نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان آج رات جنرل اسمبلی سےورچوئل خطاب کریں گے
  • بریکنگ :- وزیراعظم افغانستان اورمسئلہ کشمیرپربات کریں گے
  • بریکنگ :- وزیراعظم افغانستان سےمتعلق پاکستانی پالیسی واضح کریں گے
  • بریکنگ :- مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کامعاملہ اٹھائیں گے
  • بریکنگ :- وزیراعظم کوروناکےخلاف پاکستانی اقدامات سےبھی آگاہ کریں گے
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

اتمامِ حجت

اپنے موجودہ شعار کے ساتھ پی ٹی آئی نون لیگ کو دفن تو کر سکتی ہے، اس کی جگہ نہیں لے سکتی۔ اپنی ذات کی کم از کم نفی پر بھی جو قادر نہ ہوں، وہ تخریب تو کر سکتے ہیں، تعمیر نہیں۔ ایک نئے دور کی ابتدا ہرگز نہیں۔ 
خبر ہے کہ صداقت عباسی نامی ایک شخص فلاں کمیٹی میں شامل ہو گئے۔ ثریا کے اُسی جمگھٹے کا حصہ ہیں جس کی باگ سیف اللہ نیازی کے ہاتھ میں تھی‘ جس نے یقینی بنایا کہ گوجر خان سے گجرات تک تحریکِ انصاف ایک بھی سیٹ حاصل نہ کر سکے۔ دوسرے ستارے عامر کیانی ہیں۔ سیف اللہ کے ادنیٰ کارناموں میں سے ایک یہ ہے کہ 2009ء کے پارٹی الیکشن میں، فیصل آباد کے ایک حلقے میں 33000 ووٹوں کو، بیک جُنبش قلم اس نے 3300 بنا دیا تھا۔ یہ بات سمجھنے میں انہیں چار سال لگے کہ یہ شخص اعتبار کے قابل نہیں۔ عامر کیانی پوٹھوہار پہ جب تک سایہ فگن ہے، نون لیگ کو فکرمندی کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ جہلم کے الیکشن میں پارٹی عہدیداروں کو اس نے فواد چوہدری کی مدد سے منع کر دیا تھا۔ وہاں ڈھنگ کے عہدے دار صداقت عباسی پہلے ہی نمٹا چکے تھے۔ موجود ہوتے اور آہنگ کارفرما رہتا تو حکمران پارٹی اپنی جڑوں تک لرز اٹھتی۔
فیصل آباد کے اس حلقے میں شعبدہ بازی ہوئی۔ جولائی 2011ء کو جس کے لیڈر نے 40 ہزار سامعین جمع کر دیے تھے۔ اسی سے 30 اکتوبر 2011ء کے تاریخ ساز اجتماع کی راہ ہموار ہوئی۔ پھر میاں محمد نواز شریف نے الیکشن جیتنے کے اہل ہر امیدوار کو پارٹی میں قبول کر لیا، حتیٰ کہ جن سے بدبو آتی تھی۔ 
فیصل آباد کی فہرستوں میں ردّ و بدل، اس کی راہ روکنے کے لیے، جس نے ساؤنڈ سسٹم کے چار گنا اخراجات پر تعجب کا اظہار کیا تھا۔ قومی اسمبلی کا ٹکٹ جاری کرنے کے بعد واپس لے لیا گیا کہ ہار جائے گا۔ نتیجہ یہ کہ سب کے سب ہار گئے۔ وہ خاموش ہو گیا۔ پارٹی میں شمولیت سے بھی پہلے، جس سے فرمائش تھی کہ جماعت کے رہنماؤں کو سیاسی حرکیات پر درس دیا کرے۔ 
کبھی میں نام نہ لکھتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس طرح کے لوگ ہر کہیں بھرے پڑے ہیں۔ ان میں سے بعض اخبارات میں جگمگاتے، حتیٰ کہ ٹی وی میں در آتے ہیں۔ مخلص کارکن اس پر اگر بددل نہ ہوں، بے یقینی، مایوسی اور قیادت پہ عدم اعتماد اگر پیدا نہ ہو تو کیا ہو؟ 
بار بار یاد دلایا کہ پارٹی کی تنظیم ہی اس کی اصل‘ بنیاد اور حتمی قوت ہوا کرتی ہے۔ کشتی کا لنگر‘ اس کا بادبان اور انجن سبھی کچھ۔ عہدیدار ہی پارٹی کا چہرہ، اس کی شناخت اور شخصیت ہوتے ہیں۔ انہی کی بنا پر گلی محلے کے ووٹر رائے تشکیل دیتے اور فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ جسٹس وجیہ الدین احمد نے پارٹی الیکشن میں خرید و فروخت کا کچا چٹھا کھول دیا تو رفوگری کی بجائے، انہی سے نجات پانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اپنی حدود سے انہوں نے تجاوز کیا ہو گا۔ ممکن ہے کہ عملیت پسندی کے کچھ تقاضے بھی نظر انداز کیے ہوں۔ دردِ سر کا مگر یہ علاج کہ سر ہی کاٹ پھینکا جائے۔ سر جوڑ کر پارٹی بیٹھ جاتی اور راہ عمل تلاش کرتی۔ اس کے لیے مگر دیدہ ریزی اور دماغ سوزی درکار ہوتی ہے۔ تحریکِ انصاف کے غیر تحریری منشور کا سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ اس سے پرہیز کیا جائے۔ یہ پارٹی کے ڈاکٹروں کا نسخہ ہے۔ اس کی بجائے دل کا بوجھ ہلکا ہونا چاہیے۔ صحت یابی کا یہ نادر نسخہ ہے۔ صدیوں سے جس پر میانوالی کے بزرجمہر عمل کرتے آئے ہیں۔
معاشرے کے ادنیٰ عنصر کو بھی سیاسی پارٹی میں شامل ہونے سے روکا نہیں جا سکتا۔ کسی بھی حمایت کرنے والے کو آپ دھتکار کیسے سکتے ہیں۔ سبھی پارٹیوں میں اس طرح کے لوگ موجود رہتے ہیں، حتیٰ کہ جماعتِ اسلامی میں بھی، جس کی چھلنی باریک ہے۔ پراپرٹی ڈیلروں کے گروہ، اس میں بھی کارفرما ہیں، تمام تر شرعی آداب کے ساتھ۔ انہیں مگر مناصب نہیں سونپے جاتے۔ جتّھے بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ تحریکِ انصاف میں چھلنی کوئی نہیں بس چھاج ہیں۔ ٹکٹ بیچنے والوں اور چنڈال چوکڑیوں کے خلاف کارروائی کا کوئی نظام ہوتا تو 2013ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی کم از کم 90 سیٹیں جیت جاتی۔ تین مختلف سروے یہی بتا رہے تھے۔ اخلاقی اعتبار سے تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی اکثریت نون لیگ اور پیپلز پارٹی سے بہتر ہے۔ نوجوانوں کی اکثریت تو بدرجہا بہتر۔ فرق یہ ہے کہ شریر غالب ہیں‘ اور شریف معتوب بلکہ پست و پامال۔ شعبدہ بازوں نے ایک جال سا بُن دیا ہے۔ منیر نیازی نے کہا تھا: ع
شہر دے چوک خبیثاں ملّے، طیّب وچ ملالاں 
غلطیوں کا ارتکاب سبھی کرتے ہیں، بڑا المیہ الیکشن 2013ء کی ناکامی نہیں۔ امیدوار اور لیڈر سبھی ناتجربہ کار تھے۔ ضمنی انتخابات میں اس قدر مار کیوں پڑی؟ انتہا یہ کہ عمران خان کی جیتی ہوئی سیٹیں ہار دی گئیں۔ چلیے ہار ہی جاتے، مقابلہ تو کیا ہوتا۔ جس طرح کہ علیم خان نے کیا۔ ہار کر وہ جیت گیا۔ جیت کر ایاز صادق شکست فاش سے دوچار ہوئے، اب تک دوچار ہیں۔ سفارش پر نہیں، ٹکٹ حلقے کے ووٹروں اور کارکنوں سے پوچھ کر دیے جاتے ہیں۔ ساری دنیا میں جمہوری سیاسی پارٹیاں یہی کرتی ہیں۔ یہ تماشا صرف تحریکِ انصاف ہی میں ممکن ہے کہ شاہ محمود ٹکٹ پر چیئرمین کے دستخط کرا لے جائے۔ امیدوار کا نام بعد میں لکھا جائے۔ 
شریف خاندان کی نیک نامی تمام ہو چکی۔ مقدمہ وہ جیتے یا ہارے اپنی ساکھ بحال نہیں کر سکتا۔ ہر پارٹی کی ایک عمر ہوتی ہے۔ نون لیگ کی عمر پوری ہو چکی۔ رہی سہی کسر اس کا میڈیا سیل پوری کر دے گا۔ اولاد ایک فتنہ ہے۔ یہ اﷲ کی کتاب کہتی ہے۔ نیک و بد کی اس میں کوئی تمیز نہیں۔ نکتہ یہ ہے کہ بچوں کی محبت میں ماں باپ حدود کا تعین نہ کر سکیں تو بیماری پیدا ہو کر رہے گی۔ نون لیگ کا میڈیا سیل، اس کی بہترین یا بدترین مثال ہے۔ پروپیگنڈا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ آج کے پاکستان میں سیاسی حکمتِ عملی کا اہم ترین جزو۔ سیاسی حرکیات کے ادراک کی اساس جذبات سے پاک تجزیے پر ہوتی ہے۔ تعصبات کو کچھ دیر کے لیے الوداع کہہ کر حقیقت پسندی کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے کا عمل۔ قابل صد احترام صاحبزادی کتنی ہی لائق، مخلص اور متحرک ہوں، خاندان کے باب میں غیر جانب دارانہ غور و فکر وہ کیسے کر سکتی ہیں؟ نتیجہ یہ ہے کہ اس ماحول میں، جو ایک گھریلو سی خاتون کے اردگرد برپا ہو کر رہتا، سستے لوگوں کی بن آئی ہے، بہت ہی سستے لوگوں کی۔ 
غیب کا علم تو پروردگار کے سوا کسی کو نہیں، آدمی اندازے قائم کرتا ہے۔ دو سال ہوتے ہیں جب عرض کیا تھا کہ الطاف حسین کی سیاسی موت کا وقت آ پہنچا۔ اسی یقین سے اب میں یہ کہتا ہوں کہ نون لیگ کی عمر پوری ہو چکی۔ بھٹو کو پھانسی دے دی گئی، بینظیر قتل کر دی گئیں تو مہلت ملتی گئی۔ زرداری صاحب نے پانچ سال میں پارٹی دفن کر دی۔ رنگ برنگے پیرہن پہنے، چنگ و رباب بجاتے اب وہ دلدل میں تیرنے کی مشق فرما رہی ہے... اور فرماتی یہ ہے کہ دنیا اندھی ہے، دلدل نہیں یہ دریا ہے۔ سوکھا راوی نہیں یہ عباسیوں کے عہد کے دجلہ و فرات ہیں۔ شریف خاندان کا عرصہ اس لیے دراز ہوتا گیا کہ ہر بار بیچ ہی میں ان کی حکومت توڑ دی گئی۔ شہزادوں پہ عامیوں کو ترس بہت آیا کرتا ہے۔ شریف خاندان خود بھی ترحم کی فصل اگانے میں لاثانی ہے۔ پانچ سال پورے ہو گئے تو وہ نمٹ جائیں گے۔
تو کیا تحریک انصاف متبادل ہو گی؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ چھچھوروں سے نجات کے بغیر نہیں۔ تنظیم نو، کاروباری طبقات کی خوش دلانہ تائید، چین، ترکی، مغرب اور عربوں کے ساتھ تعلقاتِ کار کی اہمیت بھلا کر نہیں۔ اعلیٰ پر ادنیٰ امیدواروں کو ترجیح دے کر نہیں وہ بھی آخری وقت پہ ٹکٹ جاری فرما کر۔ مہم چلانے کی جتنی زیادہ مہلت کسی امیدوار کو ملے، کامیابی کے امکانات اتنے ہی روشن ہوتے ہیں۔ 
ایک چیز اتمامِ حجت ہوتی ہے۔ آج وہ تمام ہوئی۔ اپنے موجودہ شعار کے ساتھ پی ٹی آئی نون لیگ کو دفن تو کر سکتی ہے، اس کی جگہ نہیں لے سکتی۔ اپنی ذات کی کم از کم نفی پر بھی جو قادر نہ ہوں، وہ تخریب تو کر سکتے ہیں، تعمیر نہیں۔ ایک نئے دور کی ابتدا ہرگز نہیں۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں