''کیا مسلسل لکھتے چلے جانے کا کوئی فائدہ ہے؟ کیا اس سے سماج یا زندگی میں کوئی جوہری تبدیلی رونما ہو سکے گی؟‘‘ میں نے راول ڈیم کے ساتھ لمبے ٹریک پر چلتے ہوئے شاہ جی سے پوچھا۔ ''دیکھو! لفظ بہت عجیب چیز ہوتے ہیں۔ ان کی اپنی Dynamics اور دنیائیں ہوتی ہیں‘‘۔ شاہ جی نے اپنے لمبے کوٹ کے چوڑے مفلر نما حصے کو کانوں کے گرد لپیٹا اور اپنی رفتار آہستہ کردی۔ ''یہ ضروری نہیں ہوتا کہ لکھے ہوئے لفظ سے کوئی انقلاب برپا ہو جائے‘ کوئی بہت بڑی تبدیلی رونما ہو جائے یا زندگی پہلے سے بہتر ہو جائے لیکن اگر اس سے ذہن کے بیرونی دروازے پر ہلکی سی دستک ہو جائے ، کسی سوچ کی زیریں لہروں میں ہلکا سا ارتعاش پیدا ہو جائے، کسی مایوس دل کے حُجرے میں کوئی آس کا دیا جل اٹھے ، کسی شب کے کسی پہر کسی آنکھ میں نمی تیرنے لگ جائے ، کوئی امید کا ستارہ جگمگانے لگے‘ کہیں جینے کی آرزو اور تڑپ پیدا ہو جائے‘ کہیں سوالات پیدا ہوں‘ کہیں مکالمہ شروع ہو جائے‘ کہیں اختلاف کے پہلو نکلنے لگ جائیں‘ کہیں کسی آنکھ میں خواب اُگ آئیں‘ کہیں تعبیر کے پہلو نکل آئیں‘ کہیں زندگی کا سراغ مل جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ لکھا ہوا لفظ اکارت نہیں گیا‘‘۔
''یہ سب کچھ جاننے کا پیمانہ کیا ہے؟ یا یوں کہہ لیں کہ کیسے پتہ چلے گا کہ ان چیزوں میں سے کچھ ہو رہا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ''دیکھو! لفظ لکھنا اور بات ہے اور ان لفظوں کا دوسروں تک پہنچنا بالکل جداگانہ عمل ہے اور لفظوں کے اندر تاثیر کا پیدا ہونا بالکل ایک مختلف چیز ہے‘‘۔ شاہ جی چلتے چلتے اچانک رُک گئے اور میری طرف منہ کر کے بولے ''کبھی ہم نے اس دوڑتی بھاگتی‘ ہانپی کانپتی زندگی کے ہنگاموں میں لمحہ بھر کو رُک کر اس بات پر غور کیا ہے کہ چند لوگوں کو زیادہ کیوں پڑھا جاتا ہے؟ زیادہ کیوں سنا جاتا ہے؟ حالانکہ ایک وقت میں ہزاروں لوگ لکھ رہے ہوتے ہیں، بول رہے ہوتے ہیں۔ ان میں شاعر ہیں‘ ادیب ہیں‘ کالم نگار ہیں‘ اینکر پرسن ہیں‘ علمائے کرام ہیں‘ گلوکار ہیں۔ ان میں سے کتنے ایسے ہیں جن کا لکھا ہوا اور بولا ہوا لفظ ضائع جا رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ اچھا لفظ تخلیق نہیں کر رہے یا اچھا بول نہیں رہے۔ لیکن ان ہزاروں میں سے چند کو ہی کیوں پڑھا اور سنا جاتا ہے؟‘‘۔۔۔ ''اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘ میں نے دھند کی چادر کو ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے انہیں دیکھا اور پوچھا۔ ''اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے لکھے ہوئے لفظوں اور بولے ہوئے حروف کو قبولیت مل رہی ہے، ان میں تاثیر پیدا ہو رہی ہے اور وہ دوسروں تک پہنچ رہے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے لفظوں میں وہ برکت نہیں، لہٰذا وہ دوسروں تک نہیں پہنچ رہے، وہ بے برکتی کی دھند میں کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک عجیب و غریب عمل ہے ، ایک پُراسرار رہگذر ہے‘‘۔ ''پھر کیا کیا جائے؟ سماج تو ایسا ہی ہے۔ نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط ذہن و دانش اور عمل کی ہر سطح جمود کا شکارہے‘‘۔ مجھے زیادہ بولنے کا موقع مل گیا۔ ''ایسے سماج میں آج بھی رجعت پسند قوتیں ترقی پسند عناصر کے ساتھ ہمہ وقت برسرِپیکار ہیں جہاں میانہ روی‘ اعتدال‘ روشن خیالی اور ماڈریٹ اندازِ فکر ہمیشہ مختلف خطرات سے دوچار ہو رہے ہوں‘ جہاں تبدیلی کا عمل آسانی سے قبولیت حاصل نہ کر پاتا ہو‘ جہاں مکالمہ کرنے اور اختلاف کرنے والوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا جاتا ہو‘ جہاں مذہب اور طرزِ زندگی کی تشریح و تعبیر کا اختیار محض چند مخصوص لوگ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہوں اور اسے دوسروں پر مسلط کرنا چاہتے ہوں‘ وہاں کیسے کچھ لکھا اور بولا جا سکتا ہے۔ جس ملک کی سماجی بُنت میں آج تک کوئی تبدیلی رونما نہ ہو سکی ہو۔ وہی استحصالی قوتیں اور وہی محکوم و مجبور عوام کی صورتِ حال۔ وہی اداروں کی لڑائی‘ حقوق کی پامالی‘ قرض‘ بھتہ مافیا اور عام آدمی کے ٹیکسوں پر پلنے اور عیاشی کرنے والے چند مٹھی بھر افراد۔ یہی لوگ ہمیشہ استحصالی طبقے کی پشت پر موجود ہوں گے۔
چہرہ کوئی ہو‘ نام کوئی ہو۔ یہ لوگ صرف اتھارٹی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ لوٹ کھسوٹ کے نظام کے ساتھ ہوتے ہیں۔ دوسری طرف وہی لٹنے والے عام لوگ‘ لمحہ لمحہ قتل ہوتے‘ ایڑیاں رگڑتے عدالتوں‘ تھانوں‘ کچہریوں اور ہسپتالوں میں سسکیاں لیتے‘ دھتکارے جانے والے‘ ذلتوں کے مارے ہوئے لوگ‘ وہی گلاسڑا‘ سڑانڈ سے بھرا نظام۔ وہی عام لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے کرپٹ سیاستدان‘ وہی نعرے لگاتے‘ گلا پھاڑتے‘ دھکے کھاتے‘ جلوس نکالتے‘ آنسو گیس برداشت کرتے‘ تھانے بھگتتے بھگتتے زندگی کی بازی ہارتے عام ورکر لوگ۔ وہی ونی‘ سوارا‘ پنچایتی نظام کے ظلم سے تنگ آئے ہوئے خودکشیاں کرتے لوگ۔ وہی ایک دوسرے کو کافر کہنے والے اور مذہب کے نام پر قتل کرنے والے جنونی لوگ اور وہی خودکش حملوں اور بم دھماکوں سے مرنے والے بے گناہ مسلمان۔ سماج تو ویسا ہی ہے بلکہ پہلے سے زیادہ خراب ہو گیا ہے‘‘۔ میں بولتے بولتے تھک گیا تو شاہ جی بولے۔ ''اگر سماج اسی طرح ہے تو کیا لکھنے والوں اور بولنے والوں کو یہ عمل روک دینا چاہیے؟ کیا لکھنا ترک کر دینا چاہیے؟ کیا سب کچھ اکارت جاتے دیکھتے رہنا چاہیے؟ ہرگز نہیں‘‘ شاہ جی میرے ساتھ بنچ پر بیٹھ گئے ''ہمیں اپنا کام کرتے رہنا چاہیے‘‘۔ ''یہ برکت کیسے
پیدا ہوتی ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ''لکھنے کا ہنر عطا کرنے والے کا شکر ادا کرنے سے‘‘۔ شاہ جی کی آنکھوں میں عجیب سی روشنی پھوٹ پڑی۔ ''تکبر کا میل اپنے اندر کے نہاں خانوں سے کھرچ دینے سے برکت پیدا ہوتی ہے‘‘۔ ''یہ تکبر کتنی قسم کا ہوتا ہے‘‘۔ میں نے ان سے پوچھا۔ ''تکبر کئی شکلوں میں سامنے آتا ہے۔ علم کا تکبر‘ عبادت کا تکبر‘ زہد و تقویٰ کا تکبر‘ منصب و دولت کا تکبر، نسل اور خاندان کا تکبر‘‘۔ شاہ جی نے ایک ہی سانس میں سب کچھ بیان کردیا۔ ''یہ تکبر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے آپ کو اپنے خالق کے سامنے اور مقابلے میں لے آئے۔ جب وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ وہ ان نعمتوں اور صلاحیتوں کا مستحق ہے جو اسے خصوصی کرم سے عطا کی ہوئی ہوتی ہیں‘‘۔
''یہ علم‘ عبادت اور زہد و تقویٰ کا تکبر کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں نے سوال کیا تو جواب آیا ''دانشوروں‘ ادیبوں‘ لکھاریوں‘ علمائے کرام‘ خطباء‘ اساتذہ اور آئمہ کرام میں یہ تکبر موجود ہوتا ہے،یہی وجہ ہے کہ لکھنے والوں کے لفظوں میں برکت پیدا ہوتی ہے نہ دانشوروں‘ علماء اور سیاستدانوں کی تقریروں میں‘‘۔ ''مجھ ایسے لکھنے والوں کے لفظوں میں برکت کیسے پیدا ہوتی ہے؟‘‘ میں نے اصل بات پوچھ ہی لی۔ جواب آیا ''صرف وہ لکھو جو سچ ہو‘ اور اپنے اندر کی دیواروں پر جمے خوف‘ مصلحت اور تکبر کے میل کو کسی پوٹلی میں باندھ کر اس راول ڈیم میں کہیں گہرے پانیوں میں پھینک آئو۔ لفظوں میں برکت خود بخود پیدا ہو جائے گی‘‘۔