں اضافہ کرنا ہو گا اور منڈی کی قوتوں کو کرنسی کی قدر کا تعین کرنے دیں‘ یعنی کرنسی کی قدر کم ہونے دیں۔ان اقدامات کے بارے میں حکومتی ہچکچاہٹ بالکل واضح ہے ۔مالیاتی محاذ پر آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کیا جائے اور ٹیکس جی ڈی پی تناسب میں اضافہ کیا جائے۔ ایس آر او کلچر ختم کر کے ٹیکس چھوٹیں اور رعایتیں ختم کی جائیں۔ 
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ حکومت ان اہم معاملات میں تذبذب کا شکار ہے۔دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ اور آئی ڈی پیز کی بحالی کے لیے مزید وسائل کی ضرورت ہو گی۔اس کے علاوہ حکومت سیاسی مقاصد کے لیے پروقار میگا پروجیکٹس اور دکھائی دینے والے منصوبے شروع کر رہی ہے‘ جبکہ سماجی سیکٹرز میں وسائل کی شدید ضرورت ہے۔بڑھتی ہوئی سیاسی مزاحمت کی وجہ سے مالیاتی محاذ پر مشکل فیصلے لینا حکومت کے لیے اور بھی دشوار ہو گیا ہے۔ان حالات میں ای ایف ایف پروگرام کا جاری رہنا خطرے میں ہے‘ اگر حکومت مالیاتی محاذ پر کوئی بڑا اقدام نہیں کرتی اور اپوزیشن معاشی اصلاحات کے لیے حکومت سے تعاون نہیں کرتی توہر کسی کو اس بات کا احساس ہے کہ یہ بہت ہی مشکل مرحلہ ہوگا۔ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے مشکل معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر سخت اقدامات پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں