سقوط ڈھاکہ:ایک ناقابل اندمال زخم

پاکستان کے دولخت ہونے کا تصور آج بھی میرے وجود کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے‘ہر سال سولہ دسمبر کا دن عجب بے چینی واضطراب اور ایسی ناقابل بیان صورتحال کا پرتو ہوتا ہے جس میں رہ رہ کر وجود کی عدم تکمیل اور کچھ کھو جانے کاخیال غالب رہتا ہے‘یوں محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ ہونے کے باوجود تشنگی کا احساس باقی ہے‘کوئی کمی ہے جو کسی کل چین نہیں لینے دیتی‘ایسا زخم ہے جو مندمل ہونے کا نام نہیں لیتا‘لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی دعوی کیا کرتے تھے کہ بھارتی افواج ان کی لاش پر سے گزر کر ہی ڈھاکا میں داخل ہوسکتی ہیں لیکن پھر اگلے ہی دن انہوں نے نہایت ذلت آمیز طریقے سے دشمن کی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے اور شکست تسلیم کرلی جنرل امیر عبداللہ نیازی کو پوری زندگی امت کی عزت و آبرو اپنے مکار دشمن کے سامنے گروی رکھنے کا کچھ افسوس نہ ہوا۔ بنگلہ دیش کے دورے پرمیں نے وہ پلٹن میدان بھی دیکھا جہاں ہماری افواج نے ہتھیار ڈالے یقین کیجیے جب میں وہاں کھڑا تھا تومجھے لگتا تھا کہ میرے جسم سے خون کا ایک ایک قطرہ نچوڑ لیا گیا ہو‘میرا دماغ ماؤف ہو چکا تھا‘میرے قدم لڑکھڑا رہے تھے‘مجھے نہیں پتہ کہ میں وہاں سے کیسے واپس آیا‘ملک کی تقسیم کو میں آج بھی ذہنی طور پر تسلیم نہیں کر پایا‘میری سمجھ میں نہیں آتا ہم نے ہتھیار کیوں ڈالے ؟ جنرل نیازی کی جانب سے سرنڈر کے اعلان کے باوجود مشرقی پاکستان کے مُختلف سیکٹرز میں بکھرے ہوئے ہمارے فوجیوں نے ہتھیار نہیں ڈالے تھے‘ اُنہوں نے شہادت تک مزاحمت جاری رکھی کیونکہ ہتھیار ڈالنا ان کیلئے سوہان روح تھا حالانکہ ان میں سے کسی کے پاس دو ٹینک تھے اور کسی کے پاس چار‘بعض جگہوں پر چھوٹے چھوٹے گروہوں میں جو فوجی رہ گئے تھے وہ آخر دم تک لڑتے رہے اور انہوں نے بزدلی کی موت پہ جرأت مندانہ شہادت کو ترجیح دی۔دوسری جانب پاکستانی افواج کے کمانڈر انچیف اور خود ساختہ صدر پاکستان جنرل یحییٰ خان نے اس ذلت آمیز شکست کو محض ایک خطے میں جنگ ہارنے سے تعبیر کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مغربی محاذ پر یہ جنگ جاری رہے گی اگلے روز ہی انہوں نے اعتراف شکست کرلیا۔ 1965ء کی جنگ میں لاہوریوں نے جنگ کو انجوائے کیا تھا اس کے برعکس 1971ء میں صورتحال کافی مختلف تھی،اس وقت میںیونیورسٹی میں بی ایس سی آنرز کا طالبعلم تھا‘اس جنگ میں ہماری حالت کافی خراب تھی‘ لوگ ڈپریشن کا شکار تھے ۔اگرچہ لاہو ر بارڈر اور اس علاقے سے ہماری فوج ہندوستان کے علاقے میں پیش قدمی کر چُکی تھی لیکن دوسرے علاقوں میں پاکستانی افواج کو مُشکلات کا سامنا تھا‘شکر گڑھ کا علاقہ ہمارے ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا‘بھارت کی فضائیہ نے لاہور پر متعدد فضائی حملے کیے تھے ۔جب جنگ شُروع ہوئی تو خبروں کا ذریعہ ریڈیو تھا۔میڈیا نہ جانے مسلسل یہ کیوں باور کرا رہا تھا کہ بھارتی و پاکستانی افواج کے درمیان فلاں فلاں سیکٹر میں گھمسان کا رن جاری ہے یہ خبریں لوگوں کی تسکین و امید کا سبب تھیں ۔پھرساری امیدیں ٹوٹ گئیں اور سسکیوں و آہوں نے ان کی جگہ لے لی‘ملک ٹوٹ جانے کی خبر نے پورے ملک پہ مرگ کی سی کیفیت طاری کر دی۔
مجھے یاد ہے میں پنجاب یونیورسٹی میں شُعبہ صحافت کی سیڑھیوں سے نیچے اتررہا تھا کہ مجھے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی سینئر وبزرگ پروفیسر محترمہ نسیم شوکت آتی دکھائی دیں وہ ساڑھی میں ملبوس تھیں‘عینک کے نیچے ان کی آنکھوں میں شبنم کے قطرے واضح دکھائی دے رہے تھے‘چہرے سے پژمردگی عیاں تھی‘یہ جاننے کے باوجود کہ میں ایک متحرک نظریاتی کارکن ہوں انہوں نے مجھے روکا اور کہا‘‘مغیث روتے کیوں نہیں ہو؟ رونے کا اور کونسا دن ہوگا؟ یہ ایسے کربناک دن تھے کہ ہرگھر نوحہ کناں تھا‘غم و اندوہ کی کیفیت تھی۔ ذہن یہ تسلیم کرنے پہ آمادہ ہی نہیں تھا کہ ملک ٹوٹ گیا ہے‘وہ لوگ زیادہ ملول و افسردہ تھے۔ جنہوں نے اپنے گھر بار چھوڑے اورکانٹوں پہ چل کر ہجرت کا سفر کیا تھا۔ زندگی کے اس سفر میںآج بھی جب سولہ دسمبر آتا ہے تو میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنی نسلوں کو اس دن کے بارے میں بتاؤں۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ یہ وہی مشرقی پاکستان تھا جس کے باسیوں نے تحریکِ پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھاپھر وہ کیا اسباب و علل تھے کہ وہ علیحدگی پہ مجبور ہو گئے ؟ ہمیں اس حقیقت سے سرمو انحراف نہیں کرنا چاہیے کہ ہم مفاداتی سیاست کی دلدل میں دھنس گئے تھے‘ ہماری لیڈر شپ ہوس کا شکار تھی‘ہم نے زیادتیاں کیں مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ پنجاب میں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا خواہاں تھا اس کا موقف تھا وہاں سیلاب بہت آتے ہیں۔ وہ ہمارے وسائل کھاجاتے ہیں۔کیا اب سیلاب نہیں آتے ؟ ہم اُن کے سیلابوں کو روتے تھے اب وہی سیلاب ہمارے ہاں آتے ہیں۔
میرازندگی میں جن حساس لمحات سے پالا پڑا ان میں بنگلہ دیش نامنظور تحریک بھی ہے ۔طلباء نے ‘‘بنگلہ دیش نامنظور'' تحریک شروع کر رکھی تھی‘ اس ملک گیر تحریک میں پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ نے اہم کردار ادا کیا کیو نکہ یہ بنیادی طور پر طلباء تحریک تھی جس کاہراول دستہ بھی طلباء ہی تھے جو عوام کی آواز بن کر سامنے آئے ،سقوط ڈھاکہ کے باعث سیاسی طور پر تناؤ تھا،ایک جمود طاری تھا‘حوصلے ٹوٹ چکے تھے‘سیاسی جماعتیں تو ویسے ہی عملی طور پر ختم ہو چُکی تھیں کیونکہ بھٹو صاحب اقتدار میں آچکے تھے ۔ طلباء کی ایک طاقت تھی،سٹوڈنٹ یونینز جو خاص طور پر پنجاب‘ کراچی اور صوبہ سندھ میں تھیں، اُن پہ اسلامی جمعیت طلباء کا کنٹرول تھا۔ پنجاب میں سٹوڈنٹ یونینوں کے جتنے بھی منتخب نمائندے تھے اُنہوں نے پنجاب سٹوڈنٹ کونسل تشکیل دی یہ کونسل طلباء کے منتخب عہدیداروں پر مُشتمل تھی۔ اُس میں سب سے اہم کردار اُس وقت پنجاب یونیورسٹی کے صدر جاوید ہاشمی کا تھا‘ یہیں سے جاوید ہاشمی کا عروج شروع ہوا‘جاوید ہاشمی بڑے دلیر آدمی تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا کے پاس STC کے لان میں کنونشن ہوا جس میں تمام طلباء لیڈرز اور باہر سے آئے ہوئے مہمانوں نے بھی شرکت کی ،کنونشن کے بعد تمام مہمان کیفے ٹیریا میں کھانا کھا رہے تھے کہ اطلاع ملی کہ کیمپس کو چاروں طرف سے پولیس نے گھیر لیا ہے‘پولیس اندر آئی طلبائ‘ کوٹرکوں میں بھر بھر کر لے جایا جاتا رہا‘جیلیں بھر دی گئیں مگربنگلہ دیش نامنظور تحریک جاری رہی۔ہم لوگ گرفتاری سے بچ گئے تھے ، ہمیں حکم تھا کہ کوئی بندہ گرفتاری پیش نہ کرے کیونکہ گرفتاری دینے والے خود تو جیل چلے جاتے ہیں اورتحریک سرد پڑ جاتی ہے ۔ ایک آدمی کی گرفتاری سے چار اورآدمی بھی مصروف ہوجاتے تھے‘ضمانتیں کرانے والے، مچلکے بھرنے والے ،جیل میں کپڑے و کھانا پہنچانے اوروکلاء سے رابطہ کرنے والے‘ اس لیے گرفتاری دینے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا۔کہاجاتا تھا کہ جیل جانا کوئی کمال نہیں بلکہ کمال یہ ہے کہ جیل جائے بغیرتحریک کو زندہ رکھا جائے‘ روزانہ کی بُنیاد پر ہنگامے ہوں، مظاہرے ہوں۔ان گرفتاریوں کے بعد بھی چالیس روز تک مظاہرے جاری رہے‘ روزانہ کیمپس میں مظاہروں اور بائیکاٹ سے لوگ تھک چکے تھے سوچتے تھے کہ اب کدھر جائیں گے‘کیا کریں گے۔ اُس وقت کی لیڈر شپ نے پولیس سے چھپنے کیلئے ایف سی کالج کے گراؤنڈ میں بیٹھ کر پریس کانفرنس کی‘ میں اورشعبہ صحافت کے میرے دوست حقداد علی خان جو بعد میں فوج میں میجر ہوئے ، ہم دو لوگ رہ گئے تھے اور نیوکیمپس میں بائیکاٹ کرانے کی ذمہ داری ہمیں سونپی گئی‘ہم بائیکاٹ کرانے کے لیے پہنچ جاتے‘گورنمنٹ سائنس کالج وحدت روڈ میں سٹوڈنت یونین کے صدرنوید صادق تھے ،میں اُن کے ساتھ کالج جاتا تھا۔ ایک بار وہاں دیوار پر کھڑا تقریر کر رہا تھا کہ ہمیں پتہ نہ چلا کہ کب پولیس آئی اور ہم گرفتار ہو گئے ۔بنگلہ دیش نامنظور تحریک کا خاتمہ بعد میں باعزت طریقے سے ہوا‘ بھٹو صاحب نے لیاقت باغ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کیا آپ چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش منظور ہو؟ جس پر لوگوں نے جواب دیا ''نہیں، نہیں، نہیں‘‘ تو وہ جذبات میں کہہ گئے کہ اگر آپ نہیں چاہتے تو میں بھی نہیں چاہتا،یہ بات سن کر طالب علم نمائندوں نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ چونکہ بھٹو نے خود کہا ہے لہذا ہم اس تحریک کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں یوںFace Saving کے طور پر یہ تحریک ختم ہوگئی بالکل اسی طرح جیسے عمران خان کے دھرنے میں بھیFace saving ہوئی تھی اس طرح ہم نے شُکر ادا کیا کہ ہمیں یہ موقع ملا کہ ہم اس تحریک کو ختم کر سکے ۔ 
مجھے دو بار بنگلہ دیش جانے کا اتفاق ہوا ایک بارجب میں شیرٹن ہوٹل سے روانہ ہونے لگا تو منتظمین نے مجھے سقوط ڈھاکہ پہ مشتمل کتابوں کا ایک سیٹ دیا جو پاکستانی فوج کے مظالم پہ مبنی تھیں۔ ان کتب میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تھاجو ان کی ایک منظم و مربوط حکمت عملی کا حصہ لگتا تھا ان میں صرف ایک ہی نکتہ نظر کو بیان کیا گیا تھا جبکہ حقیقی موقف کا فقدان دکھائی دیتا تھا جو ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے اور ہمیں اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
drmugheesuddin@yahoo.com

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں