نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آج بڑادن ہے،کےسی آر کا سنگ بنیاد رکھ رہےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہم سب جانتےہیں کراچی 1970 میں کیاتھا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کراچی کی اہمیت کا پوری طرح اندازہ نہیں لگایا گیا،وزیراعظم
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

فیصلہ ابھی ہو جائے گا

کیا درہم و دینار کے بندے‘ اپنے ادنیٰ مفادات سے اوپر اٹھ سکیں گے؟ اس کا فیصلہ ابھی ہوا جاتا ہے۔ 
اونٹ کی ایک رسّی... سید ابو بکر صدیقؓ نے کہا تھا: اگر کوئی اونٹ کی ایک رسّی بھی دینے سے انکار کرے گا‘ جو وہ دیا کرتا تھا تو میں اس کے خلاف جہاد کروں گا۔ 
حکومت کمزور پڑتی ہے تو مجرم بے خوف ہو جاتے ہیں۔ قانون کا جلال تحلیل ہو جائے تو فساد جنم لیتا اور بے قابو ہو جاتا ہے۔ جان و مال کی حفاظت حکمران کی اولین ذمہ داری ہے۔ ہزاروں برس پہلے‘ انسانی تاریخ کے آغاز ہی میں اپنے حقوق سے عام لوگ اقتدار کے حق میں دستبردار ہو گئے۔ صرف اپنی زندگیوں کی حفاظت کے لیے۔ اس حکومت کا کوئی جواز ہی باقی نہیں رہتا جو اس کی ضمانت نہ دے سکے۔ فقط‘ اس ایک چیز کے لیے ہم اپنی گردنوں پر انہیں سوار کرتے‘ ان کی اطاعت کرتے اور ان کی شوکت و عظمت گوارا کرتے ہیں۔ 
ختم المرسلینؐ دنیا سے اٹھے تو تین شہروں مکہ مکرمہ‘ مدینہ منورہ اور طائف کے سوا‘ ہر کہیں حکومت کا وجود ختم ہو گیا۔ اعراب یعنی صحرا نشین بدّوئوں کے بارے میں قرآن کریم نے پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا کہ ایمان ان کے دلوں میں نہیں اترا۔ خانہ بدوش‘ سرکش اور موت کے خوف سے بے نیاز عرب قبائل بے شمار نسلوں سے ایک مختلف زندگی گزارتے آئے تھے۔ قبیلے کی روایات کے پابند اور اس کے لیے جان دینے والے‘ مگر حکومت کا تصور ان کے لیے کچھ زیادہ قابلِ قبول تھا۔ 
حالانکہ ان کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی جمعیت منظم ہونے کے فوراً بعد‘ سرکارؐ کی اولین ترجیحات میں ایک حکومت کا قیام تھا۔ وہ جو میثاقِ مدینہ کے تحت تشکیل پائی۔ مدینہ منورہ کے تمام باشندوں‘ حتیٰ کہ مشرکین اور یہودیوں کو اس میں ایک امّت قرار دیا گیا۔ حقوق سب کے برابر تھے اور فرائض بھی۔ غور کرنے والوں کے لیے آشکار ہے کہ حکومت دراصل ایک معاہدہ ہوتی ہے۔ خوش دلی اور رضامندی کے ساتھ جو کیا جاتا ہے۔ ہاں! مگر جب حکمران کا انتخاب ہو چکے اور قوانین کا بنیادی ڈھانچہ یعنی آئین بن چکے تو تمام شہریوں پر اس کی پابندی واجب ہو جاتی ہے۔ یہی ریاست ہے اور ریاست سے انحراف کا مطلب بغاوت ہے۔ ریاست سب کچھ گوارا کر سکتی ہے مگر بغاوت نہیں۔ اس کی سزا موت ہے۔ اگر کوئی گروہ اتفاق رائے سے طے شدہ نظام کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو حکومت کا فرض ہے کہ ساری قوت اس کے خلاف بروئے کار لائے‘ حتیٰ کہ فتنہ تمام ہو جائے۔ 
امیرالمومنین کا لقب بعد میں تراشا گیا‘ عمر فاروق اعظمؓ کے لیے۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو خلیفۃ الرّسول کہا جاتا تھا۔ عالی مرتبتؐ کے نائب اور جانشین۔ اعراب نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔ صرف مال و زر کی محبت نہیں کہ سال کے آخر میں یہ بچی ہوئی دولت کا اڑھائی فیصد ہوا کرتی بلکہ اس لیے بھی کہ یہ اقتدار کی قوت کا اعتراف تھا۔ بغاوت تھی‘ یہ ریاست کے خلاف بغاوت۔ اس وقت نائب الرسولؐ نے وہ جملہ کہا: خدا کی قسم‘ اگر کوئی اونٹ کی ایک رسّی دینے سے بھی انکار کرے گا‘ تو میں اس کے خلاف جنگ کروں گا۔ گویا اعلان کر دیا کہ تمام تر نشیب و فراز کو ہموار کر کے رکھ دوں گا۔ حکومت اصل میں یہی ہوتی ہے۔ قانون کی مکمل حکمرانی‘ بلا تفریق‘ بلا استثنیٰ۔ 
امّت نے ڈٹ کر ان کا ساتھ دیا۔ شمشیریں بے نیام کیے شہسوار گھوڑوں پر سوار ہوئے کہ باغیوں کی سرکوبی کریں۔ اختلاف رائے ایک اور موضوع پر ہوا اور یاللعجب! مختلف رائے رکھنے والوں میں عمرؓ ابن خطاب بھی شامل تھے۔ وہ آدمی‘ جس کے بارے میں اللہ کے آخری رسولؐ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ان کے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے۔ سب جانتے تھے سیدنا ابوبکرؓ کا مرتبہ ان سے بلند تر ہے۔ آپؐ نے فرمایا تھا: ابوبکر کی نیکیاں ستاروں کے برابر ہیں۔ یہ بھی کہا تھا کہ عمرؓ، ابوبکرؓ کی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہیں۔ علو مرتبت کا سبب بھی ارشاد کیا تھا ''جو میرے دل سے ابوبکر کے دل میں انڈیلا گیا‘‘۔ یقین اور ایمان کی دولت جس کی وجہ سے انہیں صدیق کہا گیا۔ ''دو میں سے دوسرا‘‘۔ وہ عالی قدر آدمی‘ جسے جنابؐ کی ذاتی دوستی کا شرف حاصل تھا۔ 
سرکارؐ کا ارشاد یہ تھا کہ امت کا اختلاف باعثِ رحمت ہے۔ ہر آدمی آزاد تھا کہ کھل کر اظہارِ خیال کرے۔ سننے والوں پر لازم تھا کہ اگر بہتر دلیل وہ پیش کر سکے تو سنیں اور مانیں۔ با ایں ہمہ مسلمانوں کا امام‘ طے شدہ ترجیحات اور پالیسی کے مطابق حکم جاری کر چکے تو انکار کا سوال نہ تھا۔ 
وصال سے پہلے آپؐ نے فتنہ انگیز رومیوں کے لیے‘ اسلامی سرحد پر جو جنگ کی آگ بھڑکا رہے تھے‘ ایک لشکر بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ جواں سال اسامہؓ کو اس کا سالار مقرر کیا تھا۔ عالی مرتبتؐ کے منہ بولے بیٹے زیدؓ کا فرزند۔ بعض نے اس کی کمسنی پر اعتراض کیا تو آپؐ کو ناگوار ہوا۔ فرمایا: اس کے باپ کے بارے میں بھی تم یہی کہا کرتے تھے۔ عمرؓ ابن خطاب نے کہ دردمندی میں ان سا کوئی تھا اور نہ فہم و بصیرت میں‘ گزارش کی لشکر کو روک دیا جائے کہ ملک کے اندر فتنہ برپا ہے۔ اگر نہیں تو بدلے ہوئے حالات کے پیش نظر اسامہؓ کی بجائے کسی جہاندیدہ سالار کو منصب سونپا جائے۔ عربوں میں عمر اور تجربے کا اکرام ہمیشہ سے چلا آتا تھا۔ سرکارؐ نے بعض اوقات نوجوانوں کو ذمہ داریاں سونپیں جو باصلاحیت اور ذمہ دار تھے۔ تجربہ اہم سہی مگر قیادت میں اصل اہمیت بصیرت‘ پہل کاری اور ایقان کی ہوتی ہے۔ 
سیدنا ابوبکرؓ نے‘ جناب عمرؓ کا مشورہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سب اختلاف کرنے والوں سے کہا کہ لشکر روانہ کرنے کا فیصلہ رسالت مآبؐ نے خود کیا تھا؛ چنانچہ منسوخ کرنے کا سوال ہی نہیں۔ فرمایا: اگر مجھے پتہ ہو کہ پرندے مجھے نوچ کھائیں گے‘ تب بھی نہیں۔ سرکارؐ کی اطاعت کا جذبہ تو تھا ہی مگر یہ بھی کہ بدترین حالات میں بھی اصول کو فراموش نہ کرنا چاہیے بلکہ خراب حالات میں اور بھی زیادہ سختی سے تھام لینا چاہیے۔ تیرہ صدیوں کے بعد امریکی مدّبرین نے اس شعار کو مختلف انداز میں بیان کیا۔ بحران اگر شدید ہو جائے تو بنیادی اقدار کی طرف لوٹ جانا چاہیے Back to basics۔ تاریخ کی کسوٹی پر پرکھے گئے ضابطے۔ جناب عمرؓ نے اصرار کیا تو سراپا جمال ابوبکر صدیقؓ کے مزاج کا سویا ہوا جلال جاگ اٹھا۔ غالباً اس خیال سے کہ عقل و دانش بجا لیکن سرکارؐ کے حکم کو نظرانداز کیسے کیا جا سکتا ہے؟ 
وہ اور طرح کے لوگ تھے۔ ہمارے واعظ ان کی سچی تصویر پیش نہیں کرتے۔ بے حد مہذب مگر نہایت ہی بے ساختہ۔ عمرؓ سامنے کھڑے تھے۔ انہیں داڑھی سے پکڑا... اور عربوں میں یہ برہمی یا توہین نہیں‘ بے تکلفی کا مظہر تھا... اور یہ کہا ''عمرؓ جاہلیت میں ایسے غیور تھے۔ اسلام میں اتنے کم ہمت کیسے ہو گئے؟‘‘ انہوں نے سر جھکا دیا۔ سبھی نے جھکا دیا۔ ابوبکرؓ ان سب سے زیادہ جانتے تھے۔ وہ رحمۃ اللعالمینؐ کے سب سے بڑے مزاج شناس تھے۔ سبھی کی وہ سنا کرتے اور گاہے مان لیا کرتے۔ عنانِ خلافت سنبھالتے ہی جناب عمرؓ ہی کے مشورے پر اپنا کاروبار انہوں نے بند کر دیا تھا اور معمولی وظیفے پر گزر بسر کا فیصلہ کیا تھا... ایک عام مزدور کی اجرت کے برابر۔ 
ریاست محترم ہے۔ اس لیے کہ وہ محافظ اور نگہبان ہے۔ وہ جان و مال کی حفاظت کرتی ہے۔ ہر حال میں اسے محترم رہنا چاہیے؛ اگرچہ یہ عدل کے فروغ اور قانون کی پاسداری ہی سے ممکن ہے۔ امتحان کا وقت آ پہنچا۔ ریاست کے لیے بھی اور اس کے حکمران کے لیے بھی۔ 2015ء شاید ایک فیصلہ کن سال ہو گا۔ 
دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے قائم ہو چکا۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ قوم کے اتفاق رائے سے انحراف کرنے والے اس کے قدموں تلے کچلے جایا کرتے ہیں۔ حکمرانوں کے لیے مہلت اب دراز نہیں ؎ 
یقیں پیدا کر اے ناداں‘ یقیں سے ہاتھ آتی ہے 
وہ درویشی کہ جس کے سامنے جھکتی ہے فغفوری 
کیا درہم و دینار کے بندے‘ اپنے ادنیٰ مفادات سے اوپر اٹھ سکیں گے؟ اس کا فیصلہ ابھی ہوا جاتا ہے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں