نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 31 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 597 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 48 ہزار 732 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 1757 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 3.60 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

کوئی جائے اور جا کر وزیراعظم کو بتائے!

خلاء کبھی باقی نہیں رہتا اور مہلت کسی کی دائمی نہیں ہوتی۔ کوئی جائے اور جا کر وزیراعظم کو بتائے کہ ایک زلزلے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے...ایک خوفناک زلزلے کی!
کشمیر پر بات کرنے کا ارادہ تھا‘ جہاں اقتدار کی بو پا کر کئی بلّے نمودار ہیں۔ پنجابی کا وہی محاورہ کہ گائوں ابھی آباد ہونا ہے اور اچکے آ پہنچے۔ پھر آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر نظر پڑی اور دل دھک سے رہ گیا۔ یا رب! کرپشن کا جو بھی اندازہ ہم قائم کرتے ہیں چند روز میں باطل ہو جاتا ہے۔ یہ اپوزیشن اور میڈیا کی الزام تراشی نہیں‘ وزیراعظم کے مقرر کردہ متعلقہ افسر کا تجزیہ ہے۔ اس پر بھی کیا یہی ارشاد ہو گاکہ سیاستدانوں کی کردارکشی کی جا رہی ہے۔ ارے بھائی چوری ہوگی تو چوکیدار سے پوچھا جائے گا۔ اگر بجلی کے شعبے میں 890 ارب روپے کی بے قاعدگیاں ہیں تو متعلقہ وزارت اور جناب شہبازشریف کے سوا‘ کس کے سامنے واویلا کیا جائے‘ جو دس کروڑ کے صوبے کا بوجھ اٹھانے کے علاوہ اس میں بھی دخیل ہیں۔ برسوں کا نہیں‘ یہ صرف ایک مالی سال 2013-14ء کا معاملہ ہے۔ ملک کا پورا بجٹ چار ہزار ارب کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ صرف بجلی ہی میں ایک چوتھائی بدمعاملگی کا شکار ہوگیا۔ حکومت اب تک 2000 ارب روپے اس شعبے میں جھونک چکی۔ اڑھائی سال میں بجلی کی قیمتیں دوگنا ہوگئیں۔ اس کے باوجود بحران وہیں کا وہیں ہے۔ یہی نہیں آڈیٹر جنرل کی رپورٹ یہ کہتی ہے کہ گزشتہ چند برس کے دوران 4200 ارب روپے کے معاملات کو نمٹایا نہیں گیا۔ اس پر مستزاد‘ رپورٹ واپڈا کے آڈیٹر جنرل کا حوالہ دے کر یہ ہولناک انکشاف بھی کرتی ہے کہ انہوں نے دس لاکھ روپے تک کے فراڈ‘ روپے کے غلط استعمال اور دوسری بے قاعدگیوں کو نظرانداز کیا ہے۔
مصحفی ہم تو سمجھتے تھے کہ ہوگا کوئی زخم 
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا
جنرل محمد ضیاء الحق کا جملہ یاد آیا۔ ہم نے تو ایک چھوٹا سا آپریشن کرنے کے لئے مریض کو لٹایا تھا مگر کینسر نکلا۔ 2013-14ء کے مالی سال میں 184 معاملات کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ واجب ادائیگیوں اور دوسری بے قاعدگیوں کا حجم 368 ارب ہے۔ زاید ادائیگیوں اور عدم وصولی کے 88 مقدمات میں 572 ارب روپے کا لین دین مشکوک ہے‘ مجرمانہ تغافل اور بجلی کی رسد میں خرابی پیدا کرنے والے حادثات میں 19 ارب کا نقصان ہوا۔ 35 کروڑ کا غبن ہوا۔ اس میں سے فقط تین کروڑ کی وصولی ہی ممکن ہو سکی۔ رپورٹ کہتی ہے کہ واپڈا کے داخلی نظام میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ اس طرح کے واقعات کا سو فیصد جائزہ لے سکے۔ بتدریج یہ نظام بدتر ہوتا جا رہا ہے۔ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خراب آلات تبدیل کرنے کے احکامات پر عمل نہیں ہوتا۔ سامان چوری کیا جاتا ہے۔ خریداری کے عمل میں ضابطوں کی پاسداری نہیں کی جاتی۔ 401 ارب روپے کے بل وصول نہ کیے گئے۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق ادائیگی نہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘ جن کا بڑا حصہ بلوچستان‘ قبائلی پٹی اور سندھ میں ہے‘ مگر اب گوجرانوالہ کو بھی یہ شرف حاصل ہوگیا۔ 139 ارب روپے اس لیے وصول نہ کیے جا سکے کہ 734465 واقعات میں صارفین کے کنکشن بروقت منقطع نہ ہوئے۔ ایسے واقعات بھی بہت ہیں کہ میٹر کاٹ دیئے گئے مگر بجلی برقرار رہی۔ 247 ارب کا نقصان اس لیے ہوا کہ جن کی بجلی منقطع کردی گئی ان سے واجبات وصول کرنے کی کوشش ہی نہ کی گئی اور یاللعجب‘ اس میں سرکاری ادارے بھی شامل ہیں۔ جب باڑ ہی کھیت کو کھانے لگے!
غیرمعمولی خسارہ اس لیے درپیش ہوا کہ بعض بڑے منصوبے التوا کا شکار ہوگئے۔ تنہا چیچوکی ملیاں میں یہ 67 ارب کا ہے۔ نندی پور میں تاخیر سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ 43 ارب‘ وہ کہ جس کے منتظمین کو تمغے عطا ہوئے اور ملازمین کو بونس دیا گیا۔ چند روز کے بعد منصوبہ ناکارہ ہوگیا۔ سال بھر سرکار سوتی رہی‘ حتیٰ کہ میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ حکومت کے ہمدرد اخبار نویس جب یہ کہتے ہیں کہ سیاستدانوں کی کردارکُشی کی جا رہی ہے تو کیا وہ اس پہلو پر بھی غور کرنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں؟
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ سفارش کرتی ہے کہ حکومت واپڈا کو آبی وسائل سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کرے۔ پیداواری اور تقسیم کار کمپنیوں سے کہا جائے کہ وہ سامان اور بجلی کی چوری روکنے کے اقدامات کریں۔یہ اقدامات کون کرے گا؟ کن صاحب کو وزیراعظم حکم صادر کریں گے؟ برادر خورد میاں شہبازشریف کو ؟ جو ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے آرزو مند رہتے ہیں۔ طویل المیعاد منصوبہ بندی کا جو کوئی تصور ہی نہیں رکھتے۔ خواجہ آصف؟ جو زور بیان کے دھنی ہیں اور عرق ریزی سے جنہیں کوئی علاقہ نہیں‘ جوبددلی کا شکار ہیں اور شہبازشریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ جوابدہی احکامات جاری کرنے والوں کی ہونی چاہیے۔ عابد شیر علی؟ جن کا مصرف یہ ہے کہ ٹی وی مناظروں میں حکومت کے مخالفین کی تضحیک کریں ۔ فرصت پائیں تو صوبائی حکومتوں کی بھی۔
نظم و نسق ایک سائنس ہے ‘ جو ہر کسی کے بس کی نہیں۔ عربوں کا محاورہ یہ ہے: لکل فنٍ رجال۔ ہر کام کے لیے مخصوص مردانِ کار ہوتے ہیں۔ کیا بجلی کے اس بحران سے نجات پانے کے لیے قومی آمدن میں‘ جس سے چار سو ارب روپے سالانہ کی کمی واقع ہے‘ وزیر اعظم نے موزوں افراد کا انتخاب کیا ہے؟۔ کام کا آغاز ایک عزم سے ہوتا ہے‘ جس طرح خواجہ سعد رفیق نے کیا۔ پورے نہیں توادھورے نتائج ضرور حاصل کر لیے۔ پھر سیکھنے کا مرحلہ آتا ہے اور نچلی سطح تک ٹیموں کی تشکیل کا۔ نگرانی کا ایک مربوط نظام‘ جس میں خرابیوں کی نشاندہی کی جاتی رہے اور اصلاح کا سلسلہ جاری رہ سکے۔
افسوس ‘ وزیر اعظم پر افسوس۔ انہیں پروا ہی نہیں۔ گڈانی میں 6600میگاواٹ کے دس کارخانے لگانے کا حکم انہوں نے دیا اور دو برس کے بعد واپس لے لیا۔ پوری قوم کے سامنے انہوں نے دعویٰ کیا کہ قائد اعظم سولر پارک سے بالآخر ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ خدا کے لیے اُس آدمی کا نام تو اس منصوبے سے ہٹا دیجئے‘ عمر بھر جس نے جھوٹا وعدہ نہ کیا‘ جوغلط بیانی اور خیانت کا مرتکب ہوا اور نہ پیمان شکنی کا۔ نندی پور کے بارے میں مزید کیا عرض کیجیے ۔ ملک بھر میں پن بجلی کے سینکڑوں چھوٹے منصوبے شروع کئے جا سکتے تھے جو زیادہ سے زیادہ ایک سال میں مکمل ہو جاتے۔ پانچ ہزار میگاواٹ پیدا کیے جا سکتے۔ یہ تجویز مدتوں گردش کرتی رہی کہ بعض دوسرے ممالک کی طرح ایسے میٹر لگا دیے جائیں ‘ جن میں پہلے سے ادائیگی کے بعد بجلی میسر آئے۔ اس کا کیا ہوا؟ یادش بخیر‘ ایک احمد مختار ہوا کرتے تھے‘2008ء میں ۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بجلی میں کفایت کرنے والے ایک کروڑ بلب درآمد کئے جائیں گے۔ عوامی بیداری کی مہم اگر چلائی جاتی تو شاید اب تک دس بیس گنا بجلی استعمال کرنے والے دس کروڑ سے زیادہ قمقمے ہٹا دیئے جاتے اور اس کے ساتھ ہی بے چارگی کا ایک دور تمام ہو جاتا۔
اسد اللہ خان غالب نے کہا تھا؎
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا مگر بہ تنگئی چشمِ حسود تھا
افسوس کہ یہاں کوئی قیس نہیں۔ سب کے سب چوری کھانے والے مجنوں ہیں۔ وگرنہ ایسا کیوں ہوتا کہ ہر سال سات سو ارب روپے‘ واپڈا‘ ریلوے ‘ سٹیل مل اور پی آئی اے ایسے اداروں میں جھونک دیئے جاتے۔ وگرنہ کوئی وزیر اعظم نواز شریف‘ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سندھ کے حکمران جناب آصف علی زرداری سے سوال کرتا :آپ قیادت کے کیسے مدعی ہیں کہ آپ کا سرمایہ ملک سے باہر پڑا ہے ۔ تقریر یں بہت ہیں‘اندمال کوئی نہیں۔
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا‘ کوئی غم گسار ہوتا
لیاقت علی خان سے لے کر جنرل راحیل شریف تک کتنے ہی لیڈروں نے کرپشن روکنے کی کوشش کی اور روک نہ سکے۔1100افسر یحییٰ خان نے برطرف کر دیے اور غالباً1300سے زیادہ بھٹو خان نے۔ فوج نے جن بدعنوان لیڈروں کے خلاف بغاوت کی‘ بعدمیں انہی کوشریکِ اقتدار کیا۔ تابہ کے؟کب تک یہ ملک اس طرح لٹتا رہے گا؟ خلق خدا ایک دن بلبلا اٹھے گی اور طوفان آئے گا۔ خلاء کبھی باقی نہیں رہتا اور مہلت کسی کی دائمی نہیں ہوتی۔ کوئی جائے اور جا کر وزیراعظم کو بتائے کہ ایک زلزلے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے...ایک خوفناک زلزلے کی!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں