نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی اتحادیوں سےملاقات
  • بریکنگ :- صوبائی وزراطارق مگسی،ضیالانگواورسلیم کھوسہ موجود
  • بریکنگ :- کوئٹہ:ملاقات میں رکن اسمبلی مسعودلونی،گہرام بگٹی بھی موجود
  • بریکنگ :- سینیٹرسرفرازبگٹی،دنیش کمار،رکن قومی اسمبلی اسرارترین بھی موجود
  • بریکنگ :- کوئٹہ:ملاقات میں موجودہ صوبائی سیاسی صورتحال پرمشاورت
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

نہیں‘ خدا کی قسم ہرگز نہیں

نہیں‘ بخدا اس قوم پر نجات کی سویر طلوع نہیں ہو سکتی جو زمین پر رینگ رینگ کر زندگی کو پا لینے کی کوشش کرتی ہے اور آسمان کی رفعت سے کبھی حیات کے تنوّع کونہیں دیکھتی۔ اپنے دست و بازو پر بھروسہ نہیں کرتی جو خود کو شعبدہ باز‘ نعرہ فروش اور ریاکار لیڈروں کے رحم و کرم پہ رکھتی ہے ۔ 
علالت میں مگر اذیت کی ایک لہر ہے کہ جب تک الفاظ میں ڈھل نہ جائے! ماتم گسار اسد اللہ خان غالب نے فریاد کی تھی ؎ 
نادیدنی کی دید سے ہوتا ہے خونِ دل 
بے دست و پا کو دیدۂ بینا نہ چاہیے 
دیدۂ بینا تھا نہیں‘ بس درد کی ایک کاسنی چادر ہے جو کراں تابہ کراں تنی ہے اور جس کے آخری سرے پر روشنی کی کوئی کرن نہیں۔ سونے کی کوشش کر رہا تھا ۔ پھر ٹیلی فون کی سکرین چمک اٹھی اور اس پر ڈاکٹر امجد ثاقب کا پیغام: 
''اخوت کے رضاکاروں نے کل لاہور کے بارش سے مارے نشیبی علاقوں میں کھانے کے 7000 پیکٹ تقسیم کیے۔ ان گلیوں میں جہاں چار سے پانچ فٹ پانی کھڑا ہے اور گھروں میں کھانا پک نہیں سکتا۔ بعض معصوم بچے ا ور بزرگ خواتین اٹھارہ گھنٹے سے بھوکے تھے۔ انشاء اللہ آج بھی اتنے ہی پیکٹ بانٹے جائیں گے۔ ایک دیگ پہ چار ہزار روپے صرف ہوتے ہیں‘‘۔ــ 
آدھی رات تک میں ان دو عظیم چودھریوں‘ راجپوتوں کے سردار‘ نثار علی خا ن اور جاٹوں کے پیشوا اعتزاز احسن کے مچیٹے کا پس منظر معلوم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ان المناک ایام میں جب اٹھارہ کروڑ انسانوں کا مستقبل عمران خان اور علامہ طاہرالقادری کے دھرنوں کے طفیل سولی پر ٹنگا ہے‘ ملک کے دو عظیم ترین خطیبوں پر کیا بیتی ہے؟ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ اعتزاز احسن نے چودھری پر 
جملہ چست کیا کہ وہ اور ان کے مرحوم بھائی 1999ء میں مارشل لاء کے ذمہ دار تھے۔ کیا وہ واقعی تھے؟ اگر تھے تو شریف برادران اب تک انہیں گود میں کیوں اٹھائے پھرتے ہیں؟ روٹھ جائیں تو منانے کیوں دوڑتے ہیں؟ نثار علی خان نے جنرل پرویز مشرف کا اقتدار مستحکم کرنے میں مدد دی تھی یا دختر مشرق بے نظیر بھٹو نے برطانوی وزارت خارجہ اور امریکیوں کے ایما پر ان سے خفیہ سودے بازی کی تھی؟ بیرسٹر صاحب کو اس وقت کابینہ میں ردوبدل کی کیا سوجھی‘ جب اقتصادی اور سیاسی طور پر ملک ڈوب رہا ہے۔کیا حکمران طبقات کو فقط اپنی ہی فکر لاحق ہے ؟ ؎
غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر 
محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے 
یہی شعر انہوں نے پڑھا؟ سینکڑوں بار پڑھ چکے اور اکثر بے محل۔بادشاہ چودھری نثار علی خان نہیں‘ میاں محمد نوازشریف ہیں۔ ان کے دربار میں بیرسٹر صاحب اور خورشید شاہ صاحب ہی مؤدب نہیں بلکہ ان کے آقا ایشیائی نیلسن منڈیلا‘ جناب آصف علی زرداری بھی۔ انہوں نے سچ کہا ، میاں صاحب پر انہوں نے کوئی احسان نہیں کیا۔ پانچ برس پہلے نواز شریف ایسی ہی عنایت پیپلز پارٹی پہ فرما چکے ۔پیر پگارا مرحوم کے ایما پر جب لیگوں کا اتحاد بنا کر زرداری صاحب کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا منصوبہ تھا۔ وہ ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں ۔ 
ہاں! بیرسٹر نے ٹھیک کہا کہ پوٹھوہار کو ایک نوابی ریاست (Fiefdom) بنا رکھنے کے آرزو مند‘ نثار علی خان پٹواری رکھتے ہیں‘ تحصیلدار اور ان کا تقرر کرنے والے ایک شیخ صاحب۔ ہم اس شہر کے مکین ان سے خوب واقف ہیں اور ان کے کارناموں سے بھی۔ یہ صداقت تو مگر گزرے ہوئے بے شمار دنوں میں اظہرمن الشمس تھی اور اب تو کجلا بھی چکی۔ اب تو حمزہ شہباز کا دخل بھی ہے‘ حتیٰ کہ حنیف عباسی کا ۔ اعتزاز احسن خوب جانتے ہیں کہ حنیف عباسی کے کارنامے کیا ہیں اور اس کا مربّی کون ہے۔ پوٹھوہار بلکہ پورے ملک میں اس طرح کے تمام نادر روزگار رہنمائوں کا۔ خود چودھری صاحب کو بھی اس سے نیاز حاصل ہے۔ چودھری نثار اگر پٹواریوں‘ تھانیداروں اور تحصیلداروں کے امام ہیں تو خود بیرسٹر صاحب کا عالم کیا ہے؟ کیا وہ کبھی کسی لینڈ مافیا کے وکیل نہیں رہے؟وہ اور ان کے کئی ہم نفس؟ کاش کوئی بچہ اس ایوان میں موجود ہوتا۔کاش کوئی بادشاہ کو ننگا کہتا۔ کاش کوئی وہ گھسا پٹا شعر ہی پڑھ دیتا ؎ 
اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت 
دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بندِ قبا دیکھ 
کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ گیس کا کوٹہ واقعی انہوں نے لیا تھا ۔ کیا یہ بھی واقعہ نہیں کہ کراچی سے لے کر نیویارک کے ساحل تک‘ کبھی وزارت عظمیٰ کا خواب وہ بھی دیکھتے پھرے تھے؟ صرف وہی دو لیڈر نہیں‘ جن کا ذکر خورشید شاہ صاحب نے کیا تھا‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ جن کے مزاج کی گھن گرج‘ رقّت اور زورِ خطابت میں اضافہ ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ زود رنج اور غصہ ور چودھری نثار پر یلغار کا حکم جناب زرداری نے صادر کیا ہو‘ سواں کا چودھری‘ جن کی جماعت کو حلیف بنانے کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا؟ وہی زرداری صاحب جن کے محلات فرانس اور برطانیہ میں واقع ہیں اور یہ انکشاف 1995ء کی ایک سویر ایک دن میاں محمد نوازشریف نے اسی پارلیمان میں کیا تھا۔ وہی نوازشریف مغرب میں جن کے قصر و ایوان شاید اب جناب زرداری سے بھی زیادہ ہیں۔ اب دونوں پہ بیرسٹر صاحب کی غیرت کیوں نہیں جاگتی ؟ میاں صاحب کے بارے میں ابھی پچھلے دنوں انہی نے ارشاد کیا تھا کہ تین سال میں 492روپے انکم ٹیکس عالی جناب نے ادا کیا۔ 
اپنی توہین پر بیرسٹر صاحب کی برہمی بجا مگر پاکستانی عوام کی پیہم تذلیل پر ان کا دل کیوں نہیں دکھتا؟ پھر نوازشریف انہیں اس قدر عزیز اور نثار علی خان اس قدر ان کے معتوب کیوں ہو گئے؟ وکیل صاحب اگر برا نہ مانیں تو کیا یہ ناچیز انہیں یاد دلانے کی زحمت کر سکتا ہے کہ جس شام میاں صاحب نے قومی اسمبلی کے ایوان میں سرے محل کے کاغذات لہرائے تھے‘ صرف دو سو گز ادھر‘ جہاں اب کپتان کا ڈیرہ ہے‘ اس حقیر سے اتفاقاً ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ اگر حلف روا ہے اور اگر قسم قابلِ قبول ہے تو یہ عامی وہیں‘ اسی مقام پر اپنی جان کی سوگند کھا کر وہ جملہ دہرا سکتا ہے‘ اس شام جو بیرسٹر صاحب نے محترمہ کے بارے میں ارشاد کیا تھا‘ اجازت ہے بیرسٹر صاحب؟ 
اس خدا کی قسم‘ جس کے قبضۂ قدرت میں انسانوں کی جان اور آبرو ہے‘ ان سب کے لیے ،زرداریوںاور شریفوں کے لیے ملک اور قوم بالکل ثانوی ہیں بلکہ بے معنی۔ ان کی اپنی اپنی ذات ہی ان کا وطن ہے۔ ان کی اپنی اپنی شخصیت ہی ان کے لیے قوم‘ ملک اور وہ لایعنی نظام جسے وہ ''جموریت‘‘ کہتے ہیں۔ جموریت پہنو، جموریت اوڑھو، جموریت کو شہد لگا کے چاٹو۔ 
کیا حسن نثارکو وہ دن یاد ہے ؟ اس دوپہر وہ وہاں موجود تھا‘ جب کھانے کی میز پر‘ وہ زود حس آدمی‘ میاں اظہر رو پڑا تھا۔ میاں محمد نوازشریف اس پہ برہم تھے اور اپنا منصب اس نے تیاگ دیا تھا۔ تب بھی برکھا اسی طرح ٹوٹ ٹوٹ کر برس رہی تھی‘ تب بھی نشیبی لاہور کی گلیاں اسی طرح گندے پانی سے بھری تھیں۔ تب بھی گھروں میں بھوک ناچ رہی تھی اور دلوں پرخوف کے کالے سائے حکمران تھے۔ اپنے آنسو تھام کر اس نے کہا تھا ''ان کی بیٹیوں کی باراتیں‘ ان کی گلیوں سے واپس لوٹ جاتی ہیں‘‘ پھر اس نے پوچھا تھا: آخر کیوں؟ اس کے ملاقاتیوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب تھا اور نہ اس کے پاس۔ بیرسٹر سیانا نکلا جو حارث سٹیل مل والوں کے مقدمات لڑتا ہے ۔ 
نہیں‘ بخدا اس قوم پر نجات کی سویر طلوع نہیں ہو سکتی جو زمین پر رینگ رینگ کر زندگی کو پا لینے کی کوشش کرتی ہے اور آسمان کی رفعت سے کبھی حیات کے تنوّع کونہیں دیکھتی۔ اپنے دست و بازو پر بھروسہ نہیں کرتی۔ جو خود کو شعبدہ باز‘ نعرہ فروش اور ریاکار لیڈروں کے رحم و کرم پہ رکھتی ہے ۔ 
پسِ تحریر: چودھری نثار نے اچھا کیا کہ بحران کو ٹال دیا وگرنہ پیپلز پارٹی والوں نے لٹیا ڈبونے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی ۔ چودھری صاحب کسی دن مگر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے یہ تو پوچھیں کہ کیا ان کی حیران کن صلاحیتوں کا معبد شریف خاندان ہی کو ہونا چاہیے؟ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں