نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخارکاانٹرویو
  • بریکنگ :- طالبان کی نیت پرشک کی کوئی وجہ نہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- قومی مفادکیلئےطالبان کےساتھ مسلسل رابطےمیں ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- پاکستان افغان امن کیلئےعالمی برادری کےکردارپرزوردےرہاہے،بابرافتخار
  • بریکنگ :- پاکستان افغانستان میں تمام دھڑوں پرمشتمل حکومت بنانےکاحامی ہے،بابرافتخار
  • بریکنگ :- بارڈرمینجمنٹ میں بہتری لائی جارہی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- بارڈرکوجلدمکمل طورپرمحفوظ بنادیاجائےگا،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- بارڈرکے 90 فیصدحصےپرباڑلگانےکاکام مکمل کرلیا،میجرجنرل بابرافتخار
  • بریکنگ :- بھارتی میڈیاجعلی خبروں،کہانیوں پرپروان چڑھتاہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- عالمی اداروں نےبھی بھارتی میڈیاکی جعلی خبروں کامذاق اڑایا،میجرجنرل بابرافتخار
  • بریکنگ :- کچھ بھارتی صحافیوں نےبھی بھارتی میڈیاکی جعلی خبروں کی مذمت کی،میجرجنرل بابرافتخار
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

صوفی اور ملّا

پوچھا کہ کیا عبادت سے اور تسبیحات سے آدمی بدل جاتا ہے۔ فرمایا: بلکہ غورو فکر سے اور توجہات سے۔ فریب ہائے نفس کے ادراک سے اور یہ کار مسلسل ہے۔ 
اشفاق احمد خان نے فیض احمد فیضؔ کو جب صوفی قرار دیا تو اس سے ان کی مراد کیا تھی؟ کچھ بھی نہیں۔ شاعر اور ادیب‘ الفاظ کے استعمال میں طبعاً سخی ہوتے ہیں۔ صوفی نہیں‘ فیضؔ ایک رند تھے‘ ایک محبوب کردار۔ اردو شاعری کے آسمان پر جگمگاتا ایک ماہتاب۔ کبھی انہیں بھلایا نہ جا سکے گا۔ شاعر‘ کسی بھی قبیلے سے تعلق رکھتا ہو‘ آخر کار سب قبیلوں کا ہو جاتا ہے۔ 
مگر صوفی؟ خود اشفاق احمد بھی درویش نہ تھے۔ اچھے آدمی تھے‘ بلا کا حافظہ رکھنے‘ بلا کا ابلاغ کرنے والے۔ لفظ ان کے ہاتھ میں موم کی طرح پگھل جاتے اور ان سے جو سلوک وہ چاہتے‘ کر گزرتے۔ یہ سب لوگ‘ اشفاق احمد‘ قدرت اللہ شہاب‘ ممتاز مفتی اور حنیف رامے وغیرہ‘ ایک بزرگ کے ہاں جایا کرتے۔ اشفاق احمد نے ان کا ذکر بارہا کیا۔ سادہ سے آدمی تھے‘ نیک طینت‘ خوش اطوار‘ عبادت گزار۔ ایک رومان پسند جو مادہ پرستی سے درگزرتا ہے اور زمین کی بجائے‘ اپنی مسرت آسمان میں تلاش کرتا ہے۔ وہ‘ جسے نیک آدمی کہا جاتا ہے۔ خالق کی طرف متوجہ اور مخلوق سے محبت کرنے والا‘ مگر عارف؟ 
جی نہیں‘ عارف ایک اور آدمی ہوتا ہے۔ کتاب یہ کہتی ہے: وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اقبال نے اس کا ادراک کیا تھا مگر اسے پا نہ سکے۔ عمر بھر اس کی آرزو کرتے رہے۔ آخری برسوں میں وہ کوئی مجذوب ڈھونڈا کرتے۔ صاحبانِ سکر میں نہیں‘ وہ اہلِ صحو میں ہوتا ہے۔ درجات علم کے ساتھ ہیں۔ 
حسن نِیّت‘ بنا حسن نِیّت پہ رکھی جاتی ہے۔ اشفاق احمد خان نے عارف سے پوچھا: کیا میں صوفی بن سکتا ہوں؟ ان کا جواب یہ تھا: نہیں خان صاحب! وقت بیت گیا۔ مناسب عمر میں‘ ایک حتمی فیصلہ صادر کرنا ہوتا ہے۔ اس عمر میں اتنی بڑی انا کے ساتھ‘ درویشی کو آپ نہیں پا سکتے۔ ''پھر میں کیا بن سکتا ہوں‘‘۔ انہوں نے پوچھا۔ کہا: ایک اچھے مسلمان! 
تو کیا ایک صوفی‘ اس کے سوا ہوتا ہے‘ اس سے بڑھ کر؟ دنیا سے کنارہ کش؟ جی نہیں‘ کنارہ کش بھی مگر مخلوقِ خدا کے درمیان بھی۔ 
شمع محفل کی طرح‘ سب سے جدا‘ سب کا رفیق 
جنید بغدادؒ کا قول شاید احاطہ کر سکے۔ فرمایا: دنیا کو دل کے دروازے پر بٹھا رکھا ہے۔ جس چیز کی ضرورت ہو‘ ہاتھ بڑھا کے لے لیتے ہیں‘ دل میں داخل ہونے کی اسے اجازت نہیں۔ 
بندگان خدا سے متنفّر اور الگ وہ نہیں ہو سکتا۔ تاریخ اسلام کے چار عارفوں میں سے ایک امام شاذلیؒ نے طنزاً کہا تھا: صوفی بازار نہیں جاتا‘ وہ سوچتا ہے‘ لوگ کہیں گے‘ درویش بازار میں گھوم رہا ہے۔ بیوی کو صوفی ساتھ لے کر نہیں چلتا۔ وہ سوچتا ہے کہ لوگ کہیں گے‘ صوفی کے بیوی‘ بچے ہیں۔ 
انیس برس پہلے‘ مکہ مکرمہ میں‘ پہلی بار‘ جب اس آدمی سے میری ملاقات ہوئی تو اس نے کہا: دست بکار‘ دل بہ یار۔ ہاتھ کار دنیا میں مصروف اور دل دوست کے ساتھ۔ زمین پر ہی وہ بستا ہے۔ دوسروں کی طرح کھاتا پیتا‘ رہتا سہتا ہے۔ زندگی کو مگر آسمان سے دیکھتا ہے۔ ایک بڑی تصویر‘ بہت بڑی تصویر۔ 
عشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سوا 
اور زمانے بھی ہیں‘ جن کا نہیں کوئی نام 
مجدد کی تعریف بھی یہی ہے: ماضی کو جو سمجھتا ہو' حال کو منور کرے اور مستقبل کے لیے اشارات چھوڑ جائے۔ 
ممتاز مفتی نے عارف سے کہا: اللہ کی گود میں ہم بیٹھے تھے‘ آپ نے ہمیں فرشِ خاک پہ لا پٹخا۔ یہی کرتا ہے‘ درویش یہی کرتا ہے؛ اگرچہ پٹختا ہرگز نہیں‘ بانہوں میں اتار لاتا ہے۔ اول فرشِ خاک پہ خود بیٹھتا ہے‘ دوسروں کو پھر بٹھاتا ہے۔ 
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق 
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے 
دے کے احساسِ زیاں تیرا لہو گرما دے 
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے 
اپنے تیکھے کونے وہ گول کرتا رہتا ہے۔ سواں ندی کے پتھر کی طرح۔ کسی نے اس سے کہا: کیسے گول مٹول ہو۔ اس نے کہا: ٹھوکریں بھی تو بہت کھائی ہیں۔ 
بس یہی فرق ہے‘ بے جان پتھر حالات کے حوالے مگر اللہ کا بندہ‘ اپنی آنکھیں کھلی رکھتا ہے۔ اپنے آپ کو وہ خود سنوارتا ہے۔ دوسروں کی نہیں‘ اسے اپنی فکر لاحق ہوتی ہے۔ ملّا اور صوفی کا فرق یہی ہے۔ اپنے سوا‘ ملّا ساری دنیا کی اصلاح کا آرزو مند ہوتا ہے۔ اسی للک میں وہ جیتا اور اسی للک میں ناکام وہ دنیا سے چلا جاتا ہے۔ اس تاریخ ساز‘ سفید ریش آدمی کو میں نے دیکھا‘ 75 برس کی عمر میں‘ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور ان میں گزرے ہوئے زمانوں کی دھول۔ حیرت سے میں نے سوچا: عمر بھر کی کمائی کیا بس اتنی ہی؟ جی ہاں‘ بس اتنی ہی۔ 
صوفی کا دامن لبریز ہے۔ وہ بانٹتا ہے اور بانٹتا رہتا ہے۔ اس کا خزانہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اس کا نہیں‘ یہ پروردگار کا خزانہ ہے‘ اپنا اس کا کچھ بھی نہیں؟ وہ یہ کہتا ہے: ذاتی وصف‘ نہ کوئی ذاتی کارنامہ سبھی کچھ مالک کا۔ 
کانوں کان کسی کو خبر ہونے نہیں دیتا مگر آخر شب لازماً وہ جاگ اٹھتا ہے‘ جس کا باطن‘ اس کے ظاہر سے ہمیشہ اور لازماً بہتر ہوا کرتا ہے۔ اقبالؔ نے کہا تھا۔ 
قلندر جز دو حرف لا الہ کچھ بھی نہیں رکھتا 
فقیہِ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا 
حقیقت یہ ہے کہ لغت ہائے حجازی سے بھی ملّا آشنا نہیں۔ وہ ایک چھوٹی سی دنیا میں جیتا ہے۔ ایک مدرسہ‘ ایک مکتب فکر۔ تقلید اور فقط تقلید۔ قوتِ فکر کو اوائل عمر ہی میں وہ سلا دیتا ہے اور عمر بھر سلائے رکھتا ہے۔ 
حیرت اور رنج کے ساتھ لوگ یہ سوال کرتے ہیں: اس قدر پڑھے لکھے لوگ‘ ڈاکٹر‘ انجینئر‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے استاد‘ مصنف اور مفّکر۔ اتنی سادہ سی بات مگر ان کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی کہ مساجد‘ مزارات اور مارکیٹوں میں بے گناہوں کے چیتھڑے اڑانے والوں کا کوئی رشتہ رحمۃ اللعالمینؐ سے ہو نہیں سکتا۔ نہیں آتی‘ قدیم چینیوں کی طرح‘ جو اپنی خواتین کو خوش قدم رکھنے کے لیے ان کے پائوں میں لوہے کے جوتے پہنایا کرتے‘ مولوی صاحبان سروں کو پہناتے ہیں۔ تازہ ہوا کے ایک جھونکے سے بھی خوف زدہ۔ قدیم قبائلی زمانوں میں وہ جیتے ہیں۔ بندگانِ خدا سے بھی‘ ان کا مطالبہ یہی رہتا ہے مگر اللہ کے بندے گزرے ہوئے کل میں کیسے جی سکتے ہیں؟ ذوقِ پرواز ہے زندگی! 
سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ نے کہا تھا: جس سنت کو اہلِ فسق اختیار کر لیں‘ اس کا ترک‘ اس کے اختیار سے بہتر ہے۔ یہ بھی ارشاد کیا تھا کہ جو تصوف پابندِ شریعت نہیں‘ وہ زندیق تو پیدا کر سکتا ہے‘ مگر صدیق نہیں۔ 
صدیقؓ، سیدنا ابو بکر صدیقؓ پہ‘ وہ نگاہ رکھتے ہیں۔ ایک ایک انداز کی پیروی مگر تخلیقی اندازِ فکر کے ساتھ۔ مولوی صاحب کہتے ہیں: اللہ سے ڈرو۔ صوفی نے کہا: میں تو بالکل نہیں ڈرتا‘ اس سے محبت کرتا ہوں۔ خوف تو تھانیدار کا مار ڈالے‘ اللہ کے خوف میں آدمی کیونکر جیتا رہے گا۔ 
''کمال کرتے ہیں آپ‘ یہ تو قرآن کریم میں لکھا ہے؟‘‘ کہا: بالکل نہیں‘ کتاب میں رقم یہ ہے ''من خاش مقامِ ربّہ‘‘ جو اپنے رب کے سامنے‘ کھڑا ہونے کے تصور سے چوکنا رہا۔ اس تمام رحمت‘ اس تمام کرم سے خوف زدہ کیوں ہوا جائے‘ جو ستر مائوں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ 
آہنگ! کہا: آہنگ‘ شخصیت میں ایک ردھم اور ہم آہنگی پیدا ہونی چاہیے۔ رفتہ رفتہ بتدریج۔ کہا: آدمی میں اتنا ہی اضطراب ہوتا ہے‘ جتنا کہ فطرت کے تقاضوں سے وہ دور ہو اور اتنا ہی اطمینان‘ جتنا کہ ان سے وہ مطابقت پیدا کرے۔ کہا: زندگی اتنی تیز رفتار ہرگز نہیں‘ جتنی کہ اپنی ظاہری ساخت میں وہ دکھائی دیتی ہے۔ اصلاً وہ ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے۔ انسانی جبلتیں کبھی نہیں بدلتیں اور ان کا اندازِ تعامل بھی۔ 
پوچھا کہ کیا عبادت سے اور تسبیحات سے آدمی بدل جاتا ہے۔ فرمایا: بلکہ غورو فکر سے اور توجہات سے۔ فریب ہائے نفس کے ادراک سے اور یہ کار مسلسل ہے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں