اس کا ٹرائل ہوتا تو کہتا: ’’ میں گوروں کے تسلّط کے خلاف ہی نہیں لڑا ہوں، میں کالوں کے تسلّط کے خلاف بھی ہوں، میں تو ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لیے جدوجہد کررہا ہوں جہاں تمام طبقے برابری کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے رہ سکیں ،جہاں جمہوریت ہو، جہاں سب کے حقوق ایک جیسے ہوں، جہاں عام آدمی کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ اپنی مرضی کے نمائندوں کو ووٹ دے سکے۔ یہ وہ آئیڈیل ہے جس کے لیے میں جان بھی دے سکتا ہوں۔‘‘ نیلسن منڈیلا اس آئیڈیل کو سینے پر سجائے جنوبی افریقہ کی ظالم و جابر نسل پرست حکومت کے کارندوں، پولیس، فوج اور خفیہ والوں سے چھپتا چھپاتا، بھیس بدلتا، اپنے مشن کے حصول کے لیے سرگرداں رہا۔ عمر قید کی سزا پانے سے پہلے بھی وہ ضمیر کا قیدی بن کر مختلف شہروں، ملکوں اور جیلوں میں اپنے آئیڈیلز کی روشنی بکھیرتا رہا۔ بار بار جلا وطن ہوا، قید میں ڈالا گیا، جسمانی اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا لیکن اس پہاڑ جیسے عزم اور فولاد جیسی قوت ارادی کے حامل شخص کو خریدا جا سکا نہ اپنے موقف سے ہٹایا جاسکا۔ عمر قید کی سزا ہوئی تو اسے اذیتیں دینے کی غرض سے مختلف جیلوں میں رکھا گیا۔ 1964ء کی سردیوں میں اسے رابن آئی لینڈ کی بدنام زمانہ جیل میں پہنچا دیا گیا۔ جہاں اس نے مزید اٹھارہ سال گزارنا تھے۔ یہاں اسے ایک چھوٹا سا تنگ و تاریک سیل دیا گیا جس میں تاریخ بنانے والے نیلسن منڈیلا نے طویل بامشقت زندگی گزارنا تھی۔ مشقت بھی ایسی کہ ہاتھوں پائوں میں چھالے پڑ جاتے۔ پتھر اور چٹانیں توڑنا وہاں کے باسیوں کا معمول تھا۔ وہ اسے اندر سے توڑنا چاہتے تھے۔ اس کے خواب اور نظریئے کو پاش پاش کرنا چاہتے تھے لیکن وہ ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ مضبوط نکلا۔ ہر طلوع ہوتا سورج اس کے اندر ایک نئی توانائی پھونک جاتا اور ہر رات اس کے خواب کو اور روشن کر جاتی۔ اسے ہر چھ مہینے میں ایک بار خط لکھنے کی اجازت تھی اور صرف ایک ہی بار کسی کو اس سے ملاقات کی اجازت ملتی اور وہ بھی صرف تیس منٹ کے لیے۔ 80ء کی دہائی میں اس وقت کے سامراج نے اسے بہت ساری رعایتوں کی پیشکش کی۔ اس کے ساتھ ڈیل کرنے کی پیشکش کی لیکن اس نے ہر بار ان پیشکشوں کو ٹھکرا دیا۔ ان کی صرف ایک ہی شرط تھی کہ وہ اپنے موقف اور جدوجہد پر نظرثانی کے لیے تیار ہوجائے تو اس کو رہا کیا جاسکتا ہے لیکن ہر بار اس کا ایک ہی جواب تھا۔ ’’Negotiate‘‘ کرنا مجھے نہیں آتا۔ میں اپنے مقصد، موقف اور مشن سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا، خواہ اس کے لیے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔‘‘ نسل پرست حکومت یہ جواب سن کر اس پر اور اس کے اہل خانہ پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیتی۔ اس کی جماعت پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کی بیٹی لکھتی ہے۔ ’’میں اپنے باپ کے بغیر پرورش پاتی رہی اور جب میرا باپ واپس آیا تو وہ قوم کا باپ بن چکا تھا۔‘‘ 27سال جیل میں رہنے کے بعد نیلسن منڈیلا گیارہ فروری 1990ء کو جب اپنی سزا کاٹ کر رہا ہوا تو دنیا نے دیکھا کہ وہ کسی ڈیل، سمجھوتے یا مذاکرات کے نتیجے میں رہا نہیں ہوا بلکہ اس نے اپنے مقصد، موقف، آئیڈیل، نظریے اور خواب کی سچائی سے ایک جابر عہد کو شکست دی۔ اس نے ثابت کردیا کہ وقت انہی کا ساتھ دیتا ہے جو اپنے آئیڈیل کے ساتھے سچے ہوتے ہیں ،جو اپنے آدرش اور خواب کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی دولت ان کی قوم ہوتی ہے جس کو محفوظ رکھنے کے لیے انہیں کسی قسم کی ڈیل اور سمجھوتے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ پھر تاریخ نے دیکھا کہ وہی نیلسن منڈیلا اپنی قوم کا ہیرو اور ملک کا صدر بن جاتا ہے۔ اس کے مجسمے ملک کے تمام بڑے بڑے شہروں میں ایستادہ کر دیئے جاتے ہیں۔ دنیا اسے امن کے نوبل انعام سے نوازتی ہے۔ اپنے آئیڈیلز، نظریے اور جدوجہد کی سچائی اور طاقت کی روشنی ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کرنے والی قوتوں میں تقسیم کرنے والا یہ چراغ بظاہر شاید آب و تاب برقرار نہ رکھ سکے لیکن انصاف پسند اور انسان پسند سماج کے خدوخال واضح کرتا یہ چراغ ظلم، جبر اور آمریت کی آندھیوں اور ہوائوں کے سامنے تادیر روشن رہے گا۔ نیلسن منڈیلا نے اپنی جدوجہد اور کردار سے ایک تاریخ بنائی اور اپنے ملک اور قوم ہی نہیں پوری دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔ تاریخ اسے کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ تاریخ پاکستان کے حکمرانوں کو بھی دیکھ رہی ہے، جنہیں خدا نے ایک مرتبہ پھر اس ملک کی تقدیر بدلنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ دیکھنا ہے کہ کیا وہ اپنے آئیڈیلز پاکستان کے ساتھ منسلک کرتے ہیں یا اپنی ذات کے ساتھ۔ اس ملک اور قوم کو سامراج کے ہاتھوں مزید یرغمال بناتے ہیں یا انہیں ان سے نجات دلاتے ہیں۔سود خوروں، مہاجنوں، وڈیروں، جاگیرداروں، صنعت کاروں، ساہوکاروں، بھتہ خوروں، قبضہ گروپوں، لینڈ مافیا، پولیس اور دہشت گردوں کے ظلم کا طوق ان کی گردن کا طوق عوام کی گردنوں سے اتارتے ہیں یا نہیں۔ تاریخ ان قوتوں کو بھی دیکھ رہی ہے جو وقت کو اپنی مٹھی میں لینے کے لیے سب کچھ تاراج کر دینا چاہتے ہیں۔ دیکھتے ہیں وقت کس کے ساتھ رہتا ہے۔ تاریخ بنانے والوں کے ساتھ یا تاریخ مسخ کردینے والوں کے ساتھ۔ جناب نوازشریف اپنے آپ کو کس صف میں کھڑا کرتے ہیں ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ اصول اور نظریے کی خاطر جدوجہد کرنے والے امر ہوجاتے ہیں، نیلسن منڈیلا بن جاتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا کی وہ نظم پڑھیے جو اس نے رہائی کے وقت اہلِ وطن کے لیے لکھی تھی۔ کہو نا! سیاہ فام مائوں کے بیٹے بھی آدم کی اولاد ہیں۔ کہونا! ہمارے لیے جھونپڑوں اور کچے گھروں کی سکونت کی اندھی روایت کا الہام سچا نہیں ہے۔ کہونا! ہمارے عقیدوں میں کالک نہیں ہے اور غلامی ہمارا مقدر نہیں ہے۔ مسلسل غریبی ہمارے نصیبوں میں شامل نہیں ہے۔ کہونا! ہمارا خدا بھی ہے اور چمکدار سورج ہمارے سروں پر بھی چمکتا ہے۔ ہم لولے لنگڑے نہیں ہیں۔ اندھے بہرے نہیں ہیں۔ دو وقت کی روٹی کے لیے، گرم صحرائوں میں مویشی چراتے ہوئے یہ بچے بھی کسی ماں باپ کی اولاد ہیں۔ کہونا۔ اب چیھتڑوں میں چھپی ہوئی لڑکیوں کی جوانی کو خوابوں سے محروم رکھنا بڑا جرم ہے۔ کہونا! اب سرخ جسموں کی تکریم کا زمانہ پرانا ہوگیا۔ ہمیں اپنی کالی جسامت پر شرمساری نہیں ہے۔