Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے

نتیجہ خیز مذاکرات کی بہرحال دو شرائط ہو اکرتی ہیں ۔حسنِ نیت اور ایک ایک نکتے پہ خوش دلی سے عرق ریزی۔ وگرنہ وہی بات ، جو حافظؔ نے کہی تھی ؎ 
پئے مشورت مجلس آراستند
نشستند و گفتند و برخاستند
کیا تحریکِ انصاف اور شریف حکومت ایک بار پھر مذاکرات کا آغاز کرنے والے ہیں ؟ ڈاکٹر عارف علوی نے پوچھا ہے کہ دعوت دینا مقصود ہے تو میڈیا کے ذریعے کیوں ؟ وہ بھی پرویز رشید کے ذریعے ۔ جملے بازی کرنے، بھد اڑانے، اور طنز و تحقیر کے ذریعے بات کا رخ پھیرنے (Twist)کے عادی شخص کے ذریعے ؟ 
وفاقی وزیرِ اطلاعات کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ سرکاری اور قومی پالیسیوں کے بارے میں ، وہ بین الاقوامی اور قومی پریس کی رہنمائی کرے ۔ کیا پرویز رشید اس کے اہل ہیں ؟ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف کا خیال یہ ہے کہ خوشامد کے سو اوہ کوئی ہنر نہیں رکھتے ۔ ان کا بس چلے تو ایک دن کے لیے بھی موصوف اس منصب پر فائز نہ رہیں ۔ خیر ان کا بس چلتا تو فوج سے غیر ضروری محاذ آرائی بھی نہ ہوتی اور وہ بہت سے احمقانہ اقدامات بھی ، جن میں سترہ ماہ ضائع کر دیے گئے ۔ مراد یہ نہیں کہ ہر معاملے میں ان کی رائے درست ہے ۔ اس پر مگر انہیں اصرار رہتاہے کہ حکومتی توانائی غیر ضروری طور پر ضائع نہ کی جائے۔ 
مذاکرات ٹوٹنے کا ذمہ دار کون ہے ؟ ہنگامہ شروع ہونے کے بعد سراج الحق متحرک ہوئے ۔ عمران خان سے انہوں نے کہا : جن لوگوں کی حوصلہ افزائی سے آپ نے یہ جوا کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے ، ہمیں ان کا خوب تجربہ ہے ۔ ممکن ہے کہ یکایک وہ پیچھے ہٹ جائیں۔ پھر آپ کیا کریں گے ؟ عمران خان آمادہ ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر دس حلقے عوامی نمائندوں اور میڈیا کے کیمروں کے سامنے کھول دیے 
جائیں تو بات چیت کے لیے وہ تیار ہیں ۔ انہی دنوں امیرِ جماعت اسلامی نے مجھ سے پوچھا: کیا عسکری قیادت دھرنے والوں کی پشت پناہ ہوگی ؟ عرض کیا: جہاں تک میں سمجھ سکتا ہوں ، جنرل راحیل شریف تو ہرگز نہیں... اور فیصلہ انہی کو کرنا ہوتاہے ۔دہشت گردی کا خاتمہ ہی ان کی اوّلین ترجیح تھا۔ برسوں اس موضوع پر و ہ غور و فکر کرتے رہے ۔ یہ وہی تھے، جنہوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ملک کودرپیش داخلی مسئلہ خارجی خطرے سے کہیں بڑا ہے ۔ 
نا قابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیرِ اعظم کے استعفے کی تاریخیں کیوں دینے لگے ؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی ۔ بلااستثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔کئی دن بعد البتہ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی ۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں ۔وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے ۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا ۔ وہ دلوں کے بھید جانتا ہے ۔ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی ۔ کپتان اگر انہی لوگوں کے زیرِ اثر رہا ، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے ع 
خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبتِ زاغ
دوسری طرف حکومت بھی مذاکرات کے لیے کبھی یکسو نظر نہ آئی۔ الیکشن میں دھاندلی ثابت کرنے کی ساری ذمہ داری اس نے تحریکِ انصاف پر عائد کر دی ۔ ہاں! ہاں ! بارِ ثبوت مدعی پر ہوتاہے لیکن جب معاملہ اس قدر پیچیدہ ہو جائے تو صاحبِ معاملہ نہیں ، فیصلہ ثالث یا عدالت کو کرنا ہوتاہے ۔
ٹھیک اس مرحلے پر آرمی چیف نے مداخلت کی۔ علّامہ طاہر القادری اور عمران خان کو مدعو کیا۔ صاف صاف ان سے کہاکہ وزیرِاعظم کے استعفے کوچھوڑ کر ، باقی پانچ مطالبات پر اگر باہم وہ سمجھوتہ کر لیں تو فوج عمل درآمد کی ضمانت دے گی ۔ ان کی اس پیش کش کو دونوں نے سبوتاژ کیا۔ دھرنے سے خطاب میں عمران خان نے صاف کہا کہ آرمی چیف کو وہ بتا آئے ہیں کہ استعفے سے پیچھے نہ ہٹیں گے ۔ ادھر علّامہ طاہر القادری مجمع عام میں چیخ چیخ کر ''آرمی چیف کی ضامنی، آرمی چیف کی ضامنی‘‘ کے نعرے لگاتے رہے ۔ پہلی بار اقتدار کا مزہ چکھ کر مدہوش ہو جانے والے محمود اچکزئی اور قوم کی بہو بیٹیوں کا مذاق اڑانے والے مولانا کے زیرِ اثر وزیرِ اعظم نے پارلیمنٹ میں اعلان کیاکہ فوج نے کوئی کردار مانگاہے اور نہ وہ دینے پر آمادہ ہیں ۔ فوج کو وضاحت کرنا پڑی کہ بحران ختم کرنے کے لیے ضامن کی بجائے اسے سہولت کار (Facilitator)کا کردار دیا گیا تھا اور یہ کردار خود وزیراعظم نے دیا تھا۔ پیہم غلط موقف پر ڈٹے ہوئے، عوامی جذبات بھڑکانے اور سستی سیاست کرنے والے دونوں فریق اپنے اپنے موقف کے قیدی تھے۔ اس دانش‘ دوراندیشی اور لچک سے محروم، جس کے بغیر سیاست کا کھیل ڈھنگ سے کھیلا نہیں جا سکتا۔ 
مصالحت کے نہیں ، وہ ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے آرزومند تھے ۔ وفاقی وزراء چڑانے والے بیانات جاری کرتے ۔ وزیرِ اعظم کی صاحبزادی نے یہ کہا ''عمران خان چاہیں تو ساری زندگی کنٹینر میں گزار دیں...‘‘ عمران خان نے یہاں تک کہہ دیا کہ شوق سے ان کی ٹیم مذاکرات کرتی رہے ، وزیرِ اعظم کا استعفیٰ لیے بغیر وہ نہیں ٹلیں گے ۔ 30ستمبر کی شب وزیرِ اعظم ہائوس پر قبضے کی کوشش کے بعد بات چیت کا رہا سہا امکان بھی جاتا رہا۔
لاہور ، کراچی اور ملتان میں کامیاب جلسوں کے بعد سوکھے دھان ہرے ہو گئے ؛حتیٰ کہ علّامہ صاحب نے حسبِ عادت راہِ فرار اختیار کی۔ علّامہ صاحب کا مسئلہ یہ تھا کہ اپنی حرکات کی بنا پر مغرب میں انہیں انتہا پسند ثابت کیا جاسکتا تھا ۔ ان کی چندہ بٹورنے او رمغربیوں کی سرپرستی حاصل کرنے کی صلاحیت کم یا شاید ختم ہی ہو جاتی۔ دھرنے کے شرکاء تھکنے لگے تھے اور ان کی تعداد بتدریج کم ہوتی گئی ۔ 
ثالثی کے باب میں عمران خان کا اندازِ فکر سراج الحق کے ساتھ ان کے طرزِ عمل سے واضح ہے ۔ ایک انگریزی اخبار میں سراج الحق سے منسوب یہ بیان چھپا کہ تحریکِ انصاف اور نون لیگ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔مشتعل کپتان کنٹینر پہ جا چڑھا اور الزام لگایا کہ سراج الحق وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں ۔ ان سے میری بات ہوئی تو وہ حیران ''میں نے تو وہ جملہ کہا ہی نہیں ، جس پہ برہمی ہے‘‘۔ ؎ 
وہ بات، سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا 
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے 
یہ قابلِ فہم تھا۔ اگر یہ جملہ سراج الحق نے کہاہوتا تو تمام اخبارات میں چھپتا اور نمایاں چھپتا۔ برہم آدمی بدگمان بھی ہوتا ہے۔ نفسیات کی زبان میں اسے Highly sensitive, reactive(فوراً ردّعمل ظاہر کرنے والے‘ حد سے زیادہ حساس لوگ ) کہا جاتاہے ۔ بعض لوگوں پہ یہ کیفیت مستقلاً طاری رہنے لگتی ہے ۔ اس کی دوسری مثال بعض اخبار نویسوں کی کردار کشی ہے ، جو ہرگز فریق نہ تھے مگر ان کے بارے میں وہی زبان برتی گئی ، جو بھاڑے کے ٹٹوئوں پر صادق آتی ہے ۔ بدعنوان اور بکائو انہیںکہا گیا۔ بھائی ، رائے ان کی غلط ہو سکتی ہے اور یکسر غلط مگر بکائو ؟ اپنی اگلی مسافتوں کے لیے تحریکِ انصاف نے کانٹوں کی فصل کاشت کی ہے ۔ عمل اور ردّعمل کا قانون دائمی اور اٹل ہے ۔ 
تحریکِ انصاف پہلے سے زیادہ مقبول ہے بلکہ صحیح تر الفاظ میں زیادہ متحرک۔ انتخابی دھاندلی کے علاوہ، یہ حکومت کی ناکردہ کاری کے طفیل ہے ۔ علّامہ صاحب کے فرار اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد پہل اب پوری طرح عمران خان کے ہاتھ میں نہیں رہی ۔ 30نومبر کی یلغار جتنی اور جیسی بھی ہو، حکومت کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں۔ یہ ختم ہوتے ہوئے طوفان کے آثار ہیں ۔ کشمکش اگرچہ باقی رہے گی ۔ ایک لغو سی لڑائی ، جو ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتی رہے گی ۔ قومی ترجیحات پر توجہ مرکوز کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کرتی رہے گی ۔ عمران خان کے کرنے کا کام یہ تھاکہ اپنی پارٹی کی تنظیمِ نو کرتے ۔ حکومت کو درماندہ اور زبوں حال آدمی کی فکر کرنی چاہیے تھی ۔ مگر یہ اقتدار کے حریص۔ مگر یہ مہلت کونعمت سمجھنے والے ۔ مگر یہ ادنیٰ خواہشات سے مغلوب قہرمان۔ 
معلوم نہیں بات چیت پھر سے شروع ہوگی یا نہیں ۔ نتیجہ خیز مذاکرات کی بہرحال دو شرائط ہو اکرتی ہیں۔حسنِ نیت اور ایک ایک نکتے پہ خوش دلی سے عرق ریزی ۔ وگرنہ وہی بات ، جو حافظؔ نے کہی تھی ؎ 
پئے مشورت مجلس آراستند
نشستند و گفتند و برخاستند

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں