نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- دکی :چمالنگ کےعلاقےمیں کوئلےکی کان میں زہریلی گیس بھرگئی
  • بریکنگ :- دکی:زہریلی گیس بھرنےکےباعث 4 کان کن جاں بحق،پولیس
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

فرمائیے‘حضور فرمائیے

یہ بات مگریاد رکھنی چاہیے کہ آدمی اپنے قول نہیں، عمل سے پہچانا جاتا ہے۔ چھٹیوںکی تعداد اگر کم ہی کرنا تھی تو اس کے لئے اقبالؔ کو قربانی کا بکرا کیوں بنایا گیا؟۔ فرمائیے حضور فرمائیے!
یہ بات طے پا گئی کہ لیڈر کی بھی ایک ذاتی زندگی ہوا کرتی ہے۔ ہوش مند اور مہذب اخبار نویسوں کی عظیم اکثریت نے اس سے اتفاق کیا ہے اور عملی طور پر عمران خان پر اگر انہوں نے تنقید کی تو دوسرے عنوانات سے اور ظاہر ہے کہ یہ ان کا حق ہے۔ آپ ان سے اتفاق کریں یا اختلاف، اظہارِ رائے کی آزادی انہیں حاصل ہے اور کوئی ان سے چھین لینے کا حق نہیں رکھتا۔ جو لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مشہور اور ممتازلوگوں کی ذاتی زندگی بھی کیمرے اور قلم کی زد میں ہونی چاہیے‘ ان سے ایک سوال ہے۔ کیا وہ حمزہ شہباز‘ شہباز شریف اور نواز شریف کے علاوہ آصف علی زرداری‘ محترمہ بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی عائلی زندگیوں کے واقعات رقم کرنے کی اجازت دیں گے؟۔ آخر الذکر دونوں کردار اب اپنے اللہ کے پاس جا چکے مگر پاکستانی سیاست میں آج بھی ان کی اہمیت ہے۔ قائد اعظم کی طرح نہ سہی کہ وہ بابائے قوم تھے اور ان کا احترام بہت زیادہ ہے ،پھر بھی ۔ ظاہر ہے کہ یہ لوگ ایسا کرنا پسند نہ کریں گے۔ سوال ان کی پسند یا ناپسند کا بھی نہیں۔ خود ان کے لیڈر، ان سے اتفاق نہیں کرتے۔ خورشید شاہ ‘ شہلا نرگس اور رانا ثناء اللہ نے کچھ غیر محتاط بیانات ضرور دیے مگر انہیں پسند نہیں کیا گیا۔ میاں محمد نواز شریف‘ شہبازشریف‘ آصف علی زرداری‘ حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمن نے بھی اس سے گریز کیااور اپنے حامیوں کو تاکید کی کہ وہ اس سے احترازکریں ۔ جوابی طور پر ‘ نواز شریف اور ان کے خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کی ذاتی زندگیاں بھی اگر اخبار اور ٹیلی ویژن میں زیر بحث لائی جائیں تو یہ بداخلاقی کا مظاہرہ ہو گا۔ ایسے لوگوں کو خلق خدا کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا ہو گا۔ وہ اپنا عتبار اور ساکھ کھو دیں گے۔
دلیل سننے کے جو لوگ روادار نہیں‘ ان کے ساتھ مزید بحث کی اب کوئی ضرورت نہیں۔ سیاست میں موضوعات کی کوئی کمی نہیں اور اب ان پر بات کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر یوم اقبالؒ کی چھٹی ختم کرنے کا فیصلہ۔
جمعرات کی شب عمران خان کو میں نے ایک پیغام بھیجا''وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے یوم اقبالؒ کی چھٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپ کے وزیر اعلیٰ کو اعلان کرنا چاہیے کہ 9نومبر کی رخصت منسوخ نہیں کی گئی۔ تعلیم یافتہ لوگوں پر اس کا اچھا اثر مرتب ہو گا۔ خاص طور پر پنجاب اور کراچی میں ۔ چھٹیوں کے پورے نظام پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے مگر خاص طور پر اقبالؔ کی قربانی کیوں دی جائے‘‘ فوراً ہی موصول ہونے والا، اس کا جواب یہ تھا۔''میں دیکھتا ہوں کہ اس آخری وقت میں کیا یہ ممکن ہے؟‘‘۔
جمعہ کے دن انتظار کیا اور ہفتے کی صبح ایک دوسرا پیغام بھیجا۔ اس کی سہولت کے لیے انگریزی میں ''آپ کو یوم اقبالؔ کی چھٹی کا اعلان کرنا چاہیے۔ اس میں رکاوٹ کیا ہے؟۔ لیڈر شپ کا مطلب ہی یہ ہے کہ مشکل مسائل کے حل تلاش کیے جائیں۔ اقبالؔ ایک غیر متنازعہ ہیرو ہیں۔ اپنے سیکولر حامیوں کے زیر اثر نواز شریف یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اقبالؔ اب ملک سے زیادہ متعلق نہیں رہے۔ آپ اس بات کو سمجھنے اور اس کا تدارک کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ سیاست کا مطلب ہی یہ ہے کہ بر وقت موزوں فیصلے صادر کیے جائیں۔ محاذ آرائی کے بغیر مہذب انداز میں غلط اقدامات کا صحیح فیصلوں سے علاج کیا جائے۔ افسوس کہ آپ کی پارٹی یہ بات نہیں سمجھتی۔ براہ کرم وزیر اعلیٰ سے فوراً کہیے کہ وہ چھٹی کا اعلان کریں۔ یہ ایک اخلاقی اور سیاسی فتح ہو گی ، تصادم اور تلخی کے بغیر۔ اس میں ناکامی ‘ قیادت کی ناکامی تصور کی جائے گی۔ مسلم برصغیر پر اقبالؔ کا حق بہت بڑا ہے‘ خاص طور پر پختونوں پر‘ جو ان کے سنجیدہ فلسفیانہ تدبر کا حصہ تھے اور ان کی ستائش کا بھی۔ یہ ان کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ سیاسی نہیں‘ یہ ایک نظریاتی سوال ہے کہ دنیا کے اس خطے میں ‘ وہ اسلام کے ماڈرن اور باوفا فرزند تھے۔ کوئی پاکستانی سیاستدان اور دانشور ان کے باب میں غیر جانبداری اور لاتعلقی کا متحمل نہیں ہو سکتا‘ جو تاریخ کے عظیم ترین مفکرین میں سے ایک تھے‘‘۔
جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں‘ اور اب اس پیغام کو چار گھنٹے گزر چکے‘ ابھی تک کپتان کا جواب موصول نہیں ہوا۔ ہر کاریگر کی ایک مشین ہوتی ہے‘ سیاستدان کی مشین اس کی پارٹی ہوا کرتی ہے۔ افسوس کہ عمران خان کی پارٹی ان کی اعلان کردہ ترجیحات کے مطابق نہیں۔ بعض اوقات وہ معمولی مسائل سے بھی نمٹ نہیں سکتی۔
نواز شریف کے حامیوں کو یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے خلاف کوئی سیاسی سکینڈل کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نندی پور اور ایل این جی کی قیمت مقرر کرنے سے انکار سمیت درجن بھر سکینڈل پہلے ہی موجود ہیں۔ اخبار نویس ان کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر نندی پور میں صرف ایک دن استعداد کے مطابق پوری بجلی پیدا ہوسکی۔ اور نون لیگ کے حامی اس دن بہت اچھلے کودے اور انہوں نے اسے عظیم کارنامہ قرار دیا۔ یہ کارنامہ صرف ایک دن برقرار رہ سکا۔ جلد یا بدیر واضح ہو گا کہ نندی پور کا منصوبہ سرتاپا ایک فریب کاری ہے۔ وہ کبھی قابلِ عمل نہ ہو سکے گا۔اور اب صرف 50 فیصد پیداوار ہے؛ چنانچہ جیسا کہ اندازہ تھا، چینی کمپنی نے راہ فرار اختیارکی۔ پہلے ہی سے اس کے بارے میں یہ کہا جا رہا تھا کہ وہ قابل اعتبار نہیں۔ دنیا بھر میں چینی کمپنیوں کا تاثر بہت خراب ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے سالانہ میزانیے اور ادا کردہ ٹیکس کی تفصیلات تک جاری نہیں کرتیں۔ خود ریلوے انجنوں کے سلسلے میں ہم انہیں بھگت چکے؛ چنانچہ غلام احمد بلور کے بعد خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کی کمان سنبھالی تو چینی انجن خریدنے سے انکار کر دیا حالانکہ چینی کمپنیاں اس سلسلے میں بہت بھاگ دوڑ کرتی رہیں۔ ماہرین نے ان کے خلاف فیصلہ صادر کیا۔ خود اس ناچیزکے ساتھ پاکستان میں چینی تاجروں کے چیمبرآف کامرس کے سربراہ نے کچھ عرصہ قبل ایک ملاقات کی۔ اسے چین کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی گئی۔ ابتدائی معلومات کے بعد ہی میں نے اسے ٹال دیا۔ یہ بھی چند ماہ قبل عرض کیا تھا کہ شاہراہ قراقرم کی توسیع اور مرمت کے لئے جو نرخ چینیوں نے پیش کیے ہیں وہ مارکیٹ سے چھ گناہ زیادہ ہیں۔ کاروبارمیں ہر فریق اپنے نفع اور نقصان کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ چین ہمارا قابل اعتبار دوست ہے۔ دوچار فیصد کی بات ہو تو شاید پھر بھی ہمیں چین کو ترجیح دینی چاہیے۔ ایسی کمپنی پر مگرکیوں اعتبار کیا گیا جو پہلے ہی خود کو ناقابل اعتبار ثابت کر چکی تھی۔
یوم اقبال کی چھٹی منسوخ کرنے کے ہنگام، وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پاکستانی عوام ملک کو لبرل خطوط پر چلاناچاہتے ہیں۔بظاہر اس میں اعتراض کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ لبرل کا مطلب ہے روشن خیالی اور تنگ نظری سے گریزکیا جائے گا۔ اس پرناک بھوں چڑھانے کا کیا مطلب ہے؟ زیادہ سے زیادہ وزیراعظم سے یہ درخواست کی جاسکتی ہے کہ وہ لبرل ازم کمے اس مفہوم کی وضاحت کریں جو ان کے ذہن میں ہے اور یہ کہ اس کے تحت وہ اپنی ترجیحات میں کونسی تبدیلیاں لانا پسند کریں گے۔
یہ بات مگریاد رکھنی چاہیے کہ آدمی اپنے قول نہیں، عمل سے پہچانا جاتا ہے۔ چھٹیوںکی تعداد اگر کم ہی کرنا تھی تو اس کے لئے اقبالؔ کو قربانی کا بکرا کیوں بنایا گیا؟۔ فرمائیے، حضور فرمائیے!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں