نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بھارتی ریاست آسام میں مسلمانوں پروحشیانہ بربریت کامعاملہ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:پاکستان میں بھارتی ناظم الامورکی دفترخارجہ طلبی
  • بریکنگ :- پاکستان کاریاست آسام میں مسلمانوں پرمظالم پراظہارتشویش
  • بریکنگ :- بھارتی ریاست آسام میں مسلمانوں کونشانہ بنانےپرتشویش ہے،ترجمان
  • بریکنگ :- آسام میں مسلمانوں کیخلاف وحشیانہ بےدخلی مہم کاآغازتشویشناک ہے،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارتی پولیس نےغیرمسلح شخص کوقتل کیا،ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- سیکیورٹی فورسزکی موجودگی میں متعددافرادنےلاش کی بےحرمتی کی،ترجمان
  • بریکنگ :- نہتےشخص کےقتل اورلاش کی بےحرمتی کی ویڈیوناقابل یقین دھچکاہے،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارتی عہدیدارکوتشددکےحالیہ واقعات پرگہری تشویش سےآگاہ کیاگیا،ترجمان
  • بریکنگ :- بدقسمتی سےیہ صرف مسلم مخالف تشددکاتسلسل ہے، ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- ریاستی سرپرستی میں بھارت میں مسلمانوں پرتشددمعمول بن چکاہے،ترجمان
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

اللہ اللہ ‘ خیرسلّا

بانگ درا چاہیے، بانگ درا۔ کچھ لوگ جو اپنی زندگیاں تاریخ کے چوراہے پر سوئی ہوئی قوم کو جگانے اور جگائے رکھنے کے لیے وقف کردیں،وگرنہ وہی قائداعظم ثانی اور ایشیا کا وہی نیلسن منڈیلا ۔اللہ اللہ خیرسلّا!
میں حیرت زدہ رہ گیا جب ایک بڑے چینل پر وہ خبر دیکھی۔ پیپلزپارٹی کے چودھری اشرف کو بیرسٹرسلطان محمود پہ برتری حاصل ہے۔ سات بجنے کو آئے تھے ۔تیس پولنگ سٹیشنوں کے نتائج سامنے آچکے تھے۔ بیرسٹر کے لگ بھگ دو ہزار ووٹ زیادہ ۔ کچھ ہی دیر میں تقریباً تمام چینلوں سے یہی خبر نشر ہو رہی تھی۔ بار بار میرپور میں اپنے ذرائع سے رابطہ کیا اور بالآخرعارف بہار سے جو آزاد کشمیر کے بہترین اخبار نویسوں میں سے ایک ہیں۔ ذوالفقار عباسی صاحب سے بھی، جن کے بارے میں حسن ظن ہے کہ دیدہ دانستہ کبھی غلط بیانی کے مرتکب نہیں ہوسکتے۔ اپنی اطلاعات پر انہیں اصرار تھا اور ایک ایک پولنگ سٹیشن کے نتائج وہ بتا رہے تھے۔ یاللعجب، پھر یہ تماشا کیا ہے؟
جمعہ ، ہفتہ اور اتوار کو سات بجے شام دنیا ٹی وی سے ایک پروگرام پیش کیا جاتا ہے '' خبر یہ ہے‘‘۔ اس کی ترتیب اور ترجیحات عظمیٰ نعمان اور حبیب اکرم طے کرتے ہیں۔ آج پہلی بار مداخلت کا فیصلہ کیا۔ گزارش کی کہ میرپور پہ پہلے بات کرلی جائے۔ نتائج بتانے کا آغاز کیا مگر حیران کن یہ کہ ایک آدھ کے سوا سب کے سب چینل اسی روش پرقائم رہے ؛تاآنکہ یہ ناممکن ہوگیا۔ جب تحریک انصاف کے دفتر کے سامنے پندرہ بیس ہزار کا مجمع نعرہ زن تھا ۔ چودھری مجید کے ہاں صرف دو تین سو افراد ۔میرپور میں دو روزہ قیام کے دوران کئی اخبار نویسوں اور سیاسی کارکنوں سے تبادلہ خیال ہوا۔ اتفاق رائے تھا کہ بیرسٹرسلطان محمود کو برتری حاصل ہے ۔البتہ یہ کہ مقابلہ سخت رہے گا۔
ان میں سے ہر ایک سے گزارش کی ہے کہ وہ دونوں بڑے امیدواروں کی حمایت اور مخالفت میں کارفرما عوامل پر روشنی ڈالیں۔ برادریوں کا عمل دخل سب سے زیادہ ہے ۔اکثریتی جاٹ قبیلہ سلطان محمود کو اپنا لیڈر سمجھتا ہے۔ چودھری اشرف کا تعلق بھی اگرچہ اسی برادری کے ساتھ ہے۔ شہرت بھی ان کی اچھی ہے مگر انتخابی مہم شروع ہونے کے بعد مسلم کانفرنس سے الگ ہوکر پیپلزپارٹی سے وابستہ ہوئے۔ الزام عائد ہوا کہ ان کی خدمت میں چھ کروڑ پیش کیے گئے۔ بیرسٹر پہ کرپشن کا الزام کوئی عائد نہیں کرتا البتہ وڈیروں سے ان کا رابطہ بہت ہی کمزورہے۔ میرپور میں ان کا ذاتی مکان تک اب موجود نہیں ہے۔ سرکاری ریسٹ ہائوس میں ہی قیام کرتے ہیں۔ چودھری اشرف میرپور کے مکین ہیں ؛اگرچہ زیادہ متحرک وہ بھی نہ تھے کہ سردار عتیق کی قیادت میں ان کی پارٹی تحلیل ہورہی تھی۔ سردار سکندر حیات ، راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سمیت اکثر لیڈروں نے بغاوت کی۔ نون لیگ بنائی اور میاں محمد نوازشریف کی خدمت میں پیش کردی ؛ اگرچہ یہ تحفہ بامرمجبوری ہی انہوں نے قبول کیا۔
پیپلزپارٹی کا ساڑھے تین سالہ دور اقتدار، آزاد کشمیر کی تاریخ کا بدترین عہد قرار دیا جاتا ہے۔ اکیسویں ترمیم سے صوبوں کے اختیارات غیر معمولی طور پر بڑھا دیے گئے۔ گلگت ، بلتستان اور آزاد کشمیر البتہ ابھی تک پابہ زنجیرہیں۔ ان کے فیصلے مرکز میں صادر ہوتے اور افسر شاہی کے ذریعے نافذ کیے جاتے ہیں۔ خراج کراچی پہنچایا جاتا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کو اس پر کبھی اعتراض نہ ہوا، حتیٰ کہ شہبازشریف کو بھی نہیں۔ میرپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی شہر کا سب سے امیر ادارہ ہے کہ رہائشی کالونیوں پر اس کی اجارہ داری ہے اورمیرپور کے شہریوں کی قوت خرید غیر معمولی ہے ۔ شہر کو پینے کے پانی کا مسئلہ در پیش ہے، برسوں سے جس پر پیش رفت نہیں ہوئی۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں۔ تعلیمی اداروں کا حال اور بھی برا ہے۔ تاثر یہ ہے اور سبھی کا ہے کہ چپراسی سے لے کر ہائیکورٹ کے ججوں تک کی نوکریاں فروخت کی جاتی ہیں۔ مظفر آباد کے ایک ممتاز اخبار نویس نے کہا کہ فلاں جج نے ایک کروڑ روپے ادا کیے ہیں، جو ان کی پہلے سال کی پوری تنخواہ کے برابر ہیں۔ لطیف اکبر ، جاوید بڈھانوی، افسر شاہد کے سوا کوئی وزیر ایسا نہیں جن کے بارے میں طرح طرح کی داستانیں سنائی نہ دیتی ہوں۔ مختصراً یہ کہ کشمیر کا حال سندھ سے بدتر ہے۔ اس کے باوجود بدترین شہرت کے حامل چودھری عبدالمجید، ادھار پر لیے گئے امیدوار کی کامیابی کے لیے پُرامید کیوں تھے؟
اس لیے کہ پیسہ پانی کی طرح بہایاگیا۔ سینکڑوں ملازمتیں، درجنوں ترقیاتی منصوبے اور درجنوں افراد کو اعلیٰ عہدے عطا کرنے کے وعدے۔ آخر کو زرداری صاحب کی خواہش پر میاں محمد نوازشریف ان کی مدد کو پہنچے۔ نہ صرف اپنے امیدوار ارشد غازی کو دستبردار ہونے کا حکم دیا جو پچھلی بار بھی اسی حرکت کے مرتکب ہوئے تھے۔ اربوں روپے کی سڑکیں ، تعلیمی ادارے اور پل بنانے کا فرمان بھی جاری ہوا۔ اندازہ یہ تھا کہ کراچی کی کشیدگی کے علاوہ جہاں پیپلزپارٹی اپنے خلاف کارروائی سے خوفزدہ ہے، دیرپا سیاسی اثرات کو ملحوظ رکھتے ہوئے میاں صاحب ایسی غلطی کا ارتکاب نہ کریں گے۔ پتہ چلا کہ عمران خان سے ان کی نفرت شدید تر ہے اور خوف بھی۔ زرداری صاحب سے ان کی مفاہمت کہیں زیادہ گہری ہے۔ ایک دوسرے پر وہ اعتماد رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ پاکستان میں باریوں کا قصہ تو اب تمام ہوا مگر آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں میں وہ یہ کھیل جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو اس عظیم مفکر رضا ربانی کی نذر عنایت سے محروم رہے ؛اگرچہ کشمیر اور شمالی علاقوں کی قیادت بھی یکساں طور پر ذمہ دار ہے؛چنانچہ نوجوانوں کی نفرت کا ہدف ۔
میر پور کے صحافیوں سے بار بار عرض کیا کہ ان عوامل کی رو سے جو آپ بیان کرتے ہیں بیرسٹرسلطان محمود کی برتری تین ہزار کے لگ بھگ ہونی چاہیے۔ ان میں سے مگر کوئی متفق نہ ہوا۔
25مارچ کو عمران خان نے میرپور میں ایک بھرپور جلسہ عام سے خطاب کیا۔ حیرت انگیز طور پر کرپشن اور مقامی مسائل کا انہوں نے ذکر تک نہ کیا۔ عمران خان بادشاہ آدمی ہیں اور بیرسٹر بھی۔ بعد میں مجھ سے پوچھا : میری تقریر کیسی رہی؟ عرض کیا کہ فلاں فلاں موضوع عالی جناب کی توجہ سے محروم رہا۔ اس نے کہا کہ وہ تلافی کرنے کی کوشش کرے گا۔
میاں محمد نوازشریف کی طرف سے پیپلزپارٹی کی حمایت کا نتیجہ الٹ نکلا۔ راجہ فاروق حیدر نے اعلان تو کردیا مگر اس فیصلے کا دفاع کرنے سے گریز کیا۔ بزرگ رہنما سردار سکندر حیات اور ایک دوسرے لیڈر طارق فاروق نے بغاوت کردی۔ بعض دوسرے علاقوں کے برعکس کشمیری لیڈر مزارعوں کی سی ذہنیت نہیں رکھتے۔ اندازہ یہ ہے کہ کشمیر کی نون لیگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگی، میاں صاحب نے جسے کبھی درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تحریک انصاف کے لیے میدان ہموار ہے۔ ڈھنگ کی کوئی کمیٹی ہے نہ تنظیم۔ کوئی منصوبہ موجود ہی نہیں ۔ وہی بے ڈھنگی چال اور وہی بے تکے سے لیڈر۔ تنظیم اورموزوں افراد کار کی اہمیت سے کپتان آشنا ہی نہیں۔ سنتا ہے ،مان لیتا ہے لیکن پھر بھول جاتا ہے۔ کشمیر کی فتح اور کراچی کی متوقع کامیابی کے باوجود موزوں لیڈروں کے بغیر اس کی پارٹی، لولی لنگڑی ہی رہے گی۔
یمن میں محصور پاکستانیوں کی واپسی میں میڈیا نے شاندار کردار ادا کیا اور اس سے زیادہ وزیراعظم نے۔ 29مارچ کو مگر اس کی معلومات جمع کرنے کا نظام ناقص ثابت ہوا۔
ہرخیر کا ایک قرینہ ہوا کرتا ہے۔ گندم خور معاشرہ سہولت پسند بہت ہے۔ تقدیر پرستی اس کی گھٹی میں پڑی ہے۔
بانگ درا چاہیے، بانگ درا۔ کچھ لوگ جو اپنی زندگیاں تاریخ کے چوراہے پر سوئی ہوئی قوم کو جگانے اور جگائے رکھنے کے لیے وقف کردیں،وگرنہ وہی قائداعظم ثانی اور ایشیا کا وہی نیلسن منڈیلا ۔اللہ اللہ خیرسلّا!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں