نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بھارتی ریاست آسام میں مسلمانوں پروحشیانہ بربریت کامعاملہ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:پاکستان میں بھارتی ناظم الامورکی دفترخارجہ طلبی
  • بریکنگ :- پاکستان کاریاست آسام میں مسلمانوں پرمظالم پراظہارتشویش
  • بریکنگ :- بھارتی ریاست آسام میں مسلمانوں کونشانہ بنانےپرتشویش ہے،ترجمان
  • بریکنگ :- آسام میں مسلمانوں کیخلاف وحشیانہ بےدخلی مہم کاآغازتشویشناک ہے،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارتی پولیس نےغیرمسلح شخص کوقتل کیا،ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- سیکیورٹی فورسزکی موجودگی میں متعددافرادنےلاش کی بےحرمتی کی،ترجمان
  • بریکنگ :- نہتےشخص کےقتل اورلاش کی بےحرمتی کی ویڈیوناقابل یقین دھچکاہے،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارتی عہدیدارکوتشددکےحالیہ واقعات پرگہری تشویش سےآگاہ کیاگیا،ترجمان
  • بریکنگ :- بدقسمتی سےیہ صرف مسلم مخالف تشددکاتسلسل ہے، ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- ریاستی سرپرستی میں بھارت میں مسلمانوں پرتشددمعمول بن چکاہے،ترجمان
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

سیّد الطائفہ

’’اللہ کے نزدیک جو سب سے بڑا مسئلہ عقلِ انسانی کو درپیش ہے ، وہ اپنی ترجیحات کا مرتب کرنا ہے ۔ اگر آپ کی ترجیح اول آپ کا پروردگار نہیں تو آپ اس زندگی سے ناکام گزرو گے ۔ آپ کو کچھ حاصل نہیں ہونے کا‘‘ یہ عصرِ رواں کے عارف پروفیسر احمد رفیق اختر کا قول ہے ۔ یہ جسارت دارا شکوہ ایسا شخص ہی کرسکتاہے کہ حضرت میاں میر ؒ نے ایک نظر اس پر ڈالی اور مقاماتِ بلند عطا کر دئیے ۔ مقامات اس طرح عطا نہیں ہوتے ۔ عمر بھر کی کمائی ہوتی ہے ۔ ایک ایک دھاگا بٹا جاتاہے، حتیٰ کہ لباس سیا جاتاہے ۔ نامور افسانہ نگار اشفاق احمد مرحوم نے درویش سے پوچھا کہ کیا وہ صوفی بن سکتے ہیں ؟ حیرت سے انہوں نے جواب دیا: خان صاحب! اس عمر میں ؟ اتنی بڑی انا کے ساتھ؟ آدمی اس چیز پر یقین کرتاہے ، جو اسے خوش آتی ہے ۔ الحاد کی تحریکوں کے زیرِ اثر داراشکوہ کو صوفی مان لیا گیا اور اورنگ زیب عالمگیر کو مجرم ۔ نواحِ جھنگ میں اپنے ہاتھوں سے کھیتی باڑی کرنے اور سر تاپا ایک عام آدمی کی زندگی گزارنے والے حضرت سلطان باہوؒ کی شہادت مختلف ہے ۔ عالمگیر کو وہ ایک ولی ٔ کامل مانتے ہیں ۔ مانتے ہی نہیں ، بادشاہ کی رہنمائی کے لیے اورنگِ شاہی کے عنوان سے ایک کتاب بھی انہوں نے رقم کی ۔ اگر آپ دانشور ہیں تو آسان نسخہ یہ ہے کہ آپ اس کتاب کو جعلی ثابت کر یں ۔ اگر یہ بھی نہیں تو سلطان باہوؒ کو صوفی تسلیم کرنے سے انکار کر دیں ۔ لوحِ زماں سے صوفی کا نقش مگرمٹایا نہیں جا سکتا۔ جس شخص کو اگلے ادوار نے اس کی شاعری سے پہچانا ، خود اس کا زمانہ اسے عارف بااللہ کے طور پر جانتا تھا۔ شاعری تو اس شاخ کا صرف ایک پھول تھا۔ مولانا روم کی طرح انہیں کوئی اقبال ؔمیسر آتا تو ہمارے آفاق پہ ہر طرف وہ دمک رہے ہوتے ۔ ایسا کیوں نہ ہو سکا ، اس پہ پھر کبھی ۔ فرمایا: ہو سکا، جس پہ نہ دربارِ رسالتؐ سے کرم بند اس کے لیے انوارِ خدا کے درشن اور یہ فرمایا: یہ اجازت شہ کونینؐ سے باہوؔ کو ملی خلق کو بہر خدا فقر کی تلقین کرے یہ شاعری نہیں ۔ اللہ کے آخری رسولؐ کا فرمان یہ ہے کہ جس نے کوئی بات ان سے منسوب کی ، وہ آگ میں ڈالا جائے گا ، پھر ایک صاحبِ یقین اللہ سے کوئی بات کیونکر منسوب کر سکتاہے ۔ کوئی بندئہ تسلیم ورضا۔ کتنے شاعر ہیں کہ فقط شاعر مگر ہم انہیں صوفی مانتے ہیں ؛حتیٰ کہ وارث شاہ کو ۔ گستاخی معاف، بلہے شاہ بھی نہیں ۔ متصوف وہ ضرور ہے اور ہم ان کے مرشد سے بھی آشنا ہیں ۔ اپنے دور کے مذہبی ریاکاروں کا پردہ جس شجاعت کے ساتھ اس نے چاک کیا، شعر کی تاریخ میں اس کی مثال مشکل سے ملے گی مگر بلہے شاہ کے سامنے اگر کوئی یہ بات کہتا تو ان کے عتاب کا شکار ہوتا۔ شاہ حسین کو اس زنجیر کی اولین کڑی کہا جاتاہے ۔ معاف کیجیے گا، اہلِ صفا سے وہ متاثر ضرور تھے مگر بھگتی تحریک سے بھی اتنے ہی ۔ کشف المحجوب میں لکھا ہے ’’وہ تصوف جو پابندِ شریعت نہیں ، زندیق تو پیدا کر سکتی ہے مگر صدیق نہیں‘‘ اور سلطان باہوؒ نے یہ کہا ؎ کسی کو شرع سے باہر کہاں نکلنے دے وہیں وہیں ہے طریقت، جہاں جمالِ یقیں ایک نکتہ ہے جو عالمِ دین اور درویش کے درمیان خطِ امتیاز کھینچتا ہے ۔ ہر عارف عالم ہوتاہے مگر ہر عالم عارف نہیں ۔ قطب الاقطاب شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے لکھا ہے کہ دو بار انہیں خلق میں جانے کا حکم دیا گیا ۔ انہوں نے مگر معذرت کی ؛حتیٰ کہ تیسری بار ارشاد ہوا۔ فرمایا: میں نے گزارش کی کہ ایک شرط پر : مخلوق سے مجھے آزمایا نہ جائے گا۔ فقر حسنِ نیت کا نام ہے ، حسنِ نیت کی معراج کا۔ جو حسنِ علم کی راہ سے حسنِ عمل میں ڈھلتاہے ۔ سید الطائفہ جنیدِ بغدادؒ نے ایک فقیر کا حال بیان کیا ہے کہ ببول کے کانٹوں پر پڑا تھا۔ کہا : یادِ الٰہی کا ایک لمحہ کھو گیا تھا، اس کے فراق میں پڑا ہوں ۔وہ اس کے لیے دعا کرتے رہے ۔ ایک مدت بعد اسی راہ سے گزرے تو فقیر کو اسی حال میں پایا۔ اس نے اقرار کیا کہ کھوئی ہوئی وہ ساعت اسے مل گئی تھی ۔ تعجب سے پوچھا، اب کیوں خودکو اذیت دیتے ہو ۔ کہا: جس مقام سے یہ نعمت عطا ہوئی ، اسے ترک کیسے کروں ؟ ناچیز کو یقین نہ ہوتااگر غنیتہ الطالبین اور کشف المحجوب میں اس سے بھی زیادہ حیران کن واقعات پڑھے نہ ہوتے ۔ کشف المحجوب میں لکھا ہے : میرے مرشد امام ابو الفضل ختلیؒ کے مزار سے ایک سفید کبوتر نکلا اور آسمان کو پرواز کر گیا۔ حیرت کا مارا میں سوچتا رہا ۔ خواب میں شیخ کی زیارت نصیب ہوئی تویہ فرمایا: یہ صفائے قلب کی شہادت ہے ، جو پروردگار کی رحمت سے عطا ہوئی ۔ شیخ کے اقوال میں سے ایک یہ ہے ’’یہ دنیا ایک دن کی ہے اور اس دن کا ہم نے روزہ رکھ لیا ہے‘‘ اعلان نہیں ، یہ عمل تھا ۔ سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ نے لکھا ہے : کیچڑ میں سے شیخ گزرے مگر پائوں آلودہ نہ ہوئے ۔ تعجب کیا تو فرمایا : اللہ کے ساتھ بندے کا معاملہ جب ٹھیک ہو جاتاہے تو ایسا بھی ہوتاہے ۔ جنیدِ بغدادؒ نے کہا تھا: دنیا کو دل کے دروازے پر بٹھا رکھا ہے ، جس چیز کی ضرورت ہو ، ہاتھ بڑھا کر لے لیتے ہیں ۔ دل میں داخل ہونے کی اسے اجازت نہیں ۔ان کے زمانے ہی نہیں ، آنے والے ادوار نے بھی گواہی دی کہ ہرگز نہ تھی ۔ اسی لیے انہیں سید الطائفہ کہا گیا۔ وہ منتخب لوگ، اللہ جن کی ترجیح اوّل و آخر ہے ۔ شکر گزاری کے ساتھ ہمہ وقت جو اس کی بندگی کرتے ہیں ۔ پھر یقین کی دولت انہیں عطا ہوتی ہے: الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیہم ولاھم یحزنون۔ سلطان العارفین کے چند اشعار نقل ہیں ۔ ترجمے کے ذمہ دار منصور آفاق ہیں ۔ یہ کھینچ دیتاہے ہر غیر پر خطِ تنسیخ یہ کھول کھول دے، اسرارِ ذوالجلال، یقیں اسی سے ملتی ہے تقریبِ اولیا میں جگہ شکستِ غیر یقیں‘ منزلِ وصال یقیں ’’کہو کہ اللہ ایک ہے ۔ وہ بے نیاز ہے ۔ کسی نے اسے جنا اور نہ کوئی اس سے جنا گیا‘‘ ہاں مگر اس کی ہمسائیگی ممکن ہے ۔ جو آرزو رکھتاہے ، پالتا اور ایک ایک سانس سے سینچتا ہے ، وہ اسے پا لیتاہے۔ پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی ستارے جس کی گردِ راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے سبھی محترم ، سبھی محترم۔ صوفیا کی اگر مانی جائے اور انہی کی ماننا ہوگی تو سلطان العارفین کا مرتبہ شاہ حسین ، بلہے شاہ ، میاں محمد بخش اور خواجہ غلام فرید ایسے شعرا سے بہت بلند ہے ، حتیٰ کہ مولانا روم ، ثنائی اور عطار سے بھی ؛حالانکہ عطار وہ ہیں ، جن کے بارے میں مولانا روم نے یہ کہاتھا۔ ہفت شہر عشق در عطار گشت ما ہنوز اندر خمِ یک کوچہ ایم خواجہ غلام فرید کی عظمت میں کوئی کلا م نہیں ۔ اقبال ؔ نے کہا تھا: جس قوم میں فرید ایسا شاعر موجود ہو ، وہ مجھے کیوں پڑھے گی ۔ اقبال ؔ کی قسمت میں مگر ایک مقامِ بلند لکھا گیا ، کارِ تجدید ۔ پروردگار جسے چاہتاہے ، منتخب کر تاہے ۔ خواجہ غلام فرید کے برعکس جو ارضی حیات سے ، چاندنی میں دمکتے ریت کے ٹیلوں سے تشبیہات اخذ کرتے ہیں ، سلطان باہوؒ فلک نشیں ہیں۔ زندگی کو زمین سے نہیں، وہ آسمان سے دیکھتے ہیں۔ ایک اعتبار سے ملٹن کی طرح ۔ وجد کی ایک سرشاری \"The Paradise Lost\"کی ایک ایک سطر میں جھلکتی ہے ۔سلطان باہوؒ میں اس سے کہیں بڑھ کر ، ایسی کہ صدیوں سے آدمی حیران ہے۔ فیض احمد فیض ؔ نے کہا تھا کہ ملٹن کا انہوںنے ترجمہ کرنے کی کوشش کی مگر راہِ سلوک کا ایک مسافر بازی لے گیا ۔وہ گورنمنٹ کالج لاہور کا ایک طالبِ علم تھا۔ تو آئیے، وہ جملہ پھر سے پڑھیں ۔ اللہ اگر توفیق دے تو اس پر غور کریں ’’اللہ کے نزدیک جو سب سے بڑا مسئلہ عقلِ انسانی کو درپیش ہے، وہ اپنی ترجیحات کا مرتب کرنا ہے‘‘… سینکڑوں عارف ہو گزرے ہیں… اور ایک سلطان العارفین!برصغیر کا سیّد الطائفہ!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں