نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 53 پیسےمہنگا
  • بریکنگ :- انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 168روپے 72 پیسےپربند
  • بریکنگ :- اوپن مارکیٹ میں ڈالرایک روپے 20 پیسےمہنگا
  • بریکنگ :- اوپن مارکیٹ میں ڈالر 170 روپےمیں فروخت
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

بات ادھوری رہ جاتی ہے

کالم نگاری ایک عجیب صنف ہے ۔ جیسا کہ عرض کیا تھا: بات ادھوری رہ جاتی ہے ۔ آج تو شروع بھی نہ ہو سکی ۔ یار زندہ، صحبت باقی!اس سے پہلے کہ وہ لمحہ آئے ۔ زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے فوجی افسر سے سوال کیا : آپ کے ادارے کی عوامی پذیرائی (Rating)آج کل کتنی ہے ؟ اس نے جواب دیا: ایسی کہ سروے کرنے والوں نے یہ سوال پوچھنا ہی چھوڑ دیا۔ یہ چند ماہ پہلے کی بات ہے ۔ دوسری وجوہ کے علاوہ، ایک سبب غالباً یہ ہے کہ فوج سیاست سے بتدریج دور ہوتی چلی گئی ۔ ایک زمانہ وگرنہ وہ بھی تھا کہ فوجی افسر وردی پہن کر بازار نہ جا سکتے ۔ جنرل پرویز مشرف کے آخری ایام ! عام تاثر کے برعکس فوجی افسر زیادہ تحمل رکھتے ہیں ۔ یہ ان کی تربیت کا حصہ ہے ۔ پھر مارشل لا کیوں لگتے ہیں؟ یہ ایک پیچیدہ سوال ہے اور کالم کی تنگنائے میں اس کا جواب سمٹ نہیں سکتا۔ ایک جواب یہ ہے کہ طاقت کا خلا کبھی باقی نہیں رہتا ۔ انتہائی نامقبول حکومت کو بہرحال جانا ہوتاہے ۔آسان حل یہ ہے کہ وہ وقت سے پہلے الیکشن کرادے ۔ طاقت کا نشہ مگر ایسی چیز ہے کہ ترشی جسے اتار نہیں سکتی ۔ اسی کا دوسرا رخ یہ ہے کہ پاک فوج کا سربراہ بھی ایسے میں ترغیب کا شکار ہوتاہے ۔ نظم پھر قائم ہو جاتا ہے، امن بحال اور معیشت نمو پذیر۔ یہ الگ بات کہ فوجی حکومت جو کچھ ایک عشرے میں تعمیر کرتی ہے ، وہ آخری دو تین برسوں میں برباد ہو جاتاہے ۔ ادارے نشو ونما نہیں پاتے اور جمہوریت جڑیں پکڑ نہیں سکتی۔ ہر بار ابن الوقت اور مفاد پرست یا انتہا پسند سیاستدانوں کی ایک نئی کھیپ ابھر آتی ہے ۔ پاکستانی سیاست کی بازی گاہ ایسی ہی سیاسی پارٹیوں کی محاذ آرائی سے عبارت ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو ، فیلڈ مارشل ایوب خان کی پیداوار تھے ۔ جذبات بھڑکانے میں اپنا وہ ثانی نہ رکھتے تھے۔ عصری سیاست سے آشنا، غیر معمولی ذہانت اور غیر معمولی ریاضت کا یہ آدمی ہمیشہ متنازعہ رہے گا۔ پاکستان کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے بھارت کے خلاف آتشیں تقاریر سے اس نے مقبولیت پائی ، پھر عوامی امنگوں کو زبان دے کر، پھر مایوس ترقی پسندوں سے اتحاد کر کے ، جن کی سننے والا کوئی نہ تھا۔ مگر بھٹو ہی تھے ، جو کبھی ایوب خاں کی کنونشن لیگ کے سیکرٹری جنرل تھے ، جو اپنے مربّی کو کبھی ایشیا کا ڈیگال قرار دیتے اور کبھی سلطان صلاح الدین ایوبی۔ معاہدۂ تاشقند کے ہنگام ایوب خاں نے ان پر عدم اعتماد کیا اور نکال باہر کیا تو عوامی مقبولیت کی ایک بے پناہ لہر میں ، وہ ان کے سب سے بڑے حریف بن کر ابھرے ۔ کم ہی لوگوں کو اس وقت یادرہا کہ کبھی وہ ایک فوجی آمر کے نفس ناطقہ تھے ۔ ان کے سب سے بڑے ترجمان۔ باقی تاریخ ہے ۔ قائداعظم ثانی میاں محمد نواز شریف اور قاف لیگ کے چوہدری برادران بھی مارشل لائوں کی پیداوار ہیں ۔ نواز شریف نے تو خیر جنرل محمد ضیاء الحق ہی کا دامن تھاما اور ظاہر ہے کہ کسی اصول اور نظریے نہیں بلکہ فقط اقتدار کی آرزو میں ۔ چوہدری برادران کو ایک کے بعد دوسرے، چاروں مارشل لائوں کی حمایت کا لافانی اعزاز حاصل ہے ۔ فرق یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خاں کو نامقبول ہوتے پایا تو ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔اسی طرح میاں محمد نواز شریف نے بھی آخر کار اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لی اور اس کے حریف بن کے ابھرے مگر چوہدری صاحبان کا مزاج مختلف ہے ۔ اچھا یا برا، جس سے جو تعلق انہوںنے استوار کر لیا، اسے نبھانے کی کوشش کی۔ جنرلوں ہی سے نہیں ، عامیوں سے بھی ۔ سیاست وہ کسی سے کم نہیں جانتے مگر ایک خاص طرح کی وضع داری۔ اس کا انہیں فائدہ بھی پہنچا مگر آخر کار شدید نقصان کہ آزاد میڈیا نے انہیں پامال کر دیا؛حالانکہ اس میں ان کی سرمایہ کاری بہت تھی اور سلیقہ بھی بہت۔ بھٹو کا مزاج مختلف تھا اور نواز شریف کا بھی ۔ یہ جو حضرت پرویز رشید کو انہوںنے وزارتِ اطلاعات سونپی ہے تو اس کا راز کیا ہے ؟ اس وقت داخلی اور عالمی محاذ پر ایک ایسے ترجمان کی ضرورت ہے ، حکومت اور ملک کا جو مقدمہ لڑ سکے ۔ ایک ایسا آدمی ان کی مدد کیسے کر سکتاہے ، جو انگریزی اور اردو تو کیا، پنجابی میں ما فی الضمیر کے اظہار پر قادر نہیں ۔ غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ بات کو ٹالنے یا Twistکرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ اخبار نویسوں کو دو حصوں میں انہوںنے تقسیم کر رکھاہے ۔ ایک حامی اور دوسرے مخالف۔ ایک کے لیے سراپا شفقت اور دوسرے کے لیے قہرمان۔ نتیجہ ظاہر ہے ۔ سرکار کے بندوں کی سنتا کوئی نہیں اور آزاد اخبار نویس حکومت کی نہیں سنتے ۔ اگر وہ کوئی کارنامہ انجام بھی دے ، جیسا کہ کراچی آپریشن ، بلوچستان میں قوم پرستوں کی حکومت اور پشاور میں تحریکِ انصاف کو موقعہ دے کر تو داد دینے والا کوئی کم ہی ہوتاہے ۔ کنفیوژن کی ماری ، تضادات کا شکار، ذہنی طور پر الجھی ہوئی یہ ایک ناقص حکومت ہے مگر ہر بات تو اس کی غلط نہیں ۔ ماحول مگر ایساہے کہ اس کے ہر اقدام کو شک کی نظر سے دیکھا جائے گا اور ایک سبب وزارتِ اطلاعات بھی ہے ۔ قومی سیاست کو اگر صحت مند خطوط پر استوار کرنا ہے اور کرنا ہی ہوگا تو لازم ہے کہ فکر و نظر میں توازن آئے۔ اعتدال آئے اور دلیل کا سکّہ رواں ہو۔ کسی ایک کی نہیں ، یہ سبھی کی ذمہ داری ہے لیکن ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ حکومت کی۔ شعبدہ بازی کے دن لد گئے مگر ادراک کم ہے ۔ سرکار کو بھی، سرکار کے حریفوں کو بھی ۔ پاک فوج اور میڈیا کے تعلقات بھی صحت مند خطوط پر استوار نہیں ۔ سالِ گذشتہ دھیمے مزاج کے جنرل عاصم باجوہ کی تقرری کے بعد صورتِ حال بہتر ہوئی ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ مزید بہتر ہوگی ۔ آئے دن مگر احساس ہوتاہے کہ فوج کا نقطہ نظر اخبار نویسوں تک نہیں پہنچتا۔ دونوں اس کے لیے قصوروار ہیں ۔آئی ایس پی آر کو تشکیلِ نو کی ضرورت ہے ۔ یہ فقط فوجی افسروں کے بس کی بات نہیں ۔ وہ میڈیا کے مزاج اور ماحول سے واقف ہی نہیں ۔ غالباً تین برس ہوتے ہیں ، جنرل اطہر عباس آئی ایس پی آر کے سربراہ بنے تو نامور اخبار نویس عباس اطہر کے فون کی گھنٹی بجی ۔ دوسری طرف میاں محمد نواز شریف تھے ۔ انہوںنے کہا: مبارک ہو شاہ جی، آپ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل ہوگئے۔ عباس اطہر ایسے میں شرما جاتے تھے ۔ اللہ ان کی مغفرت کرے ۔ خوش دلی سے وہ ہنستے مگر کوئی تبصرہ نہ کر پاتے ۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ میاں صاحب کی حسّ ِ مزاح بہت اچھی ہے؛ اگرچہ بحرانوں میں ان کی کوئی مدد نہیں کر تی۔ موضوع سے کوئی تعلق نہیں مگر سید صاحب کا ایک اور لطیفہ بھی سن لیجئے۔ انتقال سے چھ سات برس پہلے شاہ صاحب نے دوسری شادی کی تھی ۔ ان کی پہلی بیگم کے انتقال کو کئی سال گزر چکے تھے ۔ مان کر وہ نہ دیتے تھے ۔ میرے ساتھ ان کی بے تکلفی تھی مگر ٹال جاتے ۔ ایک سہ پہر جب عمران خان سے گپ شپ تھی ، مجھے شرارت سوجھی ۔ ان سے میں نے یہ کہا: عجیب آدمی ہیں آپ بھی۔ شاہ جی کے داماد کا انتقال ہوا ، آپ نے ان سے اظہارِ تعزیت نہ کیا۔ ان کی اہلیہ محترمہ کی وفات پربھی نہیں ۔ دوسری شادی کی تو مبارک باد تک نہ دی ۔ کپتان کی آنکھوں میں چمک ابھری ۔واقعی؟ اور شاہ صاحب کو فوراً ہی فون کیا۔ وہ مان گئے اور شرماتے ہوئے بولے: ایک صاحب زادہ بھی اللہ نے عطا کیا ہے اور اس کا نام شاویز شاہ رکھا ہے ۔ کمال جوش وخروش سے عمران نے کہا: مجھے بڑی تقویت (Inspiration) ہوئی آپ کے کارنامے سے ۔ فون بند کرنے لگے تو ہاتھ بڑھاکر میں نے پکڑ لیا اور یہ کہا: خادم کو ہارون الرشید کہتے ہیں ، مزاج اچھے ہیں آپ کے ؟ شاہ صاحب اور بھی شرما گئے۔ معاف کیجئے، دل ٹھکانے پر نہیں ہے ، خیالات میں ربط نہیں ۔ کسی اور موضوع پر لکھنا تھا مگر وہی بات ’’قلم گوید کہ من شاہ جہانم‘‘ قلم ایک بادشاہ ہے، اپنی اقلیم میں آزاد۔ ذہن میں سوال یہ تھا کہ بھارت نے پاکستانی سرحدوں پر اشتعال انگیزی کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، اس کی غایت کیا ہے ؟ پھر کبھی ، پھر کبھی ۔ کالم نگاری ایک عجیب صنف ہے ۔ جیسا کہ عرض کیا تھا: بات ادھوری رہ جاتی ہے ۔ آج تو شروع بھی نہ ہو سکی ۔ یار زندہ ، صحبت باقی!اس سے پہلے کہ وہ لمحہ آئے ۔ زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں