ہمارے اندر کا بابو نگر

ایک طالبہ نے کسی تقریب میں اپنے ایک پسندیدہ سیاستدان سے عقیدت کے جوش سے کہا: ’’سر میں نے آپ کے بارے میں لوگوں سے اتنا کچھ سنا ہے، اتنا کچھ سنا ہے…‘‘سیاستدان نے بات کاٹتے ہوئے کہا :’’لیکن وہ لوگ ثابت نہیں کرسکتے۔‘‘ میں نے بھی حسین احمد شیرازی کے بارے میں خالد اقبال یاسر، سرفراز شاہد اور شبلی فراز سے بہت کچھ سن رکھا تھا لیکن انہوں نے اپنی تحریر سے ثابت کیا ہے کہ وہ ویسے ہی ہیں جیسا ان کے بارے میں سنا تھا۔ مجھے جب ’’بابونگر ‘‘ ملی تو اس کی ضخامت دیکھ کر ڈر گیا کہ اگر اسے پڑھنا پڑ گیا تو میرا کیا بنے گا؟ لیکن جب میں نے اسے پڑھنا شروع کیا تو اسے چھوڑنے کو دل نہ چاہا۔ کتابوں کی بھی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ کسی کتاب پرکسی نوجوان نے یوں تبصرہ کیا:’’اس کتاب کا پڑھنا کارعذاب، سمجھنا کار خراب اور خریدنا کار کذاب ہے البتہ پھاڑ دینا کار ثواب ہے۔‘‘ کارل مارکس کی کتاب کے بارے میں جب اس کی بیوی کے تاثرات دریافت کیے گئے تو اس نے جواب دیا کہ سرمائے سے متعلق اتنی بڑی کتاب لکھنے سے بہتر تھا کہ وہ کچھ سرمایہ ہی کما لیتا۔ حسین شیرازی کے پاس سب سے بڑا سرمایہ حرف کا سرمایہ ہے جسے وہ لے کر آج پڑھنے، سننے اور پرکھنے والوں کی عدالت میں موجود ہے۔ اس کی نثر میں شگفتگی تو ہے لیکن طنز کی کاٹ بھی اتنی تیز ہے کہ پڑھنے والا سوچنے پر مجبور ہوجاتاہے۔ فقروں کی کاٹ دیکھیے:’’ہمارے سنگین مسائل کا حل سنگین کی نوک سے ممکن ہے۔‘‘ ’’ایک مولوی صاحب دعا مانگ رہے تھے کہ اے اللہ ہمیں جیسے چاہے حکمران دینا بس ان کا تعلق ہمارے فرقے سے ہو۔‘‘’’بیشتر سرکاری ملازمین صبح یہ دعا خشوع و خضوع کے ساتھ مانگ کر آتے ہیں کہ خدایا! ہمیں آج کام کے عذاب سے بچانا۔‘‘ مجھے ’’بابو نگر‘‘ پڑھ کر ایک مرحوم دوست ذوالکفل بخاری یاد آگئے۔ مرحوم مجھے اکثر کہا کرتے کہ مجھے ملتان سے اسلام آباد ڈیپوٹیشن پر بلانے کی کوئی سبیل کرو۔ میں جب ان سے پوچھتا کہ کس محکمے میں کوشش کی جائے تو کہتے کہ محکمہ کوئی بھی ہو بس کام نہ کرنا پڑے۔ اسی طرح میرے ایم اے انگریزی کے استاد تھے جناب قمر الدین جنیدی ،ان کے ذمے ہمیں انگریزی شاعری پڑھانا تھا لیکن مہینے میں ایک یا دو دفعہ ہی کلاس میں آتے۔ ایک دفعہ صدر شعبہ نے انہیں کہا کہ آپ کالج تو آئے ہی ہوتے ہیں کلاس کیوں نہیں لیتے۔ بہت معصومیت سے کہنے لگے: میںنے اگر کام ہی کرنا ہوتا تو کوئی اور پیشہ اختیار کرتا۔ شیرازی صاحب نے اپنی ذہانت سے ایک طرف تو اس معاشرے کے دکھی دلوں کو مسکرانا سکھایا ہے تو دوسری طرف ایک دردمند لکھاری کی طرح سماجی، سیاسی اور قومی المیوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ وہ قومی اور سماجی معاملات پر اس طرح طنز کرتے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ پڑھنے والا انگلیاں دانتوں میں دبائے حیران و ششدر کھڑا سوچتا رہ جاتا ہے۔ جدید سنگا پور کے خالق لی کوانگ سے جب پاکستان کی ترقی کے لیے رہنمائی کا کہا گیا تو وہ بولے: ’’آپ کو کیا مشورہ دیا جاسکتا ہے کیونکہ جس قوم کے 95فیصد افراد کا فلسفۂ حیات یہ ہو کہ اصل زندگی موت کے بعد شروع ہوتی ہے اس سے دنیا کے بارے میں مشاورت کارِ لاحاصل ہے۔‘‘ سارتر نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ہمارے پاس کسی ادیب کو پرکھنے کا پیمانہ یہ ہے کہ جب تک اس کی تحریر پڑھ کرغصہ نہ آئے، نفرت پیدا نہ ہو، محبت کا جذبہ سامنے نہ آئے، بے چینی پیدا نہ ہو، ہنسی کا عنصر غالب نہ آئے، اداسی پیدا نہ ہو، اس وقت تک اسے کامیاب ادیب نہیں ثابت کیا جاسکتا۔ بابو نگر میں یہ سارے عناصر موجود ہیں۔ ایک طالب علم نے دوسرے سے کہا کہ تم ایم اے اردومیں داخلہ لے رہے ہو، آخر اس میں تمہیں کیا سکوپ نظر آیا ہے۔ جواب آیا :’’چالیس لڑکیاں ہیں اور صرف گیارہ لڑکے۔ اگر یہاں بھی سکوپ نہیں ہے تو پیارے دنیا میں کہیں بھی سکوپ نہیں ہوسکتا‘‘۔ بابو نگر پڑھنے میں سب سے بڑا سکوپ یہ ہے کہ انسان کو اپنے آپ پر ہنسنے کا موقع ملتا ہے جو آجکل بہت عنقا ہوچکا ہے۔ اردو ادب کا دامن معیاری ظریفانہ ادب سے خالی نہیں بلکہ یوں کہیے کہ معیاری ظریفانہ شاعری اور نثر نے اردو ادب کے دامن کو بہت ثروت مند کیا ہے۔ عصر حاضر میں شعر لکھنے والوں میں اگر انور مسعود، سرفراز شاہد، ڈاکٹر انعام الحق جاوید اورخالد مسعود جیسے درخشندہ ستارے موجود ہیں تو نثر لکھنے والوں میں مشتاق احمد یوسفی اور عطاء الحق قاسمی جیسے قد آور لکھاری بھی پوری آب و تاب کے ساتھ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ عمدہ اور معیاری مزاحیہ نثر لکھنے والے آجکل بہت ہی کم ہیں۔ حسین احمد شیرازی کا وجود ایسی صورت حال میں ایک غنیمت ہے۔ ویسے میرے خیال میں جس طرح مزاحیہ مشاعرے ہوتے ہیں اورمزاحیہ شعرا خوب کماتے ہیں اسی طرح ظریفانہ نثر لکھنے والوں کی بھی اسی طرح پذیرائی ہونی چاہیے اور انہیں بھی پیسے کمانے کے مواقع ملنے چاہئیں ۔لیکن یہ سب کچھ ’’مزاح الیون ‘‘کی مرضی اور سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا۔ آج کل مزاحیہ مشاعرے اس قدر کثرت سے ہورہے ہیں کہ عام آدمی کے نزدیک مشاعرے کا مطلب مزاحیہ مشاعرہ ہی ہوتا ہے۔ مئی کے آخر میں جب میں تین عدد مشاعرے پڑھ کر امریکہ سے لوٹ رہا تھا تو انہی دنوں مزاح کے صاحب طرز شعرا جناب انور مسعود اور یار جانی خالد مسعود امریکہ کی تقریباً نصف ریاستوں میں چیریٹی مشاعرے پڑھنے پہنچ رہے تھے۔ امریکہ سے واپسی پر جب میں نے خالد مسعود سے پوچھا کہ کتنا فائدہ ہوا توکہنے لگا یا ر گزارہ ہو ہی گیا ہے۔ نو دس ہزار ڈالر کیش تھا اور کچھ ہزار ڈالر کے تحائف تھے۔ تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ چیریٹی مشاعروں میں ایسے ہی ہوتا ہے۔ بندہ بول بھی نہیں سکتا۔ شیرازی صاحب اس حوالے سے کوئی تحریک چلائیں تو ہم ان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔ مشاعرے کے حوالے سے خوشامدی بابوئوں کے بارے میں شیرازی کی تحریر سے اقتباس دیکھیے: ’’سرکاری مشاعرے میں داد کی پریڈ کی نقل و حرکت کا دارومدار افسر اعلیٰ کے کاشن پر ہوتا ہے۔ ایک محفل میں پاکستانی موسیقی پر گفتگو ہورہی تھی۔ ظلِ الٰہی نے درباریوں کو اپنے ارشادات عالیہ سے نوازتے ہوئے فرمایا: نور جہاں کی آواز میں سر اور سوز کی کمی ہے ۔ جیسے اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا، میں اسے آخر ی لفظ ذرا لٹکا کے گانا چاہیے تھا۔‘‘حواری: ’’سبحان اللہ، واہ، واہ، سر ! پاکستانی موسیقی کے بارے میں اتنا پُر مغز تبصرہ میں نے پہلی بار سنا ہے۔ واقعی وہ بے استادی لگتی ہے۔ کاش آپ موسیقی کی لائن میں ہوتے تو اس وقت آپ کی شہرت کا ڈنکہ چار دانگ عالم بج رہا ہوتا‘‘ ۔اس پر ہمارے قریب بیٹھا درباری زیر لب بولا:’’اور ہماری جان چھوٹ گئی ہوتی۔ کاش اب ہی کوئی بچا دے‘‘ خواتین و حضرات! حسین احمد شیرازی نے جن بابوئوں کا تذکرہ کیا ہے وہ سب ہمارے اندر کہیںنہ کہیں موجود ہیں۔ یوں اس نے ہمیں اپنے اوپر قہقہے لگانے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ آئیے اپنے اندر موجود خاکی، روحانی، خوشامدی، ادبی اور سرکاری بابوئوں کو ڈھونڈیں اور ان پر کھل کر قہقہہ لگائیں۔ کیا خبر اسی سے ہمارے سماج کے اندر اعتدال، برداشت اور توازن پیدا ہوجائے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں