نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:محدود وسائل کے باوجود کام کررہے ہیں،مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- جوتھوڑابہت کام ہورہاہےوہ بھی اس طرح رک جائےگا،مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- کراچی میں صحت کی سہولیات سب سے بہترہیں،مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- کراچی میں 3اسپتالوں کو 22ارب روپےدےرہےہیں، وزیراعلیٰ سندھ
  • بریکنگ :- کراچی:محکمہ ہیلتھ کےبجٹ میں اضافہ کیاہے،مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ کا بہت احترام کرتے ہیں،مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- وفاق کوکہا تھا 3اسپتالوں کی چابی لواور انہیں چلاؤ،مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- تینوں اسپتال قانونی طورپرہمارے نہیں ہیں،مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- ہماراصحت کانظام اچھاہے،لوگ باہرسےعلاج کرانےآتےہیں،مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- سوشل میڈیا پرمیرےبیان کامذاق اڑانےوالےاپنامذاق اڑاتےہیں،مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ نےسندھ نہیں وفاق کےخلاف بھی کہا،مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- سندھ میں بہت بہتری آئی ہے،وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- بارش کےدوران دنیاکی کوئی سڑک بتادیں جہاں پانی نہیں جمع ہوتا،مرادعلی شاہ
  • بریکنگ :- ہم تصادم نہیں آگےبڑھناچاہتےہیں،وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

اَگّے تیرے بھاگ لچھیے

اندازے درست ہوتے ہیں اور نادرست بھی۔ ناچیز کا خیال یہی ہے کہ احتجاجی تحریک کا کوئی فائدہ کپتان کو پہنچے گا، اس کی پارٹی اور نہ ملک کو‘ الٹا انہی کو، بجا طور پر جنہیں وہ ''مافیا‘‘ کہتا ہے ع
اگّے تیرے بھاگ لچھیے
مقبول اور محبوب ''الکیمسٹ‘‘ کا مصنف برازیل کے نوبل انعام یافتہ ناول نگار پائلو کوئلوکی تحریروں میں جو دانش اور روشنی ہے اس کے اسباب میں ایک یہ ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہے۔ ظاہر ہے کہ مشاہدے کی وسعت اور انہماک ضروری ہے، وگرنہ سارے مسلمان صاحبِ دانش ہوتے۔
ہفتے بھر سے ایک سوال پر غور و فکر تھا۔ کل کسی نے عارف کا ذکر کیا۔ پوچھا گیا کہ ایک موزوں اندازِ فکر کے لیے بنیادی اصول کیا ہے۔ کہا: قرآنِ کریم کی ایک آیت، وَعَسَیٰ أَن تَکْرَہُوا شَیْئًا وَہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَعَسَیٰ أَن تُحِبُّوا شَیْئًا وَہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ۔ کسی خیرکو تم برا سمجھتے ہو‘ حالانکہ اس میں خیرپوشیدہ ہوا کرتا ہے۔ ایک چیز کو تم اچھا سمجھتے ہو، حالانکہ اس میں تمہارے لیے شر ہوتا ہے۔
آدمی اپنا ردّ عمل کس طرح متعین کرتا ہے؟ معاشرے کے رجحانات، علم یا تجربے کی بنا پر اسی طرز احساس میں اس کی عادات تشکیل پاتی اور فطرت ثانیہ ہو جاتی ہیں۔ عربوں کا محاورہ یہ ہے، السعید من وعظ بغیرہ۔ سعید وہ ہے، جو دوسروں سے سیکھے۔ مشاورت کا حکم اسی لیے دیا گیا کہ اپنی ہی نہیں، آدمی دوسروں کی عقلیں بھی برت سکے۔
اپنی جبلتوں کا آدمی اسیر ہے۔ بیس برس میں بار بار دیکھا کہ جب بھی کسی غیر مسلم نے درویش سے رہنمائی کی درخواست کی تو کہا: اول آپ کو یہ امکان تسلیم کرنا ہو گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد اللہ نے اپنے آخری پیغمبرﷺ کو مبعوث کیا تھا۔
کرکٹر اعجاز نے کہا کہ اس کی کرکٹ تمام ہو رہی ہے۔ کہا، تمام ہی ہونی ہے۔ کوشش اور انہماک سے اس دن کو ملتوی کیا جا سکتا ہے مگر کتنے دن؟ دعا بتائی، تسبیح کی تلقین کی۔ اپنی غلطیوں پر غور بھی کیا ہو گاکہ ایک عدد سنچری جڑ دی۔ ویسٹ انڈیز کے ایک کھلاڑی نے، اب اس کا نام بھولتا ہوں، اس پر حیرت کا اظہار کیا تو اعجاز نے اسے بتایا۔ اس نے فون کیا تو درویش نے وہی بات کہی۔
آئرلینڈ کے ایک جوڑے کو کئی بار ان کے ہاں دیکھا۔ ایک مرحلے پر اس نے کہا: بالیدگی کا سفر رک گیا ہے۔ ارشاد کیا: ایمان اور دعا سے یہی ممکن تھا۔ اس کے بعد بری عادات سے جنگ کا سلسلہ شروع ہونا چاہیے تھا۔ انہی دنوں ایک سوال اس ناچیز نے بھی کیا: کیا فقط دعا سے اصلاح ممکن ہے۔ فرمایا: نہیں، بلکہ توجہات سے۔ اپنی خرابیوں اور ان کے اسباب پر غور کرنے سے۔ علم سے محروم، غور و فکر سے گریزاں، انسانوں کی اکثریت وسوسوں میں گرفتار رہتی ہے۔ اللہ کے آخری رسولؐ کا فرمان یہ ہے: وسوسہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کیا کرو۔ ایک زمانے میں جہاز کے سفر میں کوفت ہوا کرتی‘ بلندی کا خوف‘ سفر کے سوا مگر چارہ نہ تھا۔ فقیر سے کہا: اب یہ کیسے تمام ہو گیا۔ فرمایا: پیہم سفر سے ۔ 
ہر چیز سے نجات ممکن ہے۔ ہر بری عادت اور ہر اندیشے سے، تمام جہل سے۔علم ہی واحد راستہ ہے۔ اپنے شاگروں سے اکثر کہا: کاش تم جان سکو حصولِ علم کی مسرت کیا ہے۔ تنہا علم بھی لیکن ثمر بار نہیں کر تا۔ خیال اگر ارادے میں نہ ڈھلے اور ارادہ پختہ ہو کر بتدریج عمل سے عادت نہ بن جائے... آدمی کی ذات ہی اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ 
جب تک اپنے جہل کا آدمی کو ادراک رہتا ہے، حصولِ علم کی تمنا بیدار رہتی ہے۔ جیسے ہی یہ سمجھنا شروع کیا کہ دوسروں سے وہ افضل ہے‘ خبط عظمت اسے آ لیتی ہے۔ ایک چیز اس سے بھی بدتر ہے، زعم تقویٰ۔ ایک چیز کے شکار عمران خان ہیں، دوسری کے مولانا فضل الرحمن۔
دمکتے ہوئے ہیرے، اقوالِ زریں کی کتابوں میں بھی ہوتے ہیں مگر بیشتر ادبی جمالیات ہی۔ کامل صداقت قرآنِ حکیم ہے اور احادیث رسولؐ۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہﷺ کے اخلاق (عادات) کیسے تھے۔ فرمایا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ مسلمانوں میں ایسے مکاتب فکر موجود ہیں، جو بعض دوسروں کے رد عمل کا شکار ہو کر احادیث اور سیرت کی اہمیت کو کم کر کے پیش کرتے ہیں۔ قرآن میں بالکل واضح ہے۔ بندے سے اللہ کی اطاعت کا مطالبہ ہے مگر اللہ کے رسول کی پیروی کا بھی، ''اطیعو ا اللہ و اطیعوا الرسول‘‘۔
فرمایا: ولقد یسّرنا القرآن۔ بے شک قرآن کو ہم نے آسان بنایا ہے۔ اس کے لیے آسان اپنا ذہن جو خالی کر دے۔ سوال کرے اور کرتا رہے مگر کوئی چیز پہلے سے طے کر کے مطالعے کا آغاز نہ کرے۔ حجاب اسی کو کہا جاتا ہے۔ حجاب اکبر یہ ہے کہ آدمی اپنی تاویل کو سچائی پر ترجیح دے۔ اقبالؔ نے انہی کے بارے میں کہا تھا ؎
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
پوچھا گیا: انسانوں میں سے بدترین کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ان پر اللہ رحم کرے۔ بارِدگر سوال کیا گیا تو فرمایا:دنیا کے لیے جو دین کو بیچ دیتے ہیں۔
درجہ بدرجہ ہم سب مغالطوں کا شکار ہوتے ہیں۔ خطا و نسیان سے آدمی کو بنایاگیا ہے۔ اس کے بارے میں مگر کیا کہیے، مگرمچھ کے آنسو بہا کر بھرے مجمعے میں جو یہ کہے کہ اللہ کے آخری رسولؐ نے تمام مسلمانوں میں سے اس کاانتخاب کیا ہے۔ اس کے پاس تشریف لائے اور یہ کہا کہ اس کے سوا وہ کسی کا مہمان ہونا پسند نہ کریں گے۔ پھر ان کے بارے میں کیا کہا جائے گا، ایسے آدمی سے حسن ظن کا جو ارتکاب کریں۔ جو اس سے امید وابستہ کریں۔ کچھ بے خبر ہوتے ہیں، بدقسمت اور توہم پرست۔ ممکن ہے کہ ان میں سے بعض یا اکثر معاف کر دیئے جائیں۔ جنہیں اللہ نے عقل بخشی ہے؟ جو جانتے ہیں؟
ارادہ تھا کہ عمران خان سے بات کروں گا۔ خود اس نے بھی بار بار بدھ یا جمعرات کو ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ سفر میں وقت بیت گیا۔ وہ بھی مصروف رہا۔ شاید یہ عبارت کوئی اسے پڑھا دے۔ میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری سے نجات کی جو راہ اس نے چنی ہے، یقین ہے کہ اس پر چلتے ہوئے منزل مراد کو وہ کبھی نہیں پاسکتا۔ زرداری صاحب کو تو خیراس نے معاف ہی کر دیا، درآں حالیکہ وہ میاں محمد نواز شریف سے بھی بدتر ہیں۔ ہم سب ان سے نالاں ہیں۔ تبدیلی مگر بہتری کے لیے ہوتی ہے،دلدل میں کودنے کے لیے ہرگز نہیں۔ انتقام دلدل میں اتارتا ہے‘ منزل پر نہیں۔انتقام ذاتی زندگیوں تک کو برباد کر ڈالتا ہے، اجتماعی حیات کو نتیجہ خیز کیسے بنا سکتا ہے۔
کپتان سے مجھے ہمدردی ہے، صرف اس لیے نہیں کہ جابر اور خود غرض حکمرانوں کی مزاحمت معاشرے کے مفاد میں ہے، ایک طویل ذاتی تعلق کے سبب بھی۔ مگراس کے اندازِ فکر اور حکمتِ عملی پہ دل دکھتا ہے۔ شاید یہی اس کی تقدیر ہے کہ جذبۂ انتقام سے مغلوب ہو کر، حکمرانوں کی ہیبت تحلیل کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ فرمایا: اللہ کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
اس کا یہ دعویٰ عجیب ہے کہ جلد ہی تحریکِ انصاف اقتدار میں ہو گی۔ کیسے ہو گی؟ علامہ طاہرالقادری کو حلیف بنا کر؟ اس بدنظمی کے ساتھ‘ شاہ محمودوں کے بل پر؟اس موہوم امید پر کہ ہنگامہ اگر پھیل جائے تو کسی نہ کسی کو مداخلت کرنا ہوگی۔ معاف کیجیے گا، یہ تو کوئی حکمتِ عملی نہیں۔ دوسروں کی خامیوں پر نہیں، زندگی اپنی خوبیوں پر بسر کی جاتی ہے۔ ہندی کی اصطلاح اگر استعمال کی جائے تو پختون خوا میں بہترین راج نیتی Governance، پارٹی کی تنظیم اور کارکنوں کی تربیت ہی اس کا واحدقرینہ ہے۔
اندازے درست ہوتے ہیں اور نادرست بھی۔ ناچیز کا خیال یہی ہے کہ احتجاجی تحریک کا کوئی فائدہ کپتان کو پہنچے گا، اس کی پارٹی اور نہ ملک کو‘ الٹا انہی کو، بجا طور پر جنہیں وہ ''مافیا‘‘ کہتا ہے ع
اگّے تیرے بھاگ لچھیے

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں