قفس کا دروازہ

اگر اپوزیشن کا کام بھی سپریم کورٹ کو ہی کرنا ہے تو اپوزیشن جماعتوں کو گھر بیٹھ جانا چاہیے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں جب حکومت عوامی مفاد کے خلاف اقدامات کرتی ہے یا ایسے فیصلے کرتی ہے جن سے عوام کی زندگی پر بوجھ پڑے‘ ان کے مفادات پر زد پڑے تو اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر آ جاتی ہیں۔ اسمبلیوں میں بیٹھنے والے شور کرتے ہیں‘ بائیکاٹ اور واک آئوٹ کرتے ہیں۔ اتحادی حکومت چھوڑنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ جلسے کرتے ہیں‘ جلوس نکالتے ہیں‘ دھرنا دیتے ہیں‘ ریلیاں نکالتے ہیں‘ میڈیا کو متحرک کرتے ہیں‘ ہڑتالیں کرواتے ہیں‘ پہیہ جام ہوتا ہے اور بالآخر حکومتِ وقت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ اسی لیے وزیر اطلاعات فرماتے ہیں کہ عوام کو یہ کڑوی گولی نگلنا پڑے گی اور وہ بجلی کے نرخ کم نہیں کریں گے۔ انہیں یقین ہے کہ عدلیہ بھی انہیں ایسا کرنے کی اجازت دے دے گی۔ حیرت ہے‘ عمران خان بھی پوری طاقت سے نہ بولے۔ پیپلز پارٹی تو مفاہمت کی پالیسی پر چل رہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قوم کو حکمرانوں کے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کی تفصیلات بتائی جاتیں۔ اپوزیشن جماعتیں اسمبلی میں معاہدے کی کاپی منگواتیں اور ان پر بحث ہوتی لیکن کسی نے بھی کچھ نہ کیا۔ بالآخر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا پڑا۔ لیکن دورانِ سماعت ہی حکومت کہتی رہی کہ ہم بجلی کی قیمت کم نہیں کریں گے۔ سابق حکومت کی کرپشن‘ لوڈشیڈنگ کے بحران‘ مہنگائی اور جبری حکمرانی سے تنگ آئے ہوئے لوگوں نے کیا یہی دن دیکھنے کے لیے اس جماعت کو ووٹ دیئے تھے؟ کیا اس قوم کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ جان سکے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کن شرائط پر ہوا تھا اور عالمی ادارہ کن شرائط پر قرضہ دینے پر آمادہ ہوا تھا؟ بخدا یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ یہ محض سراب ہے۔ یہ وہ تریاق نہیں جو ہمارے امراض کا علاج کر سکے۔ ہمارے رِستے ہوئے زخموں کا منہ بند کر سکے۔ یہ قرضہ ہمارے ٹوٹے ہوئے خوابوں‘ شکستہ آرزوئوں اور دھول ہوتے آدرشوں کو دوبارہ زندگی اور توانائی نہیں بخش سکتا‘ یہ اس بے چہرگی میں وہ چہرہ عطا نہیں کر سکتا جو اس قوم کو خودداری‘ خودی‘ عزت‘ خودمختاری اور آزادی دوبارہ لوٹا دے۔ کیا اس حکومت میں کوئی بھی ایسا نہیں جس میں ایسا وژن اور صلاحیت ہو جو قوموں کے سفینے کو طوفانوں سے نکال کر ساحلوں کی خوش خرام ہوائوں سے آشنا کرتی ہے‘ جو پہاڑ جیسے حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے‘ جو بڑے مسائل اور بحرانوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے منصوبہ بندی کا ہنر سکھاتی ہے‘ جو قوموں کو پژمردگی‘ شکست خوردگی‘ مایوسی اور غم و اندوہ سے نکال کر اس کے اندر نئے خواب‘ توانائی اورقوت پھونک دیتی ہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ محض عارضی انجکشن ہے جو سانسوں کو وقتی طور پر سانس بحال کرنے کی مشق ہے۔ یہ محض اشک شوئی ہے‘ لیپا پوتی ہے‘ ایڈہاک ازم ہے۔ یہ وہ نیا جال ہے جس میں پھنسانے کے لیے پرانے شکاری ایک مرتبہ پھر اکٹھے ہو گئے ہیں۔ کیا ہمارے منصوبہ سازوں اور اہلِ اقتدار کے پاس اتنی بھی نظر نہیں کہ انہیں یہ جال نظر آ جائے۔ انور مسعود یاد آتے ہیں ؎ کھلا اک اور قفس میں قفس کا دروازہ اک اور قید کی تمہید تھی رہائی بھی اور نثار ناسک کو بھی سُن لیں: مجھ کو آزادی ملی بھی تو کچھ ایسے ناسکؔ جیسے کمرے سے کوئی صحن میں پنجرہ رکھ دے عالمی سامراجی اداروں کی شرائط پر تیار کی جانے والی معاشی پالیسیاں گزشتہ 66 سالوں سے اس ملک میں بنتی چلی آ رہی ہیں لیکن آج تک کوئی پالیسی معیشت کو مستحکم کرنے کا باعث نہیں بن سکی بلکہ ان پالیسیوں نے ہمیں اس قدر بھکاری بنا دیا ہے کہ خیرات مانگنا ہمارا طرۂ امتیاز بن چکا ہے۔ حیرت ہے‘ ان لوگوں کو احساس تک نہیں ہوتا کہ انہوں نے ایک ایٹمی قوت کو بھکاری بنا دیا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سرمائے کی معیشت کا صرف ایک ہی اصول ہے اور وہ ہے نفع اندوزی۔ وہ غربت اور بیماری کو ختم کرنے اور بنیادی انسانی ضروریات اور حقوق کے لیے چلائی جانے والی مہمات میں سے بھی منافع حاصل کرنا اپنی پہلی ترجیح قرار دیتی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس نے بنیادی حقوق اور جذبات تک کو بازار میں بکنے والی جنس میں تبدیل کردیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا میں جہاں بھی قحط آتا ہے‘ تباہی اور بربادی سر اٹھاتی ہے‘ وبائیں اور بیماریاں پھوٹتی ہیں‘ خانہ جنگی ہوتی ہے‘ اس کے پیچھے مارکیٹ اکانومی کام کر رہی ہوتی ہے۔ امداد اور قرضے غربت دور کرنے اور بحرانوں سے نکلنے کے لیے نہیں جاری کیے جاتے بلکہ کلچر اور ذہنیت تبدیل کرنے اور زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔ غریب اور ترقی پذیر ممالک میں بحران اچانک نہیں آتے بلکہ یہ منڈی کی معیشت کے سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ یہ منصوبہ ساز پہلے بحران پیدا کرتے ہیں‘ پھر امدادی چیمپئن کے طور پر رِنگ میں اتر آتے ہیں۔ سرمائے کی اس سامراجی معیشت کے ایجنٹ ہر ملک میں موجود ہوتے ہیں جو فوراً حرکت میں آ کر اپنے ایجنٹ اداروں کے ذریعے قرضوں کا ایسا جال بچھا دیتے ہیں جو اس قوم کی آنے والی نسلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ ہم نے جس سرمائے کے نظام میں پناہ لینے کی کوشش کی‘ اسی نے ہمیں اندر سے چاٹ لیا۔ اب تو اس نظام کے اندر پلنے والے تضادات اس خوفناک حد تک باہر آ رہے ہیں کہ انہوں نے خود امریکی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ناانصافی‘ عدم مساوات اور استحصال پر مبنی اس معاشی نظام میں وہ اہلیت ہی نہیں جو ہمارے دکھوں کا مداوا کر سکے۔ لیکن چونکہ ہمارے اندر ملک کے بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے لہٰذا معیشت ہو یا دہشت گردی‘ ہمارے فیصلے وہی کریں گے جن سے ہم قرضہ لیں گے‘ حکمرانوں اور چہروں کے بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں