پتلی تماشا

میں نے سوچا تھا کہ میں بھی لکھوں اس تماشے پر جو ایک مرتبہ پھر ملک میں لگنے جا رہا تھا۔ اس بدنمامنظر نے بہت دفعہ سماج اور تاریخ کے آئینے کو مسخ کیا۔ کتنی ہی دفعہ اس عفریت نے سیاسی اور سماجی بُنت کو اُدھیڑا۔ چہرہ لہولہان کیا،خود مختاری اور آزادی کی قبائوں کو تار تار کیا۔ عزتِ نفس کی دستار کو سرِ بازار پائوں تلے روند ااور کتنی ہی دفعہ قوم کو دنیا بھر میں مرکز تمسخر و حقارت بنا کر لاکھڑا کیا۔ اب تو کان پک چکے ہیں اور گِھن آنے لگی ہے اِن دعوئوں سے کہ اس ملک کی پارلیمنٹ سپریم ہے‘ یہ قوم خود مختار ہے۔ ان نعروں اور بڑھکوں سے خوف آنے لگا ہے جو ہر دم ہمیں آزاد قوم ہونے پر فخر کرنے کا درس دیتی ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ ان سیاستدانوں ‘نام نہاد مذہبی رہنمائوں‘فوجیوں اور دانشوروں سے چیخ چیخ کر کہوں کہ اب یہ تماشا بند کر دو۔ خود مختاری اور آزادی کے لالی پاپ دینے کا سلسلہ ختم کر دو کہ تم خود مختار ہو نہ آزاد۔قوم کے ساتھ یہ مذاق کیوں کرتے ہو۔ کیوں مسلسل جھوٹ بول رہے ہو۔جس کو اقتدار سمجھ کر لیے بیٹھے ہو یہ محض سراب ہے۔ جسے تم جمہوریت سمجھ رہے ہو یہ تو ایک گمان ہے۔ جن اداروں کو تم اپنے ماتحت سمجھ بیٹھے ہو وہ ہرگز تمہارے تابع نہیں ہیں۔ تم تو ایک چہرہ ہو جسے تماشا لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تم تو وہ پتلی ہو جسے پتلی تماشا کرنے والے جب اور جیسے چاہیں اپنے اشاروں پر حرکت میں لاتے ہیں۔ چونکہ تمہاری ڈور ان کے ہاتھ میں ہے لہٰذا وہ جب چاہیں تمہیں استعمال کر لیتے ہیں اور جب جب چاہیں پورے تماشے کو ہی لپیٹ کر لے جاتے ہیں۔ پھر تم دیکھتے رہ جاتے ہو کہ یہ سب کیا ہوا۔حالانکہ تمہیں پتہ ہے کہ تماشا کرنے والے ہی تمہیں لائے ہیں اور وہی تمہیں اپنے اشاروں پر نچانے اور تماشا سمیٹنے پر قادر ہیں۔
تم تو اپنے ہدایت کار یا آقا بدلنے پر بھی قادر نہیں۔ وہی ہدایت کار اور وہی آقا۔ بس شکلیں بدلتی ہیں۔ منظر تبدیل ہوتے ہیں لیکن مجموعی طور 
پر زمان و مکاںکی ترتیب وہی رہتی ہے‘ طریقِ کار وہی رہتا ہے۔ زمانے کے انداز بھی وہی ہوتے ہیں۔ نعرے‘ دعوے‘ تقریریں اور بیانات بھی تبدیل نہیں ہوتے۔ ہاں وقت اور مہرہ تبدیل ہو جاتا ہے۔تبدیل کرنے کا معیار بھی بنیادی اور جوہری طور پر ایک جیسا ہے جو بنیادی شرائط پر پُورا اترتا ہے وہ میدان میں رہتا ہے باقی آہستہ آہستہ تبدیل ہو جاتے یا مار دیے جاتے ہیں۔ کیا ایبٹ آباد آپریشن‘ریمنڈ ڈیوس اور پرویز مشرف کے معاملے میں ایک مرتبہ پھر تمہیں نہیں بتا دیا گیا کہ تم کتنے با اختیار ہو۔ تم کتنے خود مختار ہو۔ کیا اب بھی قوم کے ساتھ جھوٹ بولو گے کہ پرویز مشرف کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔ کیا یہ سب ڈرامہ نہیں تھا؟ سب کچھ طے نہیں تھا؟ تم لوگ اپنی Face Savingچاہتے تھے اور وہ اپنے بندے کو بچانا۔ تم دونوں کا مسئلہ حل ہو گیا۔ پرویز مشرف کا پہلے میڈیا کے ذریعے عالمی طاقتوں اور فوج کو مدد کے لیے پکارنا۔ اس کے قافلے کا عدالت کی بجائے اچانک فوجی ہسپتال کو موڑ دیا جانا‘ صہبا مشرف کا پہلے سے ہی ہسپتال پہنچ جانا‘ میڈیکل بورڈ بن جانا‘ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے دوستوں کا پاکستان آنا اور حکومت کی معنی خیز خاموشی۔ کیا یہ سب کچھ طے شدہ منصوبے اور ڈرامے کا حصہ نہیں تھا۔
منصوبے کے تحت اب میڈیکل بورڈ پرویز مشرف کا علاج ملک سے باہر تجویز کرے گا۔ رپورٹس عدالتوں میں پیش کی جائیں گی اور عدالت‘جی ہاں آزاد عدالت اسے باہر جانے کی اجازت دے دے گی۔ بعض بیرونی دوستوں کے آنے پر معاہدہ پر دستخط کر دیے جائیں گے کہ یہ اتنا عرصہ ملک سے باہر رہیں گے۔ اتنے عرصے تک سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ کوئی سیاسی بیان جاری نہیں کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ تم قوم کو کہتے رہو گے کہ پرویز مشرف کے معاملے میں ہم نے عدالتوں کا فیصلہ مانا ہے۔ ہماری ان سے کوئی ذاتی ناراضگی نہیں ہے۔ ہم نے تو انہیں معاف کر دیا ہے یوں یہ قصہ بھی پاک ہو جائے گا۔ میڈیا میں لگا سرکس بھی اکھڑ جائے گا۔ٹاک شوز پر ہونے والی سماعت کُش بحث رفتہ رفتہ کسی اور ڈرامے کی جانب موڑ دی جائے گی۔ فرقہ وارانہ فسادات کی جانب یا طالبان کے ساتھ مذاکرات کی طرف۔ انتخابی دھاندلیوں کی جانب یا کراچی آپریشن کی طرف‘الطاف بھائی کی تقریر کی طرف یا بلدیاتی انتخابات کی جانب‘ طاہر القادری کی تحریک کی جانب یا علماء کے قتل کی طرف۔ کسی بھی ٹاک شو پر یہ مسئلہ زیر بحث نہیں آئے گا کہ اس ملک کے منتخب حکمرانوں کے پاس اختیار کیوں نہیں؟اصل طاقت کس کے پاس ہے؟اس ڈرامے کا اصل مقصد اور محرک کون تھا؟ہم اقتدار‘اختیار اور خود مختاری کے دعوے کیوں کرتے ہیں؟ہماری خود مختاری کی ڈور کس کے پاس ہے؟ہماری خود مختاری کی حُدود کیا ہیں۔ یہ اندرونی اور عالمی بااختیار قوتیں کون ہوتی ہیں؟ہمارے ملک کے نام نہاد حکمرانوں کو کون سی مجبوریاں لاحق ہیں۔ یہ کتنے بااختیار ہیں اور کتنے بے بس۔ خود میڈیا کتنا آزاد ہے اور کتنا اپنے ہی مفادات اور مجبوریوں کا اسیر۔سو،ملک کے پیارے لوگو!جو کچھ تمہیں نظر آ رہا ہے اسے حقیقت نہ سمجھ بیٹھنا۔ یہ نعرے‘دعوے‘ تقریریں ‘ بیانات‘ ٹاک شوز وغیرہ محض تمہارے کتھارسس کے لیے ہیں۔ تمہارے اندر کو مطمئن اور آسودہ کرنے کے لیے ہے۔ تمہیں خاموشی اور طمانیت کی نیند سلانے کے لیے ہے۔ تمہارا وقت گزارنے کے لیے ہے۔ تمہارے دھیان کو کہیں اور لگانے کے لیے ہے۔ تم نے جن کو ووٹ دیے ہیں اور اقتدار کی راہداریوں میں بھیجا ہے وہ بااختیار نہیں ۔ وہ صرف نمائشی طور پر سامنے ہیں ۔ اصل میں کچھ اور ہے۔ کوئی اور ہے جو تمہارے خوابوں‘قسمتوں آرزوئوں اور زندگی پر قادر ہے۔
سو امن اور سکون سے بیٹھو۔ شانتی رکھو۔ اپنا خون ان معاملات میں نہ جلائو۔ ایک دو دن کی تو بات ہے۔ پرویز مشرف ملک سے باہر بھیج دیے جائیں گے ۔ اور اس کے بعد کوئی اور ایشو آ جائے گا تمہاری ظرافت طبع کا سامان لیے۔تم تماشائی بنو یا تماشے کا حصہ۔ تمہارے پاس تو اتنا اختیار بھی نہیں۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں