نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسٹیٹ بینک نےمانیٹری پالیسی کااعلان کردیا
  • بریکنگ :- کراچی:شرح سودمیں 0.25فیصداضافہ،اسٹیٹ بینک
  • بریکنگ :- کراچی:بنیادی شرح سود 7.25فیصدکردی،اسٹیٹ بینک
  • بریکنگ :- مہنگائی کےخدشات کےپیش نظرشرح سودمیں اضافہ کیاگیا،اسٹیٹ بینک
  • بریکنگ :- کراچی:نجی شعبےکےقرضوں میں 11فیصداضافہ ہوا،اسٹیٹ بینک
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

مکرر‘ ارشاد‘ مکررارشاد

اس کے باوجود، اس کے باوجود قوم اگر اسی کو منتخب کرتی ہے تو سرآنکھوں پر ۔ ملک کی ہردیوار پہ لکھ دینا چاہیے ، ’’بدترین جمہوریت، بہترین آمریت سے بہرحال اچھی ہوتی ہے‘‘۔ سبحان اللہ ، سبحان اللہ، مکررارشاد، مکررارشاد۔ قسم ہے زمانے کی بے شک انسان خسارے میں ہے مگر وہ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے۔ جنہوں نے سچائی پر قائم رہنے کی نصیحت کی۔ صبر پہ قائم رہنے کی نصیحت کرتے رہے۔ وعظ و نصیحت؟ وعظ سے کون سنورتا ہے۔ آیت کریمہ کے بین السطور سے واضح ہے کہ وہ جو خود بھی سچائی پرقائم رہیں، خود بھی سچے صابر ہوں۔ سیدنا یعقوب علیہ السلام کے فرزند کے قتل کی (جھوٹی) خبر دی گئی تو فرمایا: بے شک صبر سب سے اعلیٰ اور خوبصورت چیز ہے۔ شب ڈھلی تو ڈاکٹرخورشید رضوی نے سخن کا آغاز کیا۔ کوئی ساعت ہوتی ہے، جب اللہ کی رحمت سے انشراحِ صدر ہوتا ہے۔ سورۃ والعصر کی تلاوت کی، ترجمہ کیا اور بولے: اللہ نے زمانے کی قسم کیوں کھائی؟ میرے خیال میں اس لیے کہ زمانے کی بے کراں قوت کے مقابل فرد لاچار ہے، لاچار اور بے بس۔ دریا کی تند و تیز دھارے کی طرح جو جھاڑ جھنکار بہا لے جائے۔ آدمی اس کے مقابل ٹھہر نہیں سکتا۔ ٹھہر نہیں سکتا اور چٹان کی طرح قائم رہے گا، وہ جوسچائی پررہے اور پیہم صبرو تحمل کا مظاہرہ کرسکے۔ اب یہ مدینہ منورہ ہے اورسرکارؐ ہیں۔ فرمایا: لالچ کا مارا جھوٹے کے ہاتھوں لٹ جایا کرتا ہے۔ زمانے کی رو یہ ہے کہ میاں محمد نوازشریف ملک کے سب سے مقبول لیڈر ہیں۔ صرف ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی کے گیلپ ہی نہیں، سروے کرنے والے تمام دوسرے اداروں کا فرمان بھی یہی ہے۔ ٹیلیویژن یا اخبارات، اکثر اخبار نویس بھی متفق ہیں۔ تو کیا آئندہ پانچ برس کے لیے ہمارے مقدر میں وہ شخص لکھ دیا گیا،جسے پانچ بار پنجاب بھگت چکا اور دو بار پورا ملک؟ کوئی ہوش مند جس سے خیرکی کوئی امید نہیں رکھتا اپنے محاسن نہیں جو صدرآصف علی زرداری کے کارناموں کی وجہ سے قابل مقبول محسوس ہوتا ہے۔ امریکہ سمیت پورا مغرب، طاقتور عرب ممالک اور ملک کے مالدارطبقات،جس کی پشت پر متحد ہو رہے ہیں۔ کائیاں مولانا فضل الرحمن بے تاب ہو کر بے سبب رائیونڈ نہ پہنچے۔ بے سبب انہوں نے نوازشریف سے اتحاد نہیں کیا۔ میڈیانے جس کے سامنے سر جھکا دیا ہے اور ظاہر ہے کہ مفت میں نہیں جھکایا۔ پیپلزپارٹی کی شکست تو آشکار ہے۔ خود پارٹی اس حقیقت کو تسلیم کر چکی۔ ریوڑ کے ریوڑ اسے چھوڑ کر نون لیگ میں پناہ لے رہے ہیں۔ اگر یہ آدمی واقعی وزیراعظم بن گیا تو کیا ہوگا؟ زرداری صاحب سے تو شاید بہتر ہو، جیسا کہ شہباز شریف کو باقی تین کٹھ پتلیوں سے موثر اور مقبول گردانا جاتا ہے۔ کتنا بہتر؟ اعداد و شمار یہ کہتے ہیں کہ قیام پاکستان سے اب تک نوازشریف کے دونوں ادوار شاید بدترین شمار ہوتے‘ اگر 2008ء میں آصف علی زرداری صدر نہ بنتے۔ دونوں بارشرح ترقی 4.1 فیصد تھی۔گرانی بے حد، بے روزگاری بے حساب۔ وزیراعظم کو سب سے زیادہ دلچسپی اپنے ذاتی کاروبارکے فروغ سے رہی۔ سیاست میں شریف خاندان کی جلوہ گری کے بعد جو3600 فیصد بڑھا۔ ایک پہلو یہ ہے۔ دوسرا یہ کہ ملک کے ہر ادارے سے ان کا تصادم ہوگا۔ فوج سے، جیسا کہ ہر بار ہوا۔ اس سے بھی زیادہ میڈیا کے ساتھ جو آزاد روی کا خوگر ہوچکا۔ 1999ء کی یادیں اب تک تازہ ہیں، جب پنڈی پولیس نے اخبارکے دفترکا گھیرائو کررکھا تھا کہ کاغذ پرنٹنگ پریس میں پہنچ نہ سکے۔ عدلیہ سے تصادم۔ فاتحانہ، موصوف کا لشکر سپریم کورٹ پر چڑھ دوڑا تھا اورکبھی وہ اس پر شرمندہ نہ پائے گئے۔ ملک کو استحکام درکار ہے اور یہ شخص مزید عدم استحکام کا تحفہ دے گا کہ وزارت عظمیٰ نہیں، وہ بادشاہت کا آرزو مند ہے۔عرب حکمران اس کے نمونۂ عمل ہیں ۔ چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ سے اس نے کہا تھا، ابا جی (میاں محمد شریف مرحوم) کی آرزو یہ ہے کہ شتابی سے حکم صادر کرنے والی عدالتیں تشکیل دی جائیں۔ باقی تاریخ ہے۔ 1985ء میں لاہور کی دیواروں پر ایک پوسٹر جگمگایا ’’تری تاریک راتوں میں چراغاں کرکے چھوڑوں گا‘‘ یہ جنرل ضیاء الحق کی آشیر باد سے جنرل غلام جیلانی کی گود میں پرورش پانے والے میاں محمد نواز شریف تھے۔ اشتہاری کمپنی کے سربراہ نے ان سے یہ کہا تھا۔ اگر آپ دس کروڑ روپے خرچ کرسکیں تو جارحانہ مہم سے آپ کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ ان کا جواب یہ تھا۔ وقت آنے پر میں لازماً ایسا کروں گا۔ اب وہ دس ارب روپے خرچ کرسکتے ہیں، شاید سوارب بھی۔ وہ اور ان کے رانا تنویر جیسے عوام دشمن رفیق جو مغرب اور میڈیا کی مددسے ملک کو فتح کرنے پر تُلے ہیں۔ دلیل یہ ہے کہ بڑے بھائی کی مدبرانہ قیادت میں شہباز شریف کی کارکردگی ، دوسروں سے بہتر رہی۔ جھوٹ خدا کی قسم سفید جھوٹ۔ بیکن ہائوس نیشنل یونیورسٹی کے ادارے، انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی کی رپورٹ ہمیں بتاتی ہے کہ سفید جھوٹ ۔ فقط پروپیگنڈہ، وہی گوئبلز کی پالیسی۔ جھوٹ کو دہراتے رہو، حتیٰ کہ لوگ سچ مان لیں۔ THE STATE OF ECONOMY, THE PUNJAB STORY کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ کے چند نکات ہیں۔ جون 2007ء سے جون 2011ء تک پبلک میں شرح ترقی اوسطاً 3.4فیصد جبکہ صوبہ پنجاب میں 2.5فیصد رہی۔ ان چاربرسوں کے دوران قومی معیشت میں پنجاب کا حصہ 55.7فیصد سے کم ہوکر 49.9فیصد رہ گیا۔ اسی اثنا میں سندھ، سرحد اور بلوچستان میں زراعت کی شرح ترقی اوسطاً 3فیصد رہی جبکہ پنجاب میں شرمناک ایک فیصد۔ اس لیے کہ شہباز شریف کو کسانوں کی پروا تھی ہی نہیں۔ انہیں اس نے مارڈالا۔ کوئی پالیسی تھی ہی نہیں۔ ساری خرابیوں کے باوجود، پرویز مشرف کے عہد میں صنعتی ترقی 6.9فیصد رہی جب کہ 2007ء سے 2011ء تک شیرشاہ سوری کے زمانے میں 3.3فیصد۔ سروس سیکٹر میں پنجاب 3.6فیصد بڑھا جب کہ باقی پاکستان 5.3فیصد۔ اس رپورٹ پر دوسروں کے علاوہ سرتاج عزیز کے دستخط بھی ہیں جو نوازشریف کے وزیر خزانہ رہے اور آئندہ الیکشن کے لیے ن لیگ کی منشور کمیٹی کے سربراہ۔ صرف جوزف کالونی ہی ذہن میں رہے تو امن وامان کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں۔ چوری بڑھی‘ ڈکیتی بڑھی‘ اغوا بڑھے‘ قتل بڑھے۔ عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات میں 70فیصد پولیس اور پٹوار سے متعلق ہوتے ہیں۔ کبھی یہ اچھے ادارے نہ تھے، شیرشاہ سوری کے دور میں، انہیں بہتر بنانے کے لیے ایک قدم بھی اٹھایانہ گیا۔ ٹھیکیداری نظام ایسا غلیظ کہ خدا کی پناہ۔ 30سے 50فیصد ہڑپ کرلیا جاتا ہے۔ سیمنٹ اور لوہے سے شریف خاندان کی دل چسپی قدیم ہے… چنانچہ ٹھیکیداروں کی سرپرستی بھی۔ ریپڈ بس سروس شہباز شریف کا کارنامہ ہے اور بڑے بھائی کے اصرار پر۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ایک ہزار سرٹیفکیٹ جاری کرے۔ ایک عامی بھی جانتا ہے کہ یہ منصوبہ اولاً غیر ضروری تھا ثانیاً کم از کم 30 فیصد کم قیمت پر بنایا جا سکتا۔ پنجاب حکومت نے آشیانہ سکیم کا جو مکان 11 لاکھ روپے میں تعمیر کیا‘ ہارون خواجہ نے 5 لاکھ روپے میں بنا دینے کی پیش کش کی تھی۔ ایک آدھ نہیں کپتان میں کئی خامیاں ہیں مگر وہ ملک سے بے وفائی کا مرتکب کبھی نہ ہوا۔ لوٹ مار کبھی نہ کی اور بیرون ملک ، جوکچھ کمایا، قانونی طریقے سے ملک کے اندر منتقل کردیا۔ شریف خاندان نے تقریباً تمام دولت سمندر پار پہنچا دی ہے۔ برطانیہ‘ سوئٹزر لینڈ اور دبئی۔ فخر الدین جی ابراہیم جیسے ’’دیانتدار‘‘ کی بجائے کوئی دوسرا ہوتا تو شاید پوچھنے کی جسارت کرتا۔ اس کے باوجود، اس کے باوجود قوم اگر اسی کو منتخب کرتی ہے تو سرآنکھوں پر ۔ ملک کی ہردیوار پہ لکھ دینا چاہیے ، ’’بدترین جمہوریت، بہترین آمریت سے بہرحال اچھی ہوتی ہے‘‘۔ سبحان اللہ ، سبحان اللہ، مکررارشاد، مکررارشاد۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں