نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخارکاانٹرویو
  • بریکنگ :- طالبان کی نیت پرشک کی کوئی وجہ نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- قومی مفادکیلئےطالبان کےساتھ مسلسل رابطےمیں ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- بارڈرمینجمنٹ میں بہتری لائی جارہی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- بارڈرکوجلدمکمل طورپرمحفوظ بنادیاجائےگا،ڈی جی آئی ایس پی آر
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

لیکن ذرا بچ بچ کے چل

فرمایا :نرمی ہر چیز کو خوبصورت بنا دیتی ہے ۔یہ بھی ارشاد کیا : جس شخص میں نرمی نہیں ، اس میں کوئی خیر نہیں ۔ میرؔ صاحب کہہ گئے: زندگی کی رہ میں چل لیکن ذرا بچ بچ کے چل یوں سمجھ لے کوئی مینا خانہ بارِ دوش ہے الیکشن اگر منصفانہ تھے تو 40میں سے جن 8ہزار پولنگ سٹیشنوں کا جائزہ لیا گیا ، ان میں 49پولنگ سٹیشنزمیں ووٹنگ کی شرح100فیصد یا اس سے بھی زیادہ کیسے رہی ۔ واضح رہے کہ 49میں سے 32پنجاب میں تھے ۔ ظاہر ہے کہ صرف 100فیصد سے زیادہ ووٹنگ والی جگہوں پر ہی دھاندلی نہیں ہوئی ۔ یورپی یونین کے مبصرین کو چھوڑیے ۔ ان کی اپنی ترجیحات ہیں اور وہ اس دیار میں اجنبی ہیں ۔ اکثریت نے نواز شریف کی حمایت کی مگر ان کی فتح بے داغ نہیں ۔ایک آدھ نہیں ، دھاندلی کے ہزاروں شواہد موجود ہیں ۔ پنجاب تو الگ مگر کراچی ؟وہاں انتخاب نہیں ہوا اور کرانا پڑے گا۔ نگران حکومت اور الیکشن کمیشن ہی نہیں ، سندھ کے دارالحکومت میں فوج اور رینجرز بھی ناکام رہے ۔ ایم کیو ایم اگر یہ سمجھتی ہے کہ ہمیشہ کی طرح اب بھی احتجاج کو وہ دھمکیوں سے دبا سکے گی تو وہ غلط فہمی کا شکار ہے ۔ پنجاب میں اور طرح کی خرابی ہوئی ، خواہ اس کی نوعیت کتنی ہی سنگین ہو ۔ خواجہ سعد رفیق کا حلقہ اوراحسن اقبال کا۔ حنیف عباسی نے بھی اپنی سی کوشش کی مگر نامراد رہے ۔ اس الزام کی سنجیدگی سے تحقیقات ہونی چاہیے کہ احسن اقبال نے اشتہاری پال رکھے ہیں اور حریف کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہ دی۔ نواز شریف کو انہیں وزارتیں سونپنے سے گریز کرنا چاہیے۔ براہِ راست نہیں تو تحریکِ انصاف اور نون لیگ کی قیاد ت میں بالواسطہ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ طویل ایجی ٹیشن کا ملک متحمل نہیں ۔ تحقیقات کے لیے اگر اتفاقِ رائے ہو جائے، ایسے تفتیشی افسروں کا اگرتقرر ہو سکے جن پر سبھی کو اعتماد ہو تو ہنگاموں کا سلسلہ روک دینا چاہیے ۔ الیکشن کمیشن اور عدالتوں پر معاملہ چھوڑ دینا چاہیے۔ میاں محمد نواز شریف نے سرحد میں تحریکِ انصاف کا حقِ اقتدار تسلیم کر کے وسعتِ نظر کا مظاہرہ کیا، اس کا دائرہ انہیں وسیع کرنا چاہیے ۔ تحریکِ انصاف کو بتانا چاہیے کہ سرحد میں اس کے مخالفین انصاف اور رواداری کے مستحق ہوں گے ۔ بیان بازی سے نہیں، کرائے کے اخبار نویسوں اور ٹی وی کی نشریات سے نہیں بلکہ صوبائی اور مرکزی حکومتوں کو بالآخر ان کے نامۂِ اعمال سے جانچا جائے گا ۔ بزرگ اور غیر متنازعہ شہریوں کے ایک غیر جانبدار گروپ کو بروئے کار نہ آنا چاہیے؟ سپریم کورٹ از خود نوٹس لے سکتی ہے ۔ البتہ اگر ایسا ہو تو معزز جج صاحبان کو ریمارکس سے گریز کرنا چاہیے اور تحمل سے سماعت کرنی چاہیے کہ ایسے میں سیاست ہی نہیں، عدالت کا مستقبل بھی دائو پر لگا ہوگا۔ کراچی میں عدالت نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا تھا ۔ الیکشن دھاندلی بھی اسی شان سے وہ نمٹا سکتی ہے‘ اگر یہ طے کر لیاجائے کہ فقط انصاف مہیا کرنا ہے۔ الیکشن کا انعقاد ایک عظیم پیشِ رفت ہے ۔ اثبات کو تھام کر آگے بڑھنا چاہیے ۔قوم نے دہشت گردی کو مسترد کر دیا اور جمہوری عمل پر پہلے سے زیادہ اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ زرداری صاحب اور ان کے حواریوں نے اپنے اعمال کی سزاپائی ۔ صوبائیت کم ہوئی ہے کہ نون لیگ ایک قومی جماعت بننے کی طرف مائل ہے ۔ کم ہی سہی، بلوچستان، سندھ اور سرحد میں بھی اس کے امیدوار جیتے ہیں ۔ الطاف حسین نے یہ کیا کہا کہ پنجابیوں نے ایک پارٹی کوچن لیا؟ تحریکِ انصاف کو کیا ووٹ نہیں ملے؟ اسی پارٹی نے پشتونوں کے صوبے میں اکثریت حاصل کی اور بعض مبصرین کا خیال یہ ہے کہ کراچی میں الیکشن اگر منصفانہ ہو تو تحریکِ انصاف کو برتری حاصل ہوگی ۔ ایک نکتہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم یا اس کے لیڈر پر الزام تراشی کی بجائے ساری توجہ از سرنو الیکشن پر ہونی چاہیے۔ ایم کیو ایم سمیت آخری تجزیے میں یہ سبھی کو سازگار ہے ۔ سندھ کارڈ استعمال کرنے کی آرزو میں زرداری صاحب نے اگر کراچی کا الیکشن قبول کرنے کا فیصلہ کیا تو پیپلز پارٹی کی مقبولیت مزید کم ہو جائے گی ۔ قومی سطح پراگر انہیں پھر سے ابھرنا ہے تو چالاکی نہیں ، حکمت کی راہ اختیار کرنا ہوگی ۔ حکمت آج نہیں ، آنے والے کل کو ملحوظ رکھنے کا نام ہے ۔ دکھاوے کی نہیں ، تحریکِ انصاف اور نون لیگ میں حقیقی مفاہمت ہونی چاہیے ۔کیسا عجیب منظر ہے، بلوچستان کی تینوںبڑی جماعتیں ، پختون خوا ملّی عوامی پارٹی ، نون لیگ اور جمعیت علمائے اسلام غیر بلوچ ہیں ۔ سرحد میں لاہور کی پارٹیاں جیتی ہیں ۔ مقامی لسانی گروپوں کی بھرپور شرکت کے بغیر بلوچستان اور سرحدمیں قرار ممکن نہیں ۔ پنجاب میں جزوی اور کراچی میں مکمل دھاندلی کے الزامات کو نمٹائے بغیر فضا خوشگوار نہ ہو گی اور یہ قانونی لائحہ عمل ہی سے ممکن ہے ۔ امن استوار ہو چکے توسندھ میں پیپلز پارٹی ، پنجاب میں نون لیگ اور سرحدمیں تحریکِ انصاف میں بہترین حکومت کاری کا مقابلہ ہونا چاہیے ۔ اپنی پارٹی کی تنظیم کے علاوہ عمران خان کو چیلنج اب یہ ہے کہ سرحد میں دہشت گردی سے نمٹیں اورحسنِ عمل کا ثبوت دیں ۔ مرکزی حکومت کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں ۔ خود نواز شریف کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ہی سب سے بڑا چیلنج ہے ، بجلی کی پیداوار اور معیشت کی تعمیرِ نو بھی ۔ بھارت ، افغانستان اور امریکہ سے مراسم کے باب میں اپنی ذاتی ترجیحات پر عمل پیرا ہونے میں انہوںنے بہت تعجیل کا مظاہرہ کیا۔ توقف فرمائیے ۔ ایسے معاملات میں کم از کم قومی اتفاقِ رائے درکار ہوتاہے ۔ پڑوسیوں سے اچھے مراسم کا خواب خوش آئند ، اگر آپ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بھارت اور امریکہ پاکستان سے مخلص ہیں تو کوئی یہ بات نہ مانے گا۔ وزارتِ خارجہ ، عسکری قیادت اور اپوزیشن لیڈروں سے مشورہ چاہیے، خاموشی سے! پرانی پولیس ، پرانی پٹوار اور فرسودہ ٹھیکیداری نظام کے ساتھ ملک دلدل سے نکل نہیں سکتا۔ سمندر پار پاکستانی سرمایہ کاری پر آمادہ ہوں گے ، اگر امن قائم کر دیا جائے۔ اگر اپنے سرمایے کووہ محفوظ پائیں ۔ کان کنی کے علاوہ ، جس کے لیے پاکستانیوں کی شرکت والی ایک امریکی کمپنی اور آسٹریلیا کا ایک بینک 100ارب ڈالر سرمایہ کاری پر آمادہ ہے ، نئے شہروں کی تعمیر سے معجزے رونما ہو سکتے ہیں ۔ واپڈا، سٹیل مل ، پی آئی اے ، ریلوے اور او جی ڈی سی 400ارب سالانہ خسارے کی بجائے اثاثہ بن سکتے ہیں‘ شرط یہ ہے کہ فساد کا خاتمہ ہو ۔ چابی میاں نواز شریف کی جیب میں ہے ۔ پہل انہیں کرنا ہوگی ۔ اپوزیشن ، عدالت ، صوبائی حکومتوں اور میڈیا کے کردار کو تسلیم کرنا ہوگا۔ افواج کے باب میں ان کا لہجہ تلخ کیوں رہا ؛حالانکہ عسکری قیادت ہرگز ان کی مزاحمت نہ کرے گی ۔ مکالمہ اور مشورہ درکا ر ہے ، جوشِ خطابت نہیں۔ بھارت کو امن کا پیغام پہنچانے کے لیے وہ اس قدر بے چین کیوں ہیں ؟ بھارتی ان کا خیر مقدم کر چکے ۔ پالیسی کی تشکیل سے پہلے پاکستان کا وزیر اعظم اہلِ وطن کی بات بھی سن لے۔ شور و غل بہت ہو چکا ۔ اب تحمل کی ضرورت ہے ۔ انا پروری اور جذباتیت کے ساتھ ظفر مندی ممکن ہی نہیں ۔ فرمانِ رسولؐ یہ ہے : الدین النصیحہ۔ دین تمام خیر خواہی ہے ۔ رحمتہ اللعالمین ؐ ابو جہل کے دروازے پرگئے تھے۔ مسلما ن لیڈر ایک دوسرے کی تحقیر اور توہین کرتے ہیں ۔ ایک اور فرمان بھی ہے ، اس کی روشنی میں ہم سب کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔ فرمایا:مجھ سے جو محبت رکھتا ہے ، وہ جھوٹ اور خیانت سے بچے اور پڑوسی سے حسنِ سلوک کیا کرے (مفہوم)۔ سیاستدان بھی ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں ۔ بس کرو ، خدا کے لیے اب بس کرو۔ کراچی سمیت تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں ، اگر طے کر لیا جائے کہ فیصلے انصاف پر صادر ہوں گے اور نرمی کے ساتھ ۔ فرمایا :نرمی ہر چیز کو خوبصورت بنا دیتی ہے۔ یہ بھی ارشاد کیا : جس میں نرمی نہیں ، اس میں کوئی خیر نہیں ۔ میرؔ صاحب کہہ گئے: زندگی کی رہ میں چل لیکن ذرا بچ بچ کے چل یوں سمجھ لے کوئی مینا خانہ بارِ دوش ہے پسِ تحریر: لاہور میں عمران خان ، خواجہ سعد رفیق اور کراچی میں این اے 250سمیت دو حلقوں میں ووٹ کی پرچیوں پر الیکشن کمیشن اگر انگوٹھوں کے نشان جانچے ہر چیز الم نشرح ہو جائے گی ، زیادہ سے زیادہ تین دن کے اندر! (2) نوازشریف کے قلمی قلی مسلسل عمران خان کو گالی دے رہے ہیں۔ سرتاپا میاں صاحب سیاسی اور کاروباری ہیں اور عمران خان سے ملاقات کا مقصد اخلاقی برتری قائم کرنے کی کوشش ہے۔ اگر وہ سچے ہیں تو اپنے اخباری نوکروں کو دُشنام سے روکیں۔ کپتان جیسا بھی ہے اس کا ظاہر و باطن ایک ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں