نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:ڈیفنس میں جیولرزشاپ پرڈاکا
  • بریکنگ :- کراچی:خاتون سمیت 4 ملزمان 50 تولہ سونااورنقدی لوٹ کرفرار
  • بریکنگ :- کراچی:ملزمان رکشہ میں سوارتھے،پولیس
  • بریکنگ :- مجموعی طورپر 50 لاکھ کی واردات ہوسکتی ہے،مزیدتفتیش جاری،پولیس
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

حادثات

قدرت کا اصول یہ ہے کہ معاشروں کو خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے حادثات برپا کرتی ہے۔ اگر کوئی حادثات سے بھی سبق نہ سیکھے؟ 
تربت کا سانحہ شاید رونما نہ ہوا ہوتا یا کم از کم اس قدر سنگین نہ ہوتا اگر 2003ء میں بنائے گئے بلوچستان کے آئی جی ڈاکٹر شعیب سڈل کے اس منصوبے کو مکمل ہونے دیا جاتا، جس کے تحت لیویز کو پولیس میں ضم کرنا تھا۔ دس ارب روپے اس منصوبے پر خرچ ہوئے، عمارتیں بنائی گئیں۔ سرداروں کے ذریعے بھرتی کئے گئے لیویز کے ناخواندہ اور نیم خواندہ اہلکاروں کی تربیت کا آغاز ہوا۔ دس ارب روپے خرچ ہو چکے تھے اور بہترین دماغوں کی کاوش جاری تھی، جب 2008ء کی اسمبلی وجود میں آئی۔ جمعیت علمائے اسلام اور بلوچ سرداروں کے غلبے کی اس اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے اس کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ ایک فوجی حکمران کے عہد میں جو بہتری آئی تھی‘ جمہوریت نے اس کی بساط لپیٹ دی۔ 
بلوچوں کی ناراضی ایک حقیقت ہے اور پوری طرح قابل فہم‘ جسے بعض مفکرین کرام اب بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ واقعہ مگر یہ بھی ہے کہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان کی مرکزی انتظامیہ کہیں زیادہ سرگرم‘ فعال اور ذمہ داری کے احساس سے سرشار ہے۔ وزیر اعلیٰ‘ چیف سیکرٹری‘ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے آئی جی اور انسپکٹر جنرل پولیس کے علاوہ کور کمانڈر میں مثالی تعاون کارفرما ہے‘ جو غیر معمولی اخلاق اور احساس کے آدمی ہیں۔ بلوچستان کا آئی جی مثالی شہرت کا حامل ہے‘ جس کے دامن پر کوئی داغ نہیں۔ اس کے باوجود اس طرح کے المناک حادثات کیوں رونما ہوتے ہیں؟ 
ایک وسیع و عریض شورش زدہ صوبے میں‘ بہترین پولیس بھی شاید امن و امان کی مکمل ضمانت فراہم نہ کر سکے‘ چہ جائیکہ اسے ازمنہ قدیم کی لیویز کے حوالے کر دیا جائے‘ جن کی تنخواہیں قبائلی سرداروں کے ذریعے ادا کی جاتی ہیں۔ لیویز کے اہلکاروں میں ہزاروں منشیات کے عادی ہیں۔ بعض کی صحت اس قابل ہی نہیں کہ ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔ بعض سبکدوشی کی عمر کو پہنچنے کے باوجود نوکریوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔ ایک اعلیٰ فوجی افسر نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ اگرچہ وہ سب کے سب ناکردہ کار نہیں‘ مگر ان میں تخریب کاروں کے کارندے بھی پائے جاتے ہیں۔ جب باڑ ہی کھیت کو کھانے لگے تو اس کی سلامتی کا کتنا امکان باقی بچتا ہے؟ 
سات برس ہوتے ہیں‘ جب مصر کے تفریحی مقام شرم الشیخ میں ہونے والی ایک عالمی کانفرنس کے موقع پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے من موہن سنگھ کو بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت پیش کیے تھے۔ بھارتی لیڈر نے اخبار نویسوں کی موجودگی میں بلوچستان پر مذاکرات کی اہمیت کو تسلیم کیا تھا۔ افغانستان میں ان دنوں جناب حامد کرزئی برسرِ اقتدار تھے۔ دن رات پاکستان میں وہ کیڑے ڈالا کرتے اور پاکستان میں ان کے ہمدرد اخبار نویس‘ اس طرح ان کا تذکرہ کرتے‘ گویا کابل کا مظلوم حکمران اسلام آباد کی سازشوں کا شکار ہے۔ جناب اشرف غنی کے صدر منتخب ہونے کے بعد ان سب شکایات کا کیا ہوا؟ دونوں ملکوں کے نقطۂ نظر میں فرق اب بھی ہوتا ہے اور یہ ہونا ہی چاہیے۔ بعد کے واقعات سے مگر واضح ہوا کہ حامد کرزئی 
بھارت سے رسم و راہ رکھتے تھے اور اسی کے ایما پر چیخا چلاّیا کرتے۔ بلوچستان میں تخریب کاری کرنے والے براہمداغ بگتی اور حربیار مری سمیت کئی دہشت گرد لیڈروں کو انہوں نے پناہ دے رکھی تھی۔ تخریب کاروں کے کیمپ افغانستان کی وسعتوں میں قائم تھے اور وہ اسی طرح محفوظ و مامون تھے‘ جیسے طالبان کے دور میں لشکر جھنگوی کے علمبردار۔ انہی دنوں بلوچستان میں تعینات اقوام متحدہ کے ایک افسر کو اغوا کر لیا گیا۔ بعض حریت پسند اخبار نویسوں نے اس پر حسب معمول‘ افواج پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے بارے میں افواہیں پھیلانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ پھر ایک شب جنرل اشفاق پرویز کیانی نے خاتون امریکی سفیر این پیٹرسن کو خواب سے بیدار کیا۔ انہیں بتایا کہ وہ افسر افغانستان میں فلاں مقام پر یرغمال پڑا ہے۔ اگر وہ کرزئی حکومت سے رابطہ کر سکتی ہیں تو اس کی رہائی ممکن ہے۔ ملک کے بہت سے مسائل ہیں اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا میڈیا کارندوں کے علاوہ‘ تعصبات کے مارے دانشوروں سے بھرا پڑا ہے۔ ہیجان کے مارے یہ لوگ کنفیوژن پھیلانے پر تلے رہتے ہیں۔ امید مرنے لگتی ہے۔ مسائل کچھ اور گمبھیر نظر آنے لگتے ہیں۔ 
جمعہ کی شام خیبر ایجنسی اور تیراہ وادی کے حوالے سے ضرب عضب پر ایک فوجی افسر سے بات ہوئی۔ وہ مطمئن تھے کہ تخریب کاروں کے گرد پاک فوج کا گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی قیادت تتّر بتّر ہو چکی ہے اور آسانی سے اب وہ افغانستان میں پناہ نہیں لے سکتے۔ ان سے عرض کیا کہ بھارت آرام سے نہیں بیٹھے گا‘ جس کی قیادت پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ اس کی پشت پناہی سے متحرک قبائلی علاقے کے طالبان محدود ہو چکے۔ کراچی میں اب وہ سہولت سے سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتے۔ سرحدوں پر آگ برسانے کی حکمت عملی بھی ناکام ثابت ہوئی۔ عالمی برادری کے سامنے بھارت اب بے نقاب کھڑا ہے۔ گزارش ہے کہ بھارت اب بلوچستان یا کراچی کے سوا کسی بڑے شہر میں لازماً کوئی کارروائی کرے گا ''یہ ایک جاری رہنے والی جنگ ہے‘‘ انہوں نے کہا ''اور جنگ میں نشیب و فراز سے گزرنا ہوتا ہے‘‘۔ 
آنکھ کھلی تو تربت کا حادثہ رونما ہو چکا تھا۔ مکران کے کمشنر لیویز کا حوالہ دینے کی بجائے ''سکیورٹی فورسز‘‘ کا ذکر فرما رہے تھے۔ سکیورٹی فورسز یعنی چہ؟ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس تو بہرحال وہاں نہ تھی‘ پھر لیویز کے ذکر سے انہیں گریز کیوں تھا۔ اس لیے کہ وہ ان کی ماتحتی میں کام کرتی ہے۔ 
دنیا بھر میں پولیس اور انٹلی جنس کے تصورات بدل چکے مگر ہم اسی فرسودہ پولیس اور خفیہ کاری کے اسی ناکردہ کار نظام کو برقرار رکھنے پر تلے ہیں۔ بلوچستان کا حال اور بھی پتلا ہے۔ بھارت تخریب کاروں کی سرپرستی کرتا ہے۔ بارسوخ سردار‘ سیاسی اور مذہبی جماعتیں ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ صوبے میں ایک ایسی حکومت قائم ہے جس کے سربراہ کو اکثریتی نون لیگ کی خوش دلانہ تائید حاصل نہیں۔ اس پہ طرہ یہ کہ بدترین صورت حال سے دوچار علاقوں کو لیویز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک کی بیچارگی اور مجبوری سمجھ میں آتی ہے۔ محدود سیاسی رسوخ کے ساتھ حکومت چلانا دشوار ہے۔ مگر جناب وزیر اعظم؟ کتنی ہی بار ان سے گزارش کی جا چکی کہ بلوچستان کو ایک بہترین پولیس کی ضرورت ہے۔ اولین اقدام کے طور پر پورے صوبے کو ''اے‘‘ ایریا قرار دے کر آئی جی کے حوالے کرنے کی۔ ظاہر ہے کہ مقصد ایک دن میں حاصل نہ ہو گا۔ مرکزی حکومت سے مگر آغازِ کار ہی پر آمادہ کیوں نہیں؟ ڈاکٹر عبدالمالک سے زیادہ میاں محمد نواز شریف پہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اکثریتی جماعت انہی کی ہے۔ وزارت اعلیٰ اپنے حلیف کے حوالے کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یکسر بے نیاز ہو جائیں۔ 
جی ایچ کیو نے اپنی سی کوشش کی ہے۔ بلوچستان کے بیس ہزار جوان پاک فوج کا حصہ بن چکے۔ کچھ تعلیمی اور تربیتی ادارے بھی اس نے قائم کیے ہیں۔ سول انتظامیہ کے ساتھ اس کا تعاون مثالی ہے مگر اسلام آباد کا کیا کیجے‘ جس کے پاس کوئی منصوبہ ہی نہیں‘ جس کے کارپردازوں کو فرصت ہی مہیا نہیں۔ وزیر اعظم‘ وزیر داخلہ سے بات کرنے کے روادار ہی نہیں۔ پچھلے دنوں وزیراعظم پارلیمنٹ میں تشریف لائے تو چودھری نثار علی خان سے مصافحہ تک نہ کیا۔ ان سے آنکھ تک نہ ملائی۔ 
قدرت کا اصول یہ ہے کہ معاشروں کو خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے حادثات برپا کرتی ہے۔ اگر کوئی حادثات سے بھی سبق نہ سیکھے؟ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں