نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیب نیازی گٹھ جوڑکی پریس ریلیزجاری ہوئی ہے،مریم اورنگزیب
  • بریکنگ :- پریس ریلیزنیب لاہورکی جانب سےجاری کی گئی،مریم اورنگزیب
  • بریکنگ :- پریس ریلیزعمران خان کےحکم پرجاری کی گئی،مریم اورنگزیب کاالزام
  • بریکنگ :- 538 ارب روپےکی ریکوری کی تفصیلات کوپبلک کیاجائے،مریم اورنگزیب
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

نواز شریف زرداری ٹولے کو بچانے پر مصر کیوں ہیں ؟

میاں محمد نواز شریف کو مستقبل کا لائحۂ عمل طے کرنا ہے اور جنرل راحیل شریف کو بھی ۔ جنرل کے سامنے ایک راستہ ہے کہ وہ قوم کو اعتماد میں لے ۔ اس سے سوال کرے کہ اگر وہ اس کے زخم سی نہیںسکتا تو اپنے گھر واپس چلا جائے۔ فیصلے کا وقت آپہنچا۔ 
بس کی گانٹھ سندھ حکومت ہے ، جو رینجرز کے ساتھ تعاون پر آمادہ نہیں، جس کے ایڈووکیٹ جنرل نے ڈاکٹر عاصم کو بے گناہ قرار دیا ؛حالانکہ اپنے جرائم کا وہ اعتراف کر چکے ۔ ان کے نام بتا چکے ، جن کے ساتھ مل کر وہ ایک مافیا تشکیل کرتے ہیں ۔ آصف علی زرداری نے جنرل راحیل شریف کو دھمکی دی تھی کہ وہ ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ۔ کس خطا پر؟ 
اطلاع یہ ہے کہ اسحق ڈار نے دبئی میں زرداری صاحب سے ایک خفیہ ملاقات کی ۔ انہیں یقین دلایا کہ ڈاکٹر عاصم کی رہائی کابندوبست کر لیا جائے گا۔ شاید ایان علی کی طرح ،جو ضمانت پر ہیں اور جن کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ ایک معمولی ماڈل کس کے لیے کام کرتی ہے ؟ تفتیش کنندگان میں سے ایک کو قتل کر دیا گیا تو کسی نے پروا تک نہ کی ۔ سوچے سمجھے اغماض کا اس کے سوا کیامطلب ہے کہ فیصلہ صادر کرنے والوں کو جرائم پیشہ ٹولے سے ہمدردی ہے ۔ 
پنجاب حکومت مانتی ہے کہ اس سے کوتاہیاں سرزد ہوئیں، پھر وفاق کس مُنہ سے اپنا مقدمہ لڑے گا؟
آئی ایس پی آر نے جو پریس ریلیز جاری کیا ، کوئی آزاد اور غیر جانبدار مبصر اس سے اختلاف نہیں کر سکتا۔ خورشید شاہ اعتراف کرتے ہیں کہ بات درست ہے ۔وفاقی حکومت کے جواب سے کوئی غیرجانبداراور با خبرآدمی اتفاق نہیں کر سکتا۔ صرف ایک سوال باقی رہ جاتا ہے کہ کیا فوجی قیادت کو اپنے موقف کا اعلانیہ طور پر اظہار کرنا چاہیے تھا یا نہیں ؟فوجی افسر کہتے ہیں کہ سرکاری ملاقاتوں میں بار بار جتلایا گیا۔ ہر کوشش ناکام رہی اور اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ۔ واضح طور پر یہ زرداری شریف گٹھ جوڑ ہے۔ ایوانِ وزیرِ اعظم کے بیان میں صوبائی حکومتوں کا بھی ڈٹ کر دفاع کیا گیا۔ سندھ حکومت سے میاں صاحب کو ہمدردی ہے ، جس سے زیادہ بد عنوان حکومت شاید ہماری تاریخ میں کبھی نہیں آئی۔ 
فوجی قیادت نہیں ، یہ میڈیا تھا ، ہفتوں اور مہینوں تک جو چیختا رہا کہ لانچیں بھر بھر کے کرنسی اور سونے کے انبار ملک سے باہر بھیجے جا رہے ہیں ۔ وفاق نے اس پر کیاکیا؟ 
ضربِ عضب اور کراچی میں معاملا ت کواپنے ہاتھ میں لینے کے فیصلے سہل نہ تھے ۔ سوات کے بعد قبائلی علاقوں میں پے درپے کارروائیاں کرنے والے جنرل اشفاق پرویز کیانی، شمالی وزیرستان میں فیصلہ کن اقدام سے گریزاں کیوں رہے ؟ حال ہی میں سبکدوش ہونے والے ایک اعلیٰ فوجی افسر سے پوچھا گیاتو ان کا کہنا یہ تھا: ایسے مشکل فیصلوں کے لیے حکومت اور رائے عامہ کی مکمل پشت پناہی درکار ہوتی ہے ۔ سوات میں آپریشن تبھی ممکن ہوا، جب صوفی محمد نے جلسۂ عام میں آئین اورپارلیمان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ۔ عہدِ جدید کی جنگیں تنہا فوج نہیں لڑ اکرتی ۔ زرداری حکومت کبھی اس کے لیے آمادہ نہ تھی ۔ کراچی میں قتلِ عام ہوتا رہے یا دہشت گرد پورے ملک میں آگ اور خون کی ہولی کھیلتے رہیں ، اسے پروا ہی نہ تھی ۔
سیاسی پارٹیوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کی کبھی منصوبہ بندی نہ کی۔ زرداری تو رہے ایک طرف، ملالہ یوسفزئی پر حملہ ہوا تو میاں محمد نواز شریف نے بیانات جاری کرنے کے سوا کچھ نہ کیا۔ سوشل میڈیا پر ایک طوفانِ بدتمیزی تھا۔ لرزا دینے والے واقعے کو ڈرامہ قرار دیا جا رہا تھا، جو شمالی وزیرستان آپریشن کا جواز گھڑنے کے لیے رچایا گیا۔ پاک فوج کے لیے امریکی رینٹل آرمی جیسے الفاظ استعمال کیے جا رہے تھے۔ کیا سیاسی پارٹیوں نے قوم کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ملک کومکمل تباہی کی طرف دھکیلا جا رہاہے ؟ عمران خان طالبا ن کو پشاور میں دفتر کھولنے کی تجویز پیش کر رہے تھے اور نواز شریف مکمل طور پر لا تعلق ۔ 
وہ اقتدار میں آئے توکارروائی کا مشورہ دیاگیامگر نواز شریف مذاکرات پر ڈٹ گئے۔ ان سے کہاگیا کہ بات چیت ہی کرنی ہے توآئین کی حدو دمیں کی جائے اور طالبان سے ہمدردی رکھنے والے مولوی صاحبان کوشریک نہ کیا جائے ۔ میاں صاحب نے مگر سن کر نہ دیا۔ طالبان کو انہوں نے قوم کی گردن پر سوار کر دیا۔ بات چیت کی ذمہ داری بابائے طالبان مولانا سمیع الحق کو سونپی گئی ۔ مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے مطالبہ کیا کہ تخریب کاروں کے مالی نقصانات کا ازالہ کیا جائے ۔ 
قوم جانتی ہے کہ ضربِ عضب کا فیصلہ شریف حکومت نہیں ، عسکری قیادت نے کیا۔ دنیا کو اس فیصلے کی خبر آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز سے ملی۔ داد وصول کرنے کا وقت آیا تو ایک کے بعد دوسرا وزیر بڑ ہانکنے لگا۔ کیا وہ اس بات پر داد کے طالب ہیں کہ پولیس ، انٹلی جنس ، تفتیشی عمل اور عدالت کو بہتر بنانے کی رتّی برابر کوشش نہ کی گئی ۔ پولیس آج بھی وہی ہے ۔ سپیشل برانچ اور سی آئی ڈی بھی وہی۔ عدالتوں میں مقدمات آج بھی چیونٹی کی رفتار سے رینگتے ہیں ۔ ایان علی کا مقدمہ ایک مثال ہے ۔ ایک ماڈل کو بچانے کے لیے ایف آئی اے کا افسر ما ر ڈالا گیا۔پیپلز پارٹی کی قیادت نے ملک کے بہترین وکیل مامور کیے ۔ جیل میں ہر سہولت اسے فراہم کی گئی ۔کس لیے ، آخر کس لیے ؟ جنرل ثناء اللہ نیازی کے قتل، 23 عدد ایف سی جوانوں کی شہادت اور پشاور چرچ میں ہولناک خوں ریزی کے باوجود نواز شریف قاتلوں کے اس ٹولے سے بات چیت پر مصر کیوں رہے؟
سامنے کی بات یہ ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ حکومت کا مسئلہ ہی نہیں۔اس کا کام بس یہ ہے کہ ایک کے بعد سیمنٹ اورسریے کی دوسری دیوارِ چین بناتی رہے ۔ دہشت گردی فوج کا دردِ سر ہے ۔ اسحٰق ڈار ضربِ عضب کے اخراجات کی منادی کرتے رہتے ہیں ۔ کس لیے ؟میاں نواز شریف ہمہ وقت اپنے کارنامے گنوایا کرتے ہیں ۔ کیا تھانوں ، ہسپتالوں ، سکولوں اور کالجوں کی حالت پہلے سی ابتر نہیں ؟تیل کی قیمت ایک تہائی ہو جانے ، کراچی اور بلوچستان میں بڑی حد تک امن قائم ہو جانے کے باوجود معیشت کی حالت یہ ہے کہ وزیرِ خزانہ آٹھ فیصد پر بانڈ جاری کرتے پھرتے ہیں ۔ سرمایہ کاری کی موزونیت کے اعتبار سے پاکستان آج بھی 138ویںنمبر پر ہے ۔ اسحق ڈار 84کمیٹیوں کے سربراہ ہیں ۔ کیا اسی پر وزیرِ اعظم تحسین کے آرزو مندہیں یا یہ کہ پہلی بار دو تین بجلی گھر انہوں نے ایسے قائم کر دیے ہیں جن میں لوٹ مار نہیں کی گئی ؟ 
میاں نواز شریف، زرداری ٹولے کو بچانے کا تہیہ کیوں رکھتے ہیں ؟ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ان کی باری آئے گی ؟ قابلِ اعتماد ذرائع یہ کہتے ہیں کہ رانا مشہود سمیت پنجاب میں کئی جرائم پیشہ افسروں اور لیڈروں کی گرفتاری کا فیصلہ ہوچکا تھا کہ وزیرِ اعظم نے جوابی وار کیا۔ رانا مشہود کے نقوشِ قدم ایک شریف شہزادے تک جا پہنچتے ہیں ، جسے کبھی انہوں نے اپنا جانشین بنانے کا فیصلہ کیا تھا ؛اگرچہ اب ان کی نگاہ اپنی نورِ نظر اور ایک صاحبزادے پہ آٹھہری ہے ۔ 
چوہے بلّی کا یہ کھیل جاری رہے گا۔ جنرل راحیل شریف کو اپنے ساتھیوں سے مشاورت کرنا ہوگی اور ظاہر ہے کہ یہ امریکی دورے سے واپسی کے بعد ہی ممکن ہوگی ۔ 
میاں محمد نواز شریف کو مستقبل کا لائحۂ عمل طے کرنا ہے اور جنرل راحیل شریف کو بھی ۔ جنرل کے سامنے ایک راستہ ہے کہ وہ قوم کو اعتماد میں لے ۔ اس سے سوال کرے کہ اگر وہ اس کے زخم سی نہیںسکتا تو اپنے گھر واپس چلا جائے۔ فیصلے کا وقت آپہنچا۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں