نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ایک وقت تھاپاکستان کی ہاکی ٹیم کوکوئی شکست نہیں دےسکتاتھا،گورنرسندھ
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

گھر میں نہیں دانے‘ امّاں چلیں بھنانے

وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ جانتے ہی نہیں یا جان لینے کے آرزو مند ہی نہیں کہ ؎
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا
تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب میں مقیم تمام افغان مہاجرین کو واپس بھجوا دیا جائے گا۔ کالعدم تنظیموں کو نام بدل کر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اور بھی زیادہ بڑی خوشخبریاں سنائی ہیں۔ چار سال میں ملک کی درآمدات 25 ارب ڈالر سے بڑھا کر 50 بلین ڈالر کر دی جائیں گی۔ صرف ٹیکسٹائل کے شعبے کی برآمدات 29 بلین ڈالر ہوں گی۔
خادم پنجاب نے کئی اور بھی خوش کن نتائج کا پیمان کیا ہے۔ انٹلی جنس کو جدید ترین خطوط پر استوار کیا جائے گا‘ حتیٰ کہ صوبے میں حرکت کرنے والے ایک ایک شہری کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھی جا سکے۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ انسداد دہشت گردی فورس کے لیے اولین اعلیٰ تربیت گروپ میدانِ عمل میں اتر چکا‘ دوسرا جون اور تیسرا اگست 2015ء تک تربیت کے تمام مراحل مکمل کر چکا ہوگا۔
بے ساختہ کہنے کو جی چاہتا ہے: تری آواز مکے اور مدینے۔ حضور! آپ کے منہ میں گھی شکر۔ لیکن پھر اس طالب علم کا خیال آتا ہے‘ جس سے پوچھا گیا کہ کیا امتحان کے لیے اس نے کافی تیاری کر لی ہے۔ اس کا جواب تھا: جی ہاں‘ نیا سوٹ سلوایا ہے‘ نئی بائیسکل خریدی ہے۔
دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے‘ جس دستے کی وزیر اعلیٰ نے بات کی ہے‘ صرف چار سو افراد پر وہ مشتمل ہے۔ جون اور اکتوبر تک تربیت پانے والی سپاہ کی تعداد بھی اگر اسی قدر ہوئی تو سال کے آخر تک یہ 1200 ہو گی۔ دہشت گرد تو الگ رہے‘ کیا صوبے میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغانوں کی فہرستیں مرتب کرنے کے لیے یہ تعداد کافی ہے؟
انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کے مرحوم سربراہ ڈاکٹر محمود غازی نے بیان کیا کہ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سہانے خوابوں میں وہ مگن تھے۔ اسی عالم میں ڈاکٹر حمیداللہ کو انہوں نے لکھا کہ تصنیفات کی ایک فہرست ان کے ذہن میں ہے‘ آئندہ چند سالوں میں جسے وہ نمٹا دیں گے۔ عالمی معیار کی تحقیق پر مبنی‘ کئی درجن کتابوں کے مصنف کا جواب جلد موصول ہوا۔ ''استنبول کے لیے پا بہ رکاب ہوں۔ آپ کا خط ملا‘ کچھ بھایا نہیں۔ اہمیت متن کی ہوتی ہے‘ عنوانات کی نہیں‘‘۔
قومی ترانے کے خالق، غزل اور گیت کے بے پناہ شاعر حفیظؔ جالندھری ماڈل ٹائون کے مکین تھے۔ شریف خاندان کے گھروں سے ان کا فاصلہ کچھ زیادہ نہ تھا۔ میاں محمد شہباز شریف کو شاعری سے واجبی سی دلچسپی تو ضرور ہے۔ دو چار شعر یاد بھی ہیں‘ جو موقعہ ملتے ہی وہ داغ دیتے ہیں۔ ممکن ہے حفیظ صاحب کا یہ شعر بھی کبھی کسی سے سنا ہو۔
ہمت بلند تھی مگر افتاد دیکھنا
چپ چاپ آج محوِ دعا ہو گیا ہوں
کالعدم تنظیموں کو کام کرنے سے روکا جا سکتا ہے اور تمام افغانوں کو‘ جو بلا اجازت مکین ہی نہیں کاروبار اور سیاست میں بھی دخیل ہیں‘ واقعی ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے مگر کچھ اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلی شرط تو وہی ہے‘ جس کا ذکر خادمِ پنجاب نے کیا ہے۔ یہ کہ انٹلی جنس کو جدید تر بنا دیا جائے۔ طویل عرصے تک دس کروڑ آدمیوں پر حکومت کرنے والے آدمی کو غالباً یہ بھی معلوم ہو گا کہ بہترین انٹلی جنس پولیس کی ہوا کرتی ہے۔ خود برّصغیر کا تجربہ یہ ہے کہ تھانے کی حدود میں واقع تمام محلے‘ ایک ایک کانسٹیبل کے سپرد کر دیئے جاتے۔ وہ ان کے اندر وقوع پذیر ہونے والی نقل و حرکت سے پولیس سٹیشن کو مطلع کرنے کا ذمہ دار ہوتا۔ اگر اس محلے میں کوئی بڑا جرم سرزد ہوتا تو اسے جواب دہی کرنا ہوتی۔ اسی طرح تھانیدار سے بازپرس کی جاتی۔ سپیشل فورس اور سی آئی ڈی ان کے سوا ہیں۔ کیا وزیر اعلیٰ سے یہ پوچھنے کی جسارت کی جا سکتی ہے کہ پولیس‘ سپیشل برانچ اور سی آئی ڈی کو بہتر بنانے کے لیے اب تک انہوں نے کیا فیصلے کیے ہیں؟ تربیت کے نظام میں کس قدر بہتری آئی ہے؟ مزید کتنا بجٹ مختص کیا گیا ہے؟ ان اداروں کے زوال کی وجوہ کا تعین کرنے کے لیے کتنے مطالعے کرائے گئے؟ انٹلی جنس اور پولیس کے نئے تصورات کو سمجھنے کے لیے کتنے افسر بیرون ملک بھیجے گئے؟ کتنے نالائق برطرف ہوئے؟ کتنے کرپٹ اپنے انجام کو پہنچے اور کتنے ریاضت کرنے والوں کو انعام سے نوازا گیا؟ زوال آتا ہے تو اس کے اسباب ہوتے ہیں اور کمال رونما ہو تو اس میں کوئی قرینہ کارفرما ہوا کرتا ہے۔ اگر ان اقدامات میں سے کوئی ایک بھی رونما نہیں‘ جن کا ذکر ہوا تو کیسے یقین کر لیا جائے کہ واقعی تغیّر رونما ہونے کو ہے۔
نہ ہم بدلے نہ تم بدلے نہ دل کی آرزو بدلی
میں کیونکر اعتبارِ انقلابِ آسماں کر لوں
ایک سرکاری ادارہ اعلان کرتا اور پھر واپس لیتا ہے کہ پانچ سال کے اندر بھی بجلی کا قحط ختم ہونے کا ہرگز کوئی امکان نہیں۔ ڈیڑھ برس تک وزیر اعظم قوم کو بہلاتے رہے کہ چینی سرمایہ کار اربوں ڈالر صرف کر دیں گے۔ گڈانی کے ساحل سے 6600 میگاواٹ بجلی سندھ اور پنجاب کے میدانوں کی طرف بہہ نکلے گی۔ آخرکار انہوں نے قوم کو مطلع کیا کہ منصوبہ ترک کر دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے لیے جس قدر جہازوں اور ریل گاڑیوں کی ضرورت تھی‘ اول کسی کو اس کا خیال ہی نہ آیا۔ حساب کتاب ہوا تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ سپنے سے وزیر اعظم بیدار ہوئے کہ ع
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا‘ جو سنا افسانہ تھا
خدا خدا کر کے بجلی کا حال کچھ بہتر ہوا ہے۔ اتنا ہی کہ فیصل آباد میں ٹیکسٹائل ملوں کو بلاتعطل فراہمی ممکن ہو سکی‘ وگرنہ عالم یہ تھا کہ صرف ایک سڑک کھرڑیانوالہ روڈ پر پارچہ بافی کے کارخانے بند ہونے سے دو لاکھ ستر ہزار مزدور بے روزگار ہوئے تھے۔ خود وزیر اعظم اعتراف کرتے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی حتمی تاریخ وہ نہیں دے سکتے۔ پھر ٹیکسٹائل کی مصنوعات دو گنا سے بھی زیادہ کیسے برآمد ہونے لگیں گی؟ مجموعی طور پر ایکسپورٹ 25 سے 50 بلین ڈالر کس طرح ہو جائے گی؟ گھر میں نہیں دانے اور امّاں چلیں بھنانے۔
شیخ صاحب خدا خدا کیجے
آپ کی منطقیں نرالی ہیں
وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کیا یہ ادراک نہیں رکھتے کہ بہتری کا مطلب ایک ارتقائی نظام کی تشکیل ہوتا ہے۔ ایک تربیت یافتہ فورس قدم قدم جو آگے بڑھتی رہے۔ انٹلی جنس کے میدان میں ایک تجربہ چینیوں نے کیا‘ جاپان‘ یورپی یونین کے ممالک اور ان سے زیادہ امریکہ سے‘ جس کے دیرپا مفادات کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔ کارکنوں میں جوشِ عمل پیدا کرنے کے لیے ماہانہ بونس کا نظام متعارف کرایا گیا۔ اگر وہ زیادہ اور قابلِ اعتبار اطلاعات فراہم کریں تو دس فیصد سے لے کر سو فیصد تک زیادہ معاوضہ پا سکیں گے اور وہ بھی نقد۔ اگر سال بھر کسی افسر کی کارکردگی اچھی رہے تو وہ 26 تنخواہیں تک حاصل کر سکتا ہے۔ تیز رفتار ترقی کے مواقع اس کے سوا۔
کیا وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ یہ بتانا پسند کریں گے کہ ناقص بلٹ پروف جیکٹس اور جعلی سکینر خریدنے والوں کا کیا ہوا؟ کتنوں کو سزا دی گئی۔ سزا کو چھوڑیے‘ سرگرمی سے کتنے لوگوں کے خلاف تفتیش کی گئی؟ کتنوں کے چالان مکمل کیے گئے؟ کھرب پتی رحمن ملک پرسوں پرلے روز چیف اکائونٹنٹ اسحق ڈار کے پہلو میں تشریف فرما تھے‘ چھ ماہ سے جو وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے لیے فرصت نہیں پا سکے۔
زندگی تازہ خیالی سے نشوونما پاتی ہے مگر اس وقت جب بتدریج وہ عمل کے سانچے میں ڈھلے۔ محض گل رنگ سپنوں سے کوئی مقدر نہیں سلجھتا‘ کوئی ادبار تمام نہیں ہوتا۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ جانتے ہی نہیں یا جان لینے کے آرزو مند ہی نہیں کہ ؎
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا
تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں