نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بہترین فوج اورانٹیلی جنس آلات سےدہشتگردی کو شکست دی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- افغان حکومتیں اپنے شہریوں کی نظروں میں مقام پیدا نہ کرسکیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- یہی وجہ تھی کوئی بھی ناکام افغان حکومت کیلئےلڑنےکوتیارنہیں تھا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کیا افغان فورسزکےہتھیارڈالنےپرپاکستان کوموردالزام ٹھہرایاجاسکتا؟وزیراعظم
  • بریکنگ :- حقیقت تسلیم کرنےکےبجائےافغان اورمغربی حکومتوں نے پاکستان پر الزام لگایا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پاکستان پرالزام لگانےکیلئےبھارت سےمل کرجعلی خبریں چلاتے رہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- الزامات کےباوجود پاکستان نے سرحد کی مشترکہ نگرانی کی پیشکش کی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- محدود وسائل کےباوجودافغان سرحد پرباڑلگائی،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کا امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں مضمون
  • بریکنگ :- دہشتگردی کےخلاف جنگ اپنی بقا کے لیےلڑے ،وزیراعظم
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

کاروبارِ منافقت

مدتوں سے ان کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے۔ معلوم نہیں کب تک ہوتا رہے گا۔ لیڈروں کی جیب میں پڑی ہوئی پارٹیاں اور ان کا طواف کرتے ابن الوقت... کاروبارِ منافقت!
بالآخر چار دن کے بعد ایسا ایک آدمی مل گیا جس نے کہا کہ جاوید ہاشمی جیت جائیں گے۔ حیرت کی بات یہ کہ اس کا تعلق تحریک انصاف سے تھا۔ عامر ڈوگر پہ اسے اعتراض تھا اور یہ قابل فہم تھا۔ اعتراض انہیں بھی تھا جوق در جوق جو پیپلز پارٹی کے سابق لیڈر کو ووٹ ڈالنے آئے۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ امیدوار کے نہیں‘ وہ عمران خان کے حامی ہیں۔ شہر کے پولنگ سٹیشن پر 20 سالہ جہانگیر نے مجھے سمجھایا کہ لیڈر کا ایماندار ہونا غنیمت ہے۔ اس نے ایف اے کا امتحان پاس کیا ہے اور بے روزگار ہے۔ اس کی بات میں توجہ سے سنتا رہا۔ آخرکار وہ لمحہ آ گیا جس کا انتظار تھا۔ جذبات سے کانپتی آواز میں وہ بولا، اگر کپتان نے اپنے وعدے پورے نہ کیے تو اس کا انجام دوسروں سے بدتر ہو گا۔ شاہ محمود کے بارے میں اس کی رائے وہی تھی، جو نون لیگ کے کسی ووٹر کی۔ دلیل اس کی یہ بھی تھی کہ عمران خان کی کامیابی سے کچھ نہ کچھ امید تو وابستہ کی جا سکتی ہے۔ ''25,20 فیصد ہی سہی‘‘۔ یہ پاکستان کی نئی نسل ہے۔ جذبات میں کھولتی مگر نسبتاً زیادہ ادراک کی حامل۔
پولنگ سٹیشنوں پر عامر ڈوگر کے حامیوں کی تعداد کہیں دس فیصد زیادہ تھی اور کہیں پچاس فیصد پیپلز پارٹی کے کیمپ ویران تو نہیں تھے مگر تعداد اور بھی کم ۔ طاہر رشید کہیں موجود تھے‘ کہیں ناموجود۔
پائلٹ سکول میں جاوید ہاشمی کے پولنگ ایجنٹ سے پوچھا کہ اب تک اس نے کتنی پرچیاں کاٹی ہیں۔ ''صرف ایک‘‘ اس نے کہا اور فوراً ہی اضافہ کیا، باقی لوگ دوسری طرف جا رہے ہیں۔ اس کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا اور وہ غمزدہ تھا۔
نون لیگ کے جن اکا دکا حامیوں سے ملاقات ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ مقابلہ سخت رہے گا۔ ان میں سے ایک نے بھی فتح کا دعویٰ نہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ لاہور سے آنے والی نون لیگ اور سرکاری افسروں کی ٹیم نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے ایما پر جو بے تکان جدوجہد کی‘ اس کے نتیجے میں جاوید ہاشمی کی پوزیشن قدرے بہتر ہوئی ہے۔ ایک دانا آدمی نے اخبار نویس سے یہ کہا: نتیجہ اخذ کرنے میں جلدی نہ کرو، عام لوگ گاہے اپنے جذبات اِخفا میں رکھتے ہیں۔ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ عمران خان کا جلسۂ عام اور اس کے حامیوں کا جوش و خروش مغالطہ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ رائے ان کی بھی یہی تھی کہ عامر ڈوگر کو قدرے برتری حاصل ہے مگر یہی دس پندرہ فیصد یعنی سلیقہ مندی کے ساتھ مہم چلائی جائے تو صورت حال بدل بھی سکتی ہے۔ 
ملتان کے لوگ اس شخص سے کیوں ناراض ہیں؟ جنوبی پنجاب میں، جو سب سے زیادہ قدرآور شخصیت ہے۔ اگر وہ الیکشن میں حصہ نہ بھی لیتا تو عامر ڈوگر سے اس کی قدوقامت کہیں زیادہ رہتی، حتیٰ کہ ہار جانے کے بعد بھی؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسی سبب سے جس کی بنا پر باقی سارے ملک والے۔ چھوٹی چھوٹی بہت سی باتیں ہیں۔ مثلاً یہ کہ دونوں بار جب اسے حلقہ 149 کی نمائندگی کا اعزاز بخشا گیا‘ تو وابستہ رہنے کی بجائے اس نے علیحدگی اختیار کر لی۔ ایک بار کسی دوسرے حلقہ کو ترجیح دی اور اب کی بار دوسری مرتبہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا کہ تحریکِ انصاف کے احسان کا بوجھ اتار پھینکے۔ مثلاً یہ کہ عامیوں کا لیڈر کے ساتھ رابطہ سہل نہیں۔ یہ بھی کہ وہ کسی کے ذاتی کام میں دلچسپی نہیں لیتا۔ اکثر ٹال مٹول۔ آخری تجزیے میں مگر ان سب چیزوں کی بنیادی اہمیت نہیں۔ جس نکتے پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنی پارٹی سے اس نے بے وفائی کا ارتکاب کیا۔ جاوید ہاشمی کا لہجہ شائستہ رہا۔ عمران خان کی ذات پر تنقید سے اس نے گریز کیا۔ اس کے باوجود اہل ملتان اس قدر کیوں برہم تھے؟ سامنے کی بات یہ ہے کہ شہری آبادی، خاص طور پر مڈل کلاس کے لوگ شریف حکومت سے ناخوش ہیں اور بُری طرح ناخوش۔ بدامنی، بے روزگاری، گیس اور بجلی کا قحط سب سے بڑھ کر شاید پچھلے ماہ پیش آنے والا واقعہ، جب بجلی کے غیر متوقع بل موصول ہوئے۔ سٹپٹائے ہوئے لوگ، حکمرانوں کو سبق سکھانے کے آرزومند ہیں۔ 1970ء کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں جیالوں نے ایک طوفان اٹھا دیا تھا اور ایک پوری فصل ان کی اُگ آئی تھی، تحریک انصاف نے کتنے باغیوں کی ایک پوری کھیپ کو جنم دیا ہے۔ ان سب کے مقابلے میں ایک اکیلا باغی کیا کرے گا اور وہ بھی ایسا لوگوں میں جو گھلنے ملنے کا عادی نہیں‘ جو ان کے اور اپنے درمیان ایک معقول فاصلہ اکثر برقرار رکھتا ہے۔
ہولناک کرپشن کے قصے اپنی جگہ، حیران کن انکشاف یہ تھا کہ اس شہر میں اگر کوئی باقاعدہ گروپ ہے تو وہ یوسف رضا گیلانی کا۔ شاہ محمود اور جاوید ہاشمی مستقل ساتھیوں کا کوئی بڑا اثاثہ نہیں رکھتے۔ پیپلز پارٹی اس نواح میں نامقبول نہ ہو گئی ہوتی تو شاید گیلانی صاحب کرشمہ کر دکھاتے۔ میٹھا بول بولنے اور حریفوں تک کو گوارا کرنے والا آدمی جو سر تا پا سیاستدان ہے۔ جاوید ہاشمی کے ایک ساتھی نے تاسف کے ساتھ کہا: ہم نے ان سے گزارش کی کہ حالات سازگار نہیں۔ مزید برآں یہ کہ عامر ڈوگر ایسے امیدوار کے مقابل آپ کو ہرگز نہ اترنا چاہیے۔ وہی بات جو کل اس کالم میں عرض کی تھی۔ تحریک انصاف سے مستعفی ہو کر اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق انہیں چین چلے جانا چاہیے تھا۔ حالات کا وہ ادراک نہ کر سکے۔ ان کے اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اس میں ان کی مجبوریوں کا دخل تھا۔ ان لوگوں کا استدلال یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں جاوید ہاشمی کا یہ اعلان کہ نواز شریف ان کے لیڈر تھے اور ہمیشہ رہیں گے، ایک جذباتی جملہ نہیں‘ سوچا سمجھا اظہارِ خیال تھا۔ حکومت کو وہ مشتعل کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ایک متروک سینما کی عمارت کے سامنے ان کے ایک قدیم رفیق نے گاڑی روکی اور دعویٰ کیا کہ یہ ان کی جائیدادوں میں سے ایک ہے، جنہیں وہ خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ اللہ جانے ان کی بات میں کتنی صداقت ہے مگر، سوال یہ ہے کہ عامر ڈوگر کیا فرشتہ ہیں؟ فرشتہ نہ سہی، ذاتی کردار میں کیا جاوید ہاشمی سے بہتر ہیں؟
عامر ڈوگر پہ عائد کیے جانے والے الزامات سنگین تر ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک مافیا کے سربراہ ہیں، جو بھتہ خوری کا مرتکب ہے اور پیہم مرتکب ۔ مکرر عرض ہے کہ مسافر اس کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتا۔ ان کا تاثر بہرحال بے حد خراب ہے۔ ملتان کے چہار روزہ قیام کے دوران صرف ایک شخص کو ان کی تعریف کرتے سنا۔ ڈوگر بھائی کا ڈیرہ ہمیشہ آباد رہتا ہے۔ آپ چاہیں تو ابھی وہاں تشریف لے جائیں۔ پھر اس نے ڈیرے پر ٹیلی فون کیا اور بتایا کہ مجلس برپا ہے۔ اگر میں تھکان سے نڈھال نہ ہوتا تو ضرور وہاں جاتا اور فوراً ہی۔
ایک اعتبار سے یہ تین پارٹیوں کا تصادم تھا اور ایک لحاظ سے تین شخصیات کا، جاوید ہاشمی، یوسف رضا گیلانی اور شاہ محمود قریشی۔ تحریک انصاف سے وابستہ ہوئے شاہ محمود کو چند دن ہی گزرے تھے جب عمران خان کو میں نے بتایا کہ وہ پارٹی میں اپنا دھڑا بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ میرا اندازہ غلط نکلا۔ اب وہ پوری کی پوری پارٹی اغوا کرنے کی فکر میں ہے۔ چیئرمین سمیت۔
نظریات اور اصولوں کی نہیں، اوپر سے نیچے تک یہ ذاتی مفادات کی جنگ ہے۔ جذبات کے مارے عامی جس کا ایندھن ہیں ؎
چمن کے رنگ و بو نے اس قدر دھوکے دیے مجھ کو
کہ میں نے ذوقِ گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی
مدتوں سے ان کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے اور معلوم نہیں کب تک یہی ہوتا رہے گا۔ لیڈروں کی جیب میں پڑی ہوئی بھری پارٹیاں اور ان کا طواف کرتے ابن الوقت... کاروبارِ منافقت!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں