نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- استنبول:ترک صدرنےامریکاپردہشتگردوں کی پشت پناہی کاالزام لگادیا
  • بریکنگ :- امریکادہشتگردوں سےلڑنےکےبجائےمددفراہم کرتاہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- نیٹوممبرہونےکےناطےترکی یہ بات پوری دنیاکوبتاناچاہتاہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- دہشت گردتنظیموں کوامریکاہتھیارفراہم کرتاہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- استنبول:امریکاشام میں مزیدکوئی دلچسپی نہیں رکھتا،طیب اردوان
  • بریکنگ :- ترکی کی جنوبی سرحدپرشامی حکومت کی وجہ سےخطرہ لاحق ہے،طیب اردوان
  • بریکنگ :- پیوٹن دوست ہونےکےناطےشام کےمعاملےپرہمارےتحفظات دورکریں،طیب اردوان
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

رہنما

نہیں‘ آج ہمارا کوئی لیڈر نہیں‘ اپنی اغراض کے وہ بندے ہیں مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ آسمان پر کہکشائیں اور زمین پر آلوچے کے شگوفے کھلانے والے رب کے سامنے ہم جھکیں اور التجا کریں کہ وہ ہمیں ایک رہنما عطا کرے۔اس حیّ و قیوم سے‘ اس ارحمُ الراحمین سے۔
تہمد کے پلّو سے شاعر مشرق نے آنکھیں پونچھیں اور کہا: افسوس کہ کوئی مخلص مسلمان نہیں ملتا۔ یہ 1938ء تھا۔ آواز بیٹھ گئی تھی اور سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی۔ گڑھی شاہو والے گھر میں تکیے سے ٹیک لگائے وہ نیم دراز رہتے یا صحن میں کرسی ڈال کر بیٹھے رہتے۔ صبح سویرے سے رات گئے تک ملاقاتیوں کا تانتا بندھا رہتا۔ ڈاکٹر چغتائی‘ چوہدری محمد حسین اور شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشی روزانہ آتے۔ مگر بہت سے اور لوگ بھی۔ علی بخش اور اس کا ایک ساتھی مہمانوں کے لیے چائے ڈھونے میں جتے رہتے۔ کھانا بالعموم ڈاکٹر صاحب تنہا کھاتے۔ شاعر ‘ ادیب‘ سیاسی کارکن‘ اخبار نویس‘ لاہور کے اکابرین ‘ بے تکلف ہر کوئی چلا آتا۔ کچھ سوال دریافت کرنے والے‘ کچھ تجاویز پیش کرنے اور کچھ محض سامع۔
آج اقبال مگر خاموش تھے۔ سر نیہواڑے وہ بیٹھے رہے۔ آپس میں لوگ بات کرتے رہے۔ ان دنوں شاعر کی فکر کا محور فقط ایک تھا: کسی طرح مسلم لیگ متحد اور یکجا ہو۔ اسلامیانِ برصغیر کو کانگرس کی گود میں گھسے خود پسند لیڈروں سے نجات دلائی جائے اور پاکستان کا حصول ممکن ہو۔ دکھا ہوا دل مگر یقین سے سرشار۔بیمار اپنے بارے میں سوچتا ہے‘ انہیں قوم کی فکر لاحق تھی۔ قرار داد پاکستان کی منظوری میں ابھی دو برس باقی تھے مگر سوال کیا جاتا تو پورے اعتماد سے ارشاد کرتے کہ مسلمان آزادی کی نعمت سے جلد ہمکنار ہوں گے ۔ ابوالکلام کا نام تک لینے سے وہ گریز کرتے۔ دیوبندکے بعض اکابر سے نالاں تھے ۔حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے فرمایا تھا کہ قوم وطن سے بنتی ہے۔ مسلم برصغیر کا طول و عرض پھر اقبال کے اشعار سے گونج اٹھا۔
عجم ہنوز نداند رموزِ دیں ورنہ
زدیو بند حسین احمد! ایں چہ بوالعجبی است
سرود برسرِ منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبرز مقام محمدؐ عربی است!
بہ مصطفیٰؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگربہ او نر سیدی‘ تمام بولہبی است
عجم آج بھی روح دیں سے آشنا نہیں‘ دیو بند کے حسین احمد نے کیسی عجیب بات کہی کہ ملت وطن سے ہوتی ہے۔ مصطفیﷺ کے مقام سے وہ کس قدر ناآشنا ہے۔ مصطفیﷺ تک پہنچو‘ دین صرف وہی ذات پاکؐ ہے۔ اگر وہاں تک نہ پہنچے تو تمام بو لہبی ۔
ان کا فرمان یہ تھا کہ تمام مسلمانوں کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر یکجا ہو جانا چاہیے۔ قائد اعظم انگلینڈ سے لوٹ آئے تھے جہاںمایوس ہو کر وہ گئے تھے کہ آرام بڑھا لیں اور پریوی کونسل میں قانون کی پریکٹس کیا کریں۔ اقبال کے اصرار اور مسلم لیگی مجلس عاملہ کی درخواست پر۔ مسلم لیگ اور اقبال ہی نہیں ‘ محمد علی جوہر بھی کہہ چکے تھے کہ ساری امیدیں اب جناح سے وابستہ ہیں۔ وہ آدمی جس نے کہا تھا :Politics is the game of gentlemen, not mudslinging. ''سیاست شرفاء کا شعار ہے، کیچڑ اچھالنے کا کاروبار نہیں‘‘۔
ہر کڑے مرحلے میں ان کی بصیرت نے قوم کی رہنمائی کی تھی۔ فرمایا کرتے‘ میں تمہارا روحانی پیشوا نہیں مگر اخلاقی اعتبار سے وہ بہت بلند تھے۔ اپنے ملبوس کی طرح اجلے۔ کہا جاتا کہ ان کی دیانت پہ شک نہیں ہو سکتا۔ در حقیقت وہ اس سے کہیں زیادہ دیانتدارتھے۔ انگریزی زبان میں قرآن کریم پڑھا کرتے مگر اس کا چرچا کبھی نہ کرتے۔ خود ستائی سے وحشت تھی۔ نام و نمود کے کبھی آرزو مند نہ ہوئے۔ اللہ کی رحمت ان پر ٹوٹ ٹوٹ کر برسی تھی۔ عرب و عجم کی قیادت کا دعویٰ کرنے والوں کے برعکس‘ احساس کمتری سے وہ یکسر آزاد تھے۔ اپنے کردار کی صلابت پر انہیں کسی گواہی کی ضرورت کبھی نہ پڑی۔ کج بحثی کیا زائد از ضرورت گفتگو سے بھی گریز کرتے۔ حیرت انگیز جذباتی توازن قدرت نے انہیں بخشا۔ نفرت اور تعصب سے گریزاں۔ حسداور عناد میں کبھی مبتلا نہ ہوئے۔وعدے کی پاسداری کرتے اور ڈسپلن کی سختی سے پابندی۔ ریاضت کیش ایسے کہ ہمہ وقت مصروف۔ میز پر کھانا ٹھنڈا ہو جاتا۔ دوبار بہن کو انہیں یاد دلانا پڑتا۔ شب بستر پہ اس وقت دراز ہوتے‘ جب ہمت یکسر جواب دے جاتی۔ ایسے ہی ایک موقع پرمحترمہ فاطمہ جناح نے یہ کہا کہ کانگرس کے لیڈر اس وقت خوابیدہ ہوں گے‘ جواب دیا:اس لیے کہ ان کی قوم جاگ رہی ہے۔ میں اس لیے جاگ رہا ہوں کہ میری قوم سوئی پڑی ہے۔
کم کسی رہنما نے اپنی قوم سے اس طرح ٹوٹ کر محبت کی ہو گی۔ وجہ بیان کی تھی: میں چاہتا ہوں‘ مروں تو میرا ضمیر مطمئن ہو کہ میں نے قوم کی خدمت کا حق ادا کر دیا۔ ایک بار یہ بھی ارشاد کیا تھا:دنیا کی سب نعمتیں میں دیکھ چکا۔ اب اس کے سوا کوئی تمنا نہیں کہ دنیا سے اٹھوں تو میرا دل شاد ہو کہ جو کچھ ممکن تھا‘ قوم کے لیے میں نے کر ڈالا‘‘۔
یہ ایک قوم نہیں تھی۔ جبہ و دستار والوں نے اسے کانگریس کا ضمیمہ بنا دیا تھا لیکن پھر مسلم برصغیر کو اقبال عطا ہوئے۔ وہ آدمی جو مغرب و مشرق کا ادراک رکھتا تھا۔ ان کے حال ہی نہیں‘ ماضی کا بھی ۔وہ مستقبل کی صورت گری میں ان کا رہنما تھا۔ ؎
اندھیری شب میں‘ میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شررفشاں ہو گی آہ میری‘ نفس مراشعلہ بار ہو گا
ہرگز کوئی دعویٰ نہ تھا‘بلکہ فرقہ ملا متیہ کے بعض رجحانات ؎
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے‘ برسوں میں نمازی بن نہ سکا
جناح کی جدوجہد سے یہ ہجوم ایک قوم میں ڈھلا ۔علمی اعتبار سے اقبال اور سیاسی طور پر جناح ہی اس کے معمار تھے۔ بعد میں ملاّ اور ملحد اسے بکھیرنے پر تل گئے جن کے اجداد نے میدان میں محمد علی سے مات کھائی تھی۔چالیس بر س بیت گئے‘ ایک دانائے راز نے یہ کہا ؎
جلتے ہر شب ہیں آسماں پہ چراغ
جانے یزداںہے منتظر کس کا
انسان اور کائنات کے خالق کو کسی ہجوم کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ ایک آدمی کا انتخاب کرتا ہے۔ سچے اور علم کے متلاشی کا۔ ہر زمانے کو وہ ایسے لوگ عطا کرتا ہے‘ جو ایثار کیش ہوتے ہیں‘ کوئی دعویٰ نہیں رکھتے‘ انسان اور کائنات‘ زندگی اور فنا پہ غور کرتے رہتے ہیں‘ ادراک رکھتے ہیں اور دلیل پہ انحصار کرتے ہیں۔ محمد علی ایسے ہی تھے ۔ بیک وقت ایک سائبان‘ ایک سردار اورایک شمشیر کی شان ان میں تھی۔ ؎
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم ِحق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
سوانح نگار ان کے بہت ہوئے مگر ان میں سے کوئی محمد علی کی عظمت کا راز پا نہ سکا۔ اللہ پہ بھروسہ انہیں بہت تھا۔بہت نہیں‘ مکمل۔مقبولیت کی انہیں کبھی پروا نہ ہوئی۔ تحریک خلافت ہو یا کم سن بچیوں کی شادی کا تنازعہ۔ اپنے ضمیر کی رائے وہ سنتے اور پرچم کی طرح لہرادیتے۔ ستائش کی تمنا ‘ نہ صلے کی پروا۔ معلوم تاریخ کے سب سے بڑے ہندولیڈر مہاتما گاندھی انہیں سمجھ نہ سکے کہ متحدہ بھارت کی وزارت عظمیٰ پیش کی۔ وہ اس سے بہت بڑے تھے۔ امریکی اخبار نویس نے سوال کیا: آپ اور کیا چاہتے ہیں؟ تو رسان سے کہا‘ اس کے سوا میں کچھ بھی نہیں چاہتا کہ اللہ کے حضور پیش کیا جائوں تو وہ کہے محمد علی‘ میں تم سے خوش ہوں۔زمین سے نہیں‘اقبال کی طرح وہ بھی زندگی کو آسمان سے دیکھتے تھے۔ اس کی بے کنار وسعت میں۔ کیا آسمانوں پر فرشتوں کے سامنے ان کے خالق نے ان پر فخر نہیں کیا ہو گا؟کیا ابلیس کو جتلایا نہ ہو گا کہ دیکھ یہ ہیں اخلاص کے چراغ۔
لیڈر وہ نہیں ہوتا‘ جو اپنی خاطر جیے‘ اپنے اقتدار‘ اپنی دولت‘ اپنی پذیرائی‘ اور اپنی اولاد کے لیے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے‘ جو اپنے تعصبات دفن کر ڈالتا ہے۔ وہ کسی زبان‘ کسی نسل‘ کسی فرقے‘ کسی خطے اور کسی مفاد کا نہیں ہوتا۔
نہیں‘ آج ہمارا کوئی لیڈر نہیں‘ اپنی اغراض کے وہ بندے ہیں مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ آسمان پر کہکشائیں اور زمین پر پھول کھلانے والے رب کے سامنے ہم جھکیں اور التجا کریں کہ وہ ہمیں ایک رہنما عطا کرے۔ اس حیّ و قیوم سے‘ اس ارحمُ الراحمین سے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں