مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے پروگریسو اور سول سوسائٹی کے لبرل دوست اخوان المسلمین کی جمہوری اور منتخب حکومت کا فوج کے ہاتھوں تختہ الٹے جانے کی مذمت نہیں کریں گے جس طرح وہ ڈرون حملوں میں بے گناہ مارے جانے والوں کے لیے ہمدردی کااظہار نہیں کرتے یا امریکہ کی مذمت نہیں کرتے۔ یہی سوال میں نے کینیڈا میں ہونے والی سائوتھ ایشین پیپلز یونٹی کانفرنس میں بھی اٹھایا تھا۔ بات صرف اتنی تھی اور ہے کہ لمحہ موجود میں وہ کون لوگ ہیں جو عملی طورپر استعمار کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔ ہماری دانشورانہ دیانتداری اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم کم ازکم بات تو کریں۔ غورو فکر تو کریں۔ سوچ اور فلسفہ ٔ حیات سے تو اختلافات کیا جاسکتا ہے لیکن کل میں سے کوئی ایک جز اگر درست کام کررہا ہے تو اسے تسلیم کرنے یا تحسین کرنے میں کیا حرج ہے۔ لیکن جواب ندارد۔ میں اپنی فکر میں پروگریسو دوستوں کے ساتھ ہونے کے باوجود سوچتا ہوں کہ تضادات کے ساتھ کب تک چلا جاسکتا ہے۔ کچھ المیے ایسے ہوتے ہیں جو ہر نظریاتی گروہ اور جماعت کے ساتھ چپک کر رہ جاتے ہیں۔ سول سوسائٹی کو چونکہ اپنا کاروبار حیات چلانے کے لیے زادراہ چاہیے ہوتا ہے لہٰذا وہ ایسے معاملات پر اپنے آپ کو بالکل الگ تھلگ رکھتی ہے۔ حالانکہ عافیہ صدیقی کا معاملہ تو اظہرمن الشمس ہے‘ کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ طاقتور کے آگے کون بول سکتا ہے؟ امریکہ آج کل پریشان ہے۔ امریکہ کے Federal Appropriation Law کے تحت اگر کسی ملک کی جمہوری حکومت کا تختہ فوج الٹ دیتی ہے تو امریکی حکومت اس قانون کے تحت اس ملک کو جاری ہونے والی فوجی اور معاشی امداد منقطع کرنے کی پابند ہے۔ امریکہ اس سے پہلے ماریطانیہ ، مالی، مڈغاسکر ، ہنڈوراس اور پاکستان کی فوجی اور معاشی امداد بند کرچکا ہے۔ پاکستان میں تو یہ امداد کئی مرتبہ بندہوچکی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے فوجی حکمرانوں کو جعلی انتخابات کروانا پڑے اور نیم جمہوری نظام لانا پڑا۔ ایوب خان بنیادی جمہوریت کانظام لایا۔ ضیاء الحق کو نہ چاہتے ہوئے بھی غیرجماعتی انتخابات کروانا پڑے اور پرویز مشرف کو بھی بادل ناخواستہ ق لیگ بنانا پڑی اور 2002ء کے الیکشن کرواکر نیم جمہوری سیٹ اپ بناکر اپنے آپ کو باوردی صدر رکھنا پڑا۔ اس وقت مصر کو دی جانے والی 1.3بلین ڈالر کی سالانہ امداد بھی خطرے میں ہے اور 250ملین ڈالر کی معاشی امداد بھی بند ہوجانے کا اندیشہ ہے‘ لیکن مشرق وسطیٰ میں چونکہ مصر اس کا سب سے بڑا حلیف ہے لہٰذا خطے میں امن کے نام پر‘ مصر کے عوام کی ترقی کے نام پر، انسانی حقوق کی بحالی کے نام پر یا پھر جمہوریت کی بحالی کے نام پر اپنے پسندیدہ لوگوں کو اقتدار میں لانے کے لیے امریکی صدر کانگریس سے اس پابندی کے لیے استثنیٰ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لکھنے والے جو مرضی لکھتے رہیں، تجزیہ نگار جوچاہے تجزیہ کرتے رہیں، توجیہات پیش کرتے رہیں‘ حقیقت یہی ہے کہ اخوان المسلمین کی حکومت اسرائیل کے لیے ایک بنیادی خطرہ تھی۔ تین دہائیوں کی آمریت کے بعد وجود میں آنے والی پہلی جمہوری حکومت کو فوج اور غیرجمہوری قوتوں نے دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ یہ غیر جمہوری قوتیں وقتی طورپر خاموش تو ہوگئی تھیں لیکن اندر ہی اندر جمہوری حکومت کو کمزور کرنے، ان کے مخالفین کو مضبوط کرنے اور سازشیں کرنے میں مصروف رہیں۔ آمریت کے پنجہ میں پروان چڑھنے والے سماج اور نظام کے لیے جمہوریت ایک بالکل نیا تجربہ تھا جس کے تقاضوں کو پورا کرنا، نزاکتوں کو سمجھنا اور چیلنجوں پر پورا اترنا ایک بالکل مختلف اور جداگانہ عمل ہے۔ ایسے حالات بہت دھیرے دھیرے چلنا ہوتا ہے۔ قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوتا ہے۔ ملکی اور غیرملکی اسٹیبلشمنٹ کی چالوں کو سمجھنا ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر غلطیاں کروائی جاتی ہیں۔ انہی لوگوں میں کئی ہمدرد ایسے بھی ہوتے ہیں جو جارحانہ پالیسیاں اپنانے پر زور دیتے ہیں اور دوسرے اداروں کو زیرنگیں رکھنے کے لیے ظل الٰہی بننے کی تلقین کرتے ہیں۔ مصر میں اسی طرح غلطیاں سرزد ہوئیں اور دوسری طاقتوں کو وار کرنے کا موقع مل گیا۔ کہنے والے کہتے رہیں کہ ایران کے ساتھ قربت، امریکہ اور سعودی عرب سے دوری، پہلے شام کی حمایت اور پھر شامی باغیوں کی حمایت نے مصرکو عالمی برادری میں تنہا کردیا تھا‘ امریکہ نے اپنی امداد روک لی تھی۔ پھر عرب ملکوں اور امارات نے اپنی حمایت ختم کردی۔ جب معاشی امداد ختم ہوجائے تو پھر اس کا بوجھ عوام پر پڑنا شروع ہوگیا۔ دراصل جس طاقت نے ایک طویل عرصہ تک ایک آمرکے ذریعے اپنے پالیسیوں کا تحفظ کیا وہ کیسے برداشت کرسکتی ہے کہ اس سرزمین پر اس کے ناپسندیدہ لوگ حکمران بن جائیں۔ وہ تو پہلے دن سے اپنی کٹھ پتلی حکومت لانے کے چکر میں تھے۔ یہ تو عوام تھے اور ان کے ووٹ تھے جنہوں نے ان کی نہ چلنے دی۔ اگر تھوڑا پیچھے جائیں تو حسنی مبارک کے زوال کے بعد وہاں کی فوج انتخابات کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی۔ انہوں نے اس مسئلے کو لٹکانے کی بہت کوشش کی لیکن التحریر سکوائر کے جلسوں نے انہیں مجبور کردیا کہ وہ انتخابات کروائیں۔ ایک بات بہرحال طے ہے کہ جن طاقتوں نے یہ کھیل کھیلا ہے انہیں کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ نہ تو فوج زیادہ دیر حکمرانی کرسکتی ہے اور نہ ان کی مرضی کے کٹھ پتلی حکمران اقتدار میںآسکتے ہیں۔ اخوان المسلمین نہ سہی، کوئی اور ہوگا جووہاں کے عوام کا مسیحا بن کر سامنے آجائے گا اور وہاں کے عوام کو بھی جلد یہ احساس ہوجائے گا کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے اور ہاتھ کرنے والے چہروں کی بھی انہیں شناخت ہوجائے گی۔ پاکستان اور مصر میں ہونے والے ان واقعات میں ایک مماثلت بہرحال پائی جاتی ہے کہ جس طرح مصر میں آنے والے فوجی انقلاب کی جامعہ ازہر نے توثیق کردی ہے اسی طرح پاکستان میں مذہبی طبقوں‘ مذہبی جماعتوں اور بڑی بڑی خانقاہوں نے ہمیشہ ہرفوجی انقلاب کو نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ انہیں ہرممکن مدد فراہم کی اور فائدے اٹھائے۔ جس طرح مصر کے فوجی انقلاب کو عدلیہ کی تائید حاصل ہوئی ہے اسی طرح پاکستان میں بھی 1999ء تک ہرفوجی آمر کو عدالتی تحفظ ملتا رہا۔ مثالیں اور تاریخ آپ کے سامنے ہے۔