نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ایف سی بلوچستان ساؤتھ کاخاران میں خفیہ معلومات پرآپریشن
  • بریکنگ :- آپریشن دہشت گردوں کی موجودگی پرکیاگیا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- جوانوں کی جانب سےعلاقےکامحاصرہ کرنےپردہشتگردوں کی فائرنگ
  • بریکنگ :- دہشتگردوں کی اپنےٹھکانےسےفرارہونےکی کوشش،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- فائرنگ کےتبادلےمیں 6دہشت گردہلاک،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- ہلاک ہونےوالےدہشتگردوں میں 2اہم کمانڈربھی شامل
  • بریکنگ :- ہلاک ہونیوالوں میں کمانڈرگل میراورکلیم اللہ بولانی شامل
  • بریکنگ :- دہشتگردوں کےٹھکانےسےبھاری مقدارمیں اسلحہ اوربارودبرآمد
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

عمرِ خضر کس کو نصیب ہے

جو انجام ایک کا ہوا چاہتا ہے، دوسری کا بھی آخر وہی ہو گا۔ ایک دن بیوہ ہو جائے گی۔ عمرِ خضر کس کو نصیب ہے۔ 
ایسا نہیں کہ غور نہ کیا ہو۔ کیا تھا اور اپنے تئیں پوری طرح۔ بعد میں مگر یہ کھلا کہ وہ سارا سوچ بچار سطحی سا تھا۔ فکر کا حصہ نہ بن سکا۔
بعض دوسرے معاشروں کی طرح پاکستانی معاشرہ بھی Kinship پہ کھڑا ہے۔ سرپرستی اور ذاتی مراسم کا تہہ در تہہ ایک سلسلہ۔ کسی شخص کو ڈھنگ کا ایک بلکہ ایک سے زیادہ سرپرست اگر میسر نہیں۔ کوئی خاندان تعلقات کا ایک جال اگر نہیں بچھا سکا تو عدم تحفظ کا شکار رہے گا۔ پورا معاشرہ ہی مبتلا ہے۔ عام نہیں‘ بڑے بڑے لوگ بھی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ ہفتے میں ایک آدھ بیان ضرور جاری کرتے ہیں‘ جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکمران گروہ کے ساتھ‘ مسلسل وہ رابطہ رکھتے ہیں۔ خورشید شاہ زیادہ‘ کبھی کبھی رحمن ملک بھی۔ اعتزاز احسن‘ قمر زمان کائرہ اور ندیم چن‘ کتنی بھی حکومت کی مذمت و مخالفت کریں۔ خورشید شاہ کے ہوتے‘ اندھوں کے سوا پیپلز پارٹی کسی کو ایک آزاد پارٹی دکھائی نہ دے گی۔
بلاول بھٹو؟...آزاد وہ بھی نہیں۔ والد گرامی کے سائے سے نکل نہیں سکے۔ جو آدمی کسی کی ہدایات کا پابند ہو‘ خواہ قائل ہو کر‘ لیڈر وہ نہیں ہوتا۔ بلاول بھٹو ابھی لیڈر نہیں بنے۔ ابھی تو اتنی سی بات بھی وہ نہیں سمجھتے کہ چیخ کر تقریر کرنے سے تاثر کم ہوتا ہے‘ گہرا نہیں۔ بھٹو صاحب کا یہ ایک فطری انداز تھا۔ ان کے اندازِفکر کی تصویر۔ بلاول بھٹو ایسے میں اداکار لگتے ہیں۔ اداکار کتنا ہی بڑا ہو‘ رہنما نہیں ہوتا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس بات کو پا لیا تھا۔ ان کے تاریخ ساز والد دنیا سے چلے گئے‘ جب سیاست میں ابھی اس جواں سال خاتون نے قدم ہی رکھا تھا۔ اگرچہ پارٹی کی سربراہ ان کی والدہ نصرت بھٹو تھیں۔ وہ مگر لیڈر سے زیادہ ماں ثابت ہوئیں۔ ان کی بھی اور مرتضیٰ سمیت‘ اپنی دوسری اولاد کی بھی۔ رفتہ رفتہ، بتدریج‘ جماعت انہوں نے صاحبزادی کو سونپ دی۔ شریک چیئرمین کی حیثیت سے‘ اپنی جڑیں جب بینظیر گہری کر چکیں تو ایک دن ماں کو چلتا کیا۔ 
نصرت بھٹو حیرت زدہ رہ گئیں۔ جیسا کہ ان کا مزاج تھا‘ دکھ اور برہمی کے ساتھ بولیں : یہ تو ضیاء الحق سے بھی بدتر ہے۔ مرتضیٰ بھٹو‘ بہن کے خلاف میدان میں اتر آئے تھے۔ جناب زرداری کو قبول کرنے پر وہ آمادہ نہ تھے۔ جیل محترمہ نے بھگتی تھی‘ جد و جہد انہوں نے کی اور پوری قیمت چکائی تھی۔ پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں نے لیڈر کے طور پر انہیں قبول کر لیا تھا۔ محترمہ نصرت بھٹو‘ عملیت پسند ہوتیں تو صاحبزادے کو سمجھانے کی کوشش کرتیں۔ دہشت گردی کا راستہ اختیار کر کے جس نے ماں اور بہن کے لیے‘ پوری پارٹی کے لیے مسائل کا کوہ گراں کھڑا کر دیا تھا۔ 
جیسا کہ عرض کیا: وہ مگر ماں تھیں۔ انسانی مزاج کی ساخت گاہے اس قدر بے لچک ہوتی ہے کہ عظیم حادثات بھی اس میں وسعت اور ادراک پیدا نہیں کرتے۔ متحارب بہن بھائی سے بیک وقت ماں نے نبھانے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ نکلا راج سنگھاسن کھو بیٹھیں۔ بیٹی نے ایک دن پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس بلایا اور ماں کو برطرف کر دیا۔ سیاست میں کبھی اولاد بھی عاق کر دیتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے لیے اس کے سوا کوئی راہ باقی نہ بچی تھی۔ تاریخ اور سیاست کے کچھ پارکھ ربع صدی پہلے برپا ہونے والے سانحے کو اب بھی محترمہ کی ذاتی خود غرضی کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ اس ناچیز کے خیال میں وہ حق بجانب تھیں۔ مرتضیٰ ان کے کبھی مددگار نہ ہوتے۔ کبھی ان سے رعایت نہ کرتے۔ اپنے بھائی سے محترمہ کو محبت تھی۔ مارے گئے تو ان کا برا حال تھا۔ اتفاق سے میں نے بچشمِ سر اس حال میں انہیں دیکھا۔ اس مجلس میں‘ اخبار نویس مدعو نہ تھے۔ مجھے معلوم نہ تھا۔ چلا گیا تو روکا کسی نے نہیں۔ کوئی پہچانتا ہی نہ تھا۔ آزاد ٹی وی چینلز کو بروئے کار آنے میں ابھی چھ سات برس باقی تھے۔
وہ قدم بلاول نہیں اٹھا سکتے۔ کم از کم اس وقت تو ہرگز نہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ آئندہ کئی سال تک نہیں۔ پارٹی پر گرفت زرداری صاحب کی ہے۔ ایک سال بیت گیا۔ ملک سے وہ باہر ہیں۔ بلاول اگر سیاستدان ہوتے تو ملک کے کونے کونے میں‘ کارکنوں سے رابطہ جاری رکھتے۔ اب تک غالب آ چکے ہوتے۔ یہ مگر مزاج کا مسئلہ ہے۔ آدمی کی افتاد طبع ہی اس کی تقدیر ہے۔ اکیس برس میں عمران خان سیاست دان نہ بن سکے تو بلاول بھٹو پر کیا تعجب۔
تاریخ کے اس نازک موڑ پہ ‘ عام آدمی کو جب پارٹیوں اور لیڈروں کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے‘ پیپلز پارٹی مخمصے کا شکار ہے۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک یہ ہے کہ اس حال سے نجات پانے کا امکان دور دور تک نہیں۔
قمر زمان کائرہ اور ندیم چن کا انتخاب درست ہے۔ نواز حکومت سے نالاں‘ قوم کے ایک بڑے طبقے میں‘ اعتزاز احسن کی پذیرائی ہے۔ ان کی بات اب توجہ سے سنی جاتی ہے۔ اعتزاز احسن‘ کائرہ اور ندیم چن کی سنی جائے تو پارٹی کی مقبولیت قدرے بڑھ سکتی ہے۔ سننے والا مگر سمندر پار ہے اور کان اس نے بند کر رکھے ہیں۔ بلاول بھٹو کی استعداد محدود ہے۔ اس لیے کہ والد پر ان کا انحصار ہے۔ کمال چابک دستی سے فرزند کو باپ نے باور کرا دیا ہے کہ انہی کی خوشنودی پر‘ اس کے مستقبل کا انحصار ہے۔ 
ظاہر ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو‘ ماں کی دشمن نہ تھیں۔ شواہد یہ ہیں کہ بھائی کے باب میں بھی ہر ممکن مروت کا انہوں نے مظاہرہ کیا۔ وطن واپسی کے بعد‘ مسلسل وہ ان کے لیے مسائل پیدا کرتے رہے۔ برا بھلا کہتے رہے۔ صبر سے انہوں نے کام کیا‘ تاآنکہ اجل نے جواں سال آدمی کو آ لیا۔ اس آدمی کی پوری کہانی کبھی نہیں لکھی گئی۔ اس کی زندگی ہی میں برطانیہ سے شائع ہونے والی راجہ انور کی کتاب The Terrorist Prince ایک گراں قدر کتاب ہے۔ اصل کہانی مگر وہاں سے شروع ہوتی ہے‘ جہاں اس کتاب کا اختتام ہوتا ہے۔ اس ناچیز سمیت‘ پاکستانی اخبار نویس‘ کتاب لکھنے کی طرف مائل نہیں ہوتے۔ شہزادے کی داستان ڈھنگ سے رقم کی جا سکے تو ایک نادر دستاویز ہو گی۔ 
آج پھر وہی ہوا‘ بات ادھوری رہ گئی۔ موضوع یہ تھا کہ پاکستانی معاشرے کی ساخت الگ ہے۔ ایک ایک آدمی عدم تحفظ کا شکار ہے‘ ہولناک حد تک۔ پیپلز پارٹی کی قیادت‘ جناب بھٹو‘ ان کی صاحبزادی اور حضرت زرداری اس بات کو خوب سمجھتے تھے۔ بلاول نہیں ‘ کپتان بھی نہیں۔
جہاں تک شریف خاندان کا تعلق ہے‘ معاشرے کی کمزوریوں سے پوری طرح وہ آشنا ہی نہیں‘ ان سے فائدہ اٹھانے‘ ان کو Exploit کرنے میں‘ اس کا کوئی ثانی نہیں۔ لوگوں کو وہ تحفظ کا احساس دیتے ہیں۔ ان پہ سایہ کرتے‘ اقتدار کی قوت سے ان کے مددگار ہوتے ہیں۔ زرداری صاحب کی طرح۔ 
پیپلز پارٹی کے ایک سابق سینیٹر‘ اچانک ایک دن بولے: ڈھنگ کا کوئی کام زرداری صاحب سے کہوں تو ہرگز نہیں کریں گے۔ خدانخواستہ ایک قتل مجھ سے سرزد ہو جائے، ایسے میں اعانت کی استدعا کروں تو بھاگے ہوئے آئیں گے۔ سو فیصد مجھے یقین ہے۔
پیپلز پارٹی نے ہاتھ کھینچا تو وہ تحریک انصاف میں شمولیت کے آرزو مند تھے۔ مجھ سے کہا گیا۔ میں خاموش رہا۔ جلدی ہی وہ نون لیگ کا حصہ ہو گئے۔ شریف آدمی ہیں‘ وہاں بھی آخری صف میں دھکیل دیے گئے۔ 
جانتا ہوںکہ خطا معاف نہیں کی جائے گی۔ میڈیا سیل والے اخبار نویس برہم بہت ہو نگے۔ رائے ناچیز کی یہی ہے، نون لیگ بھی ایک طرح کی پیپلز پارٹی ہے۔ پیپلز پارٹی بھی ایک طرح کی نون لیگ تھی۔ 
جو انجام ایک کا ہوا چاہتا ہے، دوسری کا بھی آخر وہی ہو گا۔ ایک دن بیوہ ہو جائے گی۔ عمرِ خضر کس کو نصیب ہے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں