نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ بلوچستان کی ملاقات
  • بریکنگ :- ملاقات میں سیاحت کے فروغ پربھی بات چیت
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

اب بھی رکیے اور سوچ لیجیے

تضادات کا بوجھ اٹھا کر کبھی کوئی عظیم اور پائیدار کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی ۔ ہر کام کا ایک قرینہ ہے اور بہرحال اسے ملحوظ رکھنا ہوتاہے ، ورنہ عظیم لوگ بھی ناکامیوں سے دوچار ہوتے ہیں ۔ افراد نہیں ، قدرت اپنے قوانین اور اصولوں کو عزیز رکھتی ہے ۔ ہزاروں برس پہلے آدمیت نے ریاست کا ادارہ کیوں تشکیل دیا تھا ؟ امنِ عامہ ، دشمن سے دفاع ، عدل اور ٹیکس وصولی کہ ریاستی اداروں کے اخراجات پورے ہوں ۔ امن اور عدل نصیب ہو تو روٹی آدمی خود کماتاہے ۔ جیسا کہ اللہ کے آخری رسولؐ نے ارشاد کیا تھا : کاروبار حکومت کا کام نہیں ۔ ستر برس تک اشتراکیت کا تجربہ ہوا اور منہ کے بل آن رہا۔ ریاست کہاں ہے ؟ گروہ ہیں ، جھوٹ ہے اور ریاکاری؛ چنانچہ ہر طرف کنفیوژن ہی کنفیوژن ۔ بدھ کی شام پیپلزپارٹی کی ایک خاتون رہنما نے ٹی وی پر ارشاد فرمایا : ذوالفقار چیمہ اس لیے قابلِ قبول نہیں کہ ان کے ایک بھائی حاضر سروس جج ہیں اور ایک نون لیگ کے ایم این اے ۔ مزید یہ کہ آئی جی موٹر وے کی حیثیت سے میاں محمد نواز شریف کو اخباری اشتہار کے ذریعے انہوں نے وزیراعظم بننے پر مبارک باد دی تھی ۔ دوباتیں سفید جھوٹ ہیں اور ایک آدھی۔ چیمہ کے بڑے بھائی ڈاکٹر ہیں ، جج نہیں۔ جو بھائی جج تھے، انہیں سبکدوش ہوئے زمانہ گزر گیا۔ 2008ء میں حلقے کے عوام اورمیاں صاحبان کی خواہش پر انہی نے الیکشن لڑااور حامد ناصر چٹھہ ایسے لیڈر کو شکست دی۔ ایک اخبار نے ان کے خلاف خبر چھاپی اور معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے آیا تو چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا : اپنی نہیں مگر میں جسٹس افتخار چیمہ کی دیانت کی قسم کھا سکتا ہوں ۔ 2013ء کے الیکشن میں ایک لاکھ ووٹ سے وہ جیتے۔ پولنگ سے چند روز قبل ذوالفقار چیمہ سے میں نے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تو انہوںنے انکار کر دیا ۔ 2008ء کے الیکشن سے قبل بھی ان کے چھوٹے بھائیوں نے برادرِ اکبر سے التجا کی تھی کہ وہ اس بکھیڑے سے الگ رہیں ۔ نواز شریف وزیراعظم بنے تو موٹر وے کے آئی جی ایفی ڈرین کیس میں نامزد خوفزدہ ظفر عباس لک تھے ، جنہیں موسیٰ گیلانی کو بچانے کا مشن سونپا گیا تھا۔ انہی نے وزیر اعظم کو مبارک باد دی تھی اور نتیجے میں ہٹا دئیے گئے ۔ چیمہ صاحب تو پاسپورٹ آفس کے ڈائریکٹر جنرل تھے ، اس محکمے کو ایک عظیم بحران سے انہوںنے نجات دی۔ چار برس ہوتے ہیں ، گوجرانوالہ کے حلقہ این اے 100 میں نون لیگ کے لوگوں کوا نہوںنے گرفتار کر لیا تھا ، جو بیلٹ باکس لے اڑے تھے ۔ اس پر ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔ وزیر اعظم نواز شریف اور وزیرا علیٰ شہباز شریف ان سے خوش نہیں تھے؛ چنانچہ کوئی بے معنی سا منصب دیاجاتا۔ ضلع شیخو پورہ میں ، جہاں بد امنی ہمیشہ رہتی ہے ، نون لیگ کے ا رکانِ اسمبلی اور دوسرے عوامل کے طفیل معاملات بے قابو ہوئے تو یہ علاقہ انہیں سونپا گیا اور صورتِ حال بہتر ہونے لگی ۔ ان پر اعتراضات بھی اٹھے مگر ان کی دیانت پر کبھی شبہ کیا گیا اور نہ سیاسی طور پر کبھی کسی گروہ کی حمایت یا مخالفت کا الزام لگا ۔ وزیر اعظم انہیں سندھ کا آئی جی مقرر کرنے کے آرزومند تھے تو اس لیے نہیں کہ ان پر مہربان ہیں۔ وہ مصلحت پسند ہیں اور ضابطہ پسند افسروںکو ناپسند کرتے ہیں ۔ کراچی کے معاملے میں مگر وہ سنجیدہ ہیں ۔ ایماندار آدمی کتناہی غیر جانبدار کیوں نہ ہو ، پیپلز پارٹی سندھ کو گوارا نہیں ۔ وزیرا عظم نے چیمہ صاحب کے تقرر کا ابھی فیصلہ نہ کیا تھا ؛البتہ رائے ان کی یہی تھی ۔ سرکاری ٹیلی ویژن سمیت سن گن رکھنے والوں نے خبر جاری کر دی ۔ ممتاز ترین ماہرین کی رائے میں قانون کے تحت اب بھی انہیں آئی جی لگایا جا سکتاہے ۔ پولیس آرڈر 2001ء کے تحت صوبے کے اعلیٰ پولیس افسر کا تقرر وفاقی پبلک سیفٹی کمیشن کی ذمہ د اری ہے۔ یہ کمیشن قومی اسمبلی کے تین حکومتی اور تین اپوزیشن ارکان کے علاوہ چھ عدد ایسے ممبرز پر مشتمل ہونا چاہیے، جو چیف جسٹس پاکستان اور ان کے دورفقاء طے کریں ۔ سابق وزیرداخلہ رحمٰن ملک نے یہ کمیشن قائم ہونے نہ دیا ۔ معلوم نہیں ، وفاقی وزیر ِ داخلہ چوہدری نثار علی خاں کو معلوم ہے یا نہیں کہ اس کمیشن کی تشکیل ایک قانونی تقاضا ہے ۔ جلد از جلد جس پر عمل ہوناچاہیے ۔ بہت سے لوگ پُرامید ہیں۔ سندھ رینجرز کے سربراہ جنرل رضوان یقینا ایک بہادر اور عاقل افسر ہیں لیکن پولیس کی خوش دلانہ مدد کے بغیر وہ اپنا ہدف کیسے حاصل کریں گے؟ و ہ فوجی افسر ہیں اور اپنی کمان سے انہیں رابطہ رکھنا ہوگا۔ اس طرح بالواسطہ طور پر فوج کو اس معاملے میں گھسیٹ لیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ میرا اندازہ غلط ہو ۔ میرا خیا ل بہرحال یہی ہے کہ تجویز کردہ طریقِ کار خوش کن عارضی نتائج تو پیدا کر سکتاہے مگر مستقل حل نہیں ۔ شہروں کا امن ہمیشہ پولیس کے ذریعے قائم و بحال کیا گیا۔ فوج اور رینجرز ایسے اداروں کا یہ کا م ہی نہیں ۔ بجا کہ ان کے اختیارات میں اضافہ کر دیا گیا اور تفتیش اب ان کے ہاتھ میں ہوگی کہ صوبے کا تفتیشی ادارہ (Prosecutor General)ان کے ماتحت ہوگا۔ کس نے مگران کا تقرر کیا ہے ؟ کیا کپتان قائم علی شاہ مداخلت نہ کریں گے، جو ایک غیر جانبدار پولیس افسر کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں کہ ان کے مربی نہیں مانتے وگرنہ وہ تو چھٹی کی درخواست تک دے چکے۔ اب تو وہ جنگی قیدی ہیں۔ کیا جناب محترم و مکرّم مظفر ٹپّی کے خلاف کارروائی ممکن ہوگی ، عملاً جو وزیراعلیٰ ہیں ؟ صوبے کے وزیر بلدیات کی حیثیت سے ، جن کی مرضی کے بغیر کوئی بڑی عمارت بن نہیں سکتی اور جنہیں شہر کا سب سے بڑا قبضہ گروپ قرار دیا جاتاہے؟ کیا پیپلز امن کمیٹی پر ہاتھ ڈالنے کی اجازت دی جائے گی ، جو حکمران جماعت کا لاڈلا بچہ ہے؟ اگر نہیں تو دوسرے شور مچائیں گے۔ کیا ٹیلی ویژن اور اخبارا ت میں اتنا شور شرابہ کر کے مجرموں کو فرار کا موقعہ نہیں دے دیا گیا؟زنجیریں پہنا کر کوئی فوج میدان میں نہیں اتاری جاتی ۔ ٹیپو سلطان نے اس جنرل کو ہرایا تھا، جس نے بعد ازاں واٹر لو میں نپولین ایسے عظیم سپہ سالار کو شکست دی۔ سازشیوں کے ہاتھوں وہ کھیت رہا ۔ یکسوئی کے بغیر حقیقی اور حتمی فتح کیسے ممکن ہے ؟ عارضی اقدامات تو بار بار ہو چکے۔ وزیراعظم کنفیوژن کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار کو بلایا اور پھر گریز کیا ۔ کراچی کی دوسری مقبول ترین جماعت تحریکِ انصاف سے رابطہ نہ ہو سکا۔ ذوالفقار چیمہ کے تقرر کا راستہ وہ تلاش نہ کر سکے ۔ یہ اقدام قبل از وقت ہے ، پورے مشورے کے بغیر ، کیونکہ فیصلہ کرنے والے یکسوئی سے محروم ہیں ۔ مسائل 1995ء سے کہیں زیادہ گمبھیر ہیں۔ تب ایک گروپ تھا ، اب چھ سات۔ تب مرکز اور صوبے میں ایک حکومت تھی ۔ انٹیلی جنس اور پولیس میں ہم آہنگی تھی۔ تب صدر، وزیر اعظم ، چیف آف آرمی سٹاف اور وزیرِ اعلیٰ نے مداخلت نہ کرنے کا وعدہ پورا کیا تھا۔ کیا اب اورزیادہ احتیاط اور بہتر منصوبہ بندی درکار نہ تھی ؟ اندیشہ ہے کہ کامیابی عارضی ہوگی ۔ اس کا جشن منایا جائے گا اور پھر سے زہریلی کونپلیں پھوٹ پڑیں گی ۔ تعجیل ہوئی، تعجیل۔ قرینہ ذرا مختلف چاہیے تھا۔ اب بھی رکیے اور سوچ لیجیے۔ مزید دو تین دن خوب سوچ سمجھ لیا جائے مگر یہ قدرت کے ابدی قوانین سے نا آشنا لیڈر۔ اللہ ان پہ رحم کرے اور اس ملک پر بھی۔ تضادات کا بوجھ اٹھا کر کبھی کوئی عظیم اور پائیدار کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی ۔ ہر کام کا ایک قرینہ ہے اور بہرحال اسے ملحوظ رکھنا ہوتاہے ، ورنہ عظیم لوگ بھی ناکامیوں سے دوچار ہوتے ہیں ۔ افراد نہیں ، قدرت اپنے قوانین اور اصولوں کو عزیز رکھتی ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں