نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مزارات سےمتعلق فیصلہ مقامی و صوبائی حکومتیں کریں گی
  • بریکنگ :- اسلام آباد:اسدعمرکی صدارت میں این سی اوسی کااجلاس
  • بریکنگ :- کوروناکےپھیلاؤمیں کمی،این سی اوسی کااضافی پابندیاں ہٹانےکافیصلہ
  • بریکنگ :- لاہور،فیصل آباد،ملتان،سرگودھا،گجرات،بنوں میں کل سےاضافی پابندیاں ختم
  • بریکنگ :- کوروناایس اوپیز 30 ستمبرتک نافذرہیں گے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں سائنوفارم ویکسین وافرمقدارمیں موجودہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 6 اضلاع میں بازاررات 8 کےبجائے 10 بجےتک کھلےرہیں گے
  • بریکنگ :- ہفتےمیں 2 کےبجائےایک دن مارکیٹیں،بازاربندرکھنےکافیصلہ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ان ڈور،آؤٹ ڈورڈائننگ کی رات 12 بجےتک اجازت،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ان ڈورشادی ہالز کوویکسین لگوانےوالے 200 افرادتک کی اجازت ہوگی
  • بریکنگ :- آؤٹ ڈورتقریبات میں 400 ویکسی نیٹڈافرادکوشرکت کی اجازت ہوگی
  • بریکنگ :- تفریحی مقامات، پارکس 50 فیصد گنجائش کے ساتھ کھولنے کی اجازت
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے

عارف نے عجیب بات کہی، 70برس پہلے ایک ملک شیطان نے تخلیق کیا، اسرائیل اور ایک رحمن نے ، پاکستان ۔ جب تک اسرائیل قائم ہے ، پاکستان کو اللہ بچا رکھے گا۔
کھیل تماشا بھی زندگی کا حصہ ہے ۔ مگرزیادہ ضروری چیزیں کیوں بھلا دی جائیں۔ شش جہات میں زندگی کارفرما ہے ۔ نادرِ روزگار شاعر مجید امجد نے کہا تھا۔ 
ترے فرقِ ناز پہ تاج ہے ، مرے دوشِ غم پہ گلیم ہے 
تری داستاں بھی عظیم ہے ، مری داستاں بھی عظیم ہے
تہہِ خا ک کرمکِ دانہ جُو بھی شریکِ رقصِ حیات ہے 
نہ بس ایک جلوئہ طور ہے نہ فقط ایک شوقِ کلیم ہے 
سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست کی ملاقات خوشگوار مستقبل کی تمہید بن سکتی ہے ، فکر اگر کشادہ ہو ۔ ایران کے اگر بھارت سے مراسم ہیں تو ہوا کریں ۔ ہندوستان سے چین کی تجارت 70بلین ڈالر سالانہ ہے ۔ عربوں سے اگر اس کی کشیدگی ہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے ۔ عربوں سے ہمارے تعلقات گہرے ہیں ۔ ایران کو کیوں نظر انداز کیا جائے ؟ 
امام زین العابدین کا وہی قول: اس طرح سیرت ہم پڑھا کرتے ، جس طرح قرآن پڑھا جاتاہے ۔ رسولِ اکرمؐ کا اندازِ سیاست یہ تھا کہ سب سے اعلیٰ مقصد کی خاطر ،بڑے محاذ کے لیے چھوٹے مورچے بند کر دیا کرتے ۔بنیادی اصول یہ کارفرما تھا کہ الدّین النصیحہ ۔ دین خیر خواہی ہے ۔ دائمی دشمنی اور نفرت مسلمان کا شعار نہیں ہوسکتی ۔ میثاقِ مدینہ میں یثرب کے تمام گروہوں کو ایک امّت کہا گیا ۔ یہودیوں تک سے معاہدہ کر لیا ۔ توڑا تو انہی نے توڑا ۔ بت پرستی اور ظلم و عدوان کا خاتمہ کرنے کے لیے مکّہ کا رخ کیا تو راستے کے قبائل سے معاہدے تھے ، 500کلومیٹر عرض اور اس سے کہیں زیادہ طول میں پھیلے خطّے میں ،اکثر سے! 
ایران کے ساتھ مراسم بہتر بنانے کانقد فائدہ یہ ہے کہ ترسیل کے اخراجات سمیت 8ڈالر فی یونٹ کی بجائے زیادہ سے زیادہ 4ڈالر پر مائع گیس ملے گی ۔ مستقبل کی صنعت کاری توانائی کے بغیر ممکن نہیں۔ پاکستانی باسمتی چاول ، پھل اور ٹیکسٹائل کے لیے ،ایران ایک اچھی مارکیٹ ہے ۔ نینو ٹیکنالوجی میںایران عالمِ اسلام میں سب سے آگے ہے ۔ پابندیوں نے ایرانی سائنسدانوں کو تحقیق اور اختراع پر آمادہ کیا ۔ چار برس ہوتے ہیں ، یہی بہار کے دن تھے ، تہران میں اسی ٹیکنالوجی کے قومی ادارے میں ہم لے جائے گئے ۔ کینسر کی ایک مشہور دوا دس فیصد قیمت پر دستیاب تھی ۔اوّل امریکی دبائو تھا ، اب عرب ممالک کا۔ایران سے گیس اب بھی ہم درآمد نہیں کر رہے ۔ کس کا نقصان زیادہ ہوا ؟ اہلِ ایران کی نسل پرستی پر اس ناچیز نے کم نکتہ چینی نہیں کی۔ رہا ان کا مذہبی مسلک تو ہماری اکثریت کا اتفاقِ رائے عربوں کے ساتھ بھی نہیں ۔ قوموں کے باہمی تعلقات میں سب سے اہم چیز ان کے مفادات ہوتے ہیں ۔ امن کاحصول اور ایک غیر ضروری محاذ کی بندش ہماری ترجیحات ہونی چاہئیں۔ 
ایک کے بعد دوسری سرزمین تاتاری فتح کر تے گئے ۔ ایک کروڑ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ شام کے دروازے پر دستک دے رہے تھے ۔ تب رکن الدین بیبرس ،قاہرہ میں سریر آرائے سلطنت ہوا ۔ دوسری چیزوں کے علاوہ ، رومیوں سے اس نے مصالحت کی۔ چنگیز خان کے مسلمان ہو جانے والے فرزند برکہ خان کی جگہ حج ِبدل کیا۔ دوسری چیزوں کے علاوہ ایک دستار اسے تحفے میں بھیجی ، اکرام کا عندیہ !تاریخ کی دس اہم ترین جنگوں میں دو عدد کا فاتح بیبرس ہے ۔ "The pink panther"مغربی مورخ اسے کہتے ہیں۔آج بھی اس کاتذکرہ رشک بھرے لہجے میں کرتے ہیں ۔ 
بیبرس کی داستان میں عبرت کا بہت سامان ہے ۔ ملک خطرے میں ہو تو فوج کا کردار اہم ہو جاتاہے ۔پہلے قدم کے طور پر، لرزتے کانپتے بادشاہ نے تمام عسکری اختیارات اس آزاد کردہ غلام کو سونپے تو اس نے امرا اور سلطان کے فرزندوں کو پریڈ گرائونڈ میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ جہاں کبھی صلاح الدین ایوبی نے آئندہ سنہری زمانے کا خواب دیکھا تھا ۔وہ بڑبڑاتے رہے مگر تعمیل کرنا پڑی۔ مصریوں کی چربی اس نے پگھلا دی اور تاتاریوں کو دھنکی ہوئی روئی بنا ڈالا۔ 
پاناما کیس کا فیصلہ کسی وقت بھی متوقع ہے اور کچھ بھی ۔ فوج ہی ہمارا دائمی ادارہ ہے ۔ عوام کی تائید اسے حاصل ہے ۔ دہشت گردی سے وہ نمٹ رہی ہے اور دشمن ممالک کی ریشہ دوانیوں سے بھی ۔ آئین کو نظر انداز کر کے سیاستدان سول اداروں کو مضبوط اور آزاد کرنے پر آمادہ نہیں ۔ سرکاری خزانہ اپنی مرضی سے خرچ کرتے ، بے دریغ قرض لیتے ، پولیس ، عدلیہ اور انتظامیہ کو بانجھ اور بے بس رکھنا چاہتے ہیں ۔ سرحدی خطرات اور دہشت گردی پر جب تک یہ اندازِ فکر ہو گا، فوج پر انحصار زیادہ رہے گا۔ دانشور نہیں جانتے ، عوامی دانش مگر جانتی ہے ۔
جنرل قمر باجوہ نے بہت گنجائش پیدا کی، اچھا کیا۔ نتیجہ مگر کیا ہے ؟ فوج پہ بوجھ بڑھتا جا رہا ہے ۔انہیں وزیرِ اعظم کو بتانا چاہیے کہ سول اداروں ، انٹیلی جنس ، پولیس ، عدلیہ اور سول سروس کو وہ زیادہ موثر بنائیں ۔ اس سے پہلے کہ فوج مزید بوجھ نہ اٹھا سکے ۔ اس سے پہلے کہ خطرے کی گھنٹی بجے۔ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ۔
ممکن ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ دو تین دن ہی میں آجائے ۔ بعض کا کہنا ہے کہ لکھا رکھا ہے۔خطے کے ممالک کی کانفرنس اور لاہور کے میچ کی وجہ سے رکاہے ۔ افواہیں بہت ہیں کہ کس کس کے ذریعے کس کس پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے ۔ سامنے کی بات یہ ہے کہ دبائو دو طرفہ ہے اور عدلیہ سے عوام کی امیدیں بہت ۔ دعا اور امید یہ ہے کہ میاں صاحب یا کپتان کی بجائے ، معزز جج صاحبان فقط انصاف کے تقاضے ملحوظ رکھیں گے ۔ 
ایران‘ داعش کے ہاتھوں پریشان ہے ، روس اور چین بھی ۔ ازبکستان اور تاجکستان میں انتہا پسند تحریکوں سے عرب خونخوار وں نے مراسم بڑھا لیے ہیں ۔ عربوں کے بعد اس تنظیم میں سب سے بڑی تعداد روسی مسلمانوں کی ہے ۔ ماسکو کے ظلم و ستم نے دیوانگی پر جنہیں آمادہ کیا ۔ یہی حال چین کے ترک ایغور مسلمانوں کا ہے ، داعش سے ان کے مراسم کا سراغ ملاہے ۔ ایران کے بھی وہ مخالف ہیں ۔ مقامی اتحادیوں کی مدد سے خضدار میں شاہ نورانی ؒ اور سیہون شریف میں لعل شہباز قلندرؒ کے مزارات پر اسی نے حملے کیے ۔ شکار پور میں ایک امام بارگاہ پر بھی ۔ 
دہشت گردوں کے خلاف عظیم الشان فتوحات حاصل کرنے والی پاک فوج کو خطے میں اہم کردار ادا کرنا ہے ۔ روس اور چین کو اس کاادراک ہے ۔ آخری تجزیے میں امریکہ دہشت گردی کا سرپرست ہے ، اسرائیل اور بھارت کا ۔ بھارتیوں سے مالی مفادات حاصل کرنے والے افغانستان کے قبائلی سرداروں کا بھی۔ تجارتی راہداری امریکیوں کو گوارا نہیں ، چین کے بڑھتے ہوئے اثرات بھی ۔ بھارت کے وہ تزویراتی حریف ہیں ۔ ہمارے کم کوش اور تنگ نظر حکمران بھارتی عزائم کا ادراک نہیں رکھتے ۔ کٹھ ملّا اور بائیں بازو کا وہ حصہ ان کے ساتھ ہے ، ایک خاص مکتبِ فکر کی طرح پاکستان کی بقا پر جس کا یقین نہیں ۔ کلدیپ نائر کے تازہ مضمون میں اسرائیل اور بھارت کو مشترکہ عزائم رکھنے والے دوست قرار دیا گیا ۔ بزرگ بھارتی صحافی خود کو ایک امن پسند کے طور پر پیش کرتا رہا۔ وہ تو پاکستان کا کٹر مخالف نکلا ۔ پاکستان کو وہ دہشت گردی کا مرتکب ٹھہراتا ہے ۔ کشمیر ، بلوچستان اور قبائلی پٹی میں جاری وحشت و بربریت کو اس نے یکسر نظر اندازکر دیا، درآں حالیکہ اجیت دوول اور دوسرے بھارتی نیتا برملا اعتراف کر چکے ، خود نریندر مودی بھی۔ 
عارف نے عجیب بات کہی، 70برس پہلے ایک ملک شیطان نے تخلیق کیا، اسرائیل اور ایک رحمن نے ، پاکستان ۔ جب تک اسرائیل قائم ہے ، پاکستان کو اللہ بچا رکھے گا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں