نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی : ڈالر تاریخ کی نئی بلند ترین سطح کو چھو گیا
  • بریکنگ :- کراچی : روپیہ 5 ماہ میں 11 فیصد اپنی قدر کھو بیٹھا
  • بریکنگ :- انٹر بینک میں ڈالر 169 روپے 60 پیسے کی ریکارڈ سطح پربند
  • بریکنگ :- کراچی : ایک روز میں ڈالر کی قدرمیں 52 پیسے اضافہ ، ڈیلرز
  • بریکنگ :- کراچی : 5 ماہ میں ڈالر 17 روپے 32 پیسےمہنگا ،ڈیلرز
  • بریکنگ :- اوپن مارکیٹ میں ڈالر 171 روپے 80 پیسے میں فروخت
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

جس کا کام اسی کو ساجھے

فوجی قیادت کو بھی سبق سیکھنا چاہیے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ لغو سیاست ہی بالآخر اچھی سیاست میں ڈھلتی ہے۔ اپنے لوگوں کو انہیں سکھانا چاہیے کہ دنیا کے کسی ملک نے فوجی اقتدار میں ظفر مندی کے مراحل طے نہیں کیے۔ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ 
تصویر کا ایک دوسرا بھی رخ ہے۔ بدقسمتی سے محسوس یہ ہوتا ہے کہ پوری کی پوری سیاست اور صحافت نے یہ رخ دیکھنے سے انکار کر دیا ہے: چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی۔ 
افراد کی طرح اقوام کے بھی مزاج ہوتے ہیں اور ان کی تقدیر کا بہت کچھ انحصار اس پہ ہوتا ہے۔ اچھی طرح سے یاد ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسلام آباد کا تماشا برپا کیا تو کینیڈا میں ان کے قیام کا حوالہ دے کر‘ دوہری شہریت کی بحث چھیڑ دی گئی۔ مقصود ایک آدمی کی مذمت تھی مگر دل تمام پردیسی پاکستانیوں کا دکھایا گیا۔ دلائل کی کچھ کمی نہ تھی۔ ہمارا قومی انداز مگر یہ ہے کہ فریقِ معتوب کے خلاف حقیقی الزامات تک محدود نہ رہا جائے۔ طاہرالقادری کے باب میں اوّلین سوال یہ تھا کہ ان کے پاس اتنا روپیہ کہاں سے آیا۔ عقیدت سے مغلوب ان کے مرید سرما کا عذاب سہنے کی ہمت ضرور رکھتے تھے مگر ایک ارب روپے عطیہ کرنے کے قابل نہ تھے۔ ثانیاً‘ کم سن بچوں اور بوڑھوں تک کو موسم کے رحم و کرم پر انہوں نے چھوڑ دیا تھا۔ ثالثاً‘ پندرہ بیس ہزار کے مجمع کو‘ دس پندرہ لاکھ ثابت کرنے پر وہ تلے تھے۔ 
کھلی آنکھوں سے یہ سب کچھ اللہ کی مخلوق دیکھ رہی تھی۔ اخبار نویسوں کو معلوم تھا کہ منت سماجت کے باوجود جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے ان کی مدد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایسے میں دوہری شہریت پر اظہارِ نفرت کرنے کی ضرورت 
کیا تھی؟ طرفہ تماشا یہ کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بھی مصرع اٹھا لیا۔ اب اللہ دے اور بندہ لے۔ کسی کو یاد نہ رہا کہ سمندر پار پاکستانی‘ ہمارا کتنا بڑا اثاثہ ہیں۔ اگر کبھی اس ملک کی تعمیر ہوئی تو شاید وہ اس کا سب سے بڑا ذریعہ ہوں گے۔ دوری محبت کو بھڑکاتی اور گاہے صیقل کر دیتی ہے۔ پھر یہ کہ قانون کی بالاتری میں جیتے منظم معاشروں کے وہ تربیت یافتہ ہیں۔ 
یاد ہے کہ ان دنوں بیرون ملک سے بات کرنے والا ہر دوسرا پاکستانی‘ اس طرزِ عمل پر رنج کا اظہار کرتا۔ ان کی سمجھ میں یہ نہ آتا تھا کہ کریں تو وہ کیا کریں۔ 
یوں تو اللہ کے فضل سے‘ کوئی بھی حکومت ہم ایسوں کو کبھی گوارا نہ کر سکی مگر جنرل پرویز مشرف ناچیز سے کچھ زیادہ ہی ناراض تھے۔ پی ٹی وی سے براہ راست نشر ہونے والی ایک پریس کانفرنس کے ہنگام ناچیز ان کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوا تھا۔ پھر یہ کہ مارشل لاء نافذ کرنے کا کارنامہ آنجناب نے انجام دیا تھا اور اب اس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ پنجابی کا محاورہ یہ ہے: جو گاجریں کھائے گا‘ اس کے پیٹ میں درد تو بہرحال اٹھے گا۔ 
معاملے کا مگر ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے نام پر فوج کی مذمت کا سلسلہ۔ وہ بھی اس وقت جب سیاچن ہی نہیں‘ قبائلی علاقوں میں‘ اس کے جوان اور افسر سر ہتھیلیوں پہ لے کے کھڑے ہیں۔ لگ بھگ چھ برس سے‘ عسکری اداروں کے بارے میں‘ یہ ناچیز لکھ رہا ہے۔ راولپنڈی میں قیام کے سبب‘ فوجی افسروں سے ملاقات رہی۔ رفتہ رفتہ اس موضوع میں دل چسپی بڑھتی گئی۔ آغاز درحقیقت 1991ء میں ہوا تھا۔ اوّل میجر عامر اور جنرل حمید گل کی وجہ سے۔ میں نے محسوس کیا کہ ہم اخبار نویس‘ ان اداروں کی تشکیل کو سمجھتے نہیں۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کے طفیل‘ رفتہ رفتہ میرے لیے آسانی پیدا ہوتی گئی کہ افواج کے باطن میں جھانک سکوں۔ طعنہ مجھے سننا پڑتا ہے مگر جو طعنے کی وجہ سے‘ اپنا مؤقف ترک کر دے‘ بزدل ہی نہیں‘ وہ احمق بھی ہوتا ہے۔ زندگی کے بعض پہلو عجیب ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ بہترین انسانوں کو بدترین الزامات سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہم ان کے قدموں کی خاک بھی نہیں‘ پیغمبرانِ عظام پہ تہمتیں لگائی جایا کرتیں۔ انگریز فلسفی نے یہ کہا تھا: اگر اپنی محبت پہ تم فخر نہیں کرتے تو تم ایک مردہ آدمی ہو۔ 
سیاست میں افواج کی مداخلت اتنا سادہ سا مسئلہ نہیں‘ جو بعض اخباری تحریروں میں نظر آتا ہے یا بعض سیاسی کارکن اور ٹی وی میزبان‘ جس انداز میں بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سامنے کی اس دلیل کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ فوجی مداخلت کا ایک بڑا سبب سول اداروں کی ناکامی ہے۔ کیا یہ پہلو تعجب خیز نہیں کہ پاکستانی عوام نے ہر بار مارشل لاء کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ صدر زرداری کے دور میں‘ جب بھی افواہ اڑتی ہمیشہ ہم ایک سرسری سا سروے کرنے کی کوشش کرتے۔ عام لوگوں میں تائید غیر معمولی ہوتی۔ اس سے بھی زیادہ تعجب خیز یہ کہ فعال طبقات میں‘ بعض نمایاں لوگ تک برسرِ عام ایک اور تنہائی میں یکسر دوسرا موقف اختیار کرتے۔ انہی دنوں جنرل اشفاق پرویز کیانی سے پوچھا: فوج کی مقبولیت کا گراف کیا ہے؟ بولے: سوال کرنے والوں نے اب یہ سوال کرنا ہی چھوڑ دیا۔ غالباً ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ مقبولیت کے اعتبار سے سیاسی حکومت کا حال بہت پتلا ہے۔ شائستہ آدمی ہیں۔ صاف الفاظ میں یہ بات کبھی نہ کہتے۔ اب بھی سیاست پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ عزیزم بلال الرشید مجھے ان کے ہاں سے لینے آئے تو جنرل صاحب نے چائے کی ایک پیالی کے لیے روک لیا۔ ازراہ شفقت یہ بھی کہا کہ وہ اس کا کالم پابندی سے پڑھتے ہیں۔ نوجوان آدمی نے پے در پے سوال داغے تو وہ مسکرائے اور یہ کہا: اچھا! تو آپ اخبار نویس ہیں۔ وہ پہلے ہی مجھ سے نالاں تھے کہ کریدنے سے باز نہیں آتا۔ میری طرف انہوں نے اشارہ کیا کہ تمہارے والد ہی کافی ہیں۔ 
دوسرے عوامل بھی کارفرما تھے‘ خاص طور پر آزاد میڈیا اور سول سوسائٹی کہ ملک مارشل لاء سے محفوظ رہا اور محفوظ ہی رہنا چاہیے مگر خود جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی ایک بڑا سبب تھے۔ وہ ایّام ان کے ذہن سے کبھی محو نہ ہوئے‘ جب پاک فوج کے افسر وردی پہن کر بازار میں جا نہ سکتے تھے۔ جب بھی اس موضوع پر سوال کیا جاتا تو ان کا جواب یہ ہوتا: مارشل لاء کے نفاذ سے اتنے مسائل حل نہیں ہونے‘ جتنے کہ پیدا ہو جاتے ہیں۔ 
جیسا کہ عرض کیا‘ سیاستدانوں کی بے حسی اور بددیانتی سے اکتائی ہوئی قوم ہمیشہ فوج کا خیرمقدم کرتی ہے۔ اس لیے کہ وہ کسی بھی دوسرے ادارے سے بہتر ہے۔ سچ پوچھیے تو ملک میں ایک ہی سرکاری ادارہ ہے اور وہ مسلح افواج ہیں۔ پیپلز پارٹی ہو یا نون لیگ‘ انہوں نے پولیس کو کبھی پولیس بننے دیا اور نہ عدالت کو عدالت۔ وہ سول سرونٹس کو کام کرنے دیتے ہیں اور نہ ٹیکس جمع کرنے والوں کو۔ پارٹیاں نہیں یہ قبائلی لشکر ہیں۔ ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے آپ کو میاں محمد نواز شریف یا آصف علی زرداری کا مرہونِ منت ہونا پڑتا ہے۔ تحریک انصاف میں تماشا اور طرح سے ہوتا ہے۔ اکثر بھائو تائو سے... اور اس میں سے ایک دھیلا بھی کپتان تک نہیں پہنچتا۔ 
جنرل پرویز مشرف کے مقدمے پر انشاء اللہ الگ سے عرض کروں گا‘ فی الحال وہی بات: دنیا کا یہ واحد ملک ہے‘ جہاں قومی سلامتی پر اس بے رحمی سے‘ مسلسل اور متواتر‘ بے باکانہ گفتگو ہوتی ہے۔ شدید رنج کے عالم میں فوجی افسروں کو میں یہ کہتے ہوئے سنتا ہوں: ہر روز شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک‘ ایک توہین آمیز طرزِ عمل۔ المیہ یہ ہے کہ بڑھ چڑھ کر بولنے والے اکثر وہ جن کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں اور جن کا طرزِ زندگی ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا۔
فوجی قیادت کو بھی سبق سیکھنا چاہیے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ لغو سیاست ہی بالآخر اچھی سیاست میں ڈھلتی ہے۔ اپنے لوگوں کو انہیں سکھانا چاہیے کہ دنیا کے کسی ملک نے فوجی اقتدار میں ظفر مندی کے مراحل طے نہیں کیے۔ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں