واشنگٹن سے کُوچ

واشنگٹن کی سرد ہوائوں میں وزیراعظم نوازشریف اپنا دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ چکے ہیں لیکن اپنے پیچھے بہت ساری باتیں اور تاثرات چھوڑ گئے ہیں۔ یہ باتیں اور تاثرات آپس کی ملاقاتوں ، چائے خانوں ، ڈرائنگ روم گپ شپ، مقامی اخبارات کے اداریوں ، تجزیوں اور کالموں ، ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز، غیر ملکی اخبارات اور رسائل کا پسندیدہ موضوع بن چکے ہیں۔ سب سے زیادہ تبصرے امریکی پاکستانیوں کی جانب سے سامنے آرہے ہیں۔ ان تبصروں میں دکھ اور ندامت کا عنصر غالب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے وزیراعظم نے صدر اوباما کے سامنے اعتماد کا مظاہرہ نہیں کیا۔ وہ ان کے سامنے مرعوب ہوکر بیٹھے رہے اور اپنا بیان لکھے ہوئے کاغذوں سے پڑھ کر سنایا۔ ان کے خیال میں وزیراعظم کو اب تک اتنی انگریزی تو آجانی چاہیے کہ وہ چند فقرے اعتماد کے ساتھ انگریزی میں بول سکیں۔ یہاں کے اخبارات لکھ رہے ہیں کہ پورے دورے کے دوران وزیراعظم پریشان اور اعتماد سے خالی دکھائی دے رہے تھے، ایک نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔ ہمیں ایک دبنگ قسم کا سربراہ چاہیے جو دوسروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکے۔ اس دورے کے دوران اور خارجہ کمیٹی کے اراکین اور اعلیٰ سطح کے سلامتی سے متعلق عہدیداروں سے ملاقات کے دوران بھی وزیراعظم کی ٹیم کو ٹف ٹائم ملا۔امور خارجہ کمیٹی کے ساتھ ملاقات میں سب سے زیادہ سخت سوالات ری پبلکن سینیٹرز نے کیے۔ اس کا بھی ایک پس منظر ہے۔ ری پبلیکنز آج کل ہر وہ کام کررہے ہیں جس سے صدر اوباما مشکل صورت حال سے دوچار ہوجائیں۔ چونکہ صدر اوباما کا رویہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تھا اورسٹریٹجک پارٹنر شپ کی باتیں ہورہی تھیں ، ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کیے جارہے تھے اور فوجی اور معاشی امداد جاری کردی گئی تھی لہٰذا یہ سب کچھ ان کے لیے ناقابل قبول تھا۔ یہ رویہ بالکل اسی طرح تھا جس طرح انہوں نے ہیلتھ انشورنس بل اور معاشی شٹ ڈائون کے موقع پر دکھایا تھا ۔صدر اوباما امریکی نظام کے تحت ملک کے صدر کے عہدے پر تو فائز ہوگئے ہیں لیکن سیاہ فام نسل سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں آج تک قبول نہیں کیاگیا۔ ان سینیٹرز نے شکیل آفریدی ، حافظ سعید ، جماعت الدعوۃ اور سرحد کے آر پار دہشت گردی کے حوالے سے سخت موقف اپنایا۔ دورے کے اختتام پر پاکستان اور افغانستان امور سے متعلق خصوصی امریکی مشیر جیمز ڈابنز سے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں مفصل ملاقات کا موقع مل گیا۔ میں نے جب پوچھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور شکیل آفریدی کے حوالے سے کیا بات ہوئی تو اس پر انہوں نے کہا کہ آپ کی طرف سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ اٹھایا گیا جو ہم نے سن لیا ،ہماری طرف سے شکیل آفریدی کی حوالگی کا ایشو اٹھایا گیا جوآپ کے وزیراعظم کے وفد نے سنا۔ کسی بھی ایشو پر بات آگے نہ بڑھ سکی۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء میں امریکہ افغانستان سے اپنی افواج جزوی طور پر نکالے گا اور اپنی موجودگی برقرار رکھے گا اور افغانستان کے ساتھ سکیورٹی ڈیل کسی ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ امریکہ چاہتا ہے کہ افغان افواج اور سکیورٹی کے اداروں کو اس قابل بنادیا جائے کہ وہ اپنی حفاظت اور دفاع خود کرسکیں۔ ایک سوال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن وامان کی صورت حال پاکستان سے زیادہ خراب تو نہیں۔ پاکستان میں امن وامان کی حالت زیادہ خراب ہے ،جب تک یہ بہتر نہیں ہوگی سرمایہ کاری اور تجارت کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہیں گے۔ واشنگٹن میں گلوبل لیڈر شپ پروگرام میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہمفری (Humphrey)سکالرز آئے ہوئے ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے شدید دکھ کا اظہار کیا کہ ہمیں ملنے کوئی پاکستانی رہنما یا پاکستانی ایمبیسی کا کوئی سینئر افسر نہیں آیا جبکہ گروپ میں موجود بھارتی اور دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے نوجوان سکالرز سے ملنے روز ایمبیسی کا کوئی نہ کوئی نمائندہ آیا ہوتا ہے حالانکہ اس گروپ میں35 پاکستانی شامل ہیں اور یہ تعدا دمیں سب سے زیادہ ہیں۔ یہ سب کے سب میرٹ پر منتخب ہوکر آئے ہیں۔ پاکستان وومن کونسل امریکہ نے اپنے سالانہ پروگرام میں خاتون اول بیگم کلثوم نواز کو مدعو کررکھا تھا لیکن وہ عین آخری وقت پر نہ گئیں جس سے منتظمین اور حاضرین کو شدید دکھ ہوا۔ وزیراعظم کے چہرے پر مسلسل پریشانی اور سنجیدگی کسی بھی طورپر قابل تعریف نہیں ہے۔ مانا کہ مسائل کا ایک پہاڑ ہے جس کا سامنا نوازشریف حکومت کو کرنا پڑرہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خود پریشان ہوکر قوم کا مورال گرا دیاجائے۔ قوم کا سردار اور فوج کا سپہ سالار اگر ہمت ہار دے تو بس کہانی ختم ہوجاتی ہے اور قومیں سازوسامان اور اسلحہ ہونے کے باوجود جنگ نہیں کرسکتیں۔ نوازشریف صاحب کو قوم کا مورال بلند رکھنا چاہیے سخت فیصلے بھی کرنے ہیں تو قوم کو اعتماد میں لیں ،تدبیر اور حکمت عملی ہی اصل دانشمندی ہے جس کا وزیراعظم کی ٹیم میں فقدان ہے کیا پرانے آزمائے ہوئے چہروں سے جان چھوٹ سکتی ہے؟ اس دوران اگر مجھے خوبصورت شاعر اور دوست فیاض الدین صائب کی رفاقت میسر نہ آتی تو واشنگٹن کی شامیں بلکہ راتیں کاٹ کھانے کو دوڑتیں ۔اسی کی بدولت وہاں میرے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیاگیا جس میں وہاں کے ادیبوں سے ملاقات ہوگئی۔ اس تقریب کے انعقاد میں مونا شہاب اور ڈاکٹر غزالہ پیش پیش تھیں۔ یہ دونوں خوبصورت شعرتو کہتی ہی ہیں ادبی لحاظ سے بھی بہت فعال ہیں۔میں ہوسٹن میں APPNA کے مشاعرے میں شرکت کرکے نیویارک پہنچ چکا ہوں۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں